<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سیاسی_بحران &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%db%8c_%d8%a8%d8%ad%d8%b1%d8%a7%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:33 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>سیاسی_بحران &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>مغربی ممالک میں مظاہرین احتساب کے مطالبے پر قائم رہیں: باقر قالیباف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/2061/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/2061/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 23:16:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[احتساب]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[باقر_قالیباف]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جیفری_ایپسٹین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d9%85%d8%ba%d8%b1%d8%a8%db%8c-%d9%85%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%b8%d8%a7%db%81%d8%b1%db%8c%d9%86-%d8%a7%d8%ad%d8%aa%d8%b3%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے کہا کہ عوامی غصے کو اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے مغربی ممالک میں جاری احتجاجی تحریکوں کے حوالے سے اپنے اہم بیان میں مظاہرین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بنیادی مطالبات اور احتساب کے عمل سے کسی صورت پیچھے نہ ہٹیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو اپنے اصل اہداف پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں باقر قالیباف نے کہا کہ مغرب میں عوامی غصے کا رخ موڑنے کے لیے ایک مخصوص اور سوچے سمجھے طریقہ کار کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ طاقتور حلقوں کو احتساب سے بچایا جا سکے اور عوام کو آپس میں تقسیم کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایرانی سپیکر نے دعویٰ کیا کہ جیفری ایپسٹین سکینڈل، غزہ کی موجودہ صورتحال، ایران کے خلاف جاری جارحانہ اقدامات اور عالمی سطح پر بدعنوانی جیسے معاملات دراصل ایک ہی بااثر گروہ کے مفادات سے جڑے ہوئے ہیں جو دنیا بھر کے سیاسی اور سماجی نظاموں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مظاہرین کو خبردار کیا کہ وہ شناخت کی بنیاد پر پیدا کی جانے والی تقسیم کی کوششوں کا مقابلہ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی تحریک کا رخ اصل مسائل سے نہ ہٹے۔ ان کے مطابق عوامی بیداری ہی ان طاقتور حلقوں کے احتساب کا واحد راستہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">باقر قالیباف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس سمیت یورپ کے متعدد ممالک میں عوامی سطح پر شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ ان ممالک میں مہنگائی کی بلند شرح، عوامی خدمات کے معیار میں گراوٹ اور رہائش کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے عوام کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یورپی ممالک میں جاری ان مظاہروں میں تعلیمی مسائل اور معاشی عدم مساوات بھی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومتیں ان کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور معاشی پالیسیوں میں اصلاحات لائیں تاکہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری آ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مبصرین کا کہنا ہے کہ باقر قالیباف کا یہ پیغام دراصل ان مظاہرین کے لیے ایک اخلاقی حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو یورپ میں مہنگائی اور دیگر مسائل کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہ تحریکیں کسی بھی بیرونی دباؤ یا تقسیم کے بغیر اپنے منطقی انجام تک پہنچیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے اپنے پیغام میں کسی مخصوص ملک کا نام لیے بغیر عالمی سطح پر موجود سیاسی ڈھانچے پر تنقید کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ عالمی سطح پر انصاف کا نظام کمزور پڑ چکا ہے اور اس کی بحالی کے لیے عوامی دباؤ ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مغربی حکومتیں فی الحال اپنے ہاں جاری ان احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے مختلف حکمت عملی اپنا رہی ہیں۔ تاہم عوام کی جانب سے مسلسل مطالبات نے حکومتی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے اور معاشی اصلاحات کے لیے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر ایرانی سپیکر کا یہ بیان عالمی سیاست میں جاری کشمکش کا ایک حصہ ہے جس میں مختلف ممالک ایک دوسرے کے داخلی معاملات پر تبصرہ کرتے رہتے ہیں۔ اس صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں جمی ہوئی ہیں کہ یہ احتجاجی تحریکیں کیا رخ اختیار کرتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/2061/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے وزیرِ داخلہ کا استعفیٰ مسترد کر دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1413/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1413/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 08:57:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[ایمانوئل_میکرون]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پیرس]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_فرانس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d9%81%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%b3%db%8c%d8%b3%db%8c-%d8%b5%d8%af%d8%b1-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86%d9%88%d8%a6%d9%84-%d9%85%db%8c%da%a9%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%86%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[پرتشدد مظاہروں کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی بحران کے پیشِ نظر صدر میکرون نے وزیرِ داخلہ کو کام جاری رکھنے کی ہدایت کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">فرانس میں حالیہ دنوں کے دوران پیش آنے والے پرتشدد مظاہروں اور ہنگامہ آرائی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے ملک میں ایک نیا سیاسی و انتظامی بحران کھڑا کر دیا ہے۔ اس کشیدہ ماحول میں فرانس کے وزیرِ داخلہ لوراں نونیز کو شدید عوامی اور سیاسی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور مظاہروں کو کنٹرول کرنے میں مبینہ ناکامی کے بعد وزیرِ داخلہ نے اخلاقی بنیادوں پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ باضابطہ طور پر صدر ایمانوئل میکرون کو بھجوا دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم، فرانسیسی صدارتی محل کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق صدر ایمانوئل میکرون نے وزیرِ داخلہ کا استعفیٰ قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ صدر نے انہیں اپنے عہدے پر بدستور کام جاری رکھنے اور ملکی معاملات پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر میکرون کا ماننا ہے کہ موجودہ بحرانی کیفیت میں سکیورٹی اداروں کی کمان میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا خلا ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس وقت ملک کو ایک مضبوط اور مستحکم انتظامی ڈھانچے کی اشد ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر ایمانوئل میکرون نے وزیرِ داخلہ پر زور دیا ہے کہ وہ استعفے کے بجائے ملک میں ریاستی عملداری کو یقینی بنانے اور امن و امان کی بحالی کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں۔ حکومت کا بنیادی مقصد عوام کی جان و مال کا تحفظ کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانس میں 17 اکتوبر کو ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعد سے سیاسی حلقوں میں گرما گرمی دیکھی جا رہی ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے حکومتی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جبکہ حکومت حالات کو قابو میں لانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیرِ داخلہ لوراں نونیز پر ہونے والی تنقید کا محور مظاہروں کے دوران سکیورٹی انتظامات میں کوتاہی تھی۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ انتظامیہ بروقت ہنگاموں کو روکنے میں ناکام رہی جس سے عوامی املاک کو نقصان پہنچا اور معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانسیسی حکومت اب اس کوشش میں ہے کہ جلد از جلد ملک میں معمول کے حالات بحال کیے جائیں۔ صدر میکرون کی جانب سے وزیرِ داخلہ پر اعتماد کا اظہار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی ترجمان کے مطابق، سکیورٹی اداروں کے سربراہان کو بھی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہیں۔ ملک میں قانون کی حکمرانی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا تاکہ شہریوں کا اعتماد بحال ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر میکرون کا یہ فیصلہ سیاسی استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس وقت فرانس کو داخلی طور پر کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لیے ایک متحد کابینہ اور انتظامیہ کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ چند روز انتہائی اہم ہوں گے کیونکہ حکومت مظاہرین کے مطالبات اور امن و امان کی صورتحال کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرے گی۔ عوام کی جانب سے بھی پرامن رہنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں تاکہ ملک مزید انتشار سے بچ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانسیسی میڈیا کے مطابق، حکومت اب ان وجوہات کا بھی جائزہ لے رہی ہے جن کی وجہ سے مظاہرے پرتشدد شکل اختیار کر گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر میکرون نے اپنے خطاب میں بھی اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ فرانس میں جمہوریت اور قانون کی پاسداری سب سے مقدم ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ قومی مفاد میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1413/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>فرانس میں مہنگائی اور عوامی مسائل کے خلاف ملک گیر احتجاج، لاکھوں شہری سڑکوں پر</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1167/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1167/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 21:36:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایمانوئیل_میکخواں]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پیرس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[سیبسٹین_لیکورنو]]></category>
		<category><![CDATA[طلبہ_احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d9%81%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%b3-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%db%81%d9%86%da%af%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85%db%8c-%d9%85%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%84-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[فرانس کے مختلف شہروں میں مہنگائی، تعلیمی اخراجات اور سرکاری خدمات کے معیار میں کمی کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوامی سہولیات کے فقدان کے خلاف ایک بڑی عوامی تحریک نے جنم لیا ہے، جس کے باعث پیرس سمیت ملک کے درجنوں شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ یہ احتجاجی سلسلہ گزشتہ ہفتے سے شروع ہوا جو اب شدت اختیار کر چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تحریک کا آغاز گزشتہ ماہ پیرس کے شمالی مضافاتی علاقوں کے سرکاری ہائی اسکولوں سے ہوا تھا، جہاں طلبہ نے اساتذہ کی کمی، غیر حاضری اور اسکولوں کی ناقص صورتحال پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ طلبہ تحریک ایک وسیع عوامی احتجاج میں تبدیل ہو چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مظاہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور عدم مساوات نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ عوام سرکاری اخراجات میں کٹوتیوں اور عوامی خدمات کے گرتے ہوئے معیار پر شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دارالحکومت پیرس میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، خاص طور پر شانزے لیزے اور آرک ڈی ٹریومف کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ حکام نے ان تاریخی مقامات کو مظاہرین کے لیے مختص کیے گئے دو سرکاری احتجاجی راستوں سے الگ رکھا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">احتجاج کے دوران مختلف مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا، جبکہ کچھ مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مارسیے سمیت دیگر شہروں میں مظاہرین نے سڑکیں بند کر دیں اور کچرے کے ڈبوں کو آگ لگانے جیسے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور عوامی نقل و حمل میں مشکلات کا سامنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">احتجاج میں شریک 19 سالہ طالبہ لولا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روزمرہ کے اخراجات عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بہتر حالاتِ زندگی کے لیے لڑ رہے ہیں، تاہم ان مطالبات کے جواب میں ہمیں تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لولا نے مزید کہا کہ طلبہ اسکولوں میں اساتذہ کی کمی دور کرنے اور بہتر تعلیمی ماحول کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ عوام کی جانب سے سماجی تحفظ کے روایتی نظام کی زبوں حالی پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کو اپنی صدارتی مدت کے آخری حصے میں سنگین سیاسی اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ملک میں سیاسی تقسیم اور بکھرا ہوا منظرنامہ حکومت کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر رہا ہے، جس سے انتظامی امور بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے بڑھتے ہوئے قومی قرضوں پر قابو پانے کی کوششیں تاحال بار آور ثابت نہیں ہو سکیں۔ اس معاشی صورتحال کے باعث فرانسیسی بانڈز کی قیمتوں میں کمی آئی ہے اور حکومتی قرض لینے کی لاگت گزشتہ دو دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانس کے وزیراعظم سیبسٹین لیکورنو نے مظاہروں کے دوران ممکنہ شدید بدامنی کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے بائیں بازو کی اپوزیشن جماعت &#039;لا فرانس انسومیز&#039; پر احتجاج کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جسے اپوزیشن نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر عوام کے معاشی مطالبات پر توجہ نہ دی تو یہ تحریک مزید پھیل سکتی ہے۔ سوشل میڈیا پر احتجاجی گروپس کی جانب سے مزید مظاہروں کی اپیلیں کی جا رہی ہیں جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانسیسی حکومت اس وقت ایک دوہرے دباؤ میں ہے، جہاں ایک طرف اسے معاشی بحالی کے لیے سخت اقدامات کرنے ہیں، تو دوسری طرف عوام کی بڑھتی ہوئی بے چینی کو سنبھالنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ مستقبل قریب میں مزید مظاہروں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1167/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جمہوری نظام کو ری بوٹ کرنے کی ضرورت ہے، فیصل واوڈا کا بیان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/862/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/862/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 17:17:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیبلشمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوری_نظام]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_قیادت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فیصل_واوڈا]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ac%d9%85%db%81%d9%88%d8%b1%db%8c-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85-%da%a9%d9%88-%d8%b1%db%8c-%d8%a8%d9%88%d9%b9-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%d8%aa-%db%81%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[سینیٹر فیصل واوڈا نے موجودہ سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مروجہ نظام عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سینیٹر فیصل واوڈا نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ملکی سیاسی نظام اور موجودہ جمہوری ڈھانچے پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں رائج جمہوریت نے عوام کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچایا ہے، جس کے باعث اب اس نظام کو مکمل طور پر ری بوٹ کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ ملک میں ایک بادشاہی طرز کا نظام قائم ہے جس میں عام آدمی کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاست میں نئے اور باصلاحیت لوگوں کو موقع ملنا چاہیے تاکہ ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت پر تبصرہ کرتے ہوئے سینیٹر نے کہا کہ گزشتہ تیرہ برسوں کے دوران صوبے کے عوام کو کوئی خاص ریلیف نہیں ملا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر صوبائی حکومت نے کارکردگی دکھائی ہوتی تو عوام سڑکوں پر نکل کر ان کی حمایت کرتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے سیاسی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سیاست دانوں کی نااہلی اور کرپشن کی طویل داستانیں موجود ہیں، جن کی وجہ سے ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ قومی معاملات کو درست سمت میں چلایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹر فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ قومی پرچم کو تسلیم نہ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جانی چاہیے اور قانون کی بالادستی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصل واوڈا نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ سیاسی قیادت کو اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جاری سیاسی کشمکش نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کو ایک نئے اور شفاف نظام کی طرف لے جایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاست دانوں کو اپنی کارکردگی کا محاسبہ کرنا چاہیے کیونکہ عوام اب مزید وعدوں کے بجائے عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی بقا اور ترقی کے لیے ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جو عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹر نے یہ بھی کہا کہ سیاست میں موروثیت اور مخصوص خاندانوں کا غلبہ ختم ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک نئے اور پڑھے لکھے لوگ سیاست میں نہیں آئیں گے، تب تک ملک کے مسائل حل ہونا ممکن نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ وہ ملک میں ایک ایسا نظام دیکھنا چاہتے ہیں جہاں غریب اور امیر کے لیے قانون ایک جیسا ہو۔ ان کے مطابق، جمہوریت کی اصل روح عوام کی خدمت میں پوشیدہ ہے، لیکن بدقسمتی سے یہاں اسے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصل واوڈا نے اپنے بیان میں اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ملک کی بہتری کے لیے اپنی آواز اٹھاتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد کسی کی مخالفت نہیں بلکہ ملک کے نظام میں بہتری لانا ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک مستحکم پاکستان مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے آخر میں کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر ملک کے مفاد میں فیصلے کرنے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے اب بھی اپنے رویوں کو نہ بدلا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی اور ملک مزید بحرانوں کی طرف چلا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹر فیصل واوڈا کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت بلند ہے۔ ان کی جانب سے نظام کو ری بوٹ کرنے کا مطالبہ سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اور مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/862/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لانگ مارچ آئینی حق ہے، اختلاف رائے کا خاتمہ خطرناک ہے: راجہ ناصر عباس</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/826/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/826/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 12:37:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابات_2024]]></category>
		<category><![CDATA[بانی_پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[پارلیمنٹ_اجلاس]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوریت_اور_آئین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[راجہ_ناصر_عباس]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%d9%86%da%af-%d9%85%d8%a7%d8%b1%da%86-%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%db%8c-%d8%ad%d9%82-%db%81%db%92-%d8%a7%d8%ae%d8%aa%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%92-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[سینیٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں قائدِ حزبِ اختلاف نے ملک کو جمہوری و آئینی راستے پر چلانے پر زور دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں ملکی سیاسی صورتحال اور آئینی امور پر کھل کر بحث کی گئی۔ اس اہم اجلاس کے دوران مختلف ملکی اور عوامی مسائل زیرِ بحث آئے جن پر اراکین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے اس موقع پر ایوان سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی اہم نکات اٹھائے۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ عوام کو اپنے مطالبات کے حق میں پرامن احتجاج کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علامہ راجہ ناصر عباس نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ پرامن لانگ مارچ ہر شہری کا بنیادی آئینی اور جمہوری حق ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ معاشرے سے اختلاف رائے کے حق کو ختم کرنا ریاست اور جمہوریت دونوں کیلیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قائدِ حزبِ اختلاف نے پارلیمنٹ کے اس مشترکہ اجلاس میں گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ موجودہ وقت کی اہم ترین ضرورت یہ ہے کہ ریاست کو مکمل طور پر آئینی اور جمہوری راستے پر چلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی بقا اسی میں ہے کہ تمام سیاسی قوتیں آئین کے دائرے کے اندر رہ کر اپنی سرگرمیاں انجام دیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبہ خیبر پختونخوا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس نے مؤقف اختیار کیا کہ اس صوبے میں گورنر راج کا نفاذ عوام کے حقیقی مینڈیٹ کے خلاف اٹھایا گیا ایک اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام جمہوری نظام کی بنیادی شرط ہے اور اس سے انحراف سیاسی بحران کو مزید گہرا کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹ اجلاس سے اپنے خطاب کے دوران انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی قانونی اور عدالتی صورتحال کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کے معاملے میں مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں اور عدالتی احکامات پر من و عن عمل درآمد نہیں ہو رہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علامہ راجہ ناصر عباس نے مزید کہا کہ عدالتی فیصلوں اور احکامات کی تعمیل نہ کیا جانا ایک غیر آئینی طرزِ عمل ہے جو ملکی نظامِ عدل کو کمزور کرتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ملک میں عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فروری 2024 کے عام انتخابات کے موضوع پر بات کرتے ہوئے قائدِ حزبِ اختلاف نے دعویٰ کیا کہ ان انتخابات کے دوران مبینہ طور پر عوام کا اصل مینڈیٹ چھینا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل میں عوام کی حقیقی مرضی کی عکاسی نہیں کی گئی تھی جس کی وجہ سے سیاسی بے یقینی پیدا ہوئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے پارلیمنٹ کے ایوان میں سکیورٹی اور دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات کا بھی احاطہ کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے بعض سیاسی شخصیات کے مؤقف کا ذکر کیا اور امن و امان کی صورتحال پر قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹ کے اس مشترکہ اجلاس میں اراکین نے ملکی معیشت، اندرونی سلامتی اور پارلیمان کے تقدس کے حوالے سے بھی اپنے خیالات پیش کیے۔ سیاسی رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تمام قومی مسائل کا حل باہمی مشاورت اور آئینی حدود کے اندر ہی ممکن ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارلیمنٹ کا یہ مشترکہ اجلاس ملکی سیاست میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے جہاں حزبِ اختلاف اور حکومتی اراکین کے درمیان مختلف امور پر بحث ہوئی۔ اس قسم کے اجلاسوں میں عوامی نمائندے اپنے حلقوں کے مسائل کے ساتھ ساتھ قومی سطح کی پالیسیوں پر بھی کھل کر بحث کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ سیاسی منظر نامے میں قانون کی حکمرانی اور جمہوری اقدار کا فروغ نہایت ضروری ہو چکا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ ذاتی یا گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کے وسیع تر مفاد میں فیصلے کریں اور آئین کی پاسداری کو اپنا شعار بنائیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/826/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسد عمر کا سہیل آفریدی کی مقبولیت اور ملکی سیاسی صورتحال پر اظہار خیال</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/325/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/325/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 15:57:31 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسد_عمر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوریت]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سہیل_آفریدی]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a7%d8%b3%d8%af-%d8%b9%d9%85%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%85%d9%82%d8%a8%d9%88%d9%84%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d9%84/</guid>

					<description><![CDATA[پی ٹی آئی رہنما اسد عمر نے سہیل آفریدی کو عوامی ہیرو قرار دیتے ہوئے ملکی سیاسی تاریخ اور موجودہ حالات پر تنقید کی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں سہیل آفریدی کی کارکردگی اور ملکی سیاسی منظرنامے پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسد عمر کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کی کارکردگی کے حوالے سے لوگوں کی آراء مختلف ہو سکتی ہیں، تاہم یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ وہ خیبرپختونخوا سمیت پورے پاکستان میں عوام کی نظر میں ایک ہیرو بن چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے حکومتی حلقوں کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ جن شخصیات کو گرفتار کیا جاتا ہے، وہ عوام کی نظروں میں ہیرو کا درجہ حاصل کر لیتی ہیں اور حکمرانوں کی سوچ میں اتنا بڑا خلیج کیوں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے اسد عمر نے یاد دلایا کہ آج سے ٹھیک 27 سال قبل دو تہائی اکثریت رکھنے والے وزیراعظم نواز شریف کو گرفتار کر کے اسمبلی تحلیل کر دی گئی تھی جو ملکی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان تمام برسوں میں سیاست دانوں نے ماضی کے واقعات سے نہ تو کچھ سیکھا ہے اور نہ ہی ان کا مستقبل میں کچھ سیکھنے کا کوئی ارادہ دکھائی دیتا ہے جس کا خمیازہ قوم بھگت رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ اسی طرح باری باری سب کو رگڑا ملتا رہے گا اور یہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے، تاہم ان کا ماننا ہے کہ ان لوگوں کی باری بھی دوبارہ آئے گی جو آج اقتدار میں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسد عمر نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو جمہوریت کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور خطرناک قدم قرار دیا اور کہا کہ اس سے صوبائی خود مختاری اور جمہوری اقدار کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی منتخب حکومت کو ہٹانے کا آئینی اور قانونی حق صرف اور صرف عوام کے پاس ہے، جو اپنے ووٹ کے ذریعے فیصلہ کرتے ہیں کہ کون ان پر حکومت کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق صدر مملکت عارف علوی کے حوالے سے بھی انہوں نے بات کی اور کہا کہ جمہوری عمل کا تسلسل ہی پاکستان کی ترقی اور استحکام کی واحد ضمانت ہے، جس سے انحراف ملک کو مزید بحرانوں میں دھکیل سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسد عمر کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں ایک طرف سیاسی انتقام کے الزامات لگائے جا رہے ہیں تو دوسری طرف جمہوری عمل کی بحالی کے مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کا موقف ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں عوام کی رائے کا احترام کرنا ناگزیر ہے اور کسی بھی قسم کے غیر جمہوری اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کے تناظر میں اسد عمر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاہمت اور تصادم کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اسد عمر کے یہ ریمارکس پی ٹی آئی کی اس حکمت عملی کا حصہ ہیں جس میں وہ عوامی مقبولیت کو بنیاد بنا کر حکومت پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/325/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پی ٹی آئی نے تمام شرائط مان لی تھیں، معاملہ حکومت نے خراب کیا: کامران مرتضیٰ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/288/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/288/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 11:37:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی_مذاکرات]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک_انتصا_احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[جے_یو_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d9%86%db%92-%d8%aa%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%b4%d8%b1%d8%a7%d8%a6%d8%b7-%d9%85%d8%a7%d9%86-%d9%84%db%8c-%d8%aa%da%be%db%8c%da%ba%d8%8c-%d9%85%d8%b9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان طے پاتے معاملات حکومتی رویے کی وجہ سے ناکام ہوئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کی موجودہ سیاسی صورتحال کے حوالے سے جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کا ایک اہم بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان معاملات طے پانے کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس پورے معاملے میں مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کی مسلسل کوششوں کی بدولت بڑی حد تک کامیابی کے آثار نمایاں ہو رہے تھے اور دونوں فریقین ایک مشترکہ نقطے پر متفق ہونے کے بالکل قریب تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے تفصیل سے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کی طرف سے رکھی جانے والی تمام شرائط کو عملاً تسلیم کر لیا تھا اور حکومت کا پیش کردہ فارمولا بھی ان کو قبول تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سیاسی تنازع کے حل کے لیے فریقین کے درمیان مفاہمت کی فضا بن چکی تھی لیکن عین وقت پر حکومتی رویے کی وجہ سے سارا عمل سبوتاژ ہو گیا اور طے شدہ معاملات کو آگے بڑھنے نہیں دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جے یو آئی کے رہنما نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران طے پایا تھا کہ پی ٹی آئی اپنا احتجاجی لانگ مارچ فوری طور پر ختم کر دے گی اور اس کے اگلے ہی روز باقاعدہ ملاقات کی اجازت دی جائے گی جس کے اصول پر پی ٹی آئی نے مکمل آمادگی ظاہر کر دی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے پیچیدہ سیاسی بحرانوں میں حل تلاش کرنے کے لیے دونوں جانب کے فریقین کو کچھ نہ کچھ لچک دکھانی پڑتی ہے اور اپنے مؤقف سے تھوڑا سا پیچھے ہٹنا پڑتا ہے تاکہ کسی بھی فریق کی عزت نفس کو نقصان نہ پہنچے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کامران مرتضیٰ کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت کی تمام شرائط کو قبول کیے جانے کے باوجود یہ معاملہ کسی اور وجہ سے نہیں بلکہ صرف اور صرف حکومتی رویے کی غیر لچکدار پالیسی کی نذر ہوا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ احتجاجی کال واپس لینے اور بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کا طے شدہ فارمولا اس لیے ناکام ہوا کیونکہ حکومت کی طرف سے تعاون نہیں کیا گیا اور معاملات کو جان بوجھ کر بگاڑا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے انٹرویو کے دوران جے یو آئی کے سینیٹر نے ایک اور اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو تحریک انصاف کی جانب سے حکومتی ارکان کے ساتھ ہونے والے رابطوں کے بارے میں مکمل طور پر اعتماد میں نہیں رکھا گیا تھا جو بعد میں سب کے سامنے آ گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب فریقین کے مابین تمام اہم امور پر باقاعدہ اتفاق رائے ہو چکا تھا تو اس کے بعد اچانک بات چیت کے اس طرح ناکام ہو جانے کا نتیجہ کسی کے بھی فہم سے بالاتر ہے اور یہ سب حیران کن تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ سیاسی پس منظر میں تفصیلی بات کرتے ہوئے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے گلہ کیا کہ ایسی مایوس کن صورتحال پیدا ہونے کے بعد اب مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ اس تمام عمل پر اپنا شدید احتجاج اور گلہ ریکارڈ کروائیں۔ انہوں نے مزید ذکر کیا کہ اس وقت وفاق اور صوبائی حکومتیں ایک ہی پیج پر ہیں لیکن اس کے باوجود سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے جو سنجیدہ کوششیں درکار تھیں وہ نظر نہیں آئیں اور معاملات کو درست سمت میں لے جانے کے بجائے مزید الجھا دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں اور مبصرین کے مطابق کامران مرتضیٰ کے یہ بیانات ایسے حساس وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک کے سیاسی منظر نامے پر مذاکرات اور کشیدگی کے درمیان ایک پیچیدہ رفاقت جاری ہے اور تمام جماعتیں اپنی اگلی حکمت عملی پر غور کر رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے ماضی میں بھی کئی مرتبہ مختلف سیاسی بحرانوں اور ڈیڈلاک کے دوران ثالث کا کلیدی کردار ادا کیا ہے اور ان کی سیاسی بصیرت و کوششوں سے متعدد بار بڑے سیاسی بحرانوں کو ٹالنے اور تصادم کی فضا کو ختم کرنے میں خاطر خواہ مدد ملی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں جاری اس سیاسی رسہ کشی کے دوران عامتہ الناس کی نگاہیں بھی اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا سیاسی جماعتیں باہمی بات چیت کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کر دیں گی یا پھر مفاہمت کی کوئی نئی راہ نکالی جائے گی۔ جمعیت علمائے اسلام کی طرف سے سامنے آنے والے اس موقف نے ایک بار پھر پردے کے پیچھے ہونے والی سیاسی جوڑ توڑ اور مذاکراتی عمل کی ناکامی کے محرکات کو بے نقاب کر دیا ہے جس سے پارلیمانی سیاست میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی موجودہ سیاسی تاریخ میں ثالثی کے کردار کی اہمیت ہمیشہ سے مسلمہ رہی ہے اور فضل الرحمان جیسے تجربہ کار سیاستدانوں کی کوششیں ہمیشہ سے سیاسی بحرانوں کے حل میں معاون سمجھی جاتی رہی ہیں۔ موجودہ حالات میں جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں، ایسے بیانات سیاسی محاذ آرائی کو کم کرنے کے بجائے فریقین کے درمیان بداعتمادی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتے ہیں جن کے اثرات طویل المدتی ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تمام صورتحال میں پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے بھی احتجاجی تحریک اور مذاکرات کے دوہرے راستے پر عمل درآمد جاری ہے جہاں وہ ایک طرف احتجاجی مظاہروں کی کال دیتی ہے تو دوسری طرف پس پردہ رابطوں کے ذریعے معاملات کو سلجھانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ کامران مرتضیٰ کے انکشافات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ایک موقع پر معاملات طے پانے کے قریب تھے مگر حکومتی ہٹ دھرمی یا رویے کی وجہ سے وہ تاریخی موقع ضائع ہو گیا اور ڈیڈلاک برقرار رہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام تر سیاسی گہماغمی اور بیانات کے اس سلسلے کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ پاکستان کے سیاسی مسائل کا پائیدار حل صرف اور صرف افہام و تفہیم اور مذاکرات کی میز پر ہی ممکن ہے، خواہ اس میں کتنی ہی رکاوٹیں کیوں نہ حائل ہوں۔ سیاسی رہنماؤں کو ذاتی یا جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کے وسیع تر مفاد میں فیصلے کرنا ہوں گے تاکہ عوام کو اس جاری سیاسی بے یقینی اور اقتصادی دباؤ سے نجات دلائی جا سکے اور نظام کو آئینی راستے پر گامزن رکھا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/288/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
