<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>شہری_مشکلات &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b4%db%81%d8%b1%db%8c_%d9%85%d8%b4%da%a9%d9%84%d8%a7%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:52 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>شہری_مشکلات &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>لاہور میں چکن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد نہ ہو سکا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%86%da%a9%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%db%81%d9%88%d8%b4%d8%b1%d8%a8%d8%a7/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%86%da%a9%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%db%81%d9%88%d8%b4%d8%b1%d8%a8%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 07:37:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اشیاء_خوردونوش]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پرائس_کنٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[چکن_کی_قیمت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[شہری_مشکلات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[مارکیٹ_کمیٹی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%86%da%a9%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%db%81%d9%88%d8%b4%d8%b1%d8%a8%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[شہریوں کی جانب سے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارکردگی پر سوالات، دکانداروں کی من مانیاں جاری۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور کے مختلف علاقوں میں چکن کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافے کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ سرکاری نرخوں کے برعکس دکانداروں نے اپنی مرضی کے دام وصول کرنا شروع کر دیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ضلعی انتظامیہ کی جانب سے چکن کی سرکاری قیمت 548 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے، تاہم شہر کی مارکیٹوں میں مرغی کا گوشت 600 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ سرکاری ریٹ لسٹ کی موجودگی کے باوجود عملدرآمد نہ ہونا انتظامیہ کی ناکامی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کا کہنا ہے کہ دکاندار سرکاری نرخنامے کو مکمل طور پر نظر انداز کر رہے ہیں اور من مانے دام وصول کر کے عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈال رہے ہیں۔ صافی گوشت کے نام پر بھی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی جانب سے شہر بھر میں کارروائیاں تو کی جا رہی ہیں لیکن ان کے نتائج برآمد نہیں ہو رہے۔ شہریوں کے مطابق یہ کارروائیاں محض خانہ پوری تک محدود ہیں جس کی وجہ سے مہنگائی کا جن قابو میں نہیں آ سکا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب دکانداروں کا موقف ہے کہ قیمتوں کا تعین کرتے وقت ڈیلرز کے اخراجات اور منافع کو مدنظر نہیں رکھا جاتا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سپلائی چین میں مسائل اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث سرکاری نرخوں پر فروخت کرنا ممکن نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خریداروں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ چکن کی سرکاری قیمت پر فروخت کو یقینی بنایا جائے۔ مقررہ نرخ سے زائد وصول کرنے والے دکانداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اس رجحان نے عام شہریوں کے بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر متوسط طبقے کے لیے پروٹین کا سب سے سستا ذریعہ سمجھی جانے والی مرغی اب پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ مارکیٹ کمیٹیوں کے ساتھ مل کر قیمتوں کی نگرانی کا نظام مزید موثر بنائے۔ صرف چھاپے مارنے کے بجائے سپلائی چین کی نگرانی اور ڈیلرز کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے قیمتوں کو مستحکم کرنا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام کا مطالبہ ہے کہ صرف اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔ سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہی مہنگائی کو روکنے کا واحد راستہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے مختلف بازاروں میں چکن کی قیمتوں میں فرق بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ یکساں قیمتوں کے نفاذ کو یقینی بنائے تاکہ کسی بھی علاقے میں شہریوں کو لوٹا نہ جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%86%da%a9%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%db%81%d9%88%d8%b4%d8%b1%d8%a8%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کراچی: بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے شہری شدید مشکلات کا شکار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d8%a8%d8%ac%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d9%88%db%8c%d9%84-%d9%84%d9%88%da%88%d8%b4%db%8c%da%88%d9%86%da%af-%d8%b3%db%92-%d8%b4%db%81%d8%b1%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d8%a8%d8%ac%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d9%88%db%8c%d9%84-%d9%84%d9%88%da%88%d8%b4%db%8c%da%88%d9%86%da%af-%d8%b3%db%92-%d8%b4%db%81%d8%b1%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 22:37:39 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_کا_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_کی_قیمت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[شہری_مشکلات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_مسائل]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/39/</guid>

					<description><![CDATA[شہر کے مختلف علاقوں میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 16 گھنٹے سے تجاوز کر گیا، عوام پریشان۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی کے مختلف علاقوں میں بجلی کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گرمی اور حبس کے موسم میں بجلی کی طویل بندش نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصولہ اطلاعات کے مطابق شہر کے متعدد گنجان آباد علاقوں میں بجلی کی فراہمی کا دورانیہ انتہائی کم ہو گیا ہے۔ کئی مقامات پر لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 16 گھنٹے سے بھی تجاوز کر چکا ہے جس سے گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقہ بھی پریشان ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بجلی کی بندش سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں لائنز ایریا، نیو کراچی، موسیٰ کالونی اور لیاری شامل ہیں۔ ان علاقوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی طویل بندش کے باعث پانی کی فراہمی اور دیگر گھریلو کاموں میں شدید دشواری پیش آ رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملیر، لانڈھی اور کورنگی کے رہائشیوں نے بھی بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کی شکایات کی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی عدم دستیابی کے باعث بچوں کی پڑھائی اور بزرگوں کی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اورنگی ٹاؤن، سرجانی ٹاؤن اور قائد آباد کے مکین بھی بجلی کی آنکھ مچولی سے تنگ آ چکے ہیں۔ ان علاقوں میں بجلی کی بار بار بندش نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے جبکہ طویل لوڈشیڈنگ کے باعث چھوٹے کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماڑی پور روڈ، مچھر کالونی اور ہاکس بے کے مختلف حصوں میں بھی بجلی کی فراہمی کا نظام درہم برہم دکھائی دیتا ہے۔ ان علاقوں کے مکینوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان نے صورتحال پر موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ان علاقوں میں کی جا رہی ہے جہاں بجلی چوری کی شرح زیادہ ہے یا جہاں صارفین کی جانب سے بلوں کی ادائیگی بروقت نہیں کی جاتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان کے مطابق کے الیکٹرک کا نظام ان علاقوں میں لوڈشیڈنگ کرنے پر مجبور ہے جہاں نقصانات کی شرح زیادہ ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ بجلی چوری کی روک تھام اور بلوں کی مکمل وصولی ہی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا واحد حل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور کے الیکٹرک انتظامیہ اس مسئلے کا پائیدار حل نکالے۔ عوام کا کہنا ہے کہ بلوں کی ادائیگی کرنے والے صارفین کو بھی طویل لوڈشیڈنگ کی سزا دینا کسی طور پر انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں بجلی کے بحران کے باعث صنعتی سرگرمیاں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ بجلی کی عدم فراہمی سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے جو ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی سطح پر بھی بجلی کے بحران کے خاتمے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ کراچی کے عوام امید رکھتے ہیں کہ متعلقہ ادارے اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیں گے اور لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی لانے کے لیے فوری اقدامات کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں بجلی کی طلب اور رسد میں توازن قائم کرنے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ کراچی جیسے بڑے تجارتی مرکز میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی شہریوں کا بنیادی حق ہے جسے یقینی بنانا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d8%a8%d8%ac%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d9%88%db%8c%d9%84-%d9%84%d9%88%da%88%d8%b4%db%8c%da%88%d9%86%da%af-%d8%b3%db%92-%d8%b4%db%81%d8%b1%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
