<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سینیٹ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b3%db%8c%d9%86%db%8c%d9%b9/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Wed, 04 Nov 2026 07:58:43 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>سینیٹ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>امریکی وسط مدتی انتخابات 2026: ڈیموکریٹس کی اہم ریاستوں میں کامیابی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4954/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4954/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 04 Nov 2026 07:58:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[اوہائیو]]></category>
		<category><![CDATA[اینی_اینڈریوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکساس]]></category>
		<category><![CDATA[جان_ہسٹڈ]]></category>
		<category><![CDATA[جنوبی_کیرولائنا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیموکریٹک_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریپبلکن_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[سینیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[شیروڈ_براؤن]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[وسط_مدتی_انتخابات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/4954/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی وسط مدتی انتخابات کے دوران ڈیموکریٹک امیدواروں نے ٹیکساس، اوہائیو اور جنوبی کیرولائنا میں سینیٹ کی نشستیں اپنے نام کر لیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی وسط مدتی انتخابات 2026 کے غیر حتمی اور ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں نے ملک کی کئی اہم ریاستوں میں سینیٹ کی نشستیں جیت کر اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے۔ یہ انتخابی عمل امریکی سیاسی منظر نامے میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ریاست ٹیکساس میں ڈیموکریٹک امیدوار ٹالاریکو نے سینیٹ کی نشست پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔ یہ نشست ڈیموکریٹس کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح ریاست اوہائیو میں ڈیموکریٹک امیدوار شیر وڈ براؤن نے ریپبلکن پارٹی کے امیدوار اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی جان ہسٹڈ کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جنوبی کیرولائنا کی ریاست سے بھی ڈیموکریٹس کے لیے خوش آئند نتائج سامنے آئے ہیں، جہاں اینی اینڈریوز نے ریپبلکن امیدوار ڈار لین گر اہم کو شکست دے کر سینیٹ کی نشست پر کامیابی حاصل کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابی نتائج کے حوالے سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ردعمل میں دعویٰ کیا ہے کہ اگر وہ خود اس انتخابی عمل میں شامل ہوتے تو ریپبلکن پارٹی کو بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہوتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی وسط مدتی انتخابات میں کانگریس اور سینیٹ کی نشستوں پر ہونے والی یہ پیش رفت ملکی سیاست میں اہم تبدیلیوں کا پیش خیمہ سمجھی جا رہی ہے۔ ان نتائج کا اثر آئندہ کے قانون سازی کے عمل پر بھی پڑے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابی عمل کے دوران مختلف ریاستوں میں ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد اب حتمی نتائج کی گنتی کا عمل جاری ہے۔ حکام کی جانب سے ووٹوں کی تصدیق کے بعد حتمی اعداد و شمار جاری کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ وسط مدتی انتخابات امریکی سیاسی نظام کا ایک اہم حصہ ہیں جن میں ووٹرز اپنی مقامی اور قومی نمائندگی کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ انتخابات عام طور پر موجودہ حکومت کی مقبولیت کا پیمانہ سمجھے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابی مہم کے دوران دونوں بڑی جماعتوں، ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز، نے معیشت، صحت اور خارجہ پالیسی جیسے اہم امور پر اپنے بیانیے عوام کے سامنے پیش کیے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، کچھ ریاستوں میں کانٹے کا مقابلہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی وجہ سے نتائج کے حتمی اعلان میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کی جانب سے پرامن انتخابی عمل کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ اب تک کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ چند گھنٹوں میں مزید ریاستوں کے نتائج سامنے آنے کی توقع ہے جس سے سینیٹ میں اکثریت کا حتمی فیصلہ ہو سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی عوام کی بڑی تعداد نے ان انتخابات میں اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا ہے، جس سے جمہوری عمل کی مضبوطی کا اظہار ہوتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4954/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکی انتخابات: ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4945/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4945/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 04 Nov 2026 05:58:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[ایوان_نمائندگان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جنوبی_کیرولائنا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیموکریٹک_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریپبلکن_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[سینیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کانگریس]]></category>
		<category><![CDATA[واشنگٹن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/4945/</guid>

					<description><![CDATA[ڈیموکریٹک پارٹی نے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں کامیابی حاصل کر کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی انتخابات کے تازہ ترین نتائج کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں، سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔ یہ انتخابی عمل منگل کے روز مکمل ہوا جس میں لاکھوں امریکی ووٹرز نے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس انتخابی نتیجے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈیموکریٹس کی یہ کامیابی نہ صرف روایتی حلقوں تک محدود رہی بلکہ انہوں نے ریپبلکن پارٹی کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں میں بھی اپنی برتری ثابت کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی نے جنوبی کیرولائنا، ٹیکساس اور آئیووا جیسی ریاستوں میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ وہ ریاستیں ہیں جہاں ماضی میں ڈیموکریٹس کو اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا رہا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجزیہ کاروں کے مطابق اس انتخابی لہر نے یہ ثابت کیا ہے کہ امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومتی پالیسیوں سے گہرا عدم اطمینان رکھتی ہے۔ ووٹرز کا یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کی حالیہ کارکردگی پر ایک سخت ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابی نتائج کی وسعت اور گہرائی کا حتمی تعین کرنے کے لیے گنتی کا عمل ابھی بھی جاری ہے، تاہم ابتدائی اعداد و شمار سے یہ واضح ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کر لیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس سیاسی تبدیلی کے بعد امریکی قانون سازی کے عمل میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔ کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد ڈیموکریٹس اب قانون سازی کے ایجنڈے کو اپنے مطابق ترتیب دینے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریپبلکن پارٹی کے لیے یہ شکست انتہائی اہم ہے کیونکہ اس نے ان کے سیاسی اثر و رسوخ کو محدود کر دیا ہے۔ پارٹی کے اندر اب ان نتائج کے اسباب پر غور و فکر کا عمل شروع ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے ان نتائج کو عوام کی طرف سے تبدیلی کا مینڈیٹ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ووٹرز نے ملک کی موجودہ سمت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے نئی قیادت اور پالیسیوں کی حمایت کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان نتائج پر تاحال کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی باقی ماندہ مدت کے دوران کانگریس کے ساتھ کس طرح کے تعلقات برقرار رکھیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ چند دنوں میں جب تمام حلقوں کے حتمی نتائج سامنے آئیں گے تو کانگریس میں نشستوں کی تقسیم کی مکمل تصویر واضح ہو جائے گی۔ اس کے بعد ہی نئی قانون سازی کے لیے حکمت عملی طے کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ انتخابی نتائج امریکی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ اس سے قبل کانگریس میں ریپبلکن پارٹی کا غلبہ تھا۔ اب اقتدار کے توازن میں تبدیلی سے ملکی سیاست کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پسِ منظر کے طور پر دیکھا جائے تو امریکی کانگریس کے یہ انتخابات صدر ٹرمپ کے دورِ صدارت کے وسط میں منعقد ہوئے ہیں، جنہیں عام طور پر موجودہ انتظامیہ کی مقبولیت کا امتحان سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل قریب میں کانگریس کے اجلاسوں میں ڈیموکریٹس کی جانب سے مختلف پالیسیوں پر نظرثانی اور نئے قوانین متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4945/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکی انتخابات: ڈیموکریٹک امیدواروں نے جنوبی اور شمالی کیرولائنا میں نشستیں جیت لیں</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4936/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4936/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 04 Nov 2026 04:27:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابی_نتائج]]></category>
		<category><![CDATA[اینی_اینڈریوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جنوبی_کیرولائنا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیموکریٹک_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[رائے_کوپر]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریپبلکن_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[سینیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[شمالی_کیرولائنا]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[لنڈسے_گراہم]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/4936/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی سینیٹ کے انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے جنوبی کیرولائنا اور شمالی کیرولائنا میں اہم کامیابی حاصل کر لی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی انتخابات کے تازہ ترین نتائج کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی نے جنوبی کیرولائنا اور شمالی کیرولائنا کی سینیٹ نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے ریپبلکن پارٹی کو بڑا دھچکا دیا ہے۔ یہ نتائج امریکی سیاسی منظرنامے میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جنوبی کیرولائنا میں ڈیموکریٹک امیدوار اینی اینڈریوز نے ریپبلکن امیدوار ڈار لین گر اہم کو شکست دی۔ یہ 1998 کے بعد پہلا موقع ہے کہ اس ریاست سے کوئی ڈیموکریٹک امیدوار سینیٹ کے لیے منتخب ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اینی اینڈریوز نے اپنی انتخابی مہم کے دوران صحت کی سہولیات کی فراہمی، خاندانی اخراجات میں کمی اور تولیدی حقوق کے تحفظ پر توجہ مرکوز رکھی تھی۔ انہوں نے اپنی مہم کے لیے کارپوریٹ فنڈز لینے سے گریز کیا اور عوامی عطیات پر انحصار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شکست خوردہ ریپبلکن امیدوار ڈار لین گر اہم، جو آنجہانی سینیٹر لنڈسے گر اہم کی بہن ہیں، کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت بھی حاصل تھی۔ تاہم، انتخابی مباحثوں کے دوران قومی سلامتی کے امور پر ان کے بیان نے ووٹرز کو متاثر نہیں کیا، جس کے بعد وہ اپنی نشست برقرار نہ رکھ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اینی اینڈریوز نے اپنی فتح کے بعد کہا کہ یہ نشست کسی ایک خاندان یا پارٹی کی نہیں بلکہ عوام کی ملکیت ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ڈار لین گر اہم نے انہیں فون کر کے کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب شمالی کیرولائنا میں بھی ڈیموکریٹک امیدوار اور سابق گورنر رائے کو پر نے کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے ریپبلکن امیدوار مائیکل واٹلی کو شکست دے کر یہ نشست ڈیموکریٹس کے نام کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رائے کو پر نے اپنی فتح کا جشن ریلے میں منایا۔ انہوں نے تصدیق کی ہے کہ مائیکل واٹلی نے انتخابی نتائج کو تسلیم کر لیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی مبصرین کے مطابق ان ریاستوں میں ڈیموکریٹس کی کامیابی جنوبی امریکی ریاستوں میں سیاسی رجحانات میں ممکنہ تبدیلی کا اشارہ ہو سکتی ہے۔ اس پیشرفت سے ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں میں ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جنوبی کیرولائنا میں اینی اینڈریوز کی مہم کے دوران ان کے حامیوں اور طبی شعبے سے وابستہ طلباء نے بھی ان کی کامیابی کو سائنسی سوچ کی فتح قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابی نتائج کے بعد اب یہ نشستیں ڈیموکریٹک پارٹی کے کنٹرول میں آ گئی ہیں، جس سے سینیٹ میں پارٹی کی پوزیشن مستحکم ہونے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4936/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکی وسطی مدتی انتخابات، کانگریس میں اکثریت کا فیصلہ کن مرحلہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4913/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4913/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 03 Nov 2026 23:27:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[انڈیانا]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیموکریٹس]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریپبلکن_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[سینیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کانگریس]]></category>
		<category><![CDATA[کینٹکی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/4913/</guid>

					<description><![CDATA[امریکہ میں وسطی مدتی انتخابات کے لیے پولنگ بند ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکہ میں کانگریس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ہونے والے اہم وسطی مدتی انتخابات کا مرحلہ جاری ہے جہاں پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع کر دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں لاکھوں شہریوں نے ان انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنے حقِ رائے دہی کا بھرپور استعمال کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پہلے مرحلے کے تحت منگل کی شام ریاست انڈیانا اور ریاست کینٹکی میں قائم پولنگ اسٹیشنز کے دروازے بند کر دیے گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان انتخابات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور ان کی جماعت ریپبلکن پارٹی کی پالیسیوں کے لیے ایک بڑا امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹس کے مطابق رائے عامہ کے جائزوں میں یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ زیریں یعنی ہائوس آف نمائندگان پر کنٹرول حاصل کرنے میں آگے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب امریکی سینیٹ پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے ملک کی تقریباً دس اہم اور سخت مقابلہ والی ریاستوں میں سیاسی معرکہ آرائی جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹ کی ان چند نشستوں کا فیصلہ ان ریاستوں میں ہوگا جنہیں روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی کے مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان تمام اہم اور فیصلہ کن سینیٹ مقابلوں کے نتائج سے یہ طے پائے گا کہ آیا ڈیموکریٹس کانگریس کے دونوں ایوانوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر پاتے ہیں یا نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابات کے ان ابتدائی مراحل میں پولنگ اسٹیشنز کے باہر ووٹرز کی ایک بڑی تعداد موجود رہی جنہوں نے اپنے ووٹ کاسٹ کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکہ کے مختلف حصوں میں انتخابی عمل کے دوران سیکیورٹی اور انتظامات کے حوالے سے متعلقہ حکام الرٹ رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہو جائے گا کہ آئندہ دنوں میں قانون سازی کے عمل میں کون سی سیاسی جماعت برتری حاصل کرتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ووٹوں کی گنتی کا یہ عمل مختلف ریاستوں میں جاری ہے اور مزید نتائج کے اعلانات کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہنے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4913/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکہ میں وسطی مدتی انتخابات، کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ آج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4875/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4875/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 03 Nov 2026 19:27:53 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابات_2026]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیموکریٹس]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریپبلکنز]]></category>
		<category><![CDATA[سینیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کانگریس]]></category>
		<category><![CDATA[مڈٹرم_انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[واشنگٹن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/4875/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی ووٹرز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ حکومت پر اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکہ میں وسطی مدتی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے، جہاں شہری کانگریس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اپنے ووٹ کا حق استعمال کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ انتخابات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کے پہلے دو سالوں کی کارکردگی پر عوامی رائے کا احاطہ کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف مبصرین اور سروے رپورٹس کے مطابق، ڈیموکریٹک پارٹی کے ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکنز کو پیچھے چھوڑنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب، سینیٹ پر کنٹرول کے حوالے سے صورتحال تاحال غیر یقینی بنی ہوئی ہے اور دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹ کے لیے یہ انتخابی جنگ تقریباً دس انتہائی حریف ریاستوں میں لڑی جا رہی ہے، جن میں سے بیشتر کا تعلق ریپبلکنز کے مضبوط گڑھ مانے جانے والے خطوں سے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو عام طور پر امریکی صدر کی اپنی جماعت کو وسطی مدتی انتخابی عمل کے دوران کانگریس میں نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکہ بھر کے پولنگ مراکز پر ووٹرز کی کثیر تعداد موجود ہے جو ملکی معیشت، پالیسیوں اور حکومتی امور پر اپنی رائے کا اظہار کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابی مہم کے دوران دونوں فریقین کی جانب سے ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی گئی تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریپبلکن پارٹی کی قیادت اور امیدوار موجودہ انتظامیہ کی پالیسیوں کے تسلسل کے لیے ووٹ مانگ رہے ہیں جبکہ حزبِ اختلاف کی جماعتیں تبدیلی کی خواہاں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہری ملکی داخلی امور، افراطِ زر، روزگار اور دیگر اہم معاشی اشاریوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنے نمائندوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریاستی سطح پر سینیٹ کی نشستوں کے نتائج اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آئندہ پارلیمانی ایوانوں میں کس جماعت کو اکثریت حاصل ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابی عمل کو شفاف اور پُرامن طریقے سے مکمل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کی طرف سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ووٹرز کی بڑی تعداد اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کرنے کے لیے صبح سے ہی پولنگ سٹیشنز کے باہر قطاروں میں کھڑی نظر آئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حتمی نتائج پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کے مراحل کے ساتھ ہی سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4875/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مولانا فضل الرحمان کے بیان پر محسن نقوی کا سخت ردعمل، احترام کی گنجائش ختم ہونے کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/3181/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/3181/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 29 Oct 2026 14:14:14 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[جے_یو_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سینیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d9%88%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b6%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d8%b3%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر داخلہ نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست پر تنقید کرنے والے اب سرکاری مراعات اور نوکریوں کی توقع نہ رکھیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں سینیٹ کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مولانا کے ریاست مخالف بیان کے بعد اب ان کے احترام کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز ریاست کے حوالے سے انتہائی نامناسب الفاظ استعمال کیے، جس سے ملکی وقار کو ٹھیس پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں اختلاف رائے کا حق سب کو ہے، لیکن ریاست مخالف بیانات کسی بھی سیاستدان کو زیب نہیں دیتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر داخلہ نے اپنے دورہ ایران کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ کسی دفاعی معاہدے کے لیے نہیں تھا، بلکہ خطے میں جاری حالیہ بحران کو سنبھالنے کے لیے کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم کی ہدایت پر قومی ذمہ داری نبھانے کے لیے جاتے ہیں، یہ ان کا کوئی ذاتی شوق نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے مولانا فضل الرحمان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کے لیے ریاست اس وقت تک ماں کی طرح ہوتی ہے جب تک انہیں مال اور مراعات ملتی رہیں۔ جب حکومت میں حصہ نہیں ملتا تو یہ لوگ ریاست کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دیتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر داخلہ نے الزام عائد کیا کہ جے یو آئی نے مذہب کو سیاست اور ذاتی کاروبار کے لیے استعمال کرنے کا وطیرہ بنا رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے ہر حد تک جا سکتے ہیں اور مذہب کا نام استعمال کرنا ان کی پرانی عادت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے مزید کہا کہ یہی لوگ ماضی میں ان کے پاس آکر گورنر راج لگانے اور پی ٹی آئی سے جان چھڑانے کی درخواستیں کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ان تمام باتوں کو ثبوت کے ساتھ ثابت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹ اجلاس کے دوران جب جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے وزیر داخلہ کے بیان پر احتجاج کیا تو محسن نقوی نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ انہیں حقیقت سننا پڑے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب ریاست کی طرف سے ان لوگوں کو کوئی نوکری یا مالی مفاد حاصل نہیں ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر داخلہ نے کہا کہ ریاست کے خلاف غلاظت بھرے بیانات دینے والوں کو اب سرکاری سطح پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ریاست کو کمزور کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ ملکی اداروں اور ریاست کی تکریم ہر شہری اور سیاستدان پر لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی مفادات کے لیے ریاست کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے اور اس رویے کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایوان میں وزیر داخلہ کے سخت لہجے اور جے یو آئی پر تنقید کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے اس بیان پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جبکہ حکومتی ارکان نے محسن نقوی کے موقف کی تائید کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب مولانا فضل الرحمان نے حکومتی اقدامات اور دورہ ایران پر تنقید کرتے ہوئے ریاست کے حوالے سے سخت الفاظ استعمال کیے تھے۔ محسن نقوی نے انہی الفاظ کا جواب دیتے ہوئے یہ سخت موقف اپنایا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹ کا اجلاس اس معاملے پر کافی ہنگامہ خیز رہا، جہاں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا۔ چیئرمین سینیٹ نے ایوان کا نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ارکان کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/3181/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سینیٹ میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/646/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/646/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 13:17:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئین_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[اپوزیشن]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی]]></category>
		<category><![CDATA[پارلیمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سینیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%b3%db%8c%d9%86%db%8c%d9%b9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%b1%d8%ac%d9%86%d8%b3%db%8c-%da%a9/</guid>

					<description><![CDATA[ایوانِ بالا نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد کی کثرتِ رائے سے توثیق کر دی جبکہ اپوزیشن نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ملکی سیاسی اور انتظامی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے ایک اہم قرارداد ایوان میں پیش کی گئی جس کا مقصد صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کرنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ قرارداد وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے سینیٹ کے اجلاس میں باضابطہ طور پر پیش کی۔ قرارداد کے متن اور اغراض و مقاصد پر ایوان میں اراکین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس اقدام کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی اراکین کا مؤقف تھا کہ صوبے میں موجودہ حالات کے پیش نظر یہ آئینی اور انتظامی قدم اٹھانا ناگزیر ہو چکا تھا تاکہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے اور ریاستی رٹ کو یقینی بنایا جا سکے اور عام شہریوں کا تحفظ کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قرارداد پیش کیے جانے کے بعد ایوان میں اس پر بحث کا عمل مکمل کیا گیا جس کے بعد ڈپٹی چیئرمین یا سینیٹ کے صدر نشین نے کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے رائے شماری کا آغاز کیا جس میں اراکین نے بھرپور حصہ لیا اور اپنے ووٹ کاسٹ کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی اتحاد اور اتحادی جماعتوں کے اراکین کی اکثریت نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جس کے نتیجے میں یہ قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی گئی۔ اس طرح قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے بھی اس فیصلے کی باضابطہ توثیق ہو گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب، سینیٹ میں موجود اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے اس قرارداد کی شدید مخالفت کی۔ اپوزیشن ارکان کا کہنا تھا کہ صوبائی سطح پر اس قسم کے اقدامات جمہوریت اور صوبائی خودمختاری کے منافی ہیں جنہیں کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا اور یہ پارلیمانی روایات کے خلاف ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مخالفت کے دوران اپوزیشن ارکان نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر نعرے بازی بھی کی اور وفاقی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کروایا۔ انہوں نے اس اقدام کو وفاق اور صوبے کے تعلقات کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">احتجاج کے اگلے مرحلے میں اپوزیشن جماعتوں کے تمام اراکین نے سینیٹ کے اجلاس سے علامتی واک آؤٹ کیا۔ اپوزیشن اراکین ایوان سے باہر چلے گئے جس کی وجہ سے ایوان کا کچھ حصہ خالی ہو گیا اور اجلاس میں ماحول کافی کشیدہ ہو گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایوان میں اپوزیشن کی غیر موجودگی کے باوجود حکومتی بنچوں نے کارروائی جاری رکھی اور قرارداد کی منظوری کے عمل کو آئینی تقاضوں کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچایا تاکہ قانون سازی کا عمل بلا تعطل جاری رہ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے اس قرارداد کی منظوری کے بعد وفاقی حکومت کو اس حوالے سے آئینی اور قانونی طور پر مزید اقدامات اٹھانے میں آسانی ہوگی جو صوبے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں کیے جا رہے ہیں اور جن کے مثبت نتائج متوقع ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹ کے اس جاری اجلاس کے دوران نمازِ مغرب کے لیے پندرہ منٹ کا وقفہ بھی کیا گیا جس کے بعد ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی اور تمام طے شدہ ایجنڈے کو آگے بڑھایا گیا تاکہ عوامی فلاح و بہبود کے امور کو بھی نمٹایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/646/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کے پی میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے، سینیٹ میں قرارداد جمع</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/316/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/316/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 14:17:46 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئین_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی]]></category>
		<category><![CDATA[پارلیمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[جے_یو_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سینیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%da%a9%db%92-%d9%be%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%b1%d8%ac%d9%86%d8%b3%db%8c-%d9%86%d8%a7%d9%81%d8%b0-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%da%a9%d8%a7-%d9%81%db%8c%d8%b5%d9%84%db%81-%d9%88%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف سینیٹ میں قرارداد جمع کرا دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کی جانب سے سینیٹ میں باضابطہ طور پر ایک قرارداد جمع کرا دی گئی ہے۔ اس قرارداد میں صوبے کے اندر لگائی جانے والی ایمرجنسی کو آئینی تقاضوں سے متصادم قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا پرزور مطالبہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ اہم قرارداد جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کی طرف سے پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں جمع کرائی گئی۔ قرارداد کے متن میں صوبائی خودمختاری کے تحفظ اور عوام کے بنیادی آئینی حقوق کی پاسداری پر انتہائی زور دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ کسی بھی طرح سے آئینی تقاضوں کے مطابق نہیں ہے اور یہ اقدام صوبائی اختیارات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جے یو آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاق اس فیصلے سے متعلق تمام وجوہات اور متعلقہ ریکارڈ فوری طور پر پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متن میں مزید کہا گیا ہے کہ صدر مملکت اور وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ ایمرجنسی نافذ کرنے کا اپنا یہ فیصلہ فی الفور واپس لیں۔ وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت کی جانب سے اس نفاذ کے حوالے سے جو آئینی تقاضے ہیں ان پر بھی سنگین نوعیت کے سوالات اٹھ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قرارداد کے مطابق جس وقت یہ فیصلہ کیا گیا اور ایمرجنسی نافذ کی گئی، اس وقت صدر مملکت کی جانب سے مطلوبہ آئینی اطمینان کا عنصر بھی موجود نہیں تھا۔ جماعت کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے ملک میں آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جے یو آئی کی جانب سے جمع کرائی گئی اس قرارداد میں یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ ایمرجنسی کے اس حکم کو فوری طور پر واپس لے کر اسے مکمل طور پر غیر آئینی قرار دیا جائے۔ قرارداد میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ آئین و قانون کی حکمرانی کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قرارداد کی منظوری کے بعد اس کی باضابطہ نقول ملک کی اہم ترین شخصیات کو ارسال کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ان شخصیات میں صدر مملکت، وزیراعظم پاکستان اور وزیر قانون شامل ہیں جنہیں یہ سفارشات بھیجی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں سکیورٹی اور انتظامی امور کے تناظر میں لگنے والی اس ایمرجنسی پر سیاسی حلقوں میں پہلے سے ہی بحث جاری تھی۔ جے یو آئی کی جانب سے اس اقدام کو پارلیمنٹ کے ایوان میں اٹھانے سے سیاسی سرگرمیاں مزید تیز ہو گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹ کے آئندہ اجلاسوں میں اس قرارداد پر بحث متوقع ہے جہاں تمام سیاسی جماعتیں اس معاملے پر اپنے اپنے دلائل پیش کریں گی۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس قرارداد کی حمایت یا مخالفت کا فیصلہ ایوان کے اندر ہی سامنے آئے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں آئینی بالادستی اور صوبائی خودمختاری کے موضوع پر تمام سیاسی جماعتیں وقتاً فوقتاً اپنے مؤقوف کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں جے یو آئی کا یہ قدم ایک اہم سیاسی پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارلیمانی ذرائع کے مطابق اس قرارداد کو ایوان بالا کے قواعد و ضوابط کے مطابق ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے گا جس کے بعد اس پر باقاعدہ بحث کا آغاز ہوگا۔ تمام متعلقہ فریقین اس معاملے پر پارلیمنٹ کے اندر اپنا موقف بھرپور انداز میں رکھیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام اور سیاسی پنڈت اس بات کے منتظر ہیں کہ وفاقی حکومت اور پارلیمنٹ اس قرارداد پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ سینیٹ کا آئندہ اجلاس ملک کی سیاسی سمت کے تعین میں انتہائی اہم کردار ادا کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/316/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ، وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ کے اجلاس طلب</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/172/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/172/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 14:37:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آصف_علی_زرداری]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[بیرسٹر_گوہر]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سینیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/172/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کی توثیق کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا اجلاس بلایا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی حکومت نے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کی باقاعدہ منظوری کے لیے آئندہ روز وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا مقصد صوبے میں درپیش انتظامی اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنا ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے اور معمولات زندگی کو بحال کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں ہونے والی اعلیٰ سطح کی مشاورتی بیٹھک میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ اس سلسلے میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کے درمیان ایوانِ صدر میں ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں اہم حکومتی اور عسکری امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اہم ملاقات کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف کی معاونت کے لیے وفاقی کابینہ کے سینیئر ارکان اور مشیران موجود تھے۔ معاونت کرنے والوں میں نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار، سیاسی امور کے مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی شامل تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علاوہ ازیں وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور وفاقی وزیر سینیٹر احد چیمہ بھی اس موقع پر وزیراعظم کے ہمراہ موجود تھے۔ اجلاس میں قانون اور آئین کے مختلف پہلوؤں پر طویل غوروخوض کیا گیا تاکہ ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے تمام آئینی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری کی معاونت کے لیے بھی پیپلز پارٹی کی اہم قیادت اور سینیٹرز ایوان صدر کے اجلاس میں شریک ہوئے۔ ان رہنماؤں میں سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم حسین شامل تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق ایوان صدر میں ہونے والے اس مشاورتی اجلاس کی بنیادی وجہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے بھجوائی گئی وہ رپورٹ تھی جس میں صوبے کی موجودہ امن و امان اور انتظامی صورتحال پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر خیبر پختونخوا کی رپورٹ میں صوبے کے اندرونی حالات، سکیورٹی کے امور اور انتظامی مشینری کی کارکردگی کا احاطہ کیا گیا تھا جس پر اعلیٰ سطح پر گہرا غور کیا گیا۔ اس رپورٹ کے جائزے کے بعد ہی صوبے میں آئینی و انتظامی اقدامات اٹھانے کے حوالے سے حتمی فیصلے کی طرف بڑھنے کا اتفاق ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی کابینہ کا اجلاس کل صبح ساڑھے نو بجے طلب کر لیا گیا ہے جس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی باقاعدہ منظوری لیے جانے کا قوی امکان ہے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد اس فیصلے کو حتمی شکل دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمرجنسی کے نفاذ کی آئینی توثیق کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے۔ طے پایا ہے کہ منگل تیرہ اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارلیمنٹ کے ان ایوانوں میں ارکان کو خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال اور حکومت کے اس فیصلے کے محرکات سے آگاہ کیا جائے گا، جہاں حکومت اس اقدام پر قانون سازوں کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تمام پیشرفت کے تناظر میں سیاسی حلقوں میں ہلچل مچی ہوئی ہے اور مختلف جماعتوں کی جانب سے بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر نے صوبے میں کسی بھی قسم کی ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کی تردید کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے انتظامی اقدامات کا مقصد سیاسی مخالفین کو دباؤ میں لانا یا کسی سیاسی جماعت کو نشانہ بنانا ہے، جس کی وہ بھرپور مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے کافی تعداد میں کارکنان پہلے ہی پنجاب کی جیلوں میں قید ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری طرف گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صوبے میں کسی بھی غیرمعمولی انتظامی اقدام کا مقصد ہرگز کسی سیاسی جماعت کو نشانہ بنانا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات صوبے کے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہو چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/172/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
