<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سپریم_کورٹ_پاکستان &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b3%d9%be%d8%b1%db%8c%d9%85_%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9_%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:32:14 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>سپریم_کورٹ_پاکستان &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>انسانی ذہن کا کیمرے کی طرح کام کرنا ناممکن ہے: سپریم کورٹ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/1523/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/1523/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 22:58:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_اشتیاق_إبراہیم]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_فیصلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمر_قید]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b0%db%81%d9%86-%da%a9%d8%a7-%da%a9%db%8c%d9%85%d8%b1%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d8%b1%d8%ad-%da%a9%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%b1%d9%86%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[سپریم کورٹ نے قتل کے ایک مقدمے میں عینی شاہدین کے بیانات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے عمر قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کی عدالت عظمیٰ نے فوجداری مقدمات میں عینی شاہدین کی گواه اور انسانی نفسیات کے حوالے سے ایک اہم اور جامع تحریری فیصلہ جاری کیا ہے جس میں قانونی تقاضوں کو واضح کیا گیا ہے۔ اس فیصلے میں عدالت نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ اچانک پیش آنے والے پرتشدد اور ہنگامہ خیز واقعات کے دوران گواہوں سے غیر معمولی اور روبوٹک کارکردگی کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر قرار دیا ہے کہ کسی بھی عینی شاہد کے لیے یہ بالکل ناممکن امر ہے کہ وہ فضا میں انتہائی تیزی سے سفر کرنے والی گولی کی حرکت کا تعاقب کرے اور یقین کے ساتھ عدالت کو بتا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ گولی مقتول کے جسم کے کس مخصوص مقام پر لگی، اس کی ٹھیک اور حتمی نشاندہی کرنا ایک عام انسان کے لیے ممکن نہیں ہوتا کیونکہ ایسا مطالبہ زمینی حقائق کے منافی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس مقدمے کی مثال دیتے ہوئے لکھا کہ ایک غمزدہ بیٹا جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی والدہ کو قتل ہوتے دیکھا ہو، اس سے یہ امید نہیں لگائی جا سکتی کہ وہ پولیس کو اطلاع دینے سے قبل جائے وقوعہ پر کھڑا ہو کر معائنہ کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایسے المناک اور صدمے کے شکار شخص کا بنیادی مقصد مجرم کو پکڑانا یا فوری مدد حاصل کرنا ہوتا ہے نہ کہ لاش یا زخمی کے جسم کا تفصیلی طبی معائنہ کرنا تاکہ عدالت میں ایک ایک گولی کا حساب کتاب پیش کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحریری فیصلے میں اس قانونی نکتہ کو بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ فوجداری قانون کے تحت کسی بھی انسان کے فطری رویے اور ردعمل کو کسی ایک مقررہ یا سخت فارمولے میں محدود نہیں کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کا ماننا ہے کہ ہر واقعے پر مختلف افراد کا ردعمل مختلف ہوتا ہے اور قانون تمام گواہوں سے ایک جیسے یا مشینی رویے کی توقع نہیں رکھتا، بلکہ حالات کے تناظر میں گواہی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کے پس منظر کے مطابق ملزم اظہر اور اس کے ایک شریک ملزم پر ایک خاتون کو قتل کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا تھا جس پر ماتحت عدالت نے کارروائی کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹرائل کورٹ نے اس قتل کیس کی سماعت مکمل کرنے کے بعد مرکزی ملزم اظہر کو سزائے موت کی سزا سنائی تھی جبکہ نامزد شریک ملزم کو اس مقدمے سے بری کر دیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بعد ازاں اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی جہاں عدالت نے تمام قانونی پہلوؤں، عینی شاہدین کے بیانات اور شواہد کا از سر نو باریک بینی سے جائزہ لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت عظمیٰ نے مرکزی ملزم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے بعد اپیل خارج کر دی اور ماتحت عدالت کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے ملزم کی سزا کو برقرار رکھا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ فیصلہ پاکستان کے عدالتی نظام اور فوجداری مقدمات میں شہادتوں کی جانچ پڑتال کے حوالے سے ایک اہم نظیر کی حیثیت رکھتا ہے جو مستقبل میں دیگر مقدمات میں بھی رہنمائی فراہم کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ موقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انصاف کی فراہمی کے دوران زمینی حقائق، انسانی نفسیات اور صدمے کے اثرات کو ہمیشہ مدنظر رکھا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس فیصلے سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ عدالتیں گواہوں کے معمولی اور فطری تضادات کو نظر انداز کرتی ہیں اگر بنیادی واقعہ معتبر گواہوں اور مضبوط شواہد کے ذریعے ثابت ہو جائے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/1523/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>190 ملین پاؤنڈ کیس: بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست مسترد</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/619/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/619/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 10:17:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[190_ملین_پاؤنڈ_کیس]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[بشری_بی_بی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_تحریک_ইনصاف]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_باقر_نجفی]]></category>
		<category><![CDATA[چیف_جسٹس_امین_الدین_خان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سزا_معطلی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/190-%d9%85%d9%84%db%8c%d9%86-%d9%be%d8%a7%d8%a4%d9%86%da%88-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%a8%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%b0-%d8%a8%db%8c-%d8%a8%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b3%d8%b2%d8%a7-%d9%85%d8%b9%d8%b7%d9%84%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی آئینی عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل میں بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی آئینی عدالت نے ملک کے ایک انتہائی اہم اور زیر بحث مقدمے میں ایک سو نوے ملین پاؤنڈ سکینڈل سے جڑے ایک معاملے پر اہم ترین فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے اس قانونی کارروائی کے دوران بشریٰ بی بی کی جانب سے دائر کی جانے والی سزا معطلی کی درخواست کو سرے سے ناقابلِ سماعت قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس قانونی چارہ جوئی کی سماعت کے لیے عدالتِ عظمیٰ کا ایک دو رکنی خصوصی بینچ تشکیل دیا گیا تھا جس نے فریقین کے دلائل کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس معزز بینچ کی قیادت وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے خود کی جبکہ ان کے ہمراہ بینچ میں دوسرے جج بھی شامل تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کی اس باضابطہ سماعت کا آغاز اسلام آباد میں ہوا جہاں تمام متعلقہ فریقین کے نامور قانونی نمائندے کمرہ عدالت میں پیش ہوئے۔ دفاعی وکلاء نے عدالت کے روبرو اپنے دلائل پیش کرنے کے لیے بھرپور تیاری کی ہوئی تھی اور وہ اپنے مؤقف کے حق میں دلائل دے رہے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بشریٰ بی بی کی جانب سے پیش ہونے والے معروف وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں اپنے دلائل کا آغاز کیا اور کیس کے مختلف قانونی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ ان کے ساتھ دوسرے سینئر وکیل سلمان اکرم راجہ بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے جو اس موقع پر قانونی ٹیم کا حصہ تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل صفدر نے عدالت کے روبرو اپنا موقف اختیار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ملکی عدالتوں کی روایات رہی ہیں کہ خواتین کے مقدمات میں ہمیشہ نرم گوشہ رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس بنیاد پر بھی سزا کے معاملے میں عدالت کی طرف سے نرمی کا رویہ اپنایا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے دلائل کو آگے بڑھاتے ہوئے دفاعی وکیل نے نیب کے مجموعی کردار پر بھی سخت سوالات اٹھائے اور تیرہ ماہ کے عرصے پر اعتراض ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طویل دورانئیے میں قومی احتساب بیورو کا کنڈکٹ انتہائی قابل اعتراض رہا ہے اور ادارے نے طریقہ کار کے دوران مسائل پیدا کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کو مزید بتایا گیا کہ نیب کی طرف سے تفتیشی اور عدالتی کارروائی کے دوران متعدد سماعتوں پر جان بوجھ کر التوا حاصل کیے گئے۔ وکیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب نیب کی باری آئی تو انہوں نے سزا معطلی کی اس باقاعدہ درخواست پر بھی بھرپور انداز میں اعتراضات دائر کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دفاعی ٹیم نے عدالت کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ ٹرائل کورٹ کی طرف سے سزا سنائے جانے کے بعد اب قانون کے تحت ضمانت کا مکمل جواز بن چکا ہے۔ وکیل کا مؤقف تھا کہ چونکہ درخواست گزار ایک خاتون ہیں لہذا قانون کے ان تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سزا کو معطل کیا جانا چاہیے تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کو یہ نکتہ بھی سمجھایا گیا کہ اس پورے عرصے کے دوران زیادہ تر توجہ اور فوکس بانی پی ٹی آئی کی مرکزی اپیل پر ہی مرکوز رہا ہے۔ دفاعی وکلاء کا کہنا تھا کہ ان تمام وجوہات کی بنا پر سزا معطلی کی اس درخواست کو میرٹ پر سن کر اس پر مثبت فیصلہ دیا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کارروائی کے دوران چیف جسٹس امین الدین خان نے دلائل پر ریمارکس دیتے ہوئے وکیل کو ہدایت کی کہ اس ابتدائی مرحلے پر مقدمے کے اصل میرٹ پر جانے سے گریز کیا جائے۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ اس وقت عدالت کے روبرو صرف سزا معطلی کی حد تک کا محدود کیس زیرِ غور ہے جس پر بات کی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بینچ کے معزز رکن جسٹس باقر نجفی نے بھی اس موقع پر استفسار کیا کہ اس مقدمے کی مرکزی اپیل باقاعدہ سماعت کے لیے اب تک کتنی مرتبہ عدالت کے سامنے پیش کی جا چکی ہے۔ عدالت نے ان تمام قانونی نکتوں کا بغور جائزہ لیا جو دونوں اطراف کے فریقین کی جانب سے اٹھائے گئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے فریقین کے تمام ابتدائی دلائل کو سننے کے بعد اس کیس کی مزید زبانی سماعت کو باضابطہ طور پر مکمل کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے بیرسٹر سلمان صفدر کو ہدایت کی کہ وہ اپنے تمام زبانی دلائل کے اہم نکات تحریری شکل میں عدالت میں جمع کروائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس معاملے پر اپنا فیصلہ کچھ دیر کے لیے محفوظ کر لیا تھا جو بعد میں باضابطہ طور پر اوپن کورٹ میں سنا دیا گیا۔ وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے سنایا گیا یہ فیصلہ ملکی قانونی حلقوں میں ایک بڑی خبر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اس پر تبصرے جاری ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/619/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
