<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.14.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سیلاب_بحالی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b3%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%a8_%d8%a8%d8%ad%d8%a7%d9%84%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Wed, 21 Oct 2026 11:37:22 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>سیلاب_بحالی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>قرضوں پر سود کی ادائیگیوں سے حکومت کو شدید مالی دباؤ کا سامنا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%82%d8%b1%d8%b6%d9%88%da%ba-%d9%be%d8%b1-%d8%b3%d9%88%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%af%db%8c%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%d9%88/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%82%d8%b1%d8%b6%d9%88%da%ba-%d9%be%d8%b1-%d8%b3%d9%88%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%af%db%8c%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%d9%88/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 11:37:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بیرونی_قرضے]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ترقیاتی_منصوبے]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی]]></category>
		<category><![CDATA[ٹراسپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_آئل_فیسیلٹی]]></category>
		<category><![CDATA[سود]]></category>
		<category><![CDATA[سیلاب_بحالی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قرضے]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[مفاد_عامہ]]></category>
		<category><![CDATA[مہنگائی]]></category>
		<category><![CDATA[وزارت_خزانہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%82%d8%b1%d8%b6%d9%88%da%ba-%d9%be%d8%b1-%d8%b3%d9%88%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%af%db%8c%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%d9%88/</guid>

					<description><![CDATA[گزشتہ مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران سود کی مد میں چار اعشاریہ نو کھرب روپے ادا کیے گئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملکی اور غیر ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگیاں سرکاری خزانے کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ بن چکی ہیں جس سے ملکی معیشت کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اور قومی اسمبلی میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق حکومت کو اس سال کے پہلے نو ماہ میں بھاری رقوم ادا کرنا پڑیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے ابتدائی نو ماہ کے دوران صرف سود کی مد میں چار اعشاریہ نو کھرب روپے کی ادائیگی کی گئی ہے۔ اس خطیر رقم کی ادائیگی کے بعد قومی معیشت پر بوجھ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ترقیاتی اخراجات کے لیے فنڈز کی دستیابی محدود ہو گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قرضوں اور ان کی ادائیگیوں سے متعلق تمام تفصیلات قومی اسمبلی میں باضابطہ طور پر پیش کی گئیں تاکہ اراکین کو ملکی مالیاتی صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے ان دستاویزات میں بیرونی قرضوں کے استعمال اور ان کے مختلف مدات میں خرچ ہونے کی مکمل تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کے مطابق بیرونی قرضوں کا ایک بہت بڑا حصہ ملک میں ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس مخصوص مد میں مجموعی طور پر گیارہ اعشاریہ چار دو ارب ڈالر خرچ کیے گئے تاکہ معاشی استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی دستاویزات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ حاصل کردہ قرضوں میں سے تین اعشاریہ صفر نو ارب ڈالر توانائی کے شعبے کی بہتری کے لیے صرف کیے گئے۔ اس کے علاوہ ایک اعشاریہ چھ نو ارب ڈالر کی رقم ملک میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے کاموں پر خرچ کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت خزانہ کے مطابق موجودہ حکومت بیرونی قرضوں کی مدد سے ملک بھر میں چودہ بڑے قومی نوعیت کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ ان تمام جاری منصوبوں کی مجموعی مالیت گیارہ اعشاریہ آٹھ چھ ارب ڈالر بنتی ہے جو معیشت کی بہتری میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توانائی کے شعبے کو خود کفیل بنانے اور بجلی کی ترسیل کے نظام کو بہتر کرنے کے لیے وزارت توانائی کے سات بڑے منصوبے بھی بیرونی قرضوں کی مدد سے ہی تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ یہ منصوبے طویل المعادی بنیادوں پر ملکی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دستاویزات میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ تین اعشاریہ تین آٹھ ارب ڈالر کا سعودی آئل فیسیلٹی پروگرام بھی انھی بیرونی ذرائع سے چلایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ دو ارب ڈالر کا آئی ٹی ایف سی آئل اینڈ ایل اینڈ جی فنانسنگ پروگرام بھی بیرونی قرضوں کے ذریعے کامیابی سے جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توانائی کے مخصوص منصوبوں میں جامشورو کے پاور پلانٹ کے لیے دو سو سینتالیس اعشاریہ چھ صفر ملین ڈالر کا قرض مختص کیا گیا۔ اسی طرح تربیلا بند کی توسیعی اور بہتری کے منصوبے کے لیے چار سو پچہتر ملین ڈالر کی بیرونی رقم استعمال کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">داسو پاور پروجیکٹ کے لیے دو سو پچیس ملین ڈالر جبکہ مہمند ڈیم کی تعمیر کے لیے ترانوے اعشاریہ دو دو ملین ڈالر کے بیرونی قرضے حاصل کیے گئے۔ یہ آبی ذخائر ملک میں توانائی کی پیداوار اور پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بجلی کے ترسیلی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ٹرانسمیشن ماڈرنائزیشن کا منصوبہ بھی ایک سو بیانوے اعشاریہ آٹھ سات ملین ڈالر کے بیرونی قرض کی مدد سے مکمل کیا جائے گا۔ اس سے ملک میں بجلی کی ترسیل کے دوران ہونے والے نقصانات میں کمی آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سکھر ملتان موٹروے اور کراچی موبیلیٹی جیسے بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے بھی بیرونی مالی معاونت اور قرضوں کے ذریعے ہی پایہ تکمیل تک پہنچائے جا رہے ہیں۔ ان سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے منصوبوں سے نقل و حمل کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دستاویز میں اس امر کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ ڈیڑھ ارب ڈالر کا بلڈنگ ریزیلینٹ کاؤنٹر پروگرام بھی انھی بیرونی قرضوں کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس پروگرام کا مقصد ملک میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنانا اور عمارتوں کے معیار کو بلند کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علاوہ ازیں ہائر ایجوکیشن کے فروغ، ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنے اور قدرتی آفات کے خطرات کو کم کرنے کے منصوبے بھی بین الاقوامی مالی معاونت سے جاری ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان تمام قرضوں کو شفاف طریقے سے ملکی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%82%d8%b1%d8%b6%d9%88%da%ba-%d9%be%d8%b1-%d8%b3%d9%88%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%af%db%8c%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%d9%88/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
