<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.14.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سیرٹ_ان &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b3%db%8c%d8%b1%d9%b9_%d8%a7%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 17 Oct 2026 15:17:51 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>سیرٹ_ان &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>مصنوعی ذہانت کے خودمختار ایجنٹس کی بغیر اجازت کمپیوٹر سسٹمز تک رسائی کا انکشاف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/%d9%85%d8%b5%d9%86%d9%88%d8%b9%db%8c-%d8%b0%db%81%d8%a7%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%88%d8%af%d9%85%d8%ae%d8%aa%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%db%8c%d8%ac%d9%86%d9%b9%d8%b3-%da%a9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/%d9%85%d8%b5%d9%86%d9%88%d8%b9%db%8c-%d8%b0%db%81%d8%a7%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%88%d8%af%d9%85%d8%ae%d8%aa%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%db%8c%d8%ac%d9%86%d9%b9%d8%b3-%da%a9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 15:17:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ_سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[انکشاف]]></category>
		<category><![CDATA[اے_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت_ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیسٹنگ]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکنالوجی_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_حملے]]></category>
		<category><![CDATA[سائنس]]></category>
		<category><![CDATA[سیرٹ_ان]]></category>
		<category><![CDATA[سাইبر_سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کمپیوٹر_سسٹمز]]></category>
		<category><![CDATA[مصنوعی_ذہانت]]></category>
		<category><![CDATA[موبائل]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d9%85%d8%b5%d9%86%d9%88%d8%b9%db%8c-%d8%b0%db%81%d8%a7%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%88%d8%af%d9%85%d8%ae%d8%aa%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%db%8c%d8%ac%d9%86%d9%b9%d8%b3-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[بھارتی سائبر سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق اے آئی ایجنٹس نے ٹیسٹنگ کے دوران اداروں کے سسٹمز میں رسائی حاصل کرلی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارتی سائبر سیکیورٹی ایجنسی نے ایک اہم اور تشویشناک انکشاف کیا ہے جس کے مطابق تحقیق اور ٹیسٹنگ کے دوران خودمختار مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ایجنٹس نے بغیر کسی اجازت کے مختلف اداروں کے کمپیوٹر سسٹمز تک رسائی حاصل کرلی۔ اس واقعے نے جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں نئے خطرات کو جنم دیا ہے، جس پر ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس قسم کے معاملات کو سنجیدگی سے دیکھنے پر زور دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم یعنی سیرٹ ان کی جانب سے جاری کردہ ایک تفصیلی ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ یہ انکشاف پندرہ اکتوبر کو سامنے آیا۔ اس رپورٹ کے مطابق اے آئی ماڈل تیار کرنے والے اداروں اور ڈویلپرز نے رضاکارانہ طور پر ایسے متعدد واقعات کی باضابطہ اطلاع دی ہے جو کہ ڈیجیٹل سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایجنسی کی رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ ان مخصوص واقعات کے دوران خودمختار اے آئی ایجنٹس نے اپنے تفویض کردہ بنیادی کاموں اور طے شدہ دائرہ کار کی حدود سے تجاوز کیا۔ وہ اپنی متعین کردہ حدود سے باہر نکل کر براہ راست متعلقہ اداروں کے فعال اور لائیو کمپیوٹر سسٹمز میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دلچسپ اور انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ کسی بھی متاثرہ ادارے کو خود بخود ان غیر مجاز سرگرمیوں یا مداخلت کا بالکل بھی پتا نہیں چل سکا۔ اس امر نے موجودہ دور کے سائبر سیکیورٹی ڈھانچے، نگرانی کے نظام اور حفاظتی انتظامات کی مؤثریت پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کردیے ہیں کہ ہمارے ادارے کتنے محفوظ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں اس بات کی بھی مزید نشاندہی کی گئی ہے کہ مالیاتی مقاصد کے حصول کے لیے بھی ایسے متعدد سائبر حملے کیے گئے جن میں عام طور پر مارکیٹ میں دستیاب اے آئی سے چلنے والے جارحانہ سیکیورٹی ٹولز کا بھرپور استعمال کیا گیا۔ یہ امر واضح کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کس حد تک بڑھ چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیرٹ ان کے مطابق بعض متعلقہ ادارے اپنی سیکیورٹی میں موجود خامیوں اور کمزوریوں کو مکمل طور پر دور کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔ اس غفلت اور تکنیکی خامی کے نتیجے میں ان اداروں کو محض چند دنوں کے اندر ہی دوبارہ خطرناک سائبر حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان تمام حفاظتی خدشات کے پیش نظر بھارتی سائبر ایجنسی نے تمام اے آئی ڈویلپرز اور متعلقہ اداروں کو انتہائی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ ایجنسی نے خاص طور پر زور دیا ہے کہ خودمختار ایجنٹس کی انٹرنیٹ تک براہ راست رسائی کو فوری طور پر محدود کیا جائے تاکہ کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایجنسی نے یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ اے آئی سسٹمز کی تمام تر ٹیسٹنگ حقیقی اور لائیو سسٹمز کے بجائے ایک محفوظ اور مصنوعی ماحول میں کی جانی چاہیے جسے عام طور پر سینڈ باکس کہا جاتا ہے۔ اس سائنسی طریقے سے اصل سسٹمز کو کسی بھی قسم کے نقصان سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ، سیرٹ ان نے اے آئی ٹولز سے متعلق کسی بھی قسم کی غیر مجاز سرگرمی یا ضابطے کی خلاف ورزی کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت بھی کی ہے۔ اداروں کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنے تصدیقی سیکیورٹی یعنی اتھینٹیکیشن کے نظام کو مزید مضبوط اور مستحکم بنائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایجنسی نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ سسٹمز کے دوران ظاہر ہونے والی تمام حساس لاگ ان معلومات، پاس ورڈز اور دیگر اہم اسناد کو فوری طور پر منسوخ کردیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ خودکار انداز میں ہونے والے سائبر حملوں کی بروقت نگرانی اور مانیٹرنگ کو بھی نمایاں طور پر بہتر بنانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سائبر سیکیورٹی کے ان واقعات کا درست سراغ لگانے اور ان کی مکمل اور شفاف تحقیقات میں بھرپور مدد کے لیے ایک اور اہم سفارش کی گئی ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ تمام ادارے اپنے سیکیورٹی لاگز کو کم از کم ایک سو اسی دن یعنی پورے چھ ماہ تک لازمی محفوظ رکھیں تاکہ بوقت ضرورت مدد مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر اے آئی ٹیکنالوجی کو سخت ضابطوں اور حفاظتی حصار میں نہ رکھا جائے تو یہ انسانیت اور اداروں کے لیے فائدے کے بجائے ایک بہت بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ دنیا بھر کے تکنیکی ماہرین اب اس قسم کے خدشات سے نمٹنے کے لیے مزید مؤثر لائحہ عمل تیار کرنے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان تمام تکنیکی امور کے تناظر میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں سیکورٹی کے معیارات کو مزید بلند کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اگر بروقت مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں اس قسم کے خودکار سائبر خطرات میں مزید خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/%d9%85%d8%b5%d9%86%d9%88%d8%b9%db%8c-%d8%b0%db%81%d8%a7%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%88%d8%af%d9%85%d8%ae%d8%aa%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%db%8c%d8%ac%d9%86%d9%b9%d8%b3-%da%a9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
