<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.30.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سیاست &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 02 Nov 2026 00:42:56 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>سیاست &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>ایم کیو ایم پاکستان کا نئے صوبوں کے قیام کیلئے تحریک چلانے کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%a7%db%8c%d9%85-%da%a9%db%8c%d9%88-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%a6%db%92-%d8%b5%d9%88%d8%a8%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%a7%db%8c%d9%85-%da%a9%db%8c%d9%88-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%a6%db%92-%d8%b5%d9%88%d8%a8%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 02 Nov 2026 00:42:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامی_یونٹس]]></category>
		<category><![CDATA[ایم_کیو_ایم_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پی_آئی_بی_کالونی]]></category>
		<category><![CDATA[خالد_مقبول_صدیقی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[شارع_فیصل]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فاروق_ستار]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[نئے_صوبے]]></category>
		<category><![CDATA[وسیم_اختر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%a7%db%8c%d9%85-%da%a9%db%8c%d9%88-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%a6%db%92-%d8%b5%d9%88%d8%a8%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے 29 نومبر کو شارع فیصل پر مارچ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے وقت کی ضرورت ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے ملک بھر میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک باقاعدہ تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں 29 نومبر کو کراچی میں شارع فیصل کی جانب ایک بڑا قافلہ مارچ کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ اعلان ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے پی آئی بی کالونی میں منعقدہ جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نئے صوبوں کی سب سے زیادہ ضرورت سندھ کے شہری علاقوں میں ہے، جہاں آبادی کے تناسب سے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم عوامی حقوق کے حصول کے لیے سڑکوں پر نکلے گی اور اب اپنی منزل حاصل کر کے دم لے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا اختیار اور اقتدار عام عوام تک پہنچانا ان کی جدوجہد کا بنیادی مقصد ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے سینئر رہنما فاروق ستار نے کہا کہ انتظامی یونٹس کا مطالبہ لسانی نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر ہے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 18 برسوں میں صوبائی حکومت کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے اور اب ملک کو اندرونی طور پر مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایم کیو ایم کے سینئر رہنما وسیم اختر نے بھی شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے عوام اب اپنے حقوق کے لیے بیدار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک صرف ایک شہر تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کی گونج اسلام آباد تک سنائی دے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے شرکاء نے قیادت کے اس فیصلے کی تائید کی اور نئے صوبوں کے قیام کے مطالبے پر مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ ایم کیو ایم کی جانب سے آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے مزید فیصلے بعد میں کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اپنے خطاب میں ماضی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 30 ستمبر 1986 کو حیدرآباد میں مہاجروں کا قتل عام ہوا، تاہم ان مشکلات کے باوجود تحریک نہیں رکی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہندوستان میں اپنی زمینیں پاکستان کے نام پر قربان کیں اور اب اپنے حصے کی زمین کا مطالبہ کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایم کیو ایم کے چیئرمین نے مزید کہا کہ پاکستان میں غیر مسلموں کی چھوڑی ہوئی متروکہ جائیدادیں قانونی طور پر ان کی ہیں اور وہ اپنے حقوق کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ 29 نومبر کو نکلنے والا قافلہ شارع فیصل کے تمام راستوں کو مسدود کر دے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فاروق ستار نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی 26 کروڑ عوام مسلسل ناانصافیوں کا شکار ہیں اور 18ویں ترمیم کے باوجود ملک کی شرح نمو میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ چار صوبے چند سو خاندانوں کی شراکت داری بن کر رہ گئے ہیں، جس سے موروثی سیاست کو فروغ ملا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فاروق ستار نے واضح کیا کہ انتظامی یونٹس کا مطالبہ سندھ کی ثقافت یا زبان کے خلاف نہیں ہے، بلکہ کراچی میں رہنے والے پختون، بلوچ، گلگتی اور بلتی سمیت تمام شہری ایک بہتر انتظامی نظام کے خواہاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی یونٹ بننے کے بعد بھی وہ اپنی ثقافتی شناخت برقرار رکھیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وسیم اختر نے اس موقع پر پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو کو آ کر دیکھنا چاہیے کہ یہ صرف ضلع شرقی کے کارکنان کا اجتماع ہے، جبکہ پورا کراچی ابھی باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ذمہ دار اگر کردار کا حامل ہو تو کارکن اس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایم کیو ایم پاکستان کا مقصد ملک میں موروثی سیاست کا خاتمہ کرنا ہے تاکہ اقتدار عام آدمی تک پہنچ سکے۔ قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ظالموں کے خلاف مظلوموں کی صف بندی کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمیں ایسی جمہوریت کی ضرورت نہیں جس کے ثمرات عام عوام تک نہ پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو ایوانوں کی ضرورت نہیں بلکہ ایوانوں کو ان کی ضرورت ہے، اور وہ اپنی منزل حاصل کر کے دکھائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%a7%db%8c%d9%85-%da%a9%db%8c%d9%88-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%a6%db%92-%d8%b5%d9%88%d8%a8%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا فیصلہ عوام اور معیشت کے تحفظ کیلئے کیا، وزیراعظم</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%da%a9%d8%a7-%d9%81%db%8c%d8%b5%d9%84%db%81/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%da%a9%d8%a7-%d9%81%db%8c%d8%b5%d9%84%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 31 Oct 2026 15:19:35 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[مسلم_لیگ_ن]]></category>
		<category><![CDATA[معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[وزیراعظم_پاکستان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%da%a9%d8%a7-%d9%81%db%8c%d8%b5%d9%84%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ ناگزیر تھا تاکہ عوام کی جان و مال اور معیشت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام صوبے کے عوام کی جان و مال، معیشت، معاشرے اور ملک کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان مسلم لیگ (ن) کی خیبر پختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کے ارکان اور عہدیداران سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ملک اور صوبے کے مفاد کو مقدم رکھنا ہماری اولین ترجیح ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے واضح کیا کہ حکومت نے معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، تاہم ان کی جانب سے دی گئی تجاویز کو قبول نہیں کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں گورننس کی صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت کے پاس گورنر راج کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا، جس کا مقصد علاقے میں امن کا قیام اور تحفظ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%da%a9%d8%a7-%d9%81%db%8c%d8%b5%d9%84%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایک روپے کی بھی کرپشن ثابت ہوئی تو استعفیٰ دے دوں گی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b1%d9%88%d9%be%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%a8%da%be%db%8c-%da%a9%d8%b1%d9%be%d8%b4%d9%86-%d8%ab%d8%a7%d8%a8%d8%aa-%db%81%d9%88%d8%a6%db%8c-%d8%aa%d9%88/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b1%d9%88%d9%be%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%a8%da%be%db%8c-%da%a9%d8%b1%d9%be%d8%b4%d9%86-%d8%ab%d8%a7%d8%a8%d8%aa-%db%81%d9%88%d8%a6%db%8c-%d8%aa%d9%88/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 30 Oct 2026 11:15:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزگار]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زرعی_ترقی]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b1%d9%88%d9%be%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%a8%da%be%db%8c-%da%a9%d8%b1%d9%be%d8%b4%d9%86-%d8%ab%d8%a7%d8%a8%d8%aa-%db%81%d9%88%d8%a6%db%8c-%d8%aa%d9%88/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعلیٰ پنجاب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں بدعنوانی کا خاتمہ اولین ترجیح ہے اور رشوت ستانی میں ملوث ملازمین کو ملازمت سے فارغ کیا جا رہا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان پر ایک روپے کی کرپشن بھی ثابت ہو جائے تو وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں بدعنوانی کے خلاف بھرپور مہم جاری ہے اور رشوت لینے والے سرکاری ملازمین کو نوکری سے فارغ کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کو ڈیجیٹل دور سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اختراعی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ صنعتوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ نے کہا کہ دنیا بھر میں مضبوط صنعتیں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انقلابی تبدیلیوں سے گزر رہی ہیں اور پنجاب کا ملکی معیشت اور قومی جی ڈی پی میں نمایاں کردار ہے۔ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور معیاری تعلیم فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبے کی ورک فورس کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ 36 ملین افراد پر مشتمل ورک فورس کو ہنرمند بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اب تک چار لاکھ اسکلڈ ورکرز تیار کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید چھ لاکھ ہنرمند کارکن فراہم کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کاروباری ماحول کے بارے میں مریم نواز نے کہا کہ آسان کاروبار اسکیم کے تحت تقریباً 200 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں۔ ای بزنس کے ذریعے دو لاکھ سے زائد افراد این او سیز اور دیگر اجازت نامے حاصل کر چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ پنجاب میں نیا ٹیکس عائد کرنے کے بجائے ٹیکس نیٹ بڑھانے پر توجہ دی گئی ہے جس کے نتیجے میں صوبے کا ریونیو 200 ارب روپے سے بڑھ کر ایک کھرب روپے تک پہنچ رہا ہے۔ قبضہ مافیا کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صنعتی شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ ضروری ہے لیکن اس کی آڑ میں کارخانے بند کرانا درست نہیں۔ چیکنگ ہونی چاہیے لیکن پلانٹ بند کرنا مسئلے کا حل نہیں کیونکہ اس سے مزدور کی دیہاڑی متاثر ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں فارماسیوٹیکل انڈسٹری تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور 1200 سے زائد اسٹارٹ اپ کام کر رہے ہیں۔ اسپیشل اکنامک زونز میں صنعت کے لیے زمین 80 ہزار سے دو لاکھ روپے ماہانہ لیز پر فراہم کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے بینکوں سے درخواست کی کہ کاروباری فنانس کی فراہمی کے لیے ضوابط آسان بنائیں۔ ہر صاحبِ حیثیت شخص کو چور سمجھنا درست نہیں، جو بھی کاروبار کرنا چاہتا ہے اسے غیر ضروری سوالات اور رکاوٹوں کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صنعتی سرٹیفکیشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پنجاب میں سہولیات کی کمی کے باعث سپورٹس گڈز اور دیگر مصنوعات کی جانچ کے لیے چین جانا پڑتا ہے، جسے مقامی سطح پر بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">زرعی شعبے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ لائیو اسٹاک اور زراعت کے لیے بڑا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ کسانوں کو سبسڈی پر ٹریکٹرز فراہم کیے جا رہے ہیں اور رواں سال 45 ہزار ٹریکٹر فراہم کرنے کا ہدف پورا کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مریم نواز نے کہا کہ بے یقینی، بدامنی، احتجاج اور توڑ پھوڑ کے ماحول میں کاروبار اور صنعتیں ترقی نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے وزراء کو بھی ہدایت کی کہ پروٹوکول اور سکیورٹی کو کم سے کم رکھا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b1%d9%88%d9%be%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%a8%da%be%db%8c-%da%a9%d8%b1%d9%be%d8%b4%d9%86-%d8%ab%d8%a7%d8%a8%d8%aa-%db%81%d9%88%d8%a6%db%8c-%d8%aa%d9%88/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا: ٹی ایم ایز کے لیے اضافی گرانٹ، تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی لازمی قرار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%b9%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%a7%db%8c%d8%b2-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d9%81%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%b9%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%a7%db%8c%d8%b2-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d9%81%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 30 Oct 2026 09:15:37 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[پنشن]]></category>
		<category><![CDATA[تنخواہیں]]></category>
		<category><![CDATA[ٹی_ایم_اے]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سرکاری_فنڈز]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%b9%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%a7%db%8c%d8%b2-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d9%81%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[لوکل کونسل بورڈ نے تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز کو فنڈز صرف ملازمین کے واجبات پر خرچ کرنے کی سخت ہدایات جاری کر دیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا کے لوکل کونسل بورڈ نے صوبے بھر کی تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز (ٹی ایم ایز) کے لیے اضافی گرانٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملازمین کو درپیش مالی مشکلات کا خاتمہ اور ان کی تنخواہوں و پنشن کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سلسلے میں لوکل کونسل بورڈ کی جانب سے تمام تحصیل میونسپل افسران کو باقاعدہ مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے۔ مراسلے میں فنڈز کے استعمال کے حوالے سے سخت ضوابط مقرر کیے گئے ہیں تاکہ عوامی پیسے کا درست اور شفاف استعمال ہر صورت ممکن بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بورڈ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ اضافی گرانٹ صرف اور صرف ملازمین کی واجب الادا تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کے لیے مختص کی گئی ہے۔ ٹی ایم ایز کو یہ فنڈز کسی بھی دوسری مد میں خرچ کرنے سے سختی سے روک دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان فنڈز کو ترقیاتی کاموں یا دیگر جاری اخراجات کے لیے استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا فنڈز کے غلط استعمال کی صورت میں متعلقہ ٹی ایم او اور ٹی او ایف کو براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مراسلے میں تنبیہ کی گئی ہے کہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے افسران کے خلاف سخت قانونی اور ڈسپلنری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکومتی سطح پر اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ ملازمین کے حقوق کا تحفظ ہر حال میں کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے نگرانی کا نظام مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ تمام متعلقہ ٹی ایم ایز کے اکاؤنٹس کی تفصیلی جانچ پڑتال 10 نومبر کو کی جائے گی تاکہ یہ تصدیق ہو سکے کہ فنڈز کا استعمال صرف تنخواہوں اور پنشن کی مد میں ہی ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ، متعلقہ حکام سے فنڈز کے درست استعمال کے حوالے سے باقاعدہ سرٹیفکیٹ بھی طلب کر لیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے کہ جاری کردہ گرانٹ کا ہر ایک روپیہ حقدار ملازمین تک پہنچے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام ریجنل میونسپل افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے زیر نگرانی ٹی ایم ایز میں گرانٹ کے شفاف اور درست استعمال کی خود نگرانی کریں۔ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ ان احکامات پر من و عن عمل درآمد کرنا لازمی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ ملازمین کی جانب سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی شکایات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس گرانٹ کی فراہمی سے ملازمین کے مالی مسائل کافی حد تک حل ہو جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لوکل کونسل بورڈ کا یہ اقدام صوبائی انتظامیہ کی جانب سے اپنے ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے اس عمل کی مسلسل مانیٹرنگ کی جائے گی تاکہ کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبے کے مختلف اضلاع میں موجود ٹی ایم ایز کو اب ان سخت ہدایات کے تحت اپنے مالی معاملات چلانے ہوں گے۔ ملازمین کی جانب سے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں بروقت تنخواہیں مل سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف ملازمین کے مسائل حل ہوتے ہیں بلکہ اداروں کی کارکردگی میں بھی بہتری لانے میں مدد ملتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں بھی اس طرح کی نگرانی کا سلسلہ جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ لوکل کونسل بورڈ نے تمام افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں دیانتداری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%b9%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%a7%db%8c%d8%b2-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d9%81%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان تلخی پارلیمانی نوک جھوک ہے: رانا ثنا اللہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d8%a2%d8%b5%d9%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d9%88%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b6%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d8%a2%d8%b5%d9%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d9%88%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b6%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 30 Oct 2026 08:14:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پارلیمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پرویز_رشید]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ_آصف]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رانا_ثنا_اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d8%a2%d8%b5%d9%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d9%88%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b6%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ اور سینیٹر پرویز رشید نے دونوں رہنماؤں کے درمیان حالیہ بیان بازی پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی دارالحکومت میں سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماؤں نے خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ہونے والی حالیہ بیان بازی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے اس صورتحال کو معمول کی پارلیمانی نوک جھوک قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں بعض اوقات ماحول گرم ہونے پر الفاظ کا چناؤ حدود سے تجاوز کر جاتا ہے، تاہم سیاست دانوں میں اتنی لچک ہونی چاہیے کہ وہ معاملات کو بعد میں بہتر انداز میں حل کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ وہ مولانا فضل الرحمان پر خواجہ آصف کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تائید نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف اپنے خیالات کا اظہار دبنگ انداز میں کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں اور وہ کسی کی ہدایت پر بات نہیں کرتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ڈی ایم حکومت کے دوران مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کی اچھی یادیں وابستہ ہیں۔ ماضی میں بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان تلخیاں رہی ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جاتی ہیں، اس لیے ایسی باتوں کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر مستقبل میں کسی اہم آئینی ترمیم کی ضرورت پیش آئی تو حکومت مولانا فضل الرحمان سے ضرور تعاون مانگے گی۔ انہیں یقین ہے کہ جب ترمیم ملک اور قوم کے مفاد میں ہوگی تو مولانا فضل الرحمان حکومت کا ساتھ دیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ہونے والی بحث کو محض پارلیمانی نوک جھوک قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کو کسی قسم کی کشیدگی یا ٹینشن نہیں سمجھتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پرویز رشید نے کہا کہ دونوں سینئر رہنماؤں نے ایک طویل سیاسی رفاقت گزاری ہے اور ایک ہی جدوجہد میں شامل رہے ہیں۔ آج کل دونوں کی جماعتوں کے درمیان سیاسی محاذ آرائی ہے جس کے باعث کبھی کبھار آمنا سامنا ہو جاتا ہے اور ہمیں کچھ سخت جملے سننے کو ملتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حکومتی رہنماؤں کی جانب سے ان بیانات کو پارلیمانی نوک جھوک قرار دینا دراصل سیاسی ماحول کو ٹھنڈا کرنے کی ایک کوشش ہے۔ حکومت اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ماضی میں قریبی تعلقات رہے ہیں جنہیں برقرار رکھنے کی خواہش دونوں جانب سے محسوس کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا یہ موقف سامنے آنے کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا مولانا فضل الرحمان کی جانب سے اس پر کوئی ردعمل آتا ہے یا نہیں۔ سیاسی حلقوں میں اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ آیا یہ تلخی مستقبل میں کسی بڑے سیاسی اتحاد میں رکاوٹ بنے گی یا نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثنا اللہ نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ سیاست دانوں کے درمیان ہونے والی ایسی بحثوں پر ٹی وی ٹاک شوز میں غیر ضروری تبصرے کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق سیاست میں اختلافات عارضی ہوتے ہیں اور جمہوریت میں بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہنے چاہئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی ترجمانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر ہونے والی گفتگو کو ذاتی دشمنی میں نہیں بدلنا چاہیے۔ خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان دونوں ہی ملک کے تجربہ کار سیاست دان ہیں اور وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ملکی مفاد میں کب اور کیسے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر حکومتی صفوں سے آنے والے ان بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اپنے تعلقات کو خراب نہیں کرنا چاہتی۔ آئندہ دنوں میں سیاسی صورتحال میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ پارلیمانی امور کو احسن طریقے سے چلایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d8%a2%d8%b5%d9%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d9%88%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b6%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وزیراعظم کی لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کی ماسٹر پلان کے تحت توسیع کی منظوری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%da%a9%db%8c-%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%da%a9%db%8c-%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 29 Oct 2026 18:15:45 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_آئی_اے]]></category>
		<category><![CDATA[ایوی_ایشن_یونیورسٹی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_ایئرپورٹس]]></category>
		<category><![CDATA[ترقیاتی_منصوبے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفری_سہولیات]]></category>
		<category><![CDATA[سول_ایوی_ایشن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%da%a9%db%8c-%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم شہباز شریف نے ہوائی اڈوں پر مسافروں کو بین الاقوامی معیار کی سہولیات فراہم کرنے اور توسیعی منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں ملک کے بڑے ہوائی اڈوں کی توسیع اور مسافروں کو فراہم کی جانے والی سفری سہولیات کے معیار کو بہتر بنانے کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے دوران وزیراعظم نے لاہور اور کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کے ماسٹر پلانز کے تحت توسیعی منصوبوں کی باقاعدہ منظوری دے دی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ان منصوبوں کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے اور تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم نے واضح کیا کہ توسیعی منصوبوں کی تکمیل مقررہ مدت کے اندر یقینی بنائی جائے اور ان اصلاحات کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن بھی کروائی جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہوائی اڈوں پر مسافروں کو بہترین سفری سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی کے رن وے کی توسیع کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ کراچی کو ایئر کارگو کا مرکز بنانے کے لیے ایئر کارگو ویلیج پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایئرپورٹس پر سفری سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے بین الاقوامی شہرت یافتہ اداروں کی خدمات حاصل کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عملے کو اعلیٰ سروس ڈیلیوری کی باقاعدہ تربیت فراہم کی جائے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے گزشتہ ایک سال کے دوران مقامی پروازوں کی بحالی کے لیے ملک بھر میں 14 ایئرپورٹس کو فعال کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مسافروں کی سہولت کے لیے کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے اجلاس کو بتایا گیا کہ ایف آئی اے نے بڑے ایئرپورٹس پر کاؤنٹرز کی تعداد میں اضافہ کیا ہے اور بروقت رہنمائی کے لیے پری ڈیپارچر ڈیسک بھی قائم کیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مزید برآں، بڑے ہوائی اڈوں پر بارڈر مینجمنٹ کے خودکار نظام یعنی ای-گیٹس کی تنصیب کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ہوائی اڈوں پر موجود مختلف اداروں کے درمیان باہمی روابط کو مزید مستحکم کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مسافروں کے لیے بہترین کیٹرنگ سروسز کا انتظام کیا جائے اور کھانے پینے کے معیار کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کو اسلام آباد ایئرپورٹ پر شروع کی گئی &#039;میٹ اینڈ گریٹ&#039; سروس کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک اہم پیش رفت کے طور پر اجلاس میں بتایا گیا کہ حیدرآباد میں موجودہ ہوا بازی کے ادارے کو اپ گریڈ کر کے بین الاقوامی معیار کی ایوی ایشن یونیورسٹی بنائی جا رہی ہے جس پر فروری 2028 تک کام شروع کر دیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں ایک بین الاقوامی فرم کی جانب سے حال ہی میں مکمل کیے گئے سروے کی رپورٹ بھی پیش کی گئی جس میں بڑے ایئرپورٹس پر سفری سہولیات کے معیار کا جائزہ لیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، وزیراعظم کے مشیر محمد علی، ارکان قومی اسمبلی راجہ اسامہ سرور، علی زاہد، وزیراعظم کے کوارڈینیٹر سردار یاسر الیاس اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%da%a9%db%8c-%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کے ایم سی کے 10 ہزار ملازمین کی ڈگریاں تصدیق کروانے کا حکم</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%db%92-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%92-10-%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%da%88%da%af%d8%b1%db%8c%d8%a7%da%ba/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%db%92-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%92-10-%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%da%88%da%af%d8%b1%db%8c%d8%a7%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 29 Oct 2026 15:14:29 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ایچ_ای_سی]]></category>
		<category><![CDATA[بائیومیٹرک]]></category>
		<category><![CDATA[پبلک_اکاؤنٹس_کمیٹی]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%db%92-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%92-10-%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%da%88%da%af%d8%b1%db%8c%d8%a7%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کے ایم سی ملازمین کی بائیو میٹرک حاضری اور فزیکل تصدیق یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے انتظامی امور میں شفافیت لانے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے کے ایم سی کے 10 ہزار سے زائد ملازمین کی تعلیمی اسناد کی ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) سے تصدیق کروانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ فیصلہ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نثار کھوڑو کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں کے ایم سی کے سال 2024 اور 2025 کے آڈٹ پیر از کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر کمیٹی کے رکن طحہ احمد اور میونسپل کمشنر کے ایم سی ابرار جعفر بھی موجود تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے دوران پی اے سی نے کے ایم سی ملازمین کی فزیکل تصدیق اور بائیومیٹرک حاضری کا نظام فوری طور پر لاگو کرنے کی سخت ہدایت کی۔ چیئرمین نثار کھوڑو نے چیف سیکریٹری سندھ کو اس عمل کو یقینی بنانے کا پابند کیا تاکہ گھر بیٹھے تنخواہ لینے والے ملازمین کی نشاندہی ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نثار کھوڑو نے استفسار کیا کہ اب تک ملازمین کی فزیکل تصدیق کیوں نہیں کی گئی؟ میونسپل کمشنر نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ تمام محکموں کے سربراہان کو اس حوالے سے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ بائیومیٹرک نظام کے ذریعے حاضری کو شفاف بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمیٹی نے کے ایم سی اور سندھ بھر کے سرکاری اسپتالوں میں طبی آلات کی خرابی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ آڈٹ اعتراضات میں نشاندہی کی گئی کہ سوبھراج سمیت کئی اسپتالوں میں ایکسرے، سی ٹی اسکین اور الٹراساؤنڈ مشینیں طویل عرصے سے خراب پڑی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رکن کمیٹی طحہ احمد نے اس صورتحال کو مریضوں کے ساتھ زیادتی اور انتظامی نااہلی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مشینیں خراب رکھ کر مریضوں کو نجی لیبارٹریوں سے ٹیسٹ کروانے پر مجبور کیا جاتا ہے، جو کہ انتہائی افسوسناک عمل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میونسپل کمشنر نے صفائی پیش کرتے ہوئے بتایا کہ سوبھراج اسپتال میں 2022 سے خراب ایکسرے مشین کو اب درست کر دیا گیا ہے۔ تاہم چیئرمین پی اے سی نے اس تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سخت کارروائی کا عندیہ دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے وزیر اعلیٰ انسپکشن ٹیم (سی ایم آئی ٹی) کو سندھ بھر کے اسپتالوں میں طبی آلات کی خرابی کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ ایک ماہ کے اندر تحقیقاتی رپورٹ پیش کی جائے تاکہ غفلت کے مرتکب افسران کا تعین ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میونسپل کمشنر نے اجلاس کو بتایا کہ کے ایم سی کے زیر انتظام 13 اسپتال کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ میئر کراچی کے ساتھ مل کر اسپتالوں کے دورے کیے جا رہے ہیں اور سہولیات کی بہتری کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کے ایم سی میں کرپشن اور بدانتظامی کے حوالے سے ماضی میں بھی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ حالیہ احکامات کا مقصد ادارے کے مالی اور انتظامی معاملات کو درست کرنا ہے تاکہ سرکاری خزانے پر بوجھ بننے والے غیر فعال ملازمین کا خاتمہ کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پی اے سی نے ہدایت کی ہے کہ کے ایم سی ملازمین کی بائیومیٹرک حاضری کے ثبوت اور فزیکل تصدیق کی رپورٹ جلد از جلد کمیٹی کو فراہم کی جائے۔ اس اقدام سے ادارے میں نظم و ضبط کی بحالی کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سرکاری اداروں میں میرٹ اور شفافیت کا قیام ناگزیر ہے۔ کے ایم سی انتظامیہ کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ مستقبل میں آڈٹ اعتراضات سے بچنے کے لیے تمام مالیاتی امور کو قواعد و ضوابط کے مطابق چلائے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%db%92-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%92-10-%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%da%88%da%af%d8%b1%db%8c%d8%a7%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مولانا فضل الرحمان کے بیان پر محسن نقوی کا سخت ردعمل، احترام کی گنجائش ختم ہونے کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%85%d9%88%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b6%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d8%b3%d9%86/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%85%d9%88%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b6%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d8%b3%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 29 Oct 2026 14:14:14 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[جے_یو_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سینیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d9%88%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b6%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d8%b3%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر داخلہ نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست پر تنقید کرنے والے اب سرکاری مراعات اور نوکریوں کی توقع نہ رکھیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں سینیٹ کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مولانا کے ریاست مخالف بیان کے بعد اب ان کے احترام کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز ریاست کے حوالے سے انتہائی نامناسب الفاظ استعمال کیے، جس سے ملکی وقار کو ٹھیس پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں اختلاف رائے کا حق سب کو ہے، لیکن ریاست مخالف بیانات کسی بھی سیاستدان کو زیب نہیں دیتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر داخلہ نے اپنے دورہ ایران کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ کسی دفاعی معاہدے کے لیے نہیں تھا، بلکہ خطے میں جاری حالیہ بحران کو سنبھالنے کے لیے کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم کی ہدایت پر قومی ذمہ داری نبھانے کے لیے جاتے ہیں، یہ ان کا کوئی ذاتی شوق نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے مولانا فضل الرحمان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کے لیے ریاست اس وقت تک ماں کی طرح ہوتی ہے جب تک انہیں مال اور مراعات ملتی رہیں۔ جب حکومت میں حصہ نہیں ملتا تو یہ لوگ ریاست کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دیتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر داخلہ نے الزام عائد کیا کہ جے یو آئی نے مذہب کو سیاست اور ذاتی کاروبار کے لیے استعمال کرنے کا وطیرہ بنا رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے ہر حد تک جا سکتے ہیں اور مذہب کا نام استعمال کرنا ان کی پرانی عادت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے مزید کہا کہ یہی لوگ ماضی میں ان کے پاس آکر گورنر راج لگانے اور پی ٹی آئی سے جان چھڑانے کی درخواستیں کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ان تمام باتوں کو ثبوت کے ساتھ ثابت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹ اجلاس کے دوران جب جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے وزیر داخلہ کے بیان پر احتجاج کیا تو محسن نقوی نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ انہیں حقیقت سننا پڑے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب ریاست کی طرف سے ان لوگوں کو کوئی نوکری یا مالی مفاد حاصل نہیں ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر داخلہ نے کہا کہ ریاست کے خلاف غلاظت بھرے بیانات دینے والوں کو اب سرکاری سطح پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ریاست کو کمزور کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ ملکی اداروں اور ریاست کی تکریم ہر شہری اور سیاستدان پر لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی مفادات کے لیے ریاست کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے اور اس رویے کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایوان میں وزیر داخلہ کے سخت لہجے اور جے یو آئی پر تنقید کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے اس بیان پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جبکہ حکومتی ارکان نے محسن نقوی کے موقف کی تائید کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب مولانا فضل الرحمان نے حکومتی اقدامات اور دورہ ایران پر تنقید کرتے ہوئے ریاست کے حوالے سے سخت الفاظ استعمال کیے تھے۔ محسن نقوی نے انہی الفاظ کا جواب دیتے ہوئے یہ سخت موقف اپنایا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹ کا اجلاس اس معاملے پر کافی ہنگامہ خیز رہا، جہاں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا۔ چیئرمین سینیٹ نے ایوان کا نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ارکان کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%85%d9%88%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b6%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d8%b3%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کار سرکار میں مداخلت کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%ae%d9%84%d8%aa-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86-%d9%85%d8%b2%d8%a7%d8%b1%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%ae%d9%84%d8%aa-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86-%d9%85%d8%b2%d8%a7%d8%b1%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 29 Oct 2026 10:14:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اڈیالہ_جیل]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[انسداد_دہشت_گردی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ایمان_مزاری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[سیکیورٹی_روٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%ae%d9%84%d8%aa-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86-%d9%85%d8%b2%d8%a7%d8%b1%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[انسداد دہشت گردی عدالت نے سری لنکن کرکٹ ٹیم کے روٹ پر بیریئر ہٹانے اور پولیس سے ہاتھا پائی کے کیس میں فیصلہ سنا دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بیریئر ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کے ایک ہائی پروفائل مقدمے میں معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے اڈیالہ جیل میں اس مقدمے کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے آج سنایا گیا۔ فیصلے کے مطابق دونوں ملزمان کو مختلف قانونی دفعات کے تحت سزائیں دی گئی ہیں جن میں قید اور جرمانے شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پراسیکیوشن کے مطابق یہ واقعہ اکتوبر 2024 میں پیش آیا تھا جب سری لنکن کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے دوران اسلام آباد میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے زیرو پوائنٹ پر وی آئی پی روٹ کے بیریئرز ہٹائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی ریکارڈ کے مطابق بیریئرز ہٹانے کے دوران ملزمان کی ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کے ساتھ تلخ کلامی اور ہاتھا پائی بھی ہوئی تھی۔ اس واقعے کے بعد تھانہ آبپارہ میں دہشت گردی اور ہنگامہ آرائی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کی سماعت کے دوران پراسیکیوشن نے کل 7 گواہان کو عدالت میں پیش کیا، جن کے بیانات اور شواہد کی روشنی میں کیس کو آگے بڑھایا گیا۔ ملزمان کے خلاف 7 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی گئی تھی جس کے بعد ٹرائل کا باقاعدہ آغاز ہوا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس کیس میں اسٹیٹ کونسل عاطف محمود کو مقرر کیا تھا جنہوں نے گواہان پر جرح مکمل کی۔ ملزمان کی جانب سے صحت جرم سے انکار کیا گیا تھا، تاہم شواہد کی بنیاد پر عدالت نے انہیں مجرم قرار دیتے ہوئے سزا کا حکم دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی فیصلے میں وضاحت کی گئی ہے کہ ملزمان کو تین مختلف دفعات کے تحت سزا دی گئی ہے۔ دہشت گردی کی دفعہ کے تحت 10 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ، جبکہ دیگر دفعات کے تحت مزید قید اور جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے دفعہ 382 کا فائدہ دیتے ہوئے ملزمان کی مجموعی سزا کو 10 سال تک محدود رکھا ہے، جبکہ مجموعی طور پر انفرادی دفعات کے تحت یہ سزا 13 سال بنتی تھی۔ جرمانے کی مد میں بھی ملزمان کو بھاری رقم ادا کرنی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلہ سنائے جانے کے بعد عدالتی احکامات پر جیل پولیس نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ ایمان مزاری کو خواتین جیل پولیس اہلکاروں کی نگرانی میں خواتین بیرکس منتقل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہادی علی چٹھہ کو مرد جیل پولیس اہلکاروں نے اپنی تحویل میں لے کر جیل منتقل کیا۔ دونوں ملزمان اس مقدمے میں ضمانت پر رہا تھے، تاہم سزا کے اعلان کے بعد انہیں فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ یہ مقدمہ اکتوبر 2024 میں درج کیا گیا تھا اور تب سے یہ معاملہ قانونی کارروائی کے مراحل سے گزر رہا تھا۔ آج کا فیصلہ اس طویل قانونی عمل کا حتمی نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کی جانب سے کیس میں شفاف ٹرائل کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اسٹیٹ کونسل کی خدمات حاصل کی گئی تھیں تاکہ قانونی کارروائی کو میرٹ پر مکمل کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلے کے بعد قانونی حلقوں میں اس کیس پر بحث جاری ہے، جبکہ ملزمان کے وکلاء کی جانب سے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں فی الحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%ae%d9%84%d8%aa-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86-%d9%85%d8%b2%d8%a7%d8%b1%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، اہم قرارداد منظور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%86%d8%b5%d8%a7%d9%81-%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%84%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9%db%8c-%da%a9%d8%a7/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%86%d8%b5%d8%a7%d9%81-%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%84%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9%db%8c-%da%a9%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 19:17:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئینی_ترمیم]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پارلیمانی_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%86%d8%b5%d8%a7%d9%81-%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%84%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9%db%8c-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبات کی منظوری دی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان تحریک انصاف کی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان پر مشتمل مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کی موجودہ سیاسی، آئینی، امن و امان اور معاشی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے بعد ایک اہم قرارداد منظور کی گئی جس میں پارٹی کے مستقبل کے لائحہ عمل اور مطالبات کا احاطہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں بانی چیئرمین عمران خان کی قیادت، فیصلوں اور ان کے وژن پر غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قانونی تقاضوں کے مطابق رہائی یقینی بنائی جائے اور ان کے وکلا و اہلِ خانہ سے ملاقاتوں پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارلیمانی پارٹی نے سپریم کورٹ کی اگست 2026 کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا آزادانہ طبی معائنہ کرایا جائے، شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج اور ان کے ذاتی معالج کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔ ان کی صحت، عزت و وقار اور قانونی حقوق کا تحفظ ریاستی ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو آئین اور صوبائی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا گیا۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سربراہی میں منتخب صوبائی حکومت کو بحال کیا جائے اور وزیراعلیٰ، اسپیکر بابر سلیم سواتی اور صوبائی صدر جنید اکبر خان سمیت گرفتار رہنماؤں کو فوری رہا کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قرارداد میں تحریک انصاف کے گرفتار ارکانِ پارلیمنٹ، رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس میں شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر چیمہ اور دیگر رہنماؤں کی گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور انہیں سیاسی انتقام قرار دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارلیمانی پارٹی نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی مذمت کی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر منتخب قیادت کو نشانہ بنانا وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسلح افواج، پولیس اور شہریوں کی قربانیوں کو سراہا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ تحریک انصاف کی جمہوری جدوجہد کو ریاست دشمنی کے طور پر پیش کرنے کی کوششیں قومی اتحاد کو کمزور کر رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں 8 فروری 2024 کے انتخابات کے مینڈیٹ کے احترام یا ملک میں نئے شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کی واپسی، عدلیہ کی آزادی اور اظہارِ رائے کے حقوق کی بحالی پر زور دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قرارداد میں کہا گیا کہ مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارٹی قیادت کے حوالے سے اجلاس میں بیرسٹر گوہر علی خان، سلمان اکرم راجہ، محمود خان اچکزئی، راجہ ناصر عباس، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور جنید اکبر خان سمیت دیگر نامزد عہدیداروں پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ پارٹی کے اندرونی معاملات متعلقہ فورمز پر ہی حل کیے جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%86%d8%b5%d8%a7%d9%81-%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%84%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9%db%8c-%da%a9%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
