<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سیلز_ٹیکس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b3%db%8c%d9%84%d8%b2_%d9%b9%db%8c%da%a9%d8%b3/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 26 Oct 2026 11:38:15 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>سیلز_ٹیکس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>ایف بی آر کا ٹیکسٹائل اسپننگ یونٹس میں ویڈیو کیمرے لگانے کا حکم</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/2462/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/2462/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 11:38:15 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکس_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکسٹائل_اسپننگ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیلز_ٹیکس]]></category>
		<category><![CDATA[صنعت_و_تجارت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a7%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%8c-%d8%a2%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%b9%db%8c%da%a9%d8%b3%d9%b9%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d8%a7%d8%b3%d9%be%d9%86%d9%86%da%af-%db%8c%d9%88%d9%86%d9%b9%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے تمام رجسٹرڈ ٹیکسٹائل اسپننگ یونٹس کو پندرہ نومبر تک ویڈیو سرویلنس کیمرے نصب کرنے کی ہدایت کردی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملک بھر کے تمام رجسٹرڈ ٹیکسٹائل اسپننگ یونٹس میں قدرتی، مصنوعی اور مخلوط ریشوں کی پروسیسنگ کی الیکٹرانک نگرانی کے لیے ویڈیو سرویلنس کیمروں کی تنصیب لازمی قرار دے دی ہے۔ اس حوالے سے ایف بی آر نے سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 30 جاری کر دیا ہے جس کے تحت تمام متعلقہ صنعتی اداروں کو سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئے احکامات کے مطابق تمام ٹیکسٹائل اسپننگ یونٹس کو پندرہ نومبر دو ہزار چھبیس تک مقررہ مقامات پر جدید ویڈیو سرویلنس کیمرے نصب کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔ اس اہم اقدام کا بنیادی مقصد کپاس، پالیسٹر، ویسکوز، اون اور ایکریلک سمیت مختلف ریشوں کی کھلی، غیر گانٹھ شدہ یا دیگر شکلوں میں ہونے والی پروسیسنگ کی موثر نگرانی کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ نیا انتظام پہلے سے نافذ سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 08 آف 2025 کے تحت کپاس کی گانٹھوں کی نگرانی کے علاوہ اضافی طور پر لاگو ہوگا۔ نئے حکم کے تحت کیمرے کارخانوں کے اندر مخصوص اور اہم ترین مقامات پر نصب کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکم کے مطابق کیمروں کی تنصیب کے لیے ہاپر بیل اوپنرز، ہاپر فیڈرز اور قدرتی یا مصنوعی ریشوں کو ملانے والے ویئنگ ہاپر کے مقامات کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بلینڈنگ فیڈرز، مصنوعی ریشوں کی مخصوص بلو روم لائنز، ویسٹ اوپنرز اور ری سائیکلنگ لائنز پر بھی کیمرے لازمی لگائے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر نے ان تمام مقامات کو بھی احاطہ کار میں شامل کیا ہے جہاں ریشوں کو بلو روم میں منتقل کرنے سے پہلے ذخیرہ کیا جاتا ہے یا آپس میں ملایا جاتا ہے۔ یہ اقدام پیداواری عمل میں شفافیت لانے اور محصولات کی وصولی کو بہتر بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر نے بورڈ سے منظور شدہ ویڈیو اینالیٹکس سسٹم فراہم کرنے والے وینڈرز کو بھی خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔ وینڈرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان تمام کیمروں کو اپنے مرکزی نظام کے ساتھ منسلک کریں تاکہ مانیٹرنگ کا عمل بروقت اور درست طریقے سے مکمل ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نظام کو اس طرح ڈیزائن کرنے کی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کھلی یا غیر گانٹھ شدہ شکل میں فراہم کیے جانے والے ریشوں کی شناخت، گنتی اور ان کی درست مقدار کا تعین کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہو۔ اس جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پیداواری عمل کی شفاف نگرانی ہر وقت ممکن ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکم نامے کی رو سے اس ٹیکنالوجی نظام میں پیداواری عمل کی حقیقی وقت پر مشتمل ویڈیو ریکارڈنگ کی سہولت ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ پیداوار سے متعلق ڈیٹا کی فوری وصولی، اشیا کی شناخت اور ان کی گنتی کا عمل بھی خودکار طریقے سے انجام پائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترتیب دیے گئے اس نظام کے تحت حاصل ہونے والا تمام ڈیٹا فوری طور پر ایف بی آر کے مرکزی کنٹرول یونٹ کو ارسال کیا جائے گا۔ اس نظام میں تمام تر ریکارڈ محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ غیر متوقع طور پر کام رکنے کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت بھی لازمی طور پر موجود ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکنالوجی کے اس وسیع استعمال سے پیداوار کے مقداری تجزیے اور کسی بھی قانونی کارروائی کے لیے ڈیٹا اینالیٹکس کی سہولت بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔ ایف بی آر حکام کا ماننا ہے کہ اس سے ٹیکس وصولی کے نظام میں مزید بہتری آئے گی اور کسی قسم کی غفلت کی گنجائش نہیں رہے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ جاتی ہدایات میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 08 آف 2025 بدستور اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ نافذ العمل رہے گا۔ نیا جاری ہونے والا حکم نامہ اسی سابقہ حکم کے تسلسل اور اس میں اضافے کے طور پر پڑھا اور نافذ کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر کے مطابق ان تمام نئے احکامات کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے اور تمام متعلقہ صنعتی یونٹس کو قانون پر من و عن عملدرآمد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ صنعت کاروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مقررہ مدت میں اس نظام کو مکمل فعال کر دیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کی جانب سے جاری کردہ ان ہدایات کا مقصد ملک بھر میں ٹیکسٹائل کے شعبے میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔ اس اقدام سے معیشت کو مستحکم کرنے اور ٹیکس کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے میں بھی مدد ملے گی جس کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو متحرک کر دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/2462/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور ہائیکورٹ: مقررہ مدت کے بعد دائر ٹیکس ریفرنسز ناقابلِ سماعت قرار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/551/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/551/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 07:57:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انکم_ٹیکس]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_قانون]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکس_ریفرنس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیلز_ٹیکس]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_فیصلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانون_کی_حکمرانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%85%d9%82%d8%b1%d8%b1%db%81-%d9%85%d8%af%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d8%af%d8%a7%d8%a6%d8%b1-%d9%b9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی تاخیر معاف کرنے کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے سرکاری اداروں کو بھی قانون کی پابندی کا پابند قرار دے دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ نے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس سے متعلق ایک اہم قانونی فیصلے میں واضح کیا ہے کہ مقررہ قانونی مدت گزر جانے کے بعد دائر کیے گئے ٹیکس ریفرنسز کسی صورت قابلِ سماعت نہیں ہوں گے۔ عدالت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور دیگر متعلقہ سرکاری محکموں کی جانب سے تاخیر کو معاف کرنے کے لیے دائر کردہ متفرق درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ فیصلہ جسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس منور اقبال دوگل پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ان لینڈ ریونیو کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کے بعد جاری کیا۔ عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ قانونی مدت ختم ہونے کے بعد دفتری اعتراضات دور کرنے سے درخواستیں ازخود قانونی طور پر درست اور قابلِ سماعت نہیں ہو جاتیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی فیصلے کے مطابق، دفتری اعتراضات کو دور کرنے کے لیے دی گئی مہلت کو کسی بھی صورت میں ریفرنس دائر کرنے کی اصل قانونی مدت میں توسیع تصور نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے سپریم کورٹ کے سابقہ نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نامکمل درخواستوں کو قانونی طور پر دائر شدہ نہیں مانا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی بینچ نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ قانونِ میعاد (لمیٹیشن) کے اطلاق کے معاملے میں سرکاری ادارے اور عام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں۔ ایف بی آر یا کسی بھی سرکاری محکمے کو محض سرکاری ادارہ ہونے کی بنیاد پر تاخیر کی معافی میں کوئی خصوصی یا امتیازی رعایت نہیں دی جا سکتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سال 2023 میں دائر کیے گئے ٹیکس ریفرنسز کے معاملے میں تقریباً تین سال بعد تاخیر معاف کرنے کی درخواستیں دائر کرنا غیر معقول عمل ہے۔ عدالت نے درخواست گزاروں کی جانب سے دفتری طریقہ کار اور محکموں میں رائج روایات کو تاخیر کا جواز بنانے کی کوشش کو بھی سختی سے مسترد کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار اپنی غفلت اور نامکمل درخواستیں دائر کرنے کی ذمہ داری ہائیکورٹ کے دفتر پر عائد نہیں کر سکتے۔ مقررہ قانونی مدت کے اندر درست اور مکمل درخواست دائر کرنا درخواست گزار کی قانونی ذمہ داری ہے، جس سے پہلو تہی نہیں کی جا سکتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلے کے مطابق، محض اس بنیاد پر تاخیر کو معاف نہیں کیا جا سکتا کہ درخواست پہلے دائر کر دی گئی تھی، لیکن اس میں موجود دفتری اعتراضات بعد میں دور کیے گئے۔ عدالت نے واضح کیا کہ دفتری اعتراضات اور درخواستوں کی تکمیل کے امور کو بنیاد بنا کر قانونی مدت گزرنے کے بعد ریفرنس دائر کرنے کا حق حاصل نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ نے ایف بی آر اور دیگر سرکاری اداروں کی جانب سے دائر تاخیر معافی کی تمام متعلقہ متفرق درخواستیں خارج کر دی ہیں۔ عدالت نے اس فیصلے کی مصدقہ نقل اپیلٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو کو بھجوانے کا حکم بھی جاری کر دیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے معاملات میں قانونی تقاضوں کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس فیصلے سے ٹیکس مقدمات میں قانونی مدت کی اہمیت مزید اجاگر ہوئی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، یہ فیصلہ سرکاری محکموں کے لیے ایک اہم پیغام ہے کہ انہیں اپنے قانونی معاملات اور ریفرنسز کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کرنے کے لیے دفتری کارکردگی کو بہتر بنانا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ تمام ادارے مقررہ ضوابط کی پاسداری کریں۔ سرکاری محکموں کی جانب سے تاخیر کے جواز پیش کرنے سے عدالتی نظام پر بوجھ بڑھتا ہے، جسے اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلے کے بعد اب متعلقہ محکموں کو اپنے ٹیکس ریفرنسز کے حوالے سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی۔ عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ اب کسی بھی قسم کی غیر ضروری تاخیر کو قانونی تحفظ حاصل نہیں ہوگا اور قانون کے مطابق ہی مقدمات کو آگے بڑھایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ عدالتی فیصلہ ٹیکس قوانین کے نفاذ اور سرکاری اداروں کی احتساب کے عمل میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی عدالتیں متعدد بار سرکاری اداروں کو وقت کی پابندی کرنے کی ہدایت کر چکی ہیں، تاہم اس فیصلے نے قانونی مدت کی اہمیت کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ قانون کی بالادستی کے لیے ضروری ہے کہ ہر ادارہ اپنی حدود میں رہ کر کام کرے۔ ٹیکس ریفرنسز کے معاملات میں شفافیت اور بروقت کارروائی ہی انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کا واحد راستہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/551/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
