<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>شہر_لاہور &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b4%db%81%d8%b1_%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 02 Nov 2026 00:27:41 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>شہر_لاہور &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>لاہور: قذافی اسٹیڈیم کے اطراف خصوصی ٹریفک پلان نافذ، شہریوں کیلئے ایڈوائزری جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/1979/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/1979/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 10:58:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ٹریفک_ایڈوائزری]]></category>
		<category><![CDATA[ٹریفک_پلان]]></category>
		<category><![CDATA[ٹریفک_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[راستہ_ایف_ایم]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سٹی_ٹریفک_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[شہر_لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%82%d8%b0%d8%a7%d9%81%db%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%b9%db%8c%da%88%db%8c%d9%85-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b7%d8%b1%d8%a7%d9%81-%d8%ae%d8%b5%d9%88%d8%b5%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[شہریوں کو ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور مشکلات سے بچنے کے لیے متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں قذافی اسٹیڈیم کے اطراف ٹریفک کی روانی کو مسلسل برقرار رکھنے اور عام شہریوں کو کسی بھی قسم کی سفری مشکلات سے بچانے کے لیے سٹی ٹریفک پولیس کی جانب سے ایک انتہائی جامع اور خصوصی ٹریفک پلان نافذ کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے اس اہم موقع پر ایک تفصیلی ٹریفک ایڈوائزری بھی باضابطہ طور پر جاری کی جا چکی ہے تاکہ عوام کو پیشگی آگاہی فراہم کی جا سکے اور وہ اپنے روزمرہ کے سفر کو بہتر انداز میں ترتیب دے سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے اس انتہائی حساس اور مصروف ترین علاقے میں ٹریفک کے نظام کو قابو میں رکھنے کے لیے ٹریفک پولیس کے ترجمان نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سڑکوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھا لیے گئے ہیں۔ پولیس کا یہ اقدام اس امر کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ سڑکوں پر گاڑیوں کا اجمام کم سے کم ہو اور ایمرجنسی گاڑیاں یا عام مسافر بلا رکاوٹ اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹریفک پولیس کے جاری کردہ تازہ ترین پلان کے مطابق مال روڈ سے قذافی اسٹیڈیم تک جانے والے تمام مرکزی راستوں پر ہر قسم کی ہیوی اور سلو موونگ گاڑیوں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے اور انہیں سختی سے متبادل راستوں پر ڈائیورٹ کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بڑی اور آہستہ رفتار گاڑیوں کی وجہ سے لگنے والے طویل ٹریفک جام سے چھٹکارا پانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صرف ہیوی ٹریفک ہی نہیں بلکہ اس اہم روٹ سے ملحقہ تمام چھوٹی سڑکوں اور گلیوں سے مین روڈ پر کراسنگ کرنے کی اجازت بھی بالکل نہیں ہوگی۔ ٹریفک پولیس کے جوان اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ کوئی بھی غیر متعلقہ گاڑی اس ممنوعہ زون میں داخل نہ ہو سکے تاکہ مرکزی سڑک پر ٹریفک کی روانی بلاتعطل جاری رکھی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ٹریفک کے اس نظام کو مؤثر اور کامیاب بنانے کا بنیادی مقصد کسی بھی اہم میچ، تقریب یا اجتماع کے دوران شہریوں کو روڈ پر طویل جام یا گھنٹوں کی تاخیر سے بچانا ہے۔ ٹریفک انتظامیہ کی جانب سے تمام مسافروں، کار سواروں اور کمردل ڈرائیوروں سے پُرزور اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس دوران قانون کا احترام کریں اور پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کا مظاہرہ کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹریفک پولیس نے بالخصوص تمام شہریوں کو خصوصی ہدایت جاری کی ہے کہ وہ دورانِ بندش ہر صورت متبادل راستوں کا انتخاب کریں اور اس دوران اس مخصوص علاقے کے غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ دوپہر کے اوقات میں روزمرہ کے کاموں کے سلسلے میں باہر نکلنے والے افراد کو خاص طور پر احتیاط برتنے اور غیر ضروری نقل و حرکت سے اجتناب کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصولہ تفصیلات کے مطابق ترجمان ٹریفک پولیس نے واضح کیا ہے کہ شہری بالخصوص دوپہر تین بجے تک مال روڈ، کینال روڈ اور مین فیروزپور روڈ جیسے اہم ترین کانیوں پر غیر ضروری سفر سے مکمل اجتناب کریں۔ شہر کی ان مصروف ترین شاہراہوں پر دباؤ کو اعتدال میں رکھنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے تاکہ عام ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں رہے اور کسی کو پریشانی نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کی ان اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی تازہ ترین اور پل پل بدلتی صورتحال سے بروقت آگاہی کے لیے شہریوں کو خصوصی طور پر راستہ ایف ایم ریڈیو اور پولیس ہیلپ لائن پندرہ سے مسلسل رہنمائی حاصل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ پولیس حکام کا پختہ ماننا ہے کہ بروقت اور درست معلومات ملنے سے شہریوں کو اپنے روزمرہ سفر کی منصوبہ بندی کرنے میں بہت بڑی مدد ملے گی اور وہ غیر ضروری تاخیر سے بچ سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے اس انتہائی اہم اور حساس ترین علاقے میں اس وقت ٹریفک وارڈنز اور افسران کی ایک بڑی تعداد بڑی مستعدی کے ساتھ تعینات کر دی گئی ہے جو تمام آنے جانے والے ڈرائیوروں کو متبادل راستوں کی نشاندہی اور راہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔ یہ اہلکار اس بات کو مانیٹر کر رہے ہیں کہ ٹریفک کہیں بھی تعطل کا شکار نہ ہو اور ایمبولینسز کے لیے راستہ ہمیشہ کھلا رکھا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سٹی ٹریفک پولیس لاہور کی جانب سے عوام الناس سے انتہائی توقع ظاہر کی گئی ہے کہ وہ ٹریفک قوانین کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کا مظاہرہ کریں گے۔ پولیس کا ماننا ہے کہ شہریوں کے تعاون کے بغیر اس نوعیت کے بڑے ٹریفک پلانز کو کامیابی سے نافذ کرنا ناممکن ہوتا ہے، اس لیے ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ قانون کے دائرے میں رہ کر سفر کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس سے قبل بھی شہر میں جب کبھی کوئی بڑا سپورٹس کا ایونٹ یا سرکاری تقریب منعقد ہوتی ہے تو ٹریفک پولیس اسی طرح کے خصوصی انتظامات کرتی ہے تاکہ شہریوں کو کسی بھی ناخوشگوار صورتحال یا سفری عذاب سے بچایا جا سکے۔ ان اقدامات کا مقصد جہاں ایک طرف مہمانوں اور کھلاڑیوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہوتا ہے وہیں دوسری طرف عام شہریوں کے معمولاتِ زندگی کو بھی متاثر ہونے سے بچانا ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ گھر سے نکلنے سے پہلے سڑکوں کی موجودہ صورتحال کے بارے میں آگاہی حاصل کر لیں تاکہ انہیں راستے میں کسی قسم کی الجھن کا سامنا نہ کرناپڑے۔ ٹریفک پولیس کے سوشل میڈیا پیجز اور ریڈیو چینلز اس سلسلے میں مسلسل اپ ڈیٹس فراہم کر رہے ہیں تاکہ عوام ہر وقت باخبر رہ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں ٹریفک پولیس حکام نے ایک بار پھر دہرایا ہے کہ ان تمام تر زحمتوں کا مقصد صرف اور صرف پبلک سیفٹی اور ٹریفک کی روانی ہے، اور شہریوں کی ذرا سی احتیاط اور تعاون سے اس ٹریفک پلان کو سو فیصد کامیاب بنایا جا سکتا ہے تاکہ شہر کا نظام معمول کے مطابق چلتا رہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/1979/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور میں سردیوں کی آمد سے قبل گیس پریشر میں کمی اور بحران کا آغاز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/weather/1723/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/weather/1723/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 12:17:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[موسم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_این_جی]]></category>
		<category><![CDATA[بارش]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سردی]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_ناردرن]]></category>
		<category><![CDATA[شہر_لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/weather/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d8%b1%d8%af%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%a2%d9%85%d8%af-%d8%b3%db%92-%d9%82%d8%a8%d9%84-%da%af%db%8c%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[سوئی ناردرن کے سسٹم میں گیس کی قلت کے باعث مختلف علاقوں میں پریشر کم ہو گیا ہے اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">موسم میں تبدیلی کے ساتھ ہی ملک کے بڑے شہروں بالخصوص لاہور میں گیس کا بحران سر اٹھانے لگا ہے جس کی وجہ سے گھریلو صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سردیوں کے موسم کی باقاعدہ آمد سے قبل ہی گیس کی فراہمی کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہو چکا ہے اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے سسٹم میں گیس کی قلت واضح طور پر محسوس کی جانے لگی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق گیس کا پریشر انتہائی نچلی سطح پر آ گیا ہے جس کی وجہ سے چوبیس گھنٹوں کے دوران گیس کی مسلسل فراہمی اب ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں شہریوں کو روزمرہ کے امور بالخصوص کھانا تیار کرنے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور معمولاتِ زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت کی جانب سے گیس کی فراہمی کے لیے ایک مخصوص شیڈول نافذ کیا گیا ہے جس کے تحت دن کے مختلف اوقات میں گیس کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس شیڈول کے مطابق صبح کے ناشتے کے اوقات میں تین گھنٹے جبکہ دوپہر کے وقت دو گھنٹے کے لیے گیس فراہم کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح رات کے اوقات میں بھی گیس کی فراہمی کے لیے تین گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا ہے تاکہ تمام صارفین کو بنیادی ضروریات کے لیے کسی حد تک گیس میسر آ سکے۔ تاہم اس مقررہ شیڈول پر بھی مکمل عملدرآمد میں مشکلات پیش آ رہی ہیں اور کئی علاقوں میں مقررہ اوقات میں بھی گیس غائب رہتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ناشتہ اور کھانا پکانے کے اوقات میں گیس کی عدم فراہمی یا انتہائی کم پریشر کی وجہ سے گھروں میں خواتین کو کھانا بنانے میں سخت پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے۔ گیس پریشر کم ہونے کے باعث چولہے جلانا اور پانی گرم کرنا محال ہو چکا ہے جس سے بالخصوص دفاتر جانے والے افراد اور بچوں کے لیے ناشتے کی تیاری متاثر ہو رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گیس بحران کی اس سنگین صورتحال سے نبردآزما ہونے کے لیے حکومتی سطح پر بھی اقدامات زیر غور ہیں اور اس بحران کو ختم کرنے کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے ملک میں گیس کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے اور قلت پر قابو پانے کے لیے درجنوں ایل این جی کارگو بھی بک کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ درآمدی ایل این جی کے نئے کارگو بروقت پہنچنے سے گیس کے ذخائر میں بہتری آئے گی اور سسٹم کا دباؤ کم ہوگا۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ سردیوں کے دوران گیس کی طلب میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے اس لیے اس سے پہلے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوئی ناردرن کے حکام کا کہنا ہے کہ گیس کی مجموعی پیداوار میں کمی اور درآمدی گیس کی دستیابی کے چیلنجز کی وجہ سے یہ عارضی قلت پیدا ہوئی ہے۔ صارفین کی طرف سے مسلسل شکایات موصول ہونے کے بعد فیلڈ ٹیموں کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ پریشر کے مسائل کو حتی الامکان حل کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس کی فراہمی کے شیڈول پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور اوقات کار میں بہتری لائی جائے تاکہ سردی کی شدت بڑھنے سے قبل عوام کو اس عذاب سے نجات مل سکے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر ابھی سے یہ حال ہے تو سخت سردیوں کے ایام میں صورتحال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت اور متعلقہ توانائی کے اداروں کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ گیس چوری اور ضیاع کے سدباب کے لیے سخت اقدامات کریں تاکہ سسٹم میں موجود گیس کا درست استعمال ہو سکے۔ گیس کے بحران پر قابو پانے کے لیے عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اس قیمتی توانائی کا استعمال انتہائی کفایت شعاری کے ساتھ کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ بحران کے خاتمے کے لیے ایل این جی کی درآمد کے علاوہ مقامی سطح پر گیس کے نئے ذخائر کی تلاش اور ان کی جلد پیداوار شروع کرنے کے منصوبوں پر بھی تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ اقدامات ہی ملک کو اس طرح کے توانائی کے بحرانوں سے مستقل طور پر محفوظ رکھ سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر میں بڑھتی ہوئی اس گیس قلت اور کم پریشر کے باعث عامتہ الناس کو جن مشکلات کا سامنا ہے، اس کا نوٹس لیا جانا ضروری ہے۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ فوری بنیادوں پر ترسیلی نظام کی بہتری کے لیے اقدامات کریں تاکہ شہریوں کی شکایات کا ازالہ ممکن ہو سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/weather/1723/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور کے علاقے گرین ٹاؤن میں سوئی گیس کی بندش پر شہریوں کو مشکلات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/1708/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/1708/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 10:37:53 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_پی_جی]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_گیس]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_ناردرن]]></category>
		<category><![CDATA[شہر_لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_مشکلات]]></category>
		<category><![CDATA[گرین_ٹاؤن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%db%92-%da%af%d8%b1%db%8c%d9%86-%d9%b9%d8%a7%d8%a4%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d9%88%d8%a6%db%8c-%da%af%db%8c%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[گرین ٹاؤن کے مکین سوئی گیس کی عدم دستیابی اور مہنگی ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور کے مختلف علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے مسائل وقتاً فوقتاً سر اٹھاتے رہتے ہیں، جن سے عام شہریوں کو شدید نوعیت کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بالخصوص سوئی گیس جیسی بنیادی ضرورت کی بندش نے گھریلو امور کو بری طرح متاثر کیا ہے اور لوگوں کی زندگیاں اجیرن بن گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے گنجان آباد علاقے گرین ٹاؤن میں سوئی گیس کی مسلسل بندش نے مکینوں کا جینا محال کر دیا ہے جہاں لوگ روزمرہ کے امور کے لیے شدید پریشانی سے دوچار ہیں۔ گیس کی اس غیر اعلانیہ بندش کے باعث خواتین کو کھانا پکانے اور دیگر گھریلو ضروریات پوری کرنے میں انتہائی دقت کا سامنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صبح کے اوقات میں جب گھروں میں ناشتے کی تیاری کا وقت ہوتا ہے تو گیس کی غائب ہونے کے باعث چولہے بالکل ٹھنڈے پڑے ہوتے ہیں۔ اس صورتحال میں بچوں کو اسکول اور بڑوں کو دفاتر کے لیے تیار کرنا مکینوں کے لیے ایک روزانہ کا عذاب بن چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گیس کی اس طویل اور مسلسل بندش سے نجات پانے کے لیے علاقہ مکینوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا کہ وہ متبادل ذرائع کا رخ کریں۔ مجبوراً شہری اپنی گھریلو ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اب مہنگی قیمتوں پر ایل پی جی سلنڈر خریدنے پر مجبور ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مارکیٹ میں ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور اضافی اخراجات نے گھریلو بجٹ کا توازن بگاڑ دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی مہنگائی کے طوفان سے پریشان ہیں اور اب ایل پی جی کی خریداری ان کی مالی استطاعت سے باہر ہو چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ گیس کی فراہمی کے بغیر بھی انہیں بھاری بھرکم بلز موصول ہو رہے ہیں جو کہ صریحاً ناانصافی ہے۔ ایک طرف گیس ملتی نہیں اور دوسری طرف بلوں کی ادائیگی لازم ہوتی ہے جس سے غریب اور متوسط طبقے کے لیے جینا دو بھر ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گرین ٹاؤن کے مکینوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لینے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور علاقے میں سوئی گیس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر سوئی گیس کی بحالی میں تاخیر ہو رہی ہے تو کم از کم حکومت کو اوپن مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمتوں کو سختی سے کنٹرول کرنا چاہیے۔ قیمتوں میں بے لگام اضافے کو روکنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ دور میں مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی دشوار ہو چکا ہے۔ ایسے میں سوئی گیس کی بندش نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے اور عوام کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر میں گراں فروشی کے خلاف مختلف علاقوں میں انتظامی کارروائیاں بھی جاری ہیں جن کے تحت قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قدم اٹھائے جا رہے ہیں۔ تاہم شہریوں کا تقاضا ہے کہ گیس اور توانائی کے شعبے میں بھی ایسے ہی سخت اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو سہولت مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گرین ٹاؤن کے مکینوں نے امید ظاہر کی ہے کہ متعلقہ حکام ان کے اس دیرینہ اور اہم مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔ گیس کی فراہمی بحال ہونے سے نہ صرف لوگوں کے گھریلو اخراجات معمول پر آئیں گے بلکہ انہیں ذہنی سکون بھی میسر آئے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے مختلف حصوں میں انتظامی امور اور ٹریفک کے حوالے سے بھی کارروائیاں دیکھنے میں آتی ہیں جہاں قوانین کی خلاف ورزی پر گاڑیوں کو تھانے منتقل کیا جاتا ہے۔ اس پس منظر میں عوامی بنیادی مسائل جیسے کہ گیس کی فراہمی پر بھی اتنی ہی توجہ دی جانی چاہیے جتنی دیگر انتظامی امور پر دی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام کا بنیادی حق ہے کہ انہیں ریاست کی طرف سے گیس، پانی اور بجلی جیسی سہولیات بلا تعطل فراہم کی جائیں تاکہ معاشرے میں توازن برقرار رہے۔ امید کی جاتی ہے کہ متعلقہ ادارے گرین ٹاؤن کے باسیوں کی اس فریاد کو سنیں گے اور جلد از جلد سوئی گیس کی بحالی کا عمل مکمل کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/1708/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
