<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.32.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سیاحت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%ad%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 02 Nov 2026 04:26:56 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>سیاحت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>سوات کے بالائی علاقوں میں ژالہ باری، مینگورہ سمیت ضلع بھر میں موسم سرد</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/weather/%d8%b3%d9%88%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%98%d8%a7%d9%84%db%81-%d8%a8%d8%a7%d8%b1%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/weather/%d8%b3%d9%88%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%98%d8%a7%d9%84%db%81-%d8%a8%d8%a7%d8%b1%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 14:37:18 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[موسم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بارش]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ژالہ_باری]]></category>
		<category><![CDATA[سردی]]></category>
		<category><![CDATA[سوات]]></category>
		<category><![CDATA[سیاحت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[گرمی]]></category>
		<category><![CDATA[محکمہ_موسمیات]]></category>
		<category><![CDATA[مرغزار]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/weather/%d8%b3%d9%88%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%98%d8%a7%d9%84%db%81-%d8%a8%d8%a7%d8%b1%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[سوات کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سمیت ضلع بھر میں آج ہفتہ کے روز بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس کے بعد موسم یکدم سرد ہو گیا ہے۔ بارش کے باعث مقامی شہریوں نے گرم ملبوسات کا استعمال شروع کر دیا ہے اور بازاروں میں معمول کی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ موسمیات کے مطابق سوات کے بالائی اور پہاڑی علاقوں میں بارش کے ساتھ ساتھ ژالہ باری کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ سیاحتی مقام ملم جبہ اور مرغزار میں بھی وقفے وقفے سے بارش اور ژالہ باری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بارش اور ژالہ باری کے باعث ان علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے جس سے سیاحوں اور مقامی آبادی کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ملم جبہ اور مرغزار جیسے سیاحتی مقامات پر موسم کے تیور بدلنے سے سیاحوں کی نقل و حرکت میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مینگورہ شہر کی اہم شاہراہوں اور بازاروں میں بارش کے باعث ٹریفک کا بہاؤ معمول سے کم رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بارش کے بعد موسم خوشگوار تو ہو گیا ہے تاہم سردی کی شدت میں اضافے سے گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ سوات اور گردونواح میں بارش کا یہ سلسلہ آئندہ 24 گھنٹے تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ متعلقہ حکام نے شہریوں کو موسمی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوات کے پہاڑی سلسلوں میں ہونے والی ژالہ باری سے نشیبی علاقوں میں بھی خنکی بڑھ گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں تاکہ عوام کو کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاحتی مقامات پر جانے والے افراد کو بھی موسم کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ملم جبہ اور مرغزار کے راستوں پر پھسلن کے خدشات کے پیش نظر ڈرائیوروں کو گاڑی آہستہ چلانے اور احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موسم میں آنے والی اس تبدیلی سے زراعت کے شعبے پر بھی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے، تاہم فی الحال بارش کو فصلوں کے لیے مفید قرار دیا جا رہا ہے۔ مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ اس بارش سے خشک سالی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوات کے شہری انتظامیہ نے بارش کے دوران نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے کے لیے بھی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ مینگورہ شہر کے مختلف حصوں میں پانی جمع ہونے سے روکنے کے لیے عملہ تعینات کیا گیا ہے تاکہ ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سردی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی شہر میں خشک میوہ جات اور گرم مشروبات کی مانگ میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بازاروں میں لوگ سردی سے بچاؤ کے لیے ضروری اشیاء کی خریداری میں مصروف نظر آ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک کے دیگر شمالی علاقوں میں بھی موسم کا مزاج تبدیل ہو رہا ہے اور آئندہ چند روز کے دوران مزید بارشوں کی توقع کی جا سکتی ہے۔ سوات میں جاری بارش کا یہ سلسلہ موسم سرما کی آمد کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ موسم کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے سفر کا منصوبہ بنائیں۔ خاص طور پر پہاڑی علاقوں کی جانب جانے والے سیاحوں کو گرم کپڑوں اور ضروری سامان ساتھ رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/weather/%d8%b3%d9%88%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%98%d8%a7%d9%84%db%81-%d8%a8%d8%a7%d8%b1%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ٹھٹھہ کا تاریخی مکلی قبرستان: سندھ کی تہذیب و ثقافت کا عظیم ورثہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%b9%da%be%d9%b9%da%be%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c-%d9%85%da%a9%d9%84%db%8c-%d9%82%d8%a8%d8%b1%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%da%a9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%b9%da%be%d9%b9%da%be%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c-%d9%85%da%a9%d9%84%db%8c-%d9%82%d8%a8%d8%b1%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%da%a9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 01:37:45 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آثار_قدیمہ]]></category>
		<category><![CDATA[تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[تاریخی_ورثہ]]></category>
		<category><![CDATA[ثقافت]]></category>
		<category><![CDATA[ٹھٹھہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[سیاحت]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%b9%da%be%d9%b9%da%be%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c-%d9%85%da%a9%d9%84%db%8c-%d9%82%d8%a8%d8%b1%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[دس مربع کلومیٹر پر محیط مکلی کا قبرستان اپنی منفرد سنگ تراشی اور اسلامی فنِ تعمیر کے باعث عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سندھ کے تاریخی شہر ٹھٹھہ کے قریب واقع مکلی نیکروپولس دنیا کے سب سے بڑے اور منفرد تاریخی قبرستانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ مقام صدیوں پر محیط سندھ کی تہذیب، فنِ تعمیر اور اسلامی ثقافت کے انمول آثار کو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریباً دس مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے پر پھیلے اس تاریخی قبرستان میں پانچ لاکھ سے زائد قبریں اور مقبرے موجود ہیں۔ یہاں بادشاہوں، ملک ہوں، حکمرانوں، گورنروں، صوفیا، علما اور دانشوروں کی آخری آرام گاہیں موجود ہیں جو ماضی کی یاد دلاتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مکلی کے مقبروں میں جام نظام الدین ثانی اور عیسیٰ خان تر خان کے مقبرے اپنی منفرد تعمیر، دیدہ زیب سنگ تراشی اور کاشی کاری کے باعث خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ فن پارے مقامی، گجراتی، مغلیہ اور فار سی اثرات کا حسین امتزاج پیش کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تاریخی مقام کی اہمیت کے پیشِ نظر یونیسکو نے 1981 میں مکلی کے تاریخی آثار کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ یہ قبرستان 14ویں سے 18ویں صدی تک سندھ کی سماجی، سیاسی اور مذہبی تاریخ کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ موسمی اثرات، بارشوں، نمی اور نمکیاتی ہواؤں کے باعث اس تاریخی ورثے کو نقصان پہنچا ہے۔ قدرتی کٹاؤ اور دیگر عوامل نے بھی ان قدیم ڈھانچوں کی خوبصورتی کو متاثر کیا ہے، جس پر ماہرین تحفظِ آثارِ قدیمہ تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سن 2022 کی شدید مون سون بارشوں کے بعد کئی تاریخی مقبروں کو نقصان پہنچا تھا، جس کے بعد محکمہ آثارِ قدیمہ سندھ اور یونیسکو نے مشترکہ طور پر بحالی کے اقدامات شروع کیے۔ ان کوششوں کا مقصد اس تاریخی ورثے کو محفوظ بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رواں سال 2026 میں عالمی ورثہ کمیٹی نے مکلی کے تحفظ کے لیے جاری اقدامات کو سراہا ہے۔ کمیٹی نے شیخ جیئو کے مقبرے اور سمہ دور کے دیگر اہم آثار کی بحالی کے کام کو مزید تیز کرنے اور اسے مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مکلی صرف قبروں کا ایک مجموعہ نہیں بلکہ یہ سندھ کی صدیوں پرانی تہذیب اور فنونِ لطیفہ کی ایک زندہ دستاویز ہے۔ اس کا تحفظ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک اہم ذمہ داری ہے تاکہ آنے والی نسلیں اس سے استفادہ کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتِ سندھ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے مکلی کے تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں مقامی سطح پر بھی آگاہی مہمات چلائی جا رہی ہیں تاکہ تجاوزات اور دیگر نقصانات سے اس جگہ کو محفوظ رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاحوں اور محققین کی بڑی تعداد ہر سال اس تاریخی مقام کا دورہ کرتی ہے۔ مکلی کا دورہ کرنے والے افراد یہاں کے سکون اور قدیم فنِ تعمیر کی باریکیوں کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں جو اسے دنیا بھر میں منفرد بناتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں مکلی کے تحفظ کے لیے مزید فنڈز مختص کرنے اور بین الاقوامی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام اس تاریخی ورثے کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچانے کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، مکلی نیکروپولس کا تحفظ قومی فخر کا باعث ہے۔ یہ مقام ہماری تاریخ کا وہ روشن باب ہے جسے محفوظ رکھنا ہم سب کا فرض ہے، تاکہ یہ عظیم ورثہ اپنی اصل حالت میں آنے والی نسلوں تک منتقل ہو سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%b9%da%be%d9%b9%da%be%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c-%d9%85%da%a9%d9%84%db%8c-%d9%82%d8%a8%d8%b1%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%da%a9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>برفانی چیتے کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے: عطا تارڑ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%d8%b1%d9%81%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%86%db%8c%d8%aa%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%ad%d9%81%d8%b8-%d9%82%d9%88%d9%85%db%8c-%d8%b0%d9%85%db%81-%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c-%db%81%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%d8%b1%d9%81%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%86%db%8c%d8%aa%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%ad%d9%81%d8%b8-%d9%82%d9%88%d9%85%db%8c-%d8%b0%d9%85%db%81-%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c-%db%81%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 22:56:35 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[برفانی_چیتا]]></category>
		<category><![CDATA[جنگلی_حیات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاحت]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[شمالی_علاقہ_جات]]></category>
		<category><![CDATA[عطا_تارڑ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قدرتی_ورثہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%d8%b1%d9%81%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%86%db%8c%d8%aa%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%ad%d9%81%d8%b8-%d9%82%d9%88%d9%85%db%8c-%d8%b0%d9%85%db%81-%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c-%db%81%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور انسانی سرگرمیوں سے نایاب برفانی چیتوں کو خطرات لاحق ہیں، جن کے تحفظ کیلئے کمیٹی قائم کی جائے گی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے برفانی چیتے کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ برفانی چیتا پاکستان کے قدرتی ورثے اور حیاتیاتی تنوع کی ایک اہم علامت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس نایاب جنگلی جانور اور اس کے قدرتی مسکن کا تحفظ نہ صرف حکومتی اداروں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ آنے والی نسلوں کیلئے اس ورثے کو محفوظ بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عطا تارڑ نے بتایا کہ پاکستان میں برفانی چیتوں کی موجودہ تعداد تقریباً 200 سے 300 کے درمیان ہے، جنہیں غیر قانونی شکار، موسمیاتی تبدیلیوں اور انسانی مداخلت کے باعث مختلف قسم کے سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر نے کہا کہ برفانی چیتا صدیوں سے مقامی آبادی کے ساتھ ایک پرامن ہم آہنگی میں رہتا آیا ہے، اس لئے اس کے تحفظ کیلئے اس کے قدرتی مسکن کو محفوظ بنانا اور جنگلی حیات کو درپیش چیلنجز سے نمٹنا انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس مقصد کے حصول کیلئے وفاقی حکومت کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں ڈبلیو ڈبلیو ایف، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر کے نمائندے شامل ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمیٹی کا بنیادی مقصد متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے اور تعاون کو مؤثر بنانا ہے تاکہ برفانی چیتوں کی نسل کو محفوظ رکھنے کیلئے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت عملی اقدامات اٹھائے جا سکیں اور وسائل کا بہتر استعمال ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عطا تارڑ نے مزید کہا کہ شمالی علاقوں میں سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ سیاحوں کو قدرتی ماحول کے تحفظ، مقامی ثقافت اور روایات سے متعلق آگاہی فراہم کرنا بھی ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ سیاحوں کو ان علاقوں کا رخ کرنے سے پہلے مقامی آبادی کے حقوق، ثقافتی حساسیت اور ماحول دوست رویوں کی اہمیت سے آگاہ کیا جانا چاہیے تاکہ سیاحتی سرگرمیاں ماحول کیلئے نقصان دہ نہ ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر نے نشاندہی کی کہ سیاحتی علاقوں میں شور شرابے، گندگی اور غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں کے باعث قدرتی ماحول بری طرح متاثر ہو رہا ہے، جس کا اثر براہِ راست جنگلی حیات کی بقا پر بھی پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاحت کو ذمہ دارانہ بنانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی اور سیاحوں کو مل کر قدرتی ماحول اور جنگلی حیات کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ سیاحت کا شعبہ پائیدار بن سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عطا تارڑ نے تجویز دی کہ سکردو اور گلگت آنے والی پروازوں میں سیاحوں کی آگاہی کیلئے معلوماتی بروشرز رکھنے کا انتظام کیا جائے گا، جس کیلئے سول ایوی ایشن حکام کو باقاعدہ سفارشات بھیجی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان بروشرز کا مقصد سیاحوں کو شمالی علاقوں میں پہنچنے سے پہلے ہی وہاں کے حساس ماحول، مقامی ثقافت اور روایات کے احترام سے متعلق ضروری معلومات فراہم کرنا ہے تاکہ وہ ذمہ دارانہ سیاحت کو فروغ دیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے یہ اقدامات برفانی چیتے جیسے نایاب جانوروں کی بقا اور پاکستان کے شمالی علاقوں کے قدرتی حسن کو برقرار رکھنے کیلئے ایک اہم پیش رفت سمجھے جا رہے ہیں جس سے ماحولیاتی تحفظ کو تقویت ملے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%d8%b1%d9%81%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%86%db%8c%d8%aa%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%ad%d9%81%d8%b8-%d9%82%d9%88%d9%85%db%8c-%d8%b0%d9%85%db%81-%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c-%db%81%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بالی ووڈ اداکارہ ملائیکہ اروڑا کی شیخ زاید مسجد آمد، تصاویر وائرل</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d8%a8%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%88%d9%88%da%88-%d8%a7%d8%af%d8%a7%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%81-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%db%81-%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%91%d8%a7-%da%a9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d8%a8%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%88%d9%88%da%88-%d8%a7%d8%af%d8%a7%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%81-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%db%81-%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%91%d8%a7-%da%a9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 14:58:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شوبز]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ابوظہبی]]></category>
		<category><![CDATA[ارجن_کپور]]></category>
		<category><![CDATA[انسٹاگرام]]></category>
		<category><![CDATA[بالی_ووڈ]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_اداکارہ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_ڈرامہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سرویش_ششی]]></category>
		<category><![CDATA[سیاحت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d8%a8%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%88%d9%88%da%88-%d8%a7%d8%af%d8%a7%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%81-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%db%81-%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%91%d8%a7-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[مشہور بھارتی اداکارہ اور ماڈل نے ابوظہبی کی تاریخی مسجد کا دورہ کیا اور تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بالی ووڈ کی معروف اداکارہ اور ماڈل ملائیکہ اروڑا نے حال ہی میں متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران ابوظہبی میں واقع مشہور اور تاریخی شیخ زاید گرینڈ مسجد کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے روایتی لباس کے طور پر برقع پہن رکھا تھا اور ان کا سر بھی ڈھکا ہوا تھا، جن کی تصاویر اور ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر آتے ہی دھوم مچا دی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انسٹاگرام پر اپنے اس یادگار دورے کی چند جھلکیاں شیئر کرتے ہوئے ملائیکہ اروڑا نے اس مقام کی خوبصورتی اور روحانی فضا کی کھل کر تعریف کی۔ انہوں نے لکھا کہ دنیا میں کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو رک کر گہرے غور و فکر پر مجبور کر دیتے ہیں جبکہ کچھ جگہیں براہ راست دل کو چھو لیتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اداکارہ کا مزید کہنا تھا کہ شیخ زاید گرینڈ مسجد ایک ایسا منفرد مقام ہے جہاں یہ دونوں کیفیات اور احساسات ایک ساتھ انسان پر طاری ہو جاتے ہیں، جس نے ان کے اس دورے کو انتہائی خاص بنا دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شیخ زاید گرینڈ مسجد دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک اہم مرکز ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں زائرین آتے ہیں، اور اسلامی فن تعمیر کے اس عظیم شاہکار کو دیکھ کر اپنی حیرت کا اظہار کرتے ہیں۔ اس مسجد کی شاندار سفید سنگ مرمر کی عمارت، بڑے گنبد اور خوبصورت مینار ہر آنے والے کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملائیکہ اروڑا کے اس مسجد کے دورے کی تصاویر کے سامنے آنے کے بعد ان کے مداحوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر مختلف تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا اور یہ تصاویر تیزی سے وائرل ہو گئیں۔ ان کی اس پوسٹ پر ہزاروں کی تعداد میں لائکس اور کمنٹس کیے گئے جن میں مداحوں نے ان کے اس انداز کو سراہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس دورے کے دوران بالی ووڈ اداکارہ کے ہمراہ معروف یو گا پریکٹیشنر اور کاروباری شخصیت سرویش ششی بھی موجود تھے، جنہوں نے اس سفر کے دوران ان کا ساتھ دیا۔ دونوں کی اس دورے کے دوران ایک ساتھ تصاویر سامنے آنے کے بعد انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے مختلف قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے ان کے باہمی تعلقات کے حوالے سے چہ مگوئیاں کی جا رہی ہیں، تاہم اب تک دونوں شخصیات کی جانب سے اس بابت کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔ ملائیکہ اروڑا ماضی میں بھی اپنی ذاتی زندگی اور مختلف تعلقات کی وجہ سے خبروں کی زینت بنتی رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ملائیکہ اروڑا کی نجی زندگی کے حوالے سے اکثر خبریں گردش کرتی رہتی ہیں، خصوصاً اداکار ارجن کپور کے ساتھ علیحدگی کے بعد سے ان کے حوالے سے مختلف تبصرے کیے جاتے ہیں۔ تاہم اس بار ان کا یہ مذہبی و سیاحتی دورہ اور ان کا برقع پوش انداز خاص طور پر زیرِ بحث رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شوبز شخصیات کے اس طرح کے دورے اکثر ان کے مداحوں کے لیے تجسس کا باعث بنتے ہیں اور جب وہ کسی دوسرے ملک کی ثقافتی یا مذہبی عمارت کا دورہ کرتے ہیں تو لوگ اس پر بھرپور ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ ملائیکہ اروڑا کا یہ دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جسے مداحوں نے بہت زیادہ پسند کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متحدہ عرب امارات میں شیخ زاید گرینڈ مسجد میں آنے والے تمام زائرین کے لیے یہ ضابطہ ہے کہ وہ مقامی روایات اور مسجد کے تقدس کا احترام کرتے ہوئے مناسب لباس زیب تن کریں، جس کی پاسداری ملائیکہ نے بھی کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی سطح پر مشہور شخصیات کی جانب سے ایسے مقامات کے دورے ثقافتی تبادلے اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کا ایک ذریعہ بھی سمجھے جاتے ہیں، جہاں لوگ مختلف تہذیبوں کے قریب آتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شوبز کے حلقوں میں اس وقت ملائیکہ اروڑا کا یہ دورہ اور اس سے جڑی تصاویر سب سے زیادہ گرم موضوع بنی ہوئی ہیں اور مداح ان کی اس پوسٹ پر مسلسل اپنی آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر اس دورے نے مداحوں کو ایک نیا موضوع فراہم کیا ہے اور ملائیکہ اروڑا کی یہ سوشل میڈیا پوسٹ اس وقت انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ دیکھی جانے والی اور زیرِ بحث پوسٹس میں شمار کی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d8%a8%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%88%d9%88%da%88-%d8%a7%d8%af%d8%a7%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%81-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%db%81-%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%91%d8%a7-%da%a9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وادی کیلاش: ثقافتی تنوع اور قدیم روایات کا مسحور کن مرکز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%88%d8%a7%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%b4-%d8%ab%d9%82%d8%a7%d9%81%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d9%86%d9%88%d8%b9-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%82%d8%af%db%8c%d9%85/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%88%d8%a7%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%b4-%d8%ab%d9%82%d8%a7%d9%81%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d9%86%d9%88%d8%b9-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%82%d8%af%db%8c%d9%85/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 00:57:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاحت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کے_شمالی_علاقے]]></category>
		<category><![CDATA[تہوار]]></category>
		<category><![CDATA[ثقافت]]></category>
		<category><![CDATA[چترال]]></category>
		<category><![CDATA[چلم_جوشی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاحت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%88%d8%a7%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%b4-%d8%ab%d9%82%d8%a7%d9%81%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d9%86%d9%88%d8%b9-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%82%d8%af%db%8c%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[چترال کی وادی کیلاش اپنی منفرد ثقافت، قدیم رسم و رواج اور چلم جوشی جیسے تہواروں کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک پرکشش مقام ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں واقع وادی کیلاش اپنے دامن میں ایسے قدیم رسم و رواج اور ثقافتی ورثے کو سموئے ہوئے ہے جو دنیا کے کسی اور خطے میں دیکھنے کو نہیں ملتے۔ چترال کے پہاڑی سلسلے میں واقع یہ وادی اپنی منفرد شناخت کی بدولت سیاحوں کے لیے ہمیشہ مرکزِ نگاہ رہتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کیلاش کے باسی سال بھر میں چار اہم تہوار مناتے ہیں جن میں چلم جوشی اور چوموس کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ مئی کے مہینے میں منایا جانے والا چلم جوشی کا تہوار موسمِ بہار کی آمد اور خوشیوں کا پیغام لاتا ہے، جس میں مقامی لوگ روایتی رقص اور موسیقی کے ذریعے اپنی ثقافت کا اظہار کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس وادی تک رسائی کے لیے لواری ٹنل ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی ہے۔ طویل عرصے تک زیرِ تعمیر رہنے والی یہ سرنگ اب چترال اور دیر کے درمیان سفر کو چند گھنٹوں سے کم کر کے منٹوں میں بدل چکی ہے، جس سے سیاحوں اور مقامی آبادی کو بے پناہ سہولت ملی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کیلاش خواتین کا لباس ان کی پہچان اور ثقافتی وقار کی علامت ہے۔ سیاہ رنگ کے لمبے کرتوں پر ہاتھ سے کی گئی رنگین کڑھائی اور سر پر پہنی جانے والی مخصوص ٹوپیاں، جن پر موتی اور کوڑیاں سجی ہوتی ہیں، ان کی منفرد تہذیبی شناخت کو اجاگر کرتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی روایات کے مطابق یہ لباس انتہائی مقدس سمجھا جاتا ہے اور اکثر نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔ خواتین اپنے ہاتھوں سے تیار کردہ ان ملبوسات کو فروخت کرنے کے بجائے اپنی تہذیبی امانت کے طور پر محفوظ رکھتی ہیں، جو ان کی روایت پسندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کیلاش میں موت کے تصور کو بھی دیگر معاشروں سے مختلف انداز میں دیکھا جاتا ہے۔ یہاں کسی کی وفات پر غم منانے کے بجائے اسے زندگی کے ایک نئے مرحلے کے طور پر منایا جاتا ہے، جہاں برادری کے لوگ جمع ہو کر متوفی کی زندگی کی یادیں تازہ کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماضی میں کیلاش قبائل میں میت کو تابوت میں رکھ کر قبرستان میں چھوڑنے کی روایت تھی، تاہم اب وقت کے ساتھ ساتھ تدفین کا عمل اپنا لیا گیا ہے۔ یہ تبدیلی مقامی آبادی کے بدلتے ہوئے سماجی شعور اور دیگر برادریوں کے ساتھ ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وادی کے مختلف دیہات جیسے بمبوریت، رمبور اور بریر اپنی قدرتی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ تاریخی اہمیت بھی رکھتے ہیں۔ بمبوریت کو ان دیہات میں مرکزی حیثیت حاصل ہے جہاں کیلاش برادری کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اور سیاحوں کے لیے قیام و طعام کی سہولیات بھی موجود ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرا کال گاؤں میں واقع قدیم قبرستان اور بشالینی جیسے مقامات کیلاش کی قدیم تاریخ اور ان کے سماجی اصولوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ بشالینی ایک مخصوص مقام ہے جہاں خواتین مخصوص ایام کے دوران قیام کرتی ہیں، جو ان کے عقائد اور روحانی پاکیزگی کے تصور سے جڑا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تہواروں کے دوران کیلاش کے لوگ اپنے روایتی گیتوں اور رقص کے ذریعے فطرت سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ ان تقریبات میں شرکت کرنا سیاحوں کے لیے ایک یادگار تجربہ ہوتا ہے جو انہیں ایک مختلف اور پرسکون دنیا کی سیر کرواتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کیلاش کے لوگ اپنی روایات کو جدید دور کے اثرات کے باوجود زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی مہمان نوازی اور سادہ طرزِ زندگی سیاحوں کو بار بار اس وادی کا رخ کرنے پر مجبور کرتی ہے، جہاں ہر قدم پر ایک نئی ثقافتی کہانی جنم لیتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتِ پاکستان اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے سیاحت کے فروغ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات نے اس وادی کو عالمی سطح پر متعارف کرایا ہے۔ بہتر سڑکوں اور سہولیات کی فراہمی سے اب زیادہ سے زیادہ لوگ اس خطے کی خوبصورتی دیکھنے کے لیے آ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وادی کیلاش کا سفر صرف ایک تفریحی دورہ نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے ایک قدیم اور منفرد پہلو کو سمجھنے کا موقع ہے۔ یہ وادی پاکستان کے تنوع اور ثقافتی حسن کا ایک ایسا روشن باب ہے جو ہمیشہ محفوظ رہنا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%88%d8%a7%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%b4-%d8%ab%d9%82%d8%a7%d9%81%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d9%86%d9%88%d8%b9-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%82%d8%af%db%8c%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکا: شوہر کے دیے گئے لاٹری ٹکٹ نے خاتون کو کروڑ پتی بنا دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/interesting/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%d8%b4%d9%88%db%81%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%af%db%8c%db%92-%da%af%d8%a6%db%92-%d9%84%d8%a7%d9%b9%d8%b1%db%8c-%d9%b9%da%a9%d9%b9-%d9%86%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/interesting/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%d8%b4%d9%88%db%81%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%af%db%8c%db%92-%da%af%d8%a6%db%92-%d9%84%d8%a7%d9%b9%d8%b1%db%8c-%d9%b9%da%a9%d9%b9-%d9%86%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 11:18:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دلچسپ و عجیب]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[انعام]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خوش_قسمتی]]></category>
		<category><![CDATA[دلچسپ_خبر]]></category>
		<category><![CDATA[دلچسپ_و_عجیب]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاحت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[غیر_ملکی_خبریں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/interesting/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%d8%b4%d9%88%db%81%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%af%db%8c%db%92-%da%af%d8%a6%db%92-%d9%84%d8%a7%d9%b9%d8%b1%db%8c-%d9%b9%da%a9%d9%b9-%d9%86%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[ورجینیا کی رہائشی خاتون کی قسمت اس وقت بدل گئی جب شوہر کے تحفے میں دیے گئے ٹکٹ سے بھاری انعام نکل آیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکا کی ریاست ورجینیا میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا ہے جہاں شوہر کی جانب سے دیے گئے ایک چھوٹے سے تحفے نے خاتون کی زندگی بدل کر رکھ دی اور وہ راتوں رات کروڑ پتی بن گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ واقعہ بیڈ فورڈ کاؤنٹی میں پیش آیا جہاں ایک خوش قسمت خاتون کو ان کے شوہر نے لاٹری کے دو ٹکٹ تحفے میں دیے تھے۔ یہ ٹکٹ اسکریچ کرنے والے تھے جنہیں خاتون نے اپنی قسمت آزمانے کے لیے استعمال کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ورجینیا لاٹری حکام کے مطابق جب خاتون نے ٹکٹ کو اسکریچ کیا تو وہ یہ دیکھ کر دنگ رہ گئیں کہ ان میں سے ایک ٹکٹ پر پانچ لاکھ 77 ہزار 777 امریکی ڈالرز کا انعام نکلا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستانی روپوں میں یہ انعامی رقم 16 کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے۔ شوہر کی جانب سے دیے گئے اس معمولی سے تحفے نے اس جوڑے کی مالی حالت کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خاتون نے ورجینیا لاٹری حکام سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کیا اور کہا کہ شوہر کا دیا گیا یہ تحفہ ان کے لیے خوش قسمتی کا پیغام لے کر آیا جس کی انہیں توقع نہیں تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جب خاتون سے پوچھا گیا کہ وہ اس بھاری انعامی رقم کو کس طرح خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، تو انہوں نے بتایا کہ وہ اس رقم کا کچھ حصہ سیاحت اور سیر و تفریح پر خرچ کریں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس خوش قسمت جوڑے نے اپنی شناخت ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے اور حکام کی جانب سے بھی ان کے نام خفیہ رکھے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکا میں لاٹری کے ذریعے لوگوں کی قسمت بدلنے کے واقعات اکثر سامنے آتے رہتے ہیں، تاہم اس جوڑے کا واقعہ سوشل میڈیا پر کافی دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسکریچ کارڈ لاٹری امریکا میں کافی مقبول ہے اور لوگ اکثر اسے تحفے کے طور پر ایک دوسرے کو دیتے ہیں، لیکن اس خاتون کے لیے یہ تحفہ زندگی کا یادگار ترین لمحہ ثابت ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ورجینیا لاٹری حکام نے تصدیق کی ہے کہ انعام جیتنے والی خاتون نے تمام ضوابط مکمل کرنے کے بعد اپنی انعامی رقم کا کلیم کر دیا ہے اور یہ رقم انہیں جلد منتقل کر دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ قسمت کب اور کس موڑ پر بدل جائے، اس کا اندازہ لگانا ناممکن ہے، خاص طور پر جب کوئی چھوٹا سا عمل بڑی خوشخبری کا باعث بن جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خاتون اور ان کے شوہر اس غیر متوقع دولت کے ملنے پر بے حد خوش ہیں اور اپنی نئی زندگی کے منصوبے بنا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صارفین کی جانب سے اس جوڑے کو مبارکباد دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/interesting/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%d8%b4%d9%88%db%81%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%af%db%8c%db%92-%da%af%d8%a6%db%92-%d9%84%d8%a7%d9%b9%d8%b1%db%8c-%d9%b9%da%a9%d9%b9-%d9%86%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کہوٹہ: سیاحتی مقام پنج پیر نڑھ میں گہری کھائی میں گر کر میاں بیوی جاں بحق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%db%81%d9%88%d9%b9%db%81-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%ad%d8%aa%db%8c-%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85-%d9%be%d9%86%d8%ac-%d9%be%db%8c%d8%b1-%d9%86%da%91%da%be-%d9%85%db%8c%da%ba/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%db%81%d9%88%d9%b9%db%81-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%ad%d8%aa%db%8c-%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85-%d9%be%d9%86%d8%ac-%d9%be%db%8c%d8%b1-%d9%86%da%91%da%be-%d9%85%db%8c%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 10:57:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پنج_پیر_نڑھ]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[حادثہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[راولپنڈی]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریسکیو_1122]]></category>
		<category><![CDATA[ریسکیو_آپریشن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاحت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%db%81%d9%88%d9%b9%db%81-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%ad%d8%aa%db%8c-%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85-%d9%be%d9%86%d8%ac-%d9%be%db%8c%d8%b1-%d9%86%da%91%da%be-%d9%85%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[راولپنڈی سے سیر کے لیے آنے والا جوڑا پہاڑی علاقے میں حادثے کا شکار ہو گیا، ریسکیو ٹیموں نے طویل سرچ آپریشن کے بعد لاشیں نکال لیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">راولپنڈی کے نواحی علاقے کہوٹہ کے مشہور و معروف سیاحتی مقام پنج پیر نڑھ میں ایک انتہائی افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے، جہاں سیر و تفریح کے لیے آنے والا میاں بیوی کا جوڑا گہری کھائی میں گر کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفصیلات کے مطابق میاں بیوی کا یہ جوڑا راولپنڈی سے تفریح کی غرض سے کہوٹہ کے پہاڑی سلسلے پنج پیر نڑھ پہنچا تھا۔ پہاڑی راستوں پر چہل قدمی کے دوران اچانک پیش آنے والے اس حادثے نے علاقے میں سوگ کی فضا پیدا کر دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس اور ریسکیو 1122 کے اہلکار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ حکام نے بتایا کہ میاں بیوی کے لاپتا ہونے کی اطلاع موصول ہوئی تھی جس کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریسکیو ٹیموں کے ساتھ مقامی افراد نے بھی اس سرچ آپریشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پہاڑی علاقے کی دشوار گزار اور گہری کھائی ہونے کے باعث تلاش کا عمل کافی مشکل رہا، تاہم ٹیموں نے ہمت نہیں ہاری اور مسلسل کوششیں جاری رکھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کئی گھنٹوں کی انتھک محنت اور سرچ آپریشن کے بعد ریسکیو اہلکاروں نے گہری کھائی سے دونوں میاں بیوی کی لاشیں برآمد کر لیں۔ ریسکیو حکام نے بتایا کہ جائے وقوعہ پر پہنچ کر لاشوں کو نکالنا ایک بڑا چیلنج تھا جسے ٹیموں نے مکمل کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جاں بحق ہونے والے میاں بیوی کا تعلق راولپنڈی سے بتایا گیا ہے۔ ریسکیو اہلکاروں نے قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد دونوں لاشوں کو تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال کہوٹہ منتقل کر دیا ہے تاکہ ضروری طبی اور قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس المناک حادثے نے سیاحتی مقامات پر حفاظتی انتظامات کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ پنج پیر نڑھ ایک خوبصورت مقام ہے جہاں بڑی تعداد میں سیاح ویک اینڈ پر سیر و تفریح کے لیے رخ کرتے ہیں اور قدرت کے نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی لوگوں اور سیاحوں نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں واقع ان سیاحتی مقامات پر حفاظتی دیواروں کی شدید کمی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونے سے حادثات کا خطرہ رہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاحوں کا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ کو ایسے مقامات پر حفاظتی باڑ یا دیواریں تعمیر کرنی چاہئیں تاکہ سیاحوں کی جان و مال کو محفوظ بنایا جا سکے۔ ایسے اقدامات سے مستقبل میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ حادثے کی وجوہات کا حتمی تعین کیا جا سکے۔ ابتدائی طور پر اسے ایک حادثہ قرار دیا جا رہا ہے تاہم تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کی جانب سے لواحقین کو قانونی ضابطے پورے کرنے کے بعد لاشیں حوالے کی جا رہی ہیں۔ اس واقعے کے بعد سیاحتی مقامات پر جانے والے شہریوں میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے اور وہ حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پنج پیر نڑھ اپنی قدرتی خوبصورتی کے باعث سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہتا ہے، لیکن اس طرح کے واقعات سیاحتی سرگرمیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کو چاہیے کہ سیاحوں کی رہنمائی کے لیے جگہ جگہ انتباہی بورڈز بھی نصب کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس افسوسناک واقعے کے بعد علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کہوٹہ کے تمام سیاحتی مقامات پر ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی انتظامات کو بہتر بنایا جائے تاکہ سیاح بلا خوف و خطر اپنی تفریح جاری رکھ سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%db%81%d9%88%d9%b9%db%81-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%ad%d8%aa%db%8c-%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85-%d9%be%d9%86%d8%ac-%d9%be%db%8c%d8%b1-%d9%86%da%91%da%be-%d9%85%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>گلگت بلتستان کی وادی اشکومن: سیاحت اور قدیم روایات کا حسین امتزاج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%a7%d8%b4%da%a9%d9%88%d9%85%d9%86-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%ad%d8%aa/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%a7%d8%b4%da%a9%d9%88%d9%85%d9%86-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%ad%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 01:37:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اشکومن]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_ٹورازم]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاحت]]></category>
		<category><![CDATA[پہاڑی_سلسلے]]></category>
		<category><![CDATA[ثقافت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفر]]></category>
		<category><![CDATA[سیاحت]]></category>
		<category><![CDATA[سیاحتی_مقامات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%a7%d8%b4%da%a9%d9%88%d9%85%d9%86-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%ad%d8%aa/</guid>

					<description><![CDATA[شمالی پاکستان کی پرفضا وادی اشکومن اپنی برف پوش چوٹیوں، مقامی مہمان نوازی اور منفرد ثقافتی روایات کے باعث سیاحوں کے لیے ایک پرکشش مقام بن چکی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں واقع وادی اشکومن اپنی قدرتی خوبصورتی اور بلند و بالا پہاڑی سلسلوں کی وجہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ یہ خطہ اپنی قدیم ثقافتی روایات اور پرسکون ماحول کے باعث مہم جو افراد کے لیے ایک مثالی منزل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد سے تقریباً 650 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اس وادی تک پہنچنے کے لیے شاہراہ قراقرم کا سفر ایک یادگار تجربہ فراہم کرتا ہے۔ سیاحوں کے لیے گلگت تک ہوائی سفر اور اس کے بعد ٹیکسی کے ذریعے چٹورکھنڈ تک پہنچنا سب سے زیادہ پسندیدہ راستہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وادی اشکومن کی جغرافیائی تنہائی اسے انسانی مداخلت سے محفوظ رکھتی ہے، جس کی وجہ سے یہاں کا قدرتی حسن آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔ مقامی آبادی کی مہمان نوازی اور ان کا سادہ طرز زندگی سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس خطے میں سیاحتی سہولیات کے لیے مقامی سطح پر چھوٹے ہاسٹلز اور گیسٹ ہاؤسز قائم کیے گئے ہیں۔ ان مقامات پر لکڑی اور پتھر کے روایتی تعمیراتی انداز کو اپنایا گیا ہے، جو مقامی ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں اور سیاحوں کو مقامی رہن سہن سے قریب کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وادی کی ثقافتی زندگی میں موسیقی اور رقص کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ مقامی تقریبات کے دوران رباب اور ڈھول کی تھاپ پر پیش کیے جانے والے روایتی رقص یہاں کے سماجی اور ثقافتی ماحول کا لازمی حصہ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہاں کے مقامی باشندے اپنی روایات سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ وادی کی لوک داستانوں میں ماورائی مخلوق اور قدیم عقائد کا ذکر بھی ملتا ہے، جو نسل در نسل منتقل ہوتے رہے ہیں۔ یہ روایات خطے کی تاریخ اور ثقافتی ورثے کا ایک اہم جزو سمجھی جاتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اشکومن میں خواتین کی سماجی اور معاشی شمولیت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ مقامی سیاحتی مراکز میں خواتین کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی معاشی حالت بہتر ہو رہی ہے بلکہ مقامی سیاحت کو بھی فروغ مل رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاحوں کے لیے یہاں ٹریکنگ، ٹراؤٹ مچھلی کا شکار اور دیین آبشار جیسے مقامات کی سیر کرنا بہترین سرگرمیاں ہیں۔ پکوڑا پاس کا دشوار گزار راستہ عبور کرنا مہم جو سیاحوں کے لیے ایک چیلنج اور دلچسپ تجربہ ثابت ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وادی کا ماحول پرسکون ہے اور یہاں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال محدود ہے، جس سے سیاحوں کو فطرت کے قریب وقت گزارنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ خاموشی اور تنہائی ہی اس وادی کی اصل پہچان اور کشش ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاحوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سفر کے دوران اپنی رجسٹریشن کے لیے ضروری دستاویزات اور پاسپورٹ ہمراہ رکھیں۔ سڑک کے کنارے قائم پولیس چوکیوں پر سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ تعاون کرنا سیاحوں کی اپنی حفاظت کے لیے انتہائی اہم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپریل سے اکتوبر تک کا وقت وادی اشکومن کی سیر کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔ اس دوران موسم خوشگوار رہتا ہے اور برف پوش چوٹیوں کے دامن میں پھیلے سرسبز میدان سیاحوں کے لیے ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی انتظامیہ اور سیاحتی اداروں کی جانب سے سیاحوں کی سہولت کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کوششوں کا مقصد مقامی ثقافت کو محفوظ رکھتے ہوئے سیاحت کے شعبے کو پائیدار بنیادوں پر ترقی دینا ہے تاکہ خطے کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر وادی اشکومن پاکستان کے ان پوشیدہ خزانوں میں سے ایک ہے جو اپنی ثقافتی اقدار اور قدرتی حسن کے ساتھ سیاحوں کو خوش آمدید کہتی ہے۔ یہ مقام ان لوگوں کے لیے بہترین ہے جو شہر کے ہنگاموں سے دور سکون کی تلاش میں ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%a7%d8%b4%da%a9%d9%88%d9%85%d9%86-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%ad%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے اور این ایف سی میں حصہ دینے کا مطالبہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-%d8%b9%d8%a8%d9%88%d8%b1%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%db%8c-%d8%b5%d9%88%d8%a8%db%81/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-%d8%b9%d8%a8%d9%88%d8%b1%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%db%8c-%d8%b5%d9%88%d8%a8%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 20:36:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئینی_صوبہ]]></category>
		<category><![CDATA[احسن_اقبال]]></category>
		<category><![CDATA[امجد_حسین]]></category>
		<category><![CDATA[این_ایف_سی_ایوارڈ]]></category>
		<category><![CDATA[ترقیاتی_منصوبے]]></category>
		<category><![CDATA[حافظ_حفیظ_الرحمان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاحت]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-%d8%b9%d8%a8%d9%88%d8%b1%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%db%8c-%d8%b5%d9%88%d8%a8%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعلیٰ امجد حسین نے وفاقی کمیٹی کے اجلاس میں خطے کی ترقی اور معاشی استحکام کے لیے ٹھوس اقدامات پر زور دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کی زیر صدارت گلگت بلتستان کے مسائل کے حل کے لیے قائم خصوصی کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں خطے کو درپیش آئینی، معاشی اور ترقیاتی امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے دوران گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ امجد حسین نے مطالبہ کیا کہ خطے کو عبوری آئینی صوبے کا درجہ دیا جائے اور اسے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں باقاعدہ حصہ فراہم کیا جائے تاکہ معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام گزشتہ 78 برسوں سے مسئلہ کشمیر کے تناظر میں آئینی اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتیں اور عوام خطے کی قومی دھارے میں شمولیت کے ایجنڈے پر مکمل متفق ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امجد حسین نے اس بات پر زور دیا کہ گلگت بلتستان کی جغرافیائی اور دفاعی اہمیت کے پیش نظر وفاقی حکومت کو یہاں کی ترقی پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے عوام میں پائے جانے والے احساسِ محرومی کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کو ناگزیر قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاحت کے فروغ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے گلگت میں بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قیام کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ خطے میں معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور سیاحوں کی آمدورفت کو آسان بنانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں ڈیجیٹل رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے فائبر آپٹک کے علاوہ جدید متبادل ذرائع متعارف کرانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے تجویز دی کہ ان تمام نکات کو خصوصی کمیٹی کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے تاکہ ترقیاتی عمل تیز ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گلگت بلتستان میں تعمیر و ترقی کے عمل کو تیز کرنے اور خطے کو درپیش معاشی مسائل کے حل کے لیے وزیراعظم پاکستان کو ایک خصوصی اسٹیبلائزیشن پیکیج فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس پیکیج کو حتمی سفارشات میں شامل کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں گلگت بلتستان اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف حافظ حفیظ الرحمان نے بھی شرکت کی اور وزیراعلیٰ کے پیش کردہ مطالبات کی مکمل حمایت کی۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے کی ترقی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر احسن اقبال نے مزید کہا کہ کمیٹی خطے کو درپیش تمام چیلنجز کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔ ان تجاویز کو حتمی شکل دے کر جلد از جلد وزیراعظم کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ ان پر عملدرآمد کا آغاز ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گلگت بلتستان کا شمار پاکستان کے خوبصورت ترین خطوں میں ہوتا ہے جو اپنی بلند و بالا پہاڑیوں اور سیاحتی مقامات کی بدولت عالمی سطح پر پہچانا جاتا ہے۔ حکومتی سطح پر ان اقدامات سے خطے کی معاشی حالت میں بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اجلاس کو گلگت بلتستان کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ مقامی قیادت اور وفاقی حکومت کے درمیان ہونے والی یہ بات چیت خطے کے دیرینہ مسائل کے حل کی جانب ایک مثبت اور سنجیدہ قدم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر کام کریں گی۔ اس سے قبل صوبائی کابینہ اور اسمبلی نے بھی ان سفارشات کی منظوری دی تھی جو اب وفاقی سطح پر زیر بحث ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-%d8%b9%d8%a8%d9%88%d8%b1%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%db%8c-%d8%b5%d9%88%d8%a8%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور: شاہی قلعہ اور شالیمار باغ رات 11 بجے تک کھولنے کا فیصلہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d8%b4%d8%a7%db%81%db%8c-%d9%82%d9%84%d8%b9%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b4%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%85%d8%a7%d8%b1-%d8%a8%d8%a7%d8%ba-%d8%b1%d8%a7%d8%aa-11/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d8%b4%d8%a7%db%81%db%8c-%d9%82%d9%84%d8%b9%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b4%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%85%d8%a7%d8%b1-%d8%a8%d8%a7%d8%ba-%d8%b1%d8%a7%d8%aa-11/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 10:37:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[تاریخی_مقامات]]></category>
		<category><![CDATA[حضوری_باغ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاح]]></category>
		<category><![CDATA[سیاحت]]></category>
		<category><![CDATA[شالیمار_باغ]]></category>
		<category><![CDATA[شاہی_قلعہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d8%b4%d8%a7%db%81%db%8c-%d9%82%d9%84%d8%b9%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b4%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%85%d8%a7%d8%b1-%d8%a8%d8%a7%d8%ba-%d8%b1%d8%a7%d8%aa-11-%d8%a8%d8%ac/</guid>

					<description><![CDATA[والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی نے نائٹ ٹورازم کے فروغ کے لیے تاریخی مقامات کے اوقات کار اور ٹکٹوں کی قیمتیں مقرر کر دی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور کے تاریخی ورثے اور ثقافتی مقامات سے محبت کرنے والوں کے لیے ایک بہترین خبر سامنے آئی ہے، جس کے تحت شہر کے دو انتہائی اہم اور قدیم مقامات کو رات کے اوقات میں بھی سیاحوں کے لیے دستیاب رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی نے نائٹ ٹورازم کے اس سلسلے کو باقاعدہ طور پر شروع کرنے کے لیے تمام ضروری انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے، تاکہ ملک بھر سے آنے والے سیاح اور مقامی شہری تاریخی عمارتوں کا نظارہ رات کے دلفریب ماحول میں بھی کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نئے اور اہم اقدام کے تحت لاہور کا مشہور شاہی قلعہ اور تاریخی شالیمار باغ اب شام کے بعد بھی عوام کے لیے کھلے رہیں گے۔ متعلقہ حکام کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلی معلومات کے مطابق ان دونوں تاریخی مقامات کے اوقات کار میں توسیع کر دی گئی ہے، اور اب یہ جگہیں رات کے وقت بھی سیاحوں کا استقبال کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہوں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئے شیڈول کے مطابق شاہی قلعہ اور شالیمار باغ شام سات بجے سے لے کر رات گیارہ بجے تک سیاحوں کے لیے کھلے رہیں گے۔ اس چار گھنٹے کے طویل دورانیے میں شائقینِ تاریخ اور عام شہری سکون کے ساتھ ان مقامات کا دورہ کر سکیں گے، جس سے انہیں لاہور کے ماضی کی شاندار جھلکیاں جدید روشنیوں میں دیکھنے کا انوکھا موقع ملے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا ماننا ہے کہ اس قدم سے شہر میں سیاحت کے شعبے کو نمایاں فروغ ملے گا اور بالخصوص ایسے افراد جو دن کے وقت مصروفیات کی وجہ سے نہیں آ سکتے تھے، وہ اب رات کے پرسکون ماحول میں اپنے خاندان کے ہمراہ ان تاریخی مقامات کا رخ کر سکیں گے۔ انتظامیہ کی جانب سے اس حوالے سے تمام سکیورٹی اور انتظامی انتظامات کو بھی فول پروف بنایا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی نے نائٹ ٹورازم کے لیے آنے والے زائرین کے ٹکٹوں کی قیمتیں اور فیسیں بھی باضابطہ طور پر مقرر کر دی ہیں تاکہ نظام کو شفاف اور منظم رکھا جا سکے۔ اس قیمتوں کے تعین میں مقامی شہریوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سیاحوں کی سہولت کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے تاکہ ہر طبقے کے لوگ اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقررہ کردہ نرخوں کے حساب سے شاہی قلعہ کی نائٹ ٹورازم کے دوران سیر کے لیے عام پاکستانی شہریوں کا ٹکٹ ایک ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے۔ یہ ٹکٹ ان تمام افراد کے لیے لاگو ہوگا جو شام سات سے گیاره بجے کے دوران قلعے کے اندر داخل ہوں گے اور تاریخی عمارات کا مشاہدہ کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چھوٹی عمر کے بچوں کے لیے بھی خصوصی رعایت رکھی گئی ہے تاکہ خاندان اپنے بچوں کے ساتھ تاریخی ورثے سے آگاهی حاصل کر سکیں۔ تین سال سے لے کر دس سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے داخلہ ٹکٹ پانچ سو روپے مقرر کیا گیا ہے، جس سے کمسن بچوں کے والدین کو بھی مالی طور پر آسانی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب پاکستان آنے والے غیر ملکی سیاحوں کے لیے ٹکٹ کی قیمت دو ہزار روپے رکھی گئی ہے۔ غیر ملکیوں کے لیے اس نرخ کا مقصد انہیں عالمی معیار کی سہولتیں فراہم کرنا اور ہمارے تاریخی ورثے کی ترویج کے لیے وسائل پیدا کرنا ہے تاکہ ان مقامات کی دیکھ بھال بہتر طریقے سے کی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نائٹ ٹورازم کے اس خصوصی دورانیے میں سیاحوں کو شاہی قلعہ کے اندر کئی اہم اور معروف تاریخی مقامات تک رسائی حاصل ہوگی۔ اس سفر کے دوران زائرین حضوری باغ کے خوبصورت احاطے میں چہل قدمی کر سکیں گے اور مغلیہ دور کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت دیکھنے کا موقع پائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قلعے کے اندر موجود دنیا بھر میں مشہور شیش محل بھی اس نائٹ ٹورازم کا حصہ ہوگا، جہاں شیشے کی کاریگری رات کے وقت روشنیوں میں مزید دلکش دکھائی دے گی۔ اس کے علاوہ پیچروال کا علاقہ، بارود خانہ اور خصوصی طور پر بنایا گیا سیلفی پوائنٹ بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنے رہیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاریخی عمارات میں مزید دلچسپی رکھنے والے افراد دیوان خاص، دیوان عام اور شاہی کچن کے حصوں کا بھی دورہ کر سکیں گے۔ ان تمام مقامات کو جدید اور مناسب لائٹنگ کے ذریعے روشن کیا گیا ہے تاکہ رات کے وقت بھی تاریخ کے یہ اوراق واضح طور پر دیکھے جا سکیں اور سیاح یادگار تصاویر بنا سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d8%b4%d8%a7%db%81%db%8c-%d9%82%d9%84%d8%b9%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b4%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%85%d8%a7%d8%b1-%d8%a8%d8%a7%d8%ba-%d8%b1%d8%a7%d8%aa-11/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
