<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سید_کرمانی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b3%db%8c%d8%af_%da%a9%d8%b1%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Tue, 13 Oct 2026 09:57:20 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>سید_کرمانی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>آسٹریلوی بیٹر مارنس لبوشین کا ٹیسٹ کرکٹ میں انوکھا ریکارڈ قائم</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/sports/412/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/sports/412/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 09:57:20 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کھیل]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آسٹریلوی_ٹیم]]></category>
		<category><![CDATA[آسٹریلیا_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیسٹ_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[جنوبی_افریقہ]]></category>
		<category><![CDATA[دلچسپ_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سید_کرمانی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_ٹیم]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a2%d8%b3%d9%b9%d8%b1%db%8c%d9%84%d9%88%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%b9%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d8%b1%d9%86%d8%b3-%d9%84%d8%a8%d9%88%d8%b4%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d9%b9%db%8c%d8%b3%d9%b9-%da%a9%d8%b1%da%a9/</guid>

					<description><![CDATA[آسٹریلوی بیٹر مارنس لبوشین نے جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں دونوں اننگز میں یکساں گیندیں کھیل کر یکساں رنز بنا لیے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز بیٹر مارنس لبوشین نے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایک انتہائی دلچسپ اور نایاب ریکارڈ اپنے نام کر لیا ہے جس نے کھیلوں کے حلقوں میں سب کی توجہ حاصل کر لی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ انوکھا کارنامہ انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے جانے والے ایک اہم ٹیسٹ میچ کے دوران سرانجام دیا جہاں ان کی کارکردگی نے کرکٹ کے شائقین کو دنگ کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مارنس لبوشین نے میچ کی پہلی اننگز میں شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدان میں ذمہ دارانہ کھیل پیش کیا اور مخالف بالرز کا بھرپور مقابلہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پہلی اننگز کے دوران آسٹریلوی بیٹر مارنس لبوشین نے 58 گیندوں کا سامنا کیا اور اس دوران گراؤنڈ کے چاروں طرف عمدہ اسٹروکس کھیلتے ہوئے مجموعی طور پر 37 رنز بنائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کی اس پہلی اننگز کی اننگز میں صبر اور تکنیک کا بہترین امتزاج دیکھنے کو ملا جس نے ٹیم کے مجموعی اسکور میں اہم کردار ادا کیا اور ان کی فارم کا پتہ دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مظہرِ حیرت یہ رہا کہ جب میچ کی دوسری اننگز میں مارنس لبوشین دوبارہ بیٹنگ کے لیے کریز پر آئے تو ان کا اندازِ بیاں اور اسکور ہو بہو پہلی باری کی طرح نکلا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری اننگز میں بھی مارنس لبوشین نے بلکل اتنی ہی گیندیں کھیلیں جتنی انہوں نے پہلی باری میں کھیلی تھیں اور رن بنانے کی رفتار بھی یکساں ہی برقرار رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے دوسری اننگز میں بھی قطعی طور پر 58 گیندیں ہی کھیلیں اور حیرت انگیز طور پر اس بار بھی ان کے بلے سے اتنے ہی رنز یعنی 37 رنز ہی نکلے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس طرح مارنس لبوشین نے ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں یکساں گیندیں کھیل کر یکساں رنز بنانے کا یہ نایاب اور منفرد عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرکٹ کے اعداد و شمار پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق ٹیسٹ کرکٹ کی طویل تاریخ میں کم از کم 20 رنز کی اننگز میں اس نوعیت کا یہ صرف دوسرا واقعہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایسا ہی ایک واقعہ بھارت کے سابق وکٹ کیپر بیٹر سید کرمانی کے نام درج تھا جنہوں نے یہ کارنامہ برسوں پہلے انجام دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی وکٹ کیپر بیٹر سید کرمانی نے 1977-78 کے سیزن میں میلبرن کرکٹ گراؤنڈ پر آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں یکساں کارکردگی دکھائی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تاریخی میچ میں سید کرمانی نے دونوں اننگز میں 62، 62 گیندیں کھیل کر بالکل یکساں 29، 29 رنز بنائے تھے جو آج تک ریکارڈ کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اب مارنس لبوشین نے دہائیوں بعد اس نایاب ترین ریکارڈ کی برابری کرتے ہوئے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے ریکارڈز میں اپنا نام سنہری حروف میں درج کروا لیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مارنس لبوشین کی اس انوکھی کامیابی پر کھیلوں کے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر بھی زبردست چرچا ہے اور شائقین کرکٹ اس نایاب اتفاق پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/sports/412/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مارنس لبوشین کا ڈربن ٹیسٹ میں ایک انوکھا ریکارڈ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/sports/304/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/sports/304/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 12:57:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کھیل]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آسٹریلوی_بلے_باز]]></category>
		<category><![CDATA[آسٹریلیا_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیسٹ_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیسٹ_میچ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈربن_ٹیسٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سید_کرمانی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کرکٹ_ریکارڈ]]></category>
		<category><![CDATA[کرکٹ_کی_تاریخ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%85%d8%a7%d8%b1%d9%86%d8%b3-%d9%84%d8%a8%d9%88%d8%b4%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%da%88%d8%b1%d8%a8%d9%86-%d9%b9%db%8c%d8%b3%d9%b9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%86%d9%88%da%a9%da%be/</guid>

					<description><![CDATA[آسٹریلوی بلے باز مارنس لبوشین نے ڈربن ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں یکساں رنز بنا کر منفرد ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ڈربن ٹیسٹ میچ کے دوران آسٹریلوی ٹیم کے مایہ ناز بلے باز مارنس لبوشین نے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایک ایسا دلچسپ کارنامہ انجام دیا ہے جو شائقین کرکٹ کے لیے انتہائی حیرت انگیز اور یادگار بن گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصولہ اطلاعات کے مطابق مارنس لبوشین نے اس میچ کی پہلی اور دوسری دونوں اننگز کے دوران بالکل برابر رنز اسکور کیے اور ساتھ ہی اتنی ہی گیندوں کا سامنا کیا جو کہ کرکٹ کی تاریخ میں ایک نایاب ترین واقعہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیسٹ کرکٹ کے طویل سفر میں اس سے قبل ایسی مثالیں بہت کم دیکھنے میں آئی ہیں جہاں کسی بلے باز نے دونوں اننگز میں مکمل طور پر یکساں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک جیسے اعداد و شمار درج کروائے ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفصیلات کے مطابق آسٹریلوی بلے باز مارنس لبوشین نے ڈربن ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 37 رنز بنائے اور اس کے لیے انہوں نے 58 گیندوں کا سامنا کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دلچسپ بات یہ ہے کہ میچ کی دوسری اننگز میں بھی مارنس لبوشین کی کارکردگی ہو بہو وہی رہی اور انہوں نے ایک بار پھر 58 گیندوں پر 37 رنز کی اننگز کھیلی جس نے سب کی توجہ حاصل کر لی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نایاب ریکارڈ کے بعد کرکٹ کے اعداد و شمار پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین نے اس کارکردگی کو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے انوکھے ریکارڈز میں شمار کیا ہے جو شاذ و نادر ہی سامنے آتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دستیاب ریکارڈز کا جائزہ لیا جائے تو ٹیسٹ کرکٹ میں کم از کم 20 رنز بنانے اور 20 سے زائد گیندیں کھیلنے والے بلے بازوں میں یہ اپنی نوعیت کا محض دوسرا ایسا واقعہ ہے جو ریکارڈ کا حصہ بنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل تاریخ میں اس نوعیت کا واحد ریکارڈ بھارتی ٹیم کے سابق وکٹ کیپر بلے باز سید کرمانی کے نام درج تھا جنہوں نے ایک طویل عرصہ قبل یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی کھلاڑی سید کرمانی نے 1977-78 کے دوران میلبرن کرکٹ گراؤنڈ پر آسٹریلیا کے خلاف کھیلے گئے ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں 62 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے یکساں طور پر 29 رنز بنائے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مارنس لبوشین کا ڈربن ٹیسٹ میں یہ کارنامہ سید کرمانی کے ریکارڈ کے بعد ٹیسٹ کرکٹ کی طویل تاریخ میں اس قسم کی دوسری مثال ہے جس نے کھیلوں کے حلقوں میں خاصی شہرت حاصل کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرکٹ کے اعداد و شمار کے شائقین کے لیے یہ ریکارڈ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کے پانچ روزہ طویل فارمیٹ میں دونوں اننگز میں یکساں رنز اور گیندوں کا تناسب برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آسٹریلوی ٹیم کے اس ہونہار بلے باز کی یہ کارکردگی ٹیسٹ کرکٹ کے انوکھے اعداد و شمار میں ایک ایسا دلچسپ اضافہ ہے جسے طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا اور اس کا تذکرہ کیا جاتا رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈربن ٹیسٹ کا یہ میچ اپنی دیگر کہانیوں کے ساتھ ساتھ مارنس لبوشین کے اس منفرد ریکارڈ کی وجہ سے بھی کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا ہے جو شائقین میں زیر بحث ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی سطح پر کرکٹ مبصرین اور تجزیہ کار اس واقعے کو کھیل کی تاریخ کے انوکھے اتفاقات میں شمار کر رہے ہیں جو بلے باز کی یکساں تکنیک اور مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مارنس لبوشین کا یہ انوکھا کارنامہ نہ صرف آسٹریلوی کرکٹ بلکہ مجموعی طور پر بین الاقوامی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا ایک ایسا باب بن گیا ہے جو شائقین کے لیے ہمیشہ دلچسپی کا باعث رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/sports/304/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
