<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سہیل_آفریدی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84_%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:33:46 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>سہیل_آفریدی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>سہیل آفریدی کے خلاف دہشت گردوں کی معاونت کے شواہد موجود ہیں: بیرسٹر عقیل ملک</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 16:56:36 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئینی_ترمیم]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سہیل_آفریدی]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عقیل_ملک]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[وزیر مملکت برائے قانون و انصاف نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی کے معاملے میں قانون اپنا راستہ خود بنائے گا اور تمام حقائق عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے ایک اہم بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ سہیل آفریدی کے خلاف دہشت گرد عناصر کی پشت پناہی کرنے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرسٹر عقیل ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی اس وقت حفاظتی تحویل میں ہیں اور ان کے خلاف قانون کو حرکت میں آنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملکی سلامتی کے معاملات پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سہیل آفریدی کے ٹھکانے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ وہ کسی شاہی مہمان خانے میں موجود ہیں، تاہم وہ کسی عام مہمان خانے میں ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ان کے حوالے سے مکمل ریکارڈ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرسٹر عقیل ملک نے مزید کہا کہ حکومت قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور سہیل آفریدی کے معاملے میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شواہد کی موجودگی کے بعد اب عدالتی عمل ہی اس کیس کا فیصلہ کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قیاس آرائیوں پر بات کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے وضاحت کی کہ آئین میں ایمرجنسی کے حوالے سے کوئی مخصوص ٹائم فریم مقرر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی معاملات کو قانون کی روشنی میں ہی دیکھا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر مملکت نے 28 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کی بھی تردید کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تاحال اس ترمیم پر کوئی باضابطہ کام شروع نہیں ہوا ہے اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرسٹر عقیل ملک کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور کسی کو بھی ملک دشمن سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کے معاملے میں قانون اپنا راستہ خود بنائے گا اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا موقف واضح ہے کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے اس معاملے پر سخت موقف اپنانے کے بعد اب قانونی ماہرین کی نظریں عدالت پر مرکوز ہیں۔ توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کیس سے متعلق مزید تفصیلات اور عدالتی کارروائی سامنے آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر مملکت نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی فرد یا گروہ کو ملک کے امن کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں انہوں نے کہا کہ تمام تر قانونی کارروائی شفاف طریقے سے ہوگی اور عوام کو حقائق سے آگاہ رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف اور صرف ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پشاور ہائیکورٹ: سہیل آفریدی کی حفاظتی تحویل پر حکومت سے جواب طلب</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/%d9%be%d8%b4%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/%d9%be%d8%b4%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 09:17:00 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایم_پی_او]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_ہائیکورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پی_تی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[ثمر_ہارون_بلور]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سہیل_آفریدی]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[شاہی_مہمان_خانہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%b4%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت عالیہ نے خیبرپختونخوا کے غیر فعال وزیر اعلیٰ کی حفاظتی تحویل کے معاملے پر صوبائی حکومت اور پولیس سے جواب طلب کر لیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پشاور ہائیکورٹ میں خیبرپختونخوا کے غیر فعال وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی حفاظتی تحویل اور ان کے حراستی مقام سے متعلق دائر اہم درخواست پر سماعت ہوئی ہے۔ عدالت نے صوبائی حکومت اور اعلیٰ پولیس حکام کو اس معاملے پر تفصیلی جواب جمع کروانے کی ہدایت جاری کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج لگائے جانے کے بعد سے سہیل آفریدی منظرِ عام سے غائب ہیں جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے یہ تصدیق کی گئی تھی کہ انہیں اور ان کی کابینہ کے چند ارکان کو تحویل میں لیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سہیل آفریدی کے بھائی محمد عامر کی طرف سے پشاور ہائیکورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ صوبے میں ایمرجنسی نافذ کیے جانے والی رات مسلح اور نقاب پوش افراد انہیں وزیر اعلیٰ ہاؤس سے لے گئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ صوبائی حکام کو ہدایت کی جائے کہ وہ سہیل آفریدی کا فوری سراغ لگائیں اور انہیں عدالت کے روبرو پیش کریں تاکہ آئین کے تحت ان کی حراست کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی اور صوبائی رہنما اس حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ حفاظتی تحویل کے بعد انہیں کہاں رکھا گیا ہے، تاہم پارٹی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں ایم پی او تھری کے تحت تحویل میں لیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماعت کے دوران جسٹس سید ارشد علی کی طرف سے استفسار کیا گیا تھا کہ غیر فعال وزیر اعلیٰ کو کہاں رکھا گیا ہے، جس پر درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق انہیں پشاور کے شاہی مہمان خانے سمیت دو مقامات پر رکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شاہی مہمان خانہ پشاور کے گورنر ہاؤس اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے قریب چھاؤنی کے علاقے میں واقع ایک تاریخی سرکاری عمارت ہے، جسے برطانوی دور میں تعمیر کیا گیا تھا اور اسے سرکاری مہمانوں کی رہائش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگست 2019 میں صوبائی حکومت نے اس تاریخی عمارت کو قبائلی اضلاع سے منتخب ہونے والے اراکین صوبائی اسمبلی کی رہائش کے لیے اسمبلی سیکریٹریٹ کے حوالے کر دیا تھا، جہاں مبینہ طور پر اب سیاسی شخصیات کو رکھے جانے کے چرچے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے بتایا کہ سہیل آفریدی، جنید اکبر، بابر سلیم سواتی اور گلگت بلتستان کے سابق وزیر اعلیٰ خالد خورشید کو پشاور ہی سے تحویل میں لیا گیا تھا، جن میں سے خالد خورشید کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی ایڈوائزری کونسل میں وزارت اطلاعات کا قلمدان سنبھالنے والی ثمر ہارون بلور نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سہیل آفریدی اور جنید اکبر حفاظتی تحویل میں ہیں اور مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ ان کے مطابق ان افراد کا اپنے اہلخانہ سے رابطہ بھی بحال ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ثمر ہارون بلور کا کہنا تھا کہ احتیاطی تحویل سے مراد ریاست کی جانب سے کسی شخص کو قانون کے تحت اس خدشے کے پیشِ نظر حراست میں لینا ہے کہ وہ مستقبل میں امنِ عامہ یا قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانونی ماہرین کا اس معاملے پر کہنا ہے کہ پاکستان میں کسی کو حفاظتی تحویل میں لینے کے لیے عام طور پر مینٹیننس آف پبلک آرڈر یعنی ایم پی او تھری کا قانون استعمال کیا جاتا ہے، جو ڈپٹی کمشنر یا محکمہ داخلہ کو یہ اختیار دیتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ قانون عبدالمعیز جعفری اور عثمان وڑائچ کے مطابق اس قانون کے تحت بغیر مقدمہ چلائے افراد کو حراست میں رکھا جا سکتا ہے، تاہم عدالت کو اس کی وجوہات سے آگاہ کرنا اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنا آئینی طور پر لازمی ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتِ عالیہ کی جانب سے اس کیس کی مزید سماعت کے دوران فریقین کے دلائل سنے جائیں گے اور یہ جائزہ لیا جائے گا کہ آیا حراست کے دوران آئین کے آرٹیکل 10 کے تحت فراہم کردہ بنیادی حقوق کے تقاضے پورے کیے گئے ہیں یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/%d9%be%d8%b4%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان تحریک انصاف میں اندرونی اختلافات اور چپقلش کھل کر سامنے آگئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%86%d8%b5%d8%a7%d9%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%b1%d9%88%d9%86%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%86%d8%b5%d8%a7%d9%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%b1%d9%88%d9%86%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 09:56:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_مارچ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی_کور_کمیٹی]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک_انصاف_اختلافات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سلمان_اکرم_راجہ]]></category>
		<category><![CDATA[سہیل_آفریدی]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_تنازع]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%86%d8%b5%d8%a7%d9%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%b1%d9%88%d9%86%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[کور کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے پر شدید تنقید اور تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کے اندرونی اختلافات نے شدت اختیار کر لی ہے اور پارٹی کے مختلف دھڑے کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ حالیہ سیاسی صورتحال اور اہم مشن کی ناخوشگوار صورتحال کے بعد جماعت کے اندر صفوں میں مایوسی پھیل چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق پارٹی کی کور کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں رہنماؤں نے موجودہ حالات پر کھل کر تبادلہ خیال کیا۔ اس اجلاس کے دوران شرکاء ایک دوسرے پر انتہائی شدید تنقید کرتے ہوئے نظر آئے اور ماضی کے فیصلوں پر سوالات اٹھائے گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے اندر اسلام آباد کی طرف مارچ کے حوالے سے کیے جانے والے طویل دعوؤں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ماضی میں بیس لاکھ افراد کو دارالحکومت لانے کے بلند بانگ دعوے کیے گئے تھے جو پورے نہ ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اس ناکامی کا تمام تر ملبہ مخصوص رہنماؤں پر ڈالا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سہیل آفریدی کو اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا گیا اور ان کی حکمت عملی پر کڑی تنقید کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رہنماؤں کا اس موقع پر یہ بھی کہنا تھا کہ حکمت عملی کے فقدان کی وجہ سے مشکلات میں اضافہ ہوا۔ اجلاس میں شریک بعض رہنماؤں نے یہاں تک کہہ دیا کہ متعلقہ شخصیت اس عمل کے بعد مشکل پوزیشن میں آ چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت کے خاتمے اور غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں جماعت کے اندرونی معاملات مزید پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ مشکل وقت میں اتحادی یا فکری حلیفوں کے کردار پر بھی پارٹی کے اندر کھل کر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے سیاسی کردار اور ان کی حکمت عملی پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ رہنماؤں کا ماننا تھا کہ موجودہ مرحلے پر بعض فیصلے درست سمت میں نہیں اٹھائے گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح سلمان اکرم راجہ کی جانب سے تشکیل دی جانے والی سیاسی کمیٹی کے قیام کے طریقہ کار کو بھی ہدف تنقید بنایا گیا۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس کمیٹی کی تشکیل میں زمینی حقائق کو نظر انداز کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی کمیٹی کے حوالے سے سامنے آنے والے تحفظات نے جماعت کے اندر موجود خلیج کو مزید واضح کر دیا ہے۔ کارکنان اور قائدین کی سطح پر اس قسم کے اختلافات سے پارٹی کے مجموعی بیانیے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارٹی کے اندر موجود مختلف دھڑے اب اپنے تحفظات کو میڈیا اور اندرونی فورمز پر کھل کر بیان کر رہے ہیں۔ کور کمیٹی کا حالیہ اجلاس اس بات کا غماز ہے کہ جماعت کے اندر فیصلے کرنے کے عمل پر بھی گہرے اختلافات پائے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے ہونے والے ان اجلاسوں میں اتفاق رائے کا فقدان نظر آ رہا ہے۔ اگر ان اندرونی اختلافات کو جلد ختم نہ کیا گیا تو جماعت کے لیے سیاسی میدان میں مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی صورتحال کے تناظر میں پارٹی کے اندرونی حلقے مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کر رہے ہیں تاکہ جماعت کو اس بحران سے نکالا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%86%d8%b5%d8%a7%d9%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%b1%d9%88%d9%86%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سہیل آفریدی کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے، عطا تارڑ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%d9%88-%d8%ad%d9%81%d8%a7%d8%b8%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d9%88%db%8c%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%84%db%8c%d8%a7/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%d9%88-%d8%ad%d9%81%d8%a7%d8%b8%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d9%88%db%8c%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%84%db%8c%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 23:58:12 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سہیل_آفریدی]]></category>
		<category><![CDATA[عطا_تارڑ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%d9%88-%d8%ad%d9%81%d8%a7%d8%b8%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d9%88%db%8c%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%84%db%8c%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ سہیل آفریدی کو گرفتار نہیں کیا گیا، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ آئین کے مطابق ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سہیل آفریدی کو گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ وہ پولیس کی حفاظتی تحویل میں موجود ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا اور وہ خیبرپختونخوا میں ہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عطا تارڑ نے بتایا کہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سہیل آفریدی کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب سہیل آفریدی کو تحویل میں لیا جا رہا تھا تو شفیع جان اور دیگر افراد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ جب خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے تھے، اس وقت سہیل آفریدی احتجاجی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سہیل آفریدی نے ماضی میں پرتشدد احتجاج کی قیادت کی ہے اور وہ دہشت گردوں سے محفوظ راستہ مانگتے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ صوبے میں کچھ لوگوں کو تحویل میں لیا گیا ہے جبکہ کچھ افراد روپوش ہو چکے ہیں۔ عطا تارڑ کے مطابق، ان لوگوں کا دعویٰ تھا کہ لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلیں گے، تاہم صوبے کے عوام نے ان کے جانے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر نے گیلپ سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام صوبائی حکومت کے حوالے سے کیے گئے حالیہ اقدامات پر خوش ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ لوگ دہشت گردوں کے مفادات کا تحفظ کرتے رہے ہیں اور ان کی قیادت نے ہی دہشت گردوں کو واپس لا کر آباد کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عطا تارڑ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اب خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کا باب اب بند ہو چکا ہے اور ٹرین اسٹیشن سے روانہ ہو چکی ہے، اب صوبے میں ایک نیا اور باصلاحیت سیٹ اپ موجود ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ مکمل طور پر آئین کے مطابق کیا گیا ہے۔ صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے ٹھوس قانونی اور آئینی جواز موجود تھا جس کے تحت یہ فیصلہ لیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر نے مولانا فضل الرحمان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے قومی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کے خلاف اس طرح کی مہم جوئی ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اب صورتحال مختلف ہے اور وہاں اے آر ڈی سی بن چکی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ صوبے میں آنے والا نیا سیٹ اپ عوام کے مسائل کے حل اور امن و امان کی بحالی کے لیے بہتر کردار ادا کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک میں امن کا قیام اور دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ریاست اپنی رٹ برقرار رکھے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبرپختونخوا میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں اور سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں وفاقی حکومت کے اقدامات کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ یہ فیصلے صوبے میں آئینی بالادستی اور امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، وفاقی وزیر کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ وفاق اور صوبائی سطح پر سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، حکومت کا اصرار ہے کہ تمام اقدامات آئین کی حدود میں رہ کر کیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سہیل آفریدی کی حفاظتی تحویل اور دیگر سیاسی رہنماؤں کی روپوشی کے بعد صوبے کی سیاسی فضا میں غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ حالات معمول پر لانے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رہیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%d9%88-%d8%ad%d9%81%d8%a7%d8%b8%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d9%88%db%8c%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%84%db%8c%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سہیل آفریدی افغانستان سے مراد سعید کے زیرِ اثر تھے، فیصل واوڈا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%b1%d8%a7%d8%af-%d8%b3%d8%b9%db%8c%d8%af/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%b1%d8%a7%d8%af-%d8%b3%d8%b9%db%8c%d8%af/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 13:17:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آصف_زرداری]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سہیل_آفریدی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%b1%d8%a7%d8%af-%d8%b3%d8%b9%db%8c%d8%af/</guid>

					<description><![CDATA[سینیٹر فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ سہیل آفریدی افغانستان میں موجود مراد سعید کے ذریعے آپریٹ ہو رہے تھے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر سیاستدان اور سینیٹر فیصل واوڈا نے حال ہی میں ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور مستقبل کے منظرنامے کے حوالے سے کئی اہم انکشافات کیے ہیں۔ ان کی اس گفتگو نے ملکی سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے جس پر مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹر فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی افغانستان سے مراد سعید کے ہاتھوں آپریٹ ہو رہے تھے اور ان کے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ مراد سعید اس وقت افغانستان میں ہی موجود ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاست اس قسم کے تمام عناصر اور ان کے پشت پناہوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو موجودہ حالات آج ملک میں نظر آ رہے ہیں اس کی پیشگوئی انہوں نے آج سے دس ماہ قبل ہی کر دی تھی کہ ملک میں ایمرجنسی اور گورنر راج جیسے اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کے وہ خدشات کس حد تک درست اور حقائق پر مبنی تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ جمہوری نظام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ نظام محض چند سو افراد کے ایلیٹ کیپچر تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اس مخصوص طرزِ جمہوریت سے عام پاکستانی عوام کو اب تک کیا حاصل ہوا ہے اور اب نئے لوگوں کو آگے آنے کا موقع ملنا چاہئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی طرزِ عمل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سیاسی جماعت کے اندر سے تلخ کلامی، گالم گلوچ اور جلاؤ گھیراؤ کی سوچ اب تک ختم نہیں ہو سکی ہے۔ ان کے مطابق سیاست میں اب بقا اور کامیابی کا صرف ایک ہی پیمانہ بچا ہے اور وہ متعلقہ شخص یا جماعت کی عملی کارکردگی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جو بھی سیاسی رہنما یا جماعت اپنی کارکردگی عوام کے سامنے پیش نہیں کر پائے گی اسے اب گھر جانا پڑے گا کیونکہ عوام اب کھوکھلے نعروں سے مزید دھوکہ نہیں کھائیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاست کو اب خدمت اور کارکردگی کے محور پر ہی چلانا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبرپختونخوا کے امور پر بات کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے انکشاف کیا کہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی ان کے پرانے دوست ہیں اور ان سے روزانہ کی بنیاد پر رابطے رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی گزشتہ رات بھی گورنر کے پی کے سے اس حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین کے تحت گورنر خیبرپختونخوا کو ملنے والے وقت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گورنر کے پاس ایک سو اسی دن کا آئینی وقت موجود ہے اور اس دوران ان کی کارکردگی کو مسلسل مانیٹر کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ گورنر کے پاس اپنی ذمہ داریوں میں ناکامی کا اب کوئی آپشن موجود نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصل واوڈا نے کہا کہ اگر مقررہ ایک سو اسی دن کے اندر صوبے کی ایڈوائزری کونسل نے کامیابی حاصل کر لی تو صوبے کے عوام خود باقی تمام سیاسی عناصر کو اٹھا کر باہر پھینک دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گورنر خیبرپختونخوا نے محض چند دنوں میں ایسے کام کر دکھائے ہیں جو شاید اگلے پانچ ماہ میں بھی انجام نہ پاتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملکی نظام میں ہونے والی تبدیلیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب ریاست میں ریبوٹ کا بٹن دبایا جا چکا ہے اور جمہوریت بتدریج اپنے اصل آئینی ٹریک پر واپس لوٹ رہی ہے۔ انہوں نے نعروں کی سیاست کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صرف ٹھوس معاشی پالیسیوں سے ہی غریب عوام کو بااختیار بنایا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف سیاسی شخصیات سے اپنے تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ صدر آصف علی زرداری ان کے لیے انتہائی قابلِ احترام ہیں اور مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ بھی ان کے بہت اچھے مراسم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن ہمیشہ مشکل وقت میں اپنی فوج اور اس کی قربانیوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%b1%d8%a7%d8%af-%d8%b3%d8%b9%db%8c%d8%af/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کی تقرری کیخلاف درخواست نمٹا دی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%db%8c-%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa-%d9%86%db%92-%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%db%8c-%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa-%d9%86%db%92-%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 21:57:32 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئینی_معاملات]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[چیف_جسٹس_امین_الدین_خان]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سہیل_آفریدی]]></category>
		<category><![CDATA[شیر_افضل_مروت]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_فیصلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%db%8c-%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa-%d9%86%db%92-%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے قرار دیا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد درخواست غیر مؤثر ہو چکی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی تقرری کے خلاف دائر کی گئی درخواست کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دیا ہے۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں ہونے والی سماعت کے دوران سنایا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار شیر افضل مروت کی جانب سے سہیل آفریدی کی بطور وزیراعلیٰ تقرری کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔ سماعت کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں اس درخواست پر مزید کارروائی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس امین الدین خان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ اس وقت سہیل آفریدی وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز نہیں ہیں، جس کی وجہ سے یہ معاملہ غیر مؤثر ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماعت کے دوران جسٹس باقر نجفی نے بھی قانونی نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ دو الگ الگ قانونی معاملات ہیں۔ عدالت نے ان پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواست کو نمٹانے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار شیر افضل مروت نے عدالت کے روبرو استدعا کی کہ وہ صوبے میں نافذ گورنر راج اور ایمرجنسی کو بھی چیلنج کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم عدالت نے اس پر واضح قانونی موقف اختیار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس نے شیر افضل مروت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مستقبل میں ایمرجنسی ختم ہوتی ہے اور وزیراعلیٰ کا عہدہ بحال ہوتا ہے تو وہ اس حوالے سے نئی درخواست دائر کرنے کا حق رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی کے دوران سہیل آفریدی کی تقرری کے پس منظر اور سیاسی صورتحال پر بھی مختصر گفتگو ہوئی۔ عدالت نے قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے کیس کو مزید زیر التوا رکھنے سے گریز کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد خیبرپختونخوا میں انتظامی امور کے حوالے سے مختلف قانونی چیلنجز سامنے آئے تھے۔ وفاقی آئینی عدالت نے ان تمام معاملات کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ جاری کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کا یہ فیصلہ صوبائی سیاسی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالت نے آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے درخواست کو نمٹانے کا درست فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سہیل آفریدی کی تقرری کا معاملہ کافی عرصے سے زیر بحث تھا، تاہم اب گورنر راج کے نفاذ کے بعد یہ معاملہ پس منظر میں چلا گیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کسی بھی قسم کی غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شیر افضل مروت کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست میں کئی اہم قانونی نکات اٹھائے گئے تھے۔ عدالت نے سماعت کے دوران تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا اور پھر اپنا حتمی فیصلہ محفوظ کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے جاری کردہ اس فیصلے سے اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ موجودہ ایمرجنسی کے دوران اس مخصوص تقرری پر کوئی قانونی بحث نہیں ہو سکتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے فیصلے میں کسی بھی قسم کی سیاسی بحث سے گریز کرتے ہوئے صرف آئینی اور قانونی نکات پر توجہ مرکوز رکھی۔ یہ فیصلہ عدالتی ریکارڈ کا حصہ بن چکا ہے اور اس کے بعد اب اس معاملے پر مزید کارروائی کی ضرورت نہیں رہی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%db%8c-%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa-%d9%86%db%92-%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دہشت گردی کے خاتمے تک ایمرجنسی جاری رہے گی: رانا ثناء اللہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%85%db%92-%d8%aa%da%a9-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%b1%d8%ac%d9%86%d8%b3%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d8%b1%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%85%db%92-%d8%aa%da%a9-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%b1%d8%ac%d9%86%d8%b3%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d8%b1%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 11:37:15 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_تحریک_انصا_ف]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رانا_ثناء_اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سہیل_آفریدی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%85%db%92-%d8%aa%da%a9-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%b1%d8%ac%d9%86%d8%b3%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d8%b1%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ فیصل واوڈا کی گفتگو سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی دارالحکومت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ملک میں نافذ کی جانے والی ایمرجنسی کا بنیادی اور واحد مقصد دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اپنے اس اہم ترین مقصد کے حصول تک اس اقدام کو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے چاہے اس کے لیے جتنا بھی وقت درکار ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مدت ایک سال ہو یا دو ہزار انتیس تک چلی جائے، حکومت پیچھے نہیں ہٹے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثناء اللہ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب ریاست اپنا یہ بنیادی ہدف حاصل کر لے گی تو پارلیمنٹ کو مکمل اختیار حاصل ہوگا کہ وہ جب چاہے اس ایمرجنسی کو ختم کر دے کیونکہ کوئی بھی انتظامی قدم ہمیشہ کے لیے نافذ نہیں رکھا جا سکتا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ فیصل واوڈا کی طرف سے کی جانے والی گفتگو سے ان کی پارٹی اور حکومت کا کوئی سروکار نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حالات کا پس منظر بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف دہشت گردی کے خلاف قومی موقف کے ساتھ کھڑی ہوتی اور ریاست کا ساتھ دیتی تو اس طرح کے سخت اقدامات اٹھانے کی نوبت ہی نہ آتی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری یہ جنگ دراصل ملک کی بقا اور سلامتی کی جنگ ہے جسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیگ ن کے رہنما کا کہنا تھا کہ اب ملک کو اس روایتی دہشت گردی کا سامنا نہیں ہے جس کا مقابلہ پاکستان پچھلے چالیس سال سے کرتا چلا آ رہا ہے بلکہ اب حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں۔ معرکہ حق میں دشمن نے بخوبی دیکھ لیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف کوئی بھی کھلی عالمی جنگ لڑنے کی سکت نہیں رکھتا۔ اسی مجبوری کے تحت دشمن طاقتوں نے مختلف پراکسیز کے ذریعے ملک کو اندرونی طور پر نقصان پہنچانے کا مذموم ارادہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملکی قیادت کے فیصلوں کا ذکر کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ اسی پس منظر میں پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے ایک پیج پر ہو کر مکمل اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا ہے کہ اب اس ناسور کا پوری قوت کے ساتھ جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کالعدم تنظیمیں اور بعض سیاسی عناصر ریاست مخالف سرگرمیوں بالخصوص بھتہ خوری اور منشیات کے دھندے میں ملوث پائے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو شخص خود پاکستان کے دشمنوں کی پناہ گاہ میں بیٹھا ہوا ہو، اس سے کسی بھی قسم کی خیر یا بہتری کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ انہوں نے ماضی کے سیاسی پس منظر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ دور میں حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے جو ٹیم تشکیل دی گئی تھی وہ انتہائی سینئر اور معاملات کی مکمل فہم و فراست رکھنے والی شخصیات پر مشتمل تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذاکرات کے حوالے سے اندرونی کہانی سناتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ جب حکومتی کمیٹی سہیل آفریدی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بات کرتی تھی تو وہ کسی بھی فیصلے پر پہنچنے سے پہلے پسِ پردہ بیٹھے کسی اور شخص سے ہدایات لینے کے پابند تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس تمام عمل کے پیچھے مراد سعید موجود تھے جو کسی بھی صورت ان مذاکرات کو کامیاب نہیں ہونے دینا چاہتے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیگ ن کے رہنما کے مطابق مراد سعید کے ذہن میں ایک خیالی اور جھوٹا تصور سمایا ہوا تھا کہ وہ اسلام آباد کی طرف مارچ کر کے سب کچھ تہہ و بالا کر دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کے غیر سنجیدہ رویوں کی وجہ سے سیاسی ماحول خراب ہوا اور بات اس نہج تک پہنچی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی معاملات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے یقین دہانی کرائی کہ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے باوجود متعلقہ صوبے کی تعمیر و ترقی کے تمام تر فلاحی کام معمول کے مطابق بلا تعطل جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی سرگرمیوں کو روکا نہیں جائے گا بلکہ حفاظتی اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام کی فلاح و بہبود کا عمل بھی ساتھ ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملکی سلامتی کے حوالے سے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے ملک کے کونے کونے سے امن دشمن عناصر کا صفایا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ کڑے وقت میں پوری قوم کو سیاسی اختلافات سے بالا تر ہو کر ملکی سلامتی کے اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تاکہ پاکستان کو اندرونی و بیرونی خطرات سے مکمل طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثناء اللہ نے اپنی گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ قانون کی حکمرانی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کی بہتری اور پائیدار امن کے قیام کے لیے دہشت گردی کے اس ناسور کا جڑ سے خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے جس کے لیے تمام ادارے متفق ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی سطح پر اٹھائے جانے والے یہ تمام اقدامات کسی جماعت یا فرد واحد کے خلاف نہیں بلکہ ان کا واحد ہدف ملکی مفاد اور عوامی تحفظ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ انتشار پھیلانے والی قوتیں اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی کیونکہ عوام اور ادارے ایک ہی صفحے پر موجود ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گفتگو کے اختتام پر انہوں نے تمام سیاسی قوتوں سے اپیل کی کہ وہ ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر قومی سلامتی کے امور پر یک زبان ہوں تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز سے احسن طریقے سے نبرد آزما ہوا جا سکے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان جلد ہی ان تمام مشکلات سے کامیابی کے ساتھ باہر نکل آئے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%85%db%92-%d8%aa%da%a9-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%b1%d8%ac%d9%86%d8%b3%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d8%b1%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سہیل آفریدی کی نااہلی کی درخواست غیر مؤثر قرار دے کر نمٹا دی گئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a7%d8%a7%db%81%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%af%d8%b1%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%b3%d8%aa-%d8%ba%db%8c%d8%b1/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a7%d8%a7%db%81%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%af%d8%b1%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%b3%d8%aa-%d8%ba%db%8c%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 09:56:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئینی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[امین_الدین_خان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[چیف_جستس]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سہیل_آفریدی]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a7%d8%a7%db%81%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%af%d8%b1%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%b3%d8%aa-%d8%ba%db%8c%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی آئینی عدالت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں وفاقی آئینی عدالت کے روبرو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی نااہلی کے لیے دائر کی گئی ایک اہم درخواست پر سماعت کی گئی۔ اس سلسلے میں عدالت عظمیٰ کے ججوں پر مشتمل دو رکنی بنچ نے اس معاملے کی باقاعدہ سماعت کی اور تمام فریقین کے دلائل سنے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کے معزز سربراہ چیف جسٹس امین الدین خان نے اس دو رکنی بنچ کی قیادت کی جبکہ کارروائی کے دوران دیگر عدلیہ کے ارکان بھی بینچ میں موجود تھے۔ اس قانونی کارروائی میں درخواست گزار کی جانب سے نامور سیاسی شخصیت اور وکیل شیر افضل مروت عدالت میں خود پیش ہوئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب سے سہیل آفریدی کی نمائندگی کرتے ہوئے معروف قانون دان سید علی بخاری نے عدالت میں اپنی حاضری کو یقینی بنایا اور متعلقہ پیش رفت پر عدالتی سوالات کے جوابات دیے۔ سماعت کے دوران عدالت کے روبرو سیاسی صورتحال اور اس سے جڑے مختلف آئینی پہلوؤں پر تفصیلی بحث کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد اصل قانونی نکتہ کو سمجھنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کارروائی کے دوران چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیتے ہوئے واضح کیا کہ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج لگائے جانے کے بعد اب یہ درخواست غیر مؤثر ہو چکی ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ موجودہ سیاسی تبدیلیوں اور پیش رفت کے بعد اس پر مزید کارروائی کیسے جاری رکھی جا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کا مؤقف تھا کہ چونکہ اس وقت متعلقہ شخصیت کے پاس وزیراعلیٰ کا منصب ہی باقی نہیں رہا اس لیے اس نوعیت کے کیس پر مزید سماعت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ معزز چیف جسٹس نے اس بات پر زور دیا کہ بدلتے ہوئے حالات کی وجہ سے اصل موضوع اب ختم ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار شیر افضل مروت نے عدالت میں اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ اور گورنر راج دراصل بالکل الگ اور متفرق معاملات ہیں۔ انہوں نے عدالت کے روبرو استدعا کی کہ ان الگ نوعیت کے معاملات کو بھی اس مقدمے کے ساتھ چیلنج کیا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شیر افضل مروت نے عدالت سے یہ استدعا بھی کی کہ اس کیس کی سماعت میں کچھ تاخیر یا مختصر التوا دیا جائے تاکہ وہ اپنے دلائل کو مزید بہتر انداز میں تیار کر سکیں۔ اس موقع پر بینچ میں شامل دوسرے معزز رکن جسٹس باقر نجفی نے بھی اس قانونی نکتہ پر اپنے ریمارکس دیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جسٹس باقر نجفی نے نشاندہی کی کہ ایمرجنسی اور گورنر راج بلاشبہ الگ مسائل ہیں لیکن اس وقت متعلقہ وزیراعلیٰ کے خلاف دائر کیا گیا کیس زیرِ بحث موجودہ معاملہ نہیں رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقدمے کی بنیاد بدل جانے کی وجہ سے اب سابقہ پوزیشن برقرار نہیں رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے دونوں اطراف کے دلائل سننے کے بعد اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر آنے والے وقت میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے احکامات ختم ہو جاتے ہیں۔ ایسی کسی بھی صورت میں اگر متعلقہ شخصیت اپنے منصب پر بحال ہوتی ہے تو درخواست کی بحالی کی اجازت ہو گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس ممکنہ صورتحال میں درخواست گزار کے پاس یہ حق محفوظ ہو گا کہ وہ عدالت میں ایک متفرق درخواست دائر کر کے اس معاملے کو دوبارہ اٹھا سکے۔ اس قانونی رستے کی موجودگی کے بعد عدالت نے مزید کارروائی سے گریز کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر کار وفاقی آئینی عدالت نے شیر افضل مروت کی جانب سے دائر کردہ اس نااہلی کی درخواست کو غیر مؤثر قرار دیے جانے کی بنیاد پر نمٹا دیا۔ عدالت کا یہ فیصلہ اس اہم آئینی تنازعے کے پس منظر میں ایک نیا موڑ لے کر آیا ہے جس پر سیاسی حلقوں کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ امر قابل ذکر ہے کہ ملک کے سیاسی اور آئینی منظر نامے میں حالیہ مہینوں کے دوران کئی بڑے نشیب و فراہم دیکھنے میں آئے ہیں۔ مختلف عدالتوں میں اس نوعیت کے متعدد مقدمات زیرِ سماعت رہے ہیں جن میں آئینی اور قانونی تشریح طلب کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ قانون کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے مقدمات ملک کے سیاسی مستقبل اور آئینی اداروں کے درمیان تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ عدالتوں کی طرف سے آنے والے ایسے فیصلے آئینی تاریخ میں ایک اہم حوالہ بن جاتے ہیں جن سے مستقبل کے مقدمات میں رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a7%d8%a7%db%81%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%af%d8%b1%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%b3%d8%aa-%d8%ba%db%8c%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پی ٹی آئی سے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، رانا ثنا اللہ کا غیر مشروط بات چیت پر زور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%b0%d8%a7%da%a9%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%b2%db%92-%da%a9%da%be%d9%84%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%b0%d8%a7%da%a9%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%b2%db%92-%da%a9%da%be%d9%84%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 20:57:21 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رانا_ثنا_اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سہیل_آفریدی]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_مذاکرات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%b0%d8%a7%da%a9%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%b2%db%92-%da%a9%da%be%d9%84%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور مذاکرات کے لیے شرائط قبول نہیں کی جائیں گی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم یہ بات چیت غیر مشروط ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی شرائط کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سیاسی عمل میں بات چیت کا راستہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے، لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کے لیے رکھی جانے والی شرائط حکومت کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو واپس لینے کا مطالبہ یا گورنر راج کے خاتمے جیسی شرائط مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ حکومت ان مطالبات کو تسلیم کیے بغیر ہی بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 وفاق کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ صوبائی حکومت کے امور میں مداخلت کر سکے تاکہ نظم و نسق برقرار رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثنا اللہ نے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے بارہا کہا گیا، لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے پر حکومت کو سخت اقدامات کرنا پڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت کی جانب سے ملک میں دہشت گردی کو ہوا دی جا رہی ہے اور اس صورتحال میں صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی نے وفاق کو مشکل فیصلوں پر مجبور کیا۔ حکومت اب صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دے رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف درج مقدمات میں انہیں قانون کا سامنا کرنا چاہیے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ انہیں اپنی ضمانت کروانی چاہیے اور عدالتوں میں پیش ہو کر قانونی تقاضے پورے کرنے چاہئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سہیل آفریدی کی گرفتاری اور ان کی کابینہ کے ارکان کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ قانون اپنا راستہ خود بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد کسی کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کی نئی جیل میں بانی پی ٹی آئی اور دیگر متعلقہ افراد کو ایک ساتھ رکھنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جیل کے قواعد و ضوابط کے مطابق قیدیوں کو الگ الگ رکھا جاتا ہے تاکہ سیکیورٹی برقرار رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر فی الحال کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ اکتوبر کے مہینے میں اس موضوع پر کسی قسم کی بحث یا قانون سازی کا امکان نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ملکی مفاد کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیں۔ پاکستان اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے اور ایسے میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%b0%d8%a7%da%a9%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%b2%db%92-%da%a9%da%be%d9%84%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مراد سعید افغانستان سے خیبر پختونخوا حکومت چلا رہے ہیں: رانا ثنا اللہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%85%d8%b1%d8%a7%d8%af-%d8%b3%d8%b9%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b3%db%92-%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%85%d8%b1%d8%a7%d8%af-%d8%b3%d8%b9%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b3%db%92-%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 15:36:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پی_تی_آي_مذاکرات]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رانا_ثنا_اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سہیل_آفریدی]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[علی_امین_گنڈا_پور]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%85%d8%b1%d8%a7%d8%af-%d8%b3%d8%b9%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b3%db%92-%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d8%ad/</guid>

					<description><![CDATA[وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ مراد سعید افغانستان میں موجود ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے ایک اہم بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید اس وقت افغانستان میں مقیم ہیں اور وہیں سے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے انتظامی اور سیاسی معاملات میں پشت پر بیٹھ کر فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے حکومت کی عملداری متاثر ہو رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثنا اللہ نے مزید انکشاف کیا کہ صوبے میں موجودہ سیاسی سیٹ اپ کے پیچھے مخصوص شخصیات کا ہاتھ ہے اور سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ کے عہدے تک پہنچانے میں بھی مراد سعید کا بنیادی کردار رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان شاید سہیل آفریدی کو ذاتی طور پر جانتے بھی نہیں ہوں گے لیکن یہ تقرری سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت عمل میں لائی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی طرف سے مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مشیر سیاسی امور نے کہا کہ تمام قومی معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی نیت سے سیاسی فریقین کو ان کے تمام مطالبات کے مطابق پیشکشیں کی گئی تھیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مذاکرات کی کامیابی میں ناکامی کی بنیادی وجہ یہی عناصر ہیں جو مفاہمت اور سیاسی تدبر پر یقین نہیں رکھتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے موجودہ سیاسی منظرنامے میں علی امین گنڈا پور کو عملاً پس منظر میں دھکیل دیا گیا ہے اور انہیں کوئی مؤثر ذمہ داری نہیں دی جا رہی۔ صوبے کے اندر قائم کیا گیا موجودہ ڈھانچہ کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ترتیب دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی حلقوں کی جانب سے مسلسل یہ مؤقف اپنایا جا رہا ہے کہ صوبائی حکومت کو عوامی فلاح و بہبود کے بجائے ذاتی و سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب سے بھی ان بیانات کے جواب میں سخت ردعمل کا اظہار متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان تحریک انصاف اور صوبائی حکومت کی طرف سے فی الحال اس بیان پر کوئی تفصیلی جوابی ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم سیاسی ماحول بدستور گرم ہے۔ آئندہ دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی گرما گرمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ سیاسی حالات اس بات کے غماز ہیں کہ وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان کشیدگی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اس وقت اس نوعیت کی ہے جہاں ہر اہم معاملے پر سیاسی جماعتیں آمنے سامنے ہیں۔ مذاکرات کے دروازے بظاہر بند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اور محاذ آرائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام اور مبصرین کی نظریں صوبے کے سیاسی مستقبل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مرکوز ہیں کہ اس تنازع کا انجام کیا ہوتا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ صوبے میں انتظامی امور بہتر ہوں جبکہ پی ٹی آئی اپنی حکمت عملی پر قائم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی مشیر برائے سیاسی امور کے ان تازہ بیانات نے ملکی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل مچا دی ہے اور سیاسی پنڈت اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملکی سیاسی استحکام کے لیے تمام فریقین کو سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح کے تنازعات کا پائیدار حل نکالا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%85%d8%b1%d8%a7%d8%af-%d8%b3%d8%b9%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b3%db%92-%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
