<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.16.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سی_سی_ڈی_اہلکار &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b3%db%8c_%d8%b3%db%8c_%da%88%db%8c_%d8%a7%db%81%d9%84%da%a9%d8%a7%d8%b1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Fri, 23 Oct 2026 17:16:43 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>سی_سی_ڈی_اہلکار &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>لاہور میں سی سی ڈی اہلکار کی لڑکی سے مبینہ زیادتی اور ویڈیو بنانے کا مقدمہ درج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%db%8c-%d8%b3%db%8c-%da%88%db%8c-%d8%a7%db%81%d9%84%da%a9%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d9%84%da%91%da%a9%db%8c-%d8%b3%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%db%8c-%d8%b3%db%8c-%da%88%db%8c-%d8%a7%db%81%d9%84%da%a9%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d9%84%da%91%da%a9%db%8c-%d8%b3%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 17:16:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[جرم و سزا]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_آئ_آر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تھانہ_کاہنہ]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[جنسی_زیادتی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈی_آئی_جی_آپریشنز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سی_سی_ڈی_اہلکار]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فصل_کامران]]></category>
		<category><![CDATA[کوٹ_لکھپت]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[موبائل_گمشدگی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%db%8c-%d8%b3%db%8c-%da%88%db%8c-%d8%a7%db%81%d9%84%da%a9%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d9%84%da%91%da%a9%db%8c-%d8%b3%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[متاثرہ لڑکی کی مدعیت میں تھانہ کاہنہ میں مقدمہ درج کر لیا گیا، ڈی آئی جی آپریشنز نے نوٹس لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور کے علاقے کاہنہ میں کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے ایک اہلکار کی جانب سے لڑکی کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور اس کی نازیبا ویڈیو تیار کرنے کا ہولناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ واقعے کے بعد پولیس نے متاثرہ لڑکی کی مدعیت میں فوری طور پر مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ صوبائی دارالحکومت لاہور کے مضافاتی علاقے میں پیش آیا جہاں قانون کے محافظ ادارے کے ہی ایک فرد پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس گھناؤنے فعل میں ملوث ملزم کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور کسی بھی سطح پر رعایت نہیں برتی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی معلومات کے مطابق کوٹ لکھپت کی رہائشی متاثرہ لڑکی کا موبائل فون یکم اکتوبر کے روز کاہنہ بازار سے گم ہو گیا تھا جس کے بعد وہ اپنی گمشدگی کی رپورٹ درج کروانے اور مدد کے حصول کے لیے تھانہ کاہنہ پہنچی تھی۔ اسی دوران اس کی ملاقات محمد شبیر نامی سی سی ڈی کے اہلکار سے ہوئی جس نے مبینہ طور پر اس کے فون نمبر کا تبادلہ کیا اور بعد میں رابطہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ لڑکی کی طرف سے درج کروائی گئی ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزم محمد شبیر نے اسے فون کر کے بتایا کہ اس کا گم شدہ موبائل فون ٹریس ہو چکا ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے ایک مخصوص مقام پر پہنچ جائے۔ اس خبر سے خوش ہو کر لڑکی بتائے گئے مقام پر پہنچ گئی جہاں ملزم اسے ایک نامعلوم خاتون کے گھر لے گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف آئی آر کے مطابق سی سی ڈی اہلکار نے وہاں پہنچ کر مبینہ طور پر اسلحہ نکالا اور خوفزدہ کر کے لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس دوران درندہ صفت اہلکار نے نہ صرف اس گھناؤنے فعل کا ارتکاب کیا بلکہ متاثرہ لڑکی کی انتہائی نازیبا ویڈیوز بھی اپنے موبائل فون میں ریکارڈ کر لیں تاکہ اسے بلیک میل کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ لڑکی نے اپنی درخواست میں مزید انکشاف کیا ہے کہ ملزم محمد شبیر نے اس کو محض ایک بار ہی نہیں بلکہ دس اکتوبر کو دوبارہ اسی خاتون کے گھر طلب کیا اور بلیک میلنگ کے ذریعے دوبارہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس مسلسل جبر اور دھمکیوں سے تنگ آ کر متاثرہ لڑکی نے جرات کا مظاہرہ کیا اور اعلیٰ حکام تک رسائی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے متاثرہ لڑکی نے لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے دفتر کا رخ کیا اور اپنی کچہری میں پیش ہو کر تمام روداد سنائی۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے اس درخواست پر فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ پولیس حکام کو فوری کارروائی اور انصاف فراہم کرنے کی سخت ہدایات جاری کیں جس کے بعد قانونی عملتی شروع ہوئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی آئی جی آپریشنز کی ہدایت پر تھانہ کاہنہ میں سی سی ڈی اہلکار محمد شبیر کے خلاف باقاعدہ طور پر تعزیرات پاکستان کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے اعلیٰ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کی شفاف تفتیش کی جائے گی اور تمام شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ ملزم کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشرے میں اس قسم کے واقعات پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اور عوامی حلقوں کی طرف سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں کالی بھیڑوں کے خلاف سخت ترین تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ محافظوں کا اس طرح جرائم میں ملوث ہونا پورے ادارے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس ترجمان کے مطابق محکمہ اپنے کسی بھی اہلکار کی جانب سے غیر قانونی یا مجرمانہ سرگرمیوں کی ہرگز پشت پناہی نہیں کرتا اور قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ محکمہ جاتی تحقیقات بھی شروع کی جا رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ملزم نے اس سے پہلے اس قسم کے کتنے جرائم میں اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ لڑکی کو اس وقت پولیس کی جانب سے تحفظ فراہم کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں جبکہ میڈیکل اور دیگر قانونی تقاضے بھی پورے کیے جا رہے ہیں۔ عدالتی اور پولیس کارروائی کے دوران متاثرہ کو ہر ممکن انصاف دلانے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے تاکہ وہ بغیر کسی خوف کے اپنے بیان پر قائم رہ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین قانون کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب قانون کا نفاذ کرنے والا ادارہ خود اس طرح کے سنگین جرائم میں ملوث ہو جائے تو شہریوں کا نظام انصاف سے اعتماد متزلزل ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ لہذا اس کیس میں جتنی جلدی اور شفافیت سے کارروائی ہو گی، اتنا ہی عوام کا اداروں پر اعتماد بحال رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور اسے جلد ہی حراست میں لے کر عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ قانون کے مطابق ملزم کو اس کے مکروہ فعل کی سزا دلوانے کے لیے تمام دستتاویزات اور ڈیجیٹل شواہد کو عدالت میں پیش کیا جائے گا جن میں مبینہ ویڈیو بھی شامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر بھر میں اس واقعے پر وکلا، حقوق نسواں کی تنظیموں اور عام شہریوں کی طرف سے شدید مذمت کی جا رہی ہے اور ایسے عناصر کے خلاف زیرو ٹالیرنس پالیسین اپنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ پولیس اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچائے گی تاکہ آئندہ کوئی اس قسم کی جرات نہ کر سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%db%8c-%d8%b3%db%8c-%da%88%db%8c-%d8%a7%db%81%d9%84%da%a9%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d9%84%da%91%da%a9%db%8c-%d8%b3%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
