<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سپریم_کورٹ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b3%d9%be%d8%b1%db%8c%d9%85_%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Tue, 03 Nov 2026 06:15:03 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>سپریم_کورٹ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>سپریم کورٹ نے بیوی پر تشدد کے ملزم آئی بی ملازم کی اپیل خارج کر دی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/4805/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/4805/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 03 Nov 2026 06:15:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_سپریم_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[انٹیلی_جنس_بیورو]]></category>
		<category><![CDATA[بیوی_پر_تشدد]]></category>
		<category><![CDATA[جبری_ریٹائرمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_شاہد_وحید]]></category>
		<category><![CDATA[جواد_عباسی]]></category>
		<category><![CDATA[خواتین_کا_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_فیصلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[محکمانہ_احتساب]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/courts/4805/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت عظمیٰ نے قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازم کی نجی زندگی کا کردار بھی محکمانہ احتساب کے دائرے میں آتا ہے اور خواتین پر تشدد نجی معاملہ نہیں ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سپریم کورٹ آف پاکستان نے انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے ایک ملازم کی جانب سے جبری ریٹائرمنٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل کو خارج کر دیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ ادارے کی جانب سے دی گئی جبری ریٹائرمنٹ کی سزا کو قانون کے مطابق درست قرار دیتے ہوئے برقرار رکھا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سپریم کورٹ کے جج جسٹس شاہد وحید نے اس کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے۔ فیصلے میں اہم قانونی نکات کی وضاحت کرتے ہوئے قرار دیا گیا ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم کی نجی زندگی کا کردار بھی محکمانہ احتساب کے دائرے میں آ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت عظمیٰ نے اپنے تحریری فیصلے میں واضح کیا ہے کہ فوجداری مقدمے میں بریت محکمانہ کارروائی اور سزا سے بریت کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ اگر کسی ملازم کے خلاف محکمانہ انکوائری میں جرم ثابت ہو جائے تو اس پر نظم و ضبط کے قوانین کا اطلاق ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں زور دیا کہ گھر کی چار دیواری کے اندر خواتین پر تشدد کو کسی بھی طور پر نجی معاملہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ریاست اور قانون کی نظر میں خواتین کی عزت اور وقار کا تحفظ ایک بنیادی آئینی ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ماں، بیٹی، بہن یا بیوی کی حیثیت سے عورت کا ہر رشتہ قابلِ احترام ہے۔ لہٰذا کسی بھی عورت پر گھریلو تشدد کو نجی یا ذاتی معاملہ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلے میں مزید کہا گیا کہ جو سرکاری ملازم خواتین پر تشدد کا مرتکب ہوتا ہے، وہ نہ صرف عوامی اعتماد کو مجروح کرتا ہے بلکہ اس سے اس سرکاری ادارے کی ساکھ بھی شدید متاثر ہوتی ہے جس میں وہ کام کر رہا ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ایک سرکاری ملازم کا کردار صرف اس کے دفتری فرائض کی انجام دہی تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کی نجی زندگی کا سلوک بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے۔ دفتر سے باہر کیا گیا کوئی بھی جرم ملازم کی سرکاری ملازمت اور اہلیت پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کیس کے پس منظر کے مطابق اپیل کنندہ جواد عباسی انٹیلی جنس بیورو میں بطور باورچی ملازمت کر رہا تھا۔ اس کے خلاف اپنی ہی اہلیہ کو تشدد کا نشانہ بنانے اور زندہ جلانے کی کوشش پر محکمانہ کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی ریکارڈ اور انکوائری رپورٹ کے مطابق ملزم نے سال 2022ء میں اپنی بیوی پر تشدد کے دوران اسے آگ لگائی اور اسے جان سے مارنے کی کوشش کی تھی۔ اس واقعے کے بعد ادارے نے اس کے خلاف باقاعدہ تحقیقات شروع کی تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی بی کی جانب سے قائم کی گئی محکمانہ انکوائری کے دوران کل 13 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے تھے۔ ان بیانات اور ثبوتوں کی روشنی میں انکوائری کمیٹی نے ملزم کو قصوروار قرار دیتے ہوئے جبری ریٹائرمنٹ کی سزا تجویز کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزم جواد عباسی نے اس محکمانہ سزا کے خلاف اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ فوجداری کیس میں کارروائی کی بنا پر اسے نوکری سے ریٹائر نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم سپریم کورٹ نے ان کے تمام دلائل کو رد کرتے ہوئے محکمانہ فیصلے کو بحال رکھا اور واضح کر دیا کہ خواتین کے خلاف تشدد جیسے سنگین اقدامات پر سرکاری ملازمین کو استثنیٰ حاصل نہیں ہو سکتا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/4805/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایمان مزاری اور ہادی علی کی اسلام آباد ہائیکورٹ حکمنامے کیخلاف اپیل</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/2450/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/2450/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 10:17:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_ہائیکورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایمان_مزاری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_انعام_امین_منہاس]]></category>
		<category><![CDATA[جیل_ٹرائل]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریاست_علی_آزاد]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86-%d9%85%d8%b2%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%b9%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[ایمان مزاری اور ہادی علی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 19 اکتوبر کے حکمنامے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں سڑکوں سے رکاوٹیں ہٹانے اور اس سے متعلقہ قانونی امور کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں معروف وکیل کے توسط سے اعلیٰ ترین عدالت میں قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے، اور اس سلسلے میں باضابطہ طور پر اپیل دائر کر دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذکورہ اپیل نامور قانون دان ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کی و توسط سے دائر کی گئی ہے جس میں عدالت عظمیٰ سے ہائیکورٹ کے متنازع احکامات کے خلاف فوری اور مناسب قانونی اقدامات اٹھانے کی استدعا کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزاروں کی جانب سے دائر کی جانے والی اپیل میں بنیادی طور پر یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے انیس اکتوبر کے اپنے جاری کردہ حکمنامے میں ٹرائل کے خلاف کسی قسم کا عبوری ریلیف فراہم نہیں کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپیل کے متن کے مطابق اس کیس میں عدالت کی جانب سے جرح کا مناسب موقع فراہم کیے بغیر ہی استغاثہ کے دو گواہان کے بیانات ریکارڈ کر لیے گئے تھے جو ضابطے کی کارروائی کے برعکس ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس قانونی چارہ جوئی میں سپریم کورٹ سے باضابطہ استدعا کی گئی ہے کہ وہ ہائیکورٹ کے انیس اکتوبر کے حکمنامے کو کالعدم قرار دے اور ٹرائل کورٹ کو اس ضمن میں مزید کارروائی سے فوری طور پر روک دے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی اسی نوعیت کے ایک اور کیس کی سماعت عمل میں آئی ہے جس میں بیرئیر ہٹانے کے خلاف درخواست پر کارروائی کی گئی اور مختلف قانونی نکات پر بحث ہوئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہائیکورٹ میں ہونے والی اس اہم سماعت کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے جیل ٹرائل اور اسٹیٹ کونسل کی تعیناتی کے خلاف دائر درخواستوں پر عدالت کے جج صاحبان نے کارروائی کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس شاہ رخ ارجمند نے اس کیس کی سماعت کی جبکہ اس موقع پر ملزمان کی قانونی نمائندگی کے لیے ریاست علی آزاد اور زینب جنجوعہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کے روبرو پیش ہونے والے وکلاء نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے جیل ٹرائل کے فیصلے کو باضابطہ طور پر عدالت کے سامنے چیلنج کر رکھا ہے جس پر تفصیلی غور کیا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل صفائی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کسی بھی ملزم کے خلاف جیل ٹرائل کا حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے قانون کے مطابق اس کا مؤقف سننا اور اسے اعتماد میں لینا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل نے اپنے دلائل کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ان کا جیل ٹرائل ایک مخصوص پنجرے کی مانند ماحول میں کیا جا رہا ہے اور انہیں روزانہ کی بنیاد پر جیل سے عدالت کے احاطے میں لایا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوران سماعت جسٹس انعام امین منہاس نے اس معاملے پر استفسار کیا کہ اس پورے قانونی تنازع میں اصل ای شو کیا ہے اور اس کا اختیار کس کے پاس ہے، کیا کوئی ملزم خود یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کا ٹرائل کہاں ہونا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پر وکیل نے جواب دیا کہ ملزم کو یہ حق حاصل ہے کہ اس نوعیت کے اہم فیصلے سے قبل اسے سنا جائے لیکن اس معاملے میں متعلقہ فریقین کو سنے بغیر ہی یکطرفہ نوعیت کے اقدامات اٹھا لیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل ریاست علی آزاد نے عدالت کو مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ جیل ٹرائل سے متعلق یہ سمری اسلام آباد پولیس کے ایک ایس پی کی جانب سے شروع کی گئی تھی اور اس کی حتمی منظوری چیف کمشنر نے دی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل نے عدالت کے روبرو یہ مؤقف بھی اپنایا کہ پولیس کے ایس پی کے پاس اس نوعیت کی سمری شروع کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں تھا کیونکہ یہ اختیار دراصل وفاقی حکومت کے پاس ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جسٹس انعام امین منہاس نے اس نکتہ پر مزید استفسار کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا جیل سے متعلقہ کوئی بھی سمری منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں جائے گی اور قانون کے تحت اوپن کورٹ کا اصل تصور کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل نے عدالت کو جواب دیا کہ اس پورے عمل میں انہیں باضابطہ طور پر سنا نہیں گیا جبکہ قانونی تقاضوں کے مطابق ان کا مؤقف سننا ناگزیر اور انتہائی ضروری تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس کیس کی سماعت کے دوران فریقین کے دلائل غور سے سنے اور اس قانونی تنازع کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی جبکہ اس حوالے سے مزید کارروائی آئندہ کی تاریخوں تک جاری رکھی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/2450/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سپریم کورٹ: قتل کیس کے ملزم کی قبل از وقت رہائی قانون کے خلاف قرار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/2118/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/2118/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 10:37:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[جیل]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رہائی]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d9%be%d8%b1%db%8c%d9%85-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%82%d8%aa%d9%84-%da%a9%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%84%d8%b2%d9%85-%da%a9%db%8c-%d9%82%d8%a8%d9%84-%d8%a7%d8%b2/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے ملزم کو دوبارہ حراست میں لے کر جیل منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک قتل کے مقدمے میں نامزد مجرم کی قبل از وقت رہائی اور معافی کے متنازع معاملے پر اپنا اہم مختصر فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے تین رکنی معزز بنچ نے اس کیس کی سماعت کے بعد فریقین کے دلائل کا جائزہ لیا اور قانونی نکات پر روشنی ڈالی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس اہم قانونی چارہ جوئی کے دوران اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اپیل کنندہ مجرم کی جیل سے قبل از وقت رہائی قطعي طور پر ملکی قوانین کے منافی اور خلاف قانون تھی۔ اس فیصلے کے بعد عدالتی احکامات کی روشنی میں فوری طور پر عملدرآمد کو یقینی بنایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلے کے جاری ہوتے ہی متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس نے فوری حرکت میں آتے ہوئے اس مجرم کو دوبارہ اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ پولیس حکام نے ملزم کو دوبارہ حراست میں لینے کے بعد اسے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے فوری طور پر جیل منتقل کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کی طرف سے جاری کردہ تحریری حکم نامے میں اس بات کی سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ اپیل کنندہ کو فوراً تحویل میں لیا جائے اور اسے قانون اور ضابطے کے مطابق اپنی باقی ماندہ سزا پوری کرنے کے لیے متعلقہ جیل بھیج دیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کیس کے دوران عدالت کی جانب سے جب اس اہم مقدمے کے مصدقہ ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تو متعدد حیران کن انکشافات سامنے آئے۔ ریکارڈ سے یہ بات عیاں ہوئی کہ اپیل کنندہ مجرم کو مخصوص قوانین کے تحت معافی دی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریکارڈ کے جائزے کے مطابق اس مجرم کو خیبر پختونخوا پریزن رولز دو ہزار اٹھارہ کے تحت سزا میں معافی دینے کے بعد جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ تاہم عدالت نے اس بات کا سخت نوٹس لیا کہ یہ پوری کارروائی قانونی دائرہ کار کے اندر نہیں کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے جائزے میں یہ اہم نکتہ اٹھایا کہ مجرم کو دی جانے والی مذکورہ معافی اور اس کی بنیاد پر عمل میں آنے والی رہائی پرزن ایکٹ اٹھارہ سو چورانوے کے روح اور اصولوں کے قطعی مطابق نہیں تھی۔ قانون کے پرانے اور مستحکم اصولوں کے تحت اس طرح کی معافی کی کوئی گنجائش موجود نہیں تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی کے دوران محکمہ داخلہ کے ذمہ دار حکام بھی پیش ہوئے اور اس پورے معاملے پر وضاحت پیش کی۔ حکم نامے کے متن میں اس بات کا واضح طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ ڈپٹی سیکرٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ نے عدالت کے روبرو اس امر کا صریح اعتراف کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈپٹی سیکرٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ نے نہ صرف زبانی طور پر اس بے ضابطگی کا اعتراف کیا بلکہ اس تمام تنازع اور معافی کے عمل سے متعلق ایک تحریری رپورٹ بھی عدالت میں جمع کروائی۔ اس تحریری رپورٹ نے عدالتی کارروائی کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے ان تمام ناقابل تردید حقائق، دستاویزات اور مصدقہ شواہد کی روشنی میں یہ حتمی نتیجہ اخذ کیا کہ اپیل کنندہ مجرم کی یہ قبل از وقت رہائی موجودہ مروجہ قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ قانون کی بالادستی کو برقرار رکھتے ہوئے عدالت نے اس اقدام کو مسترد کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے اس مختصر حکم نامے میں معزز عدالت نے یہ بھی طے کیا ہے کہ اس اہم اپیل کو باقاعدہ سماعت کے لیے اب میرٹ پر سنا جائے گا۔ اس مقصد کے تحت عدالت نے حکم دیا ہے کہ اس مقدمے کو مقررہ وقت پر دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی حکم کے مطابق اس اپیل کو اب سے ٹھیک دس دن کے بعد اسلام آباد میں واقع عدالت کے اصل پرنسپل سیٹ پر دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے جہاں تمام فریقین اپنے دلائل پیش کریں گے۔ اس دوران ملزم اپنی باقی ماندہ سزا کاٹنے کے لیے سلاخوں کے پیچھے رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت عظمیٰ کے اس دوٹوک فیصلے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کی غیر قانونی رہائی یا سزاؤں میں من مانی معافیوں کو کڑی جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ قانونی اور عدالتی حلقوں میں اس فیصلے کو قانون کی حکمرانی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/2118/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سپریم کورٹ بار انتخابات: 29 اکتوبر کو ووٹنگ کا انعقاد کیا جائے گا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/1964/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/1964/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 09:36:31 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[احسن_بھون]]></category>
		<category><![CDATA[امجد_شاہ]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_بار_کونسل]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ_بار]]></category>
		<category><![CDATA[سردار_امان_الله_خان]]></category>
		<category><![CDATA[عاصمہ_جہانگیر_لائرز_فورم]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d9%be%d8%b1%db%8c%d9%85-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%ae%d8%a7%d8%a8%d8%a7%d8%aa-29-%d8%a7%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8%d8%b1-%da%a9%d9%88/</guid>

					<description><![CDATA[سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کے لیے تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہو گئی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملک کی سب سے بڑی قانونی نمائندہ تنظیم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کی تاریخ قریب آتے ہی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ ان انتخابات کا انعقاد آئندہ ہفتے کی 29 تاریخ کو مقرر کیا گیا ہے جس میں ملک بھر سے قانونی برادری اپنے پسندیدہ نمائندوں کا انتخاب کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابات کے شیڈول کے مطابق پولنگ کا عمل صبح ساڑھے آٹھ بجے شروع ہوگا جو بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہے گا۔ اس اہم انتخابی معرکے میں ملک بھر سے ہزاروں وکلا اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے اور امیدواروں کی کامیابی کے لیے جوڑ توڑ کا سلسلہ بھی تیز ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سپریم کورٹ بار کی صدارت کے عہدے کے لیے اس بار دو سرکردہ امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ صدارتی نشست کے لیے امجد شاہ اور سردار امان اللہ خان آمنے سامنے ہیں جو وکلا برادری میں خاصے اثر و رسوخ کے حامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابی دوڑ میں شامل امجد شاہ انڈیپنڈنٹ گروپ کی نمائندگی کر رہے ہیں جبکہ ان کے مد مقابل سردار امان اللہ خان پروفیشنل گروپ کے امیدوار کے طور پر میدان میں اترے ہیں۔ دونوں امیدواروں اور ان کے حامیوں کی جانب سے انتخابی مہم زور و شور سے جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابات کے حوالے سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس مرتبہ ملک بھر سے کل چار ہزار چھ سو تیس وکلا ووٹ ڈالنے کے اہل قرار دیے گئے ہیں۔ یہ تمام ووٹرز سپریم کورٹ بار کے آئندہ سال کے لیے قیادت کا انتخاب کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے تعلق رکھنے والے وکلا کی بڑی تعداد بھی اس عمل کا حصہ ہوگی۔ لاہور میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد ایک ہزار چار سو اٹھا نو ہے جو انتخابی نتائج پر گہرے اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابی سرگرمیوں کے سلسلے میں لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں انڈیپنڈنٹ گروپ کے امیدواروں کے اعزاز میں ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اس تقریب کا انعقاد عاصمہ جہانگیر لائرز فورم کی جانب سے کیا گیا جس میں وکلا کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب میں سپریم کورٹ بار کے سابق صدر احسن بھون نے خصوصی طور پر شرکت کی اور شرکاء سے خطاب کیا۔ اس موقع پر صدارتی امیدوار امجد شاہ اور سیکرٹری کے امیدوار محمد عارف اعوان بھی موجود تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے دوران قانونی برادری کے دیگر نمایاں رہنماؤں نے بھی شرکت کی جن میں پاکستان بار کونسل کے ممبر حفیظ الرحمن چوہدری اور وائس چیئرمین پیر مسعود چشتی شامل تھے۔ رہنماؤں نے اس موقع پر وکلا کے مسائل اور بار کے وقار کو بلند کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق ممبر ایگزیکٹو کمیٹی محسن ورک، سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ جاوید اعوان، ذوالفقار علی بخاری اور خواجہ محسن عباس بھی تقریب کی رونق بڑھانے والوں میں شامل تھے۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ ن لائرز فورم لاہور کے صدر رفاقت علی ڈوگر نے بھی شرکت کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیگل ایجوکیشن کمیٹی کی چیئرپرسن سمیرا حسین، ایڈووکیٹ سونیا جدون، عثمان غنی، خالد نواز گھمن اور بیرسٹر سجاد حیدر رضوی نے بھی تقریب میں بھرپور شرکت کی۔ وکلا رہنماؤں کا کہنا تھا کہ انتخابات کو پرامن اور شفاف بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خالدہ پروین، چوہدری غلام مرتضیٰ، چوہدری امتیاز الہٰی اور خواجہ اورنگزیب سمیت بڑی تعداد میں وکلا نے تقریب میں شرکت کر کے انڈیپنڈنٹ گروپ کے امیدواروں کی حمایت کا اعادہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ چند روز میں انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ جائے گی جبکہ ووٹرز اپنے ووٹ کا درست استعمال کرتے ہوئے بہترین قیادت کے انتخاب کے لیے پرعزم ہیں۔ تمام نظریں اب انتیس اکتوبر کو ہونے والی پولنگ اور اس کے نتائج پر مرکوز ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/1964/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>انسانی ذہن کا کیمرے کی طرح کام کرنا ناممکن ہے: سپریم کورٹ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/1523/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/1523/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 22:58:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_اشتیاق_إبراہیم]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_فیصلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمر_قید]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b0%db%81%d9%86-%da%a9%d8%a7-%da%a9%db%8c%d9%85%d8%b1%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d8%b1%d8%ad-%da%a9%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%b1%d9%86%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[سپریم کورٹ نے قتل کے ایک مقدمے میں عینی شاہدین کے بیانات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے عمر قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کی عدالت عظمیٰ نے فوجداری مقدمات میں عینی شاہدین کی گواه اور انسانی نفسیات کے حوالے سے ایک اہم اور جامع تحریری فیصلہ جاری کیا ہے جس میں قانونی تقاضوں کو واضح کیا گیا ہے۔ اس فیصلے میں عدالت نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ اچانک پیش آنے والے پرتشدد اور ہنگامہ خیز واقعات کے دوران گواہوں سے غیر معمولی اور روبوٹک کارکردگی کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر قرار دیا ہے کہ کسی بھی عینی شاہد کے لیے یہ بالکل ناممکن امر ہے کہ وہ فضا میں انتہائی تیزی سے سفر کرنے والی گولی کی حرکت کا تعاقب کرے اور یقین کے ساتھ عدالت کو بتا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ گولی مقتول کے جسم کے کس مخصوص مقام پر لگی، اس کی ٹھیک اور حتمی نشاندہی کرنا ایک عام انسان کے لیے ممکن نہیں ہوتا کیونکہ ایسا مطالبہ زمینی حقائق کے منافی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس مقدمے کی مثال دیتے ہوئے لکھا کہ ایک غمزدہ بیٹا جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی والدہ کو قتل ہوتے دیکھا ہو، اس سے یہ امید نہیں لگائی جا سکتی کہ وہ پولیس کو اطلاع دینے سے قبل جائے وقوعہ پر کھڑا ہو کر معائنہ کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایسے المناک اور صدمے کے شکار شخص کا بنیادی مقصد مجرم کو پکڑانا یا فوری مدد حاصل کرنا ہوتا ہے نہ کہ لاش یا زخمی کے جسم کا تفصیلی طبی معائنہ کرنا تاکہ عدالت میں ایک ایک گولی کا حساب کتاب پیش کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحریری فیصلے میں اس قانونی نکتہ کو بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ فوجداری قانون کے تحت کسی بھی انسان کے فطری رویے اور ردعمل کو کسی ایک مقررہ یا سخت فارمولے میں محدود نہیں کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کا ماننا ہے کہ ہر واقعے پر مختلف افراد کا ردعمل مختلف ہوتا ہے اور قانون تمام گواہوں سے ایک جیسے یا مشینی رویے کی توقع نہیں رکھتا، بلکہ حالات کے تناظر میں گواہی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کے پس منظر کے مطابق ملزم اظہر اور اس کے ایک شریک ملزم پر ایک خاتون کو قتل کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا تھا جس پر ماتحت عدالت نے کارروائی کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹرائل کورٹ نے اس قتل کیس کی سماعت مکمل کرنے کے بعد مرکزی ملزم اظہر کو سزائے موت کی سزا سنائی تھی جبکہ نامزد شریک ملزم کو اس مقدمے سے بری کر دیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بعد ازاں اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی جہاں عدالت نے تمام قانونی پہلوؤں، عینی شاہدین کے بیانات اور شواہد کا از سر نو باریک بینی سے جائزہ لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت عظمیٰ نے مرکزی ملزم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے بعد اپیل خارج کر دی اور ماتحت عدالت کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے ملزم کی سزا کو برقرار رکھا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ فیصلہ پاکستان کے عدالتی نظام اور فوجداری مقدمات میں شہادتوں کی جانچ پڑتال کے حوالے سے ایک اہم نظیر کی حیثیت رکھتا ہے جو مستقبل میں دیگر مقدمات میں بھی رہنمائی فراہم کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ موقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انصاف کی فراہمی کے دوران زمینی حقائق، انسانی نفسیات اور صدمے کے اثرات کو ہمیشہ مدنظر رکھا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس فیصلے سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ عدالتیں گواہوں کے معمولی اور فطری تضادات کو نظر انداز کرتی ہیں اگر بنیادی واقعہ معتبر گواہوں اور مضبوط شواہد کے ذریعے ثابت ہو جائے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/1523/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسلام آباد: غیر قانونی گردہ پیوندکاری کیس میں دو ملزمان کی ضمانت منظور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/islamabad/1454/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/islamabad/1454/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 12:57:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اسلام آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_اعضا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر_نادر_حسین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_فیصلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[غیر_قانونی_پیوندکاری]]></category>
		<category><![CDATA[قائداعظم_انٹرنیشنل_اسپتال]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86%db%8c-%da%af%d8%b1%d8%af%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[سپریم کورٹ نے قائداعظم انٹرنیشنل اسپتال میں غیر قانونی گردہ پیوندکاری کے مقدمے میں نامزد ڈاکٹر نادر حسین اور سید عدیل حیدر کی ضمانت منظور کر لی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایک نجی اسپتال میں غیر قانونی گردہ پیوندکاری کے سنگین مقدمے کی سماعت کی۔ جسٹس شہزاد ملک کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کے نامزد ملزمان ڈاکٹر نادر حسین اور سید عدیل حیدر کی جانب سے دائر کردہ درخواست ضمانت پر فیصلہ سنایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے دونوں ملزمان کی دو، دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ ملزمان قائداعظم انٹرنیشنل اسپتال میں غیر قانونی طور پر اعضا کی پیوندکاری کے آپریشن کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفتیشی حکام کے مطابق کارروائی کے دوران ڈاکٹر نادر حسین کے دفتر سے 12 لاکھ 94 ہزار روپے کی نقدی برآمد ہوئی تھی۔ یہ رقم مبینہ طور پر گردے کی غیر قانونی پیوندکاری کے آپریشن کے عوض وصول کی گئی تھی، جس کے بعد ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس مقدمے میں انسانی اعضا کی پیوندکاری سے متعلق ایچ او ٹی اے ایکٹ 2010 کی دفعات 9، 10 اور 11 کے ساتھ ساتھ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 109 بھی شامل کی گئی ہے۔ اس کیس میں مجموعی طور پر 13 افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن میں سے تفتیش جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اب تک کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پانچ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ دو ملزمان ضمانت پر رہا ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ چھ ملزمان تاحال مفرور ہیں جن کی گرفتاری کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفتیشی ریکارڈ میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ ملزم ڈاکٹر نادر حسین اب تک 55 سے زائد ایسے آپریشنز کر چکے ہیں جن میں گردہ عطیہ کرنے والے افراد کا وصول کنندگان سے کوئی خاندانی تعلق نہیں تھا۔ یہ عمل قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ گردے عطیہ کرنے والے زیادہ تر افراد کا تعلق اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے غریب مزدور طبقے سے تھا۔ ان افراد کو قرضوں کے بوجھ سے نجات دلانے کا جھانسہ دے کر اپنے اعضا فروخت کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کی جانب سے کیس میں نامزد ملزمان، جن میں ایجنٹ سلیم خان اور سید عدیل حیدر شامل ہیں، کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کو باقاعدہ خطوط ارسال کر دیے گئے ہیں۔ مالیاتی ریکارڈ کی جانچ پڑتال کا عمل بھی جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانون نافذ کرنے والے ادارے اس نیٹ ورک کے دیگر سہولت کاروں اور مفرور ملزمان کی تلاش میں مصروف ہیں۔ اس کیس نے طبی شعبے میں غیر قانونی سرگرمیوں اور انسانی اعضا کی اسمگلنگ کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کی جانب سے ضمانت کی منظوری کے بعد قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مقدمے کی باقاعدہ سماعت کے دوران مزید حقائق سامنے آئیں گے۔ استغاثہ کی جانب سے ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد پیش کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں انسانی اعضا کی غیر قانونی پیوندکاری کے خلاف قوانین کافی سخت ہیں، جن کا مقصد غریب اور کمزور طبقے کے استحصال کو روکنا ہے۔ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے حکومتی ادارے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسپتال انتظامیہ اور متعلقہ طبی بورڈز بھی اس معاملے پر اپنی تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اسپتال کی سطح پر کوئی باقاعدہ نیٹ ورک کام کر رہا تھا یا یہ انفرادی سطح پر ہونے والی غیر قانونی سرگرمیاں تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ مزدوروں کے بیانات اور دیگر شواہد کو کیس کا اہم حصہ بنایا گیا ہے۔ عدالت کی جانب سے ضمانت کا فیصلہ ملزمان کو ٹرائل کے دوران پیش ہونے کا پابند بناتا ہے، جبکہ کیس کی اگلی سماعت پر مزید قانونی کارروائی متوقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/islamabad/1454/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سابق ڈی جی نیب شہزاد سلیم کی تقرری انکوائری بند</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/955/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/955/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 09:17:33 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[احتساب_بیورو]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_حسن_اظہر_رضوی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[شہزاد_سلیم]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_فیصلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[نیب_انکوائری]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d8%a7%d8%a8%d9%82-%da%88%db%8c-%d8%ac%db%8c-%d9%86%db%8c%d8%a8-%d8%b4%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%af-%d8%b3%d9%84%db%8c%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%82%d8%b1%d8%b1%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے نیب کی کارروائی میں غیر معمولی تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اپیل منظور کر لی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی آئینی عدالت نے قومی احتساب بیورو کے سابق ڈائریکٹر جنرل شہزاد سلیم کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کرتے ہوئے ان کی تقرری سے متعلق جاری انکوائری کو بند کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ اس اہم قانونی معاملے پر دو رکنی بنچ نے مختصر فیصلہ سنایا ہے جس میں درخواست گزار کے مؤقف کو مکمل طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جسٹس حسن اظہر رضوی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے اس اہم کیس کی سماعت کی جس کے دوران نیب حکام کی کارکردگی، طریقہ کار اور تاخیر پر انتہائی سخت سوالات اٹھائے گئے۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں ادارے کی جانب سے اس طویل تاخیر پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماعت کے دوران سابق عہدیدار شہزاد سلیم کے وکیل نے عدالت کو تمام تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ادارے نے تقرری کے معاملے پر نو سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد انکوائری کا آغاز کیا۔ وکیل کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلوں میں یہ قانونی امور پہلے ہی طے کیے جا چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس طویل تاخیر پر سخت استفسار کیا کہ کیا احتساب ادارہ اتنے سال تک غفلت کا شکار سویا رہا تھا اور اتنی طویل مدت گزر جانے کے بعد اس معاملے کو اچانک کیوں یاد رکھا گیا۔ معزز جج کا کہنا تھا کہ تقرری کی جانچ پڑتال کا عمل متعلقہ ادارے کو بروقت اور قانون کے مطابق مکمل کرنا چاہیے تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کے روبرو اس بات کا اعتراف کیا کہ انکوائری کے عمل میں جو تاخیر ہوئی ہے، اس کی تمام تر ذمہ داری ادارے پر ہی عائد ہوتی ہے۔ پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ ریکارڈ پر موجود دستاویزات کے مطابق ابتدائی تقرری کے اس عمل میں ضابطے کی خامیاں موجود تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موقع پر عدالت نے استفسار کیا کہ جب سپریم کورٹ کی جانب سے احکامات جاری کیے گئے تھے تو اس وقت ان تمام امور کی جانچ پڑتال کیوں نہیں کی گئی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ صرف پروموشن کے معاملات نہیں بلکہ اصل تعیناتی کے پورے پراسیس کو بھی دیکھا جانا ضروری تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قومی احتساب بیورو کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو مزید بتایا کہ اعلیٰ عدالت کے حکم کی روشنی میں شہزاد سلیم کی تمام ترقیوں کے عمل کا باقاعدہ جائزہ لیا گیا تھا۔ عدالت نے فریقین کے تمام دلائل غور سے سننے کے بعد اپیل منظور کرتے ہوئے انکوائری ختم کرنے کا حتمی اعلان کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ قانونی کارروائی سابق ڈی جی نیب کی تقرری اور محکمانہ ترقیوں کے تنازع سے جڑی ہوئی تھی جو عدالت میں کافی عرصے سے زیر غور رہی تھی۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد سابق عہدیدار کے خلاف جاری یہ مخصوص تحقیقاتی عمل اب قانون کے مطابق مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">احتساب کے اداروں کے امور اور ان کی کارکردگی پر ملک بھر میں قانونی حلقوں کی جانب سے ہمیشہ سے بحث کی جاتی رہی ہے کہ آیا تحقیقات کا عمل بروقت ہوتا ہے یا نہیں۔ اس کیس میں بھی عدالت نے اسی نکتے کو اٹھایا کہ نو سال بعد کارروائی کا آغاز کرنا اداروں کی اپنی کارکردگی پر سوالیہ نشان چھوڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سپریم کورٹ اور آئینی عدالتوں کے فیصلوں میں اس بات کو بارہا دہرایا گیا ہے کہ قانون کے تقاضے مقررہ وقت پر پورے ہونے چاہئیں تاکہ کسی بھی شخص کے خلاف غیر ضروری اور طویل قانونی چارہ جوئی کا سلسلہ بند کیا جا سکے۔ شہزاد سلیم کے وکیل نے بھی اسی نکتے پر زور دیا کہ جب سپریم کورٹ نے تمام معاملات پہلے ہی طے کر دیے تھے تو دوبارہ انکوائری کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کی طرف سے پوچھے گئے سوالات میں یہ نکتہ بھی شامل تھا کہ نیب نے اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے وقت پر کارروائی کیوں نہیں کی تھی۔ پراسیکیوٹر کی جانب سے تاخیر کا اعتراف کیے جانے کے بعد عدالت کے لیے فیصلہ کرنا مزید واضح ہو گیا کہ اس نوعیت کے تاخیری حربے عدل و انصاف کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس فیصلے کے بعد سابق ڈی جی نیب کو اس انکوائری کے حوالے سے بڑی قانونی راحت مل گئی ہے جو طویل عرصے سے ان کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی تھی۔ عدالت نے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لینے کے بعد اپنے مختصر فیصلے میں اپیل منظور کرتے ہوئے کیس کو ختم کرنے کا باضابطہ حکم جاری کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معزز جج نے سماعت کے دوران جس طرح ریمارکس دیے، اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عدالتیں اب اداروں کی جانب سے بلاجواز تاخیر اور سستی کو کسی صورت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ تمام متعلقہ قانونی فریقین نے عدالت کے اس فیصلے کو غور سے سنا اور کارروائی اپنے انجام کو پہنچی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/955/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن انتخابات 2026-27 کے لیے حتمی امیدواروں کی فہرست جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/863/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/863/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 17:17:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابات_2026]]></category>
		<category><![CDATA[بار_ایسوسی_ایشن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ_بار_ایسوسی_ایشن]]></category>
		<category><![CDATA[سردار_امان_خان]]></category>
		<category><![CDATA[سید_امجد_شاہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانونی_تنظیم]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d9%be%d8%b1%db%8c%d9%85-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%db%8c%d8%b3%d9%88%d8%b3%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b4%d9%86-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%ae%d8%a7%d8%a8%d8%a7%d8%aa/</guid>

					<description><![CDATA[سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کے لیے صدارتی امیدواروں سمیت تمام نشستوں پر مدمقابل امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات برائے سال 2026-27 کے لیے حتمی امیدواروں کی فہرست جاری کر دی گئی ہے۔ ملک کی سب سے بڑی قانونی تنظیم کے ان انتخابات میں ملک بھر سے وکلاء کی بڑی تعداد اپنا حق رائے دہی استعمال کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جاری کردہ فہرست کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدارتی عہدے کے لیے کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ اس اہم نشست کے لیے سردار امان خان اور سید امجد شاہ کے درمیان سخت مقابلہ ہوگا، جس پر وکلاء برادری کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تنظیم کے دیگر عہدوں کے لیے بھی امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی حتمی کر لیے ہیں۔ نائب صدر بلوچستان کی نشست کے لیے عبدالمالک بلوچ اور محمد ابراہیم لہری بلوچ کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ یہ دونوں امیدوار اپنے اپنے حلقوں میں کافی متحرک ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح نائب صدر خیبرپختونخواہ کے عہدے کے لیے حضرت سعید اور معین الدین ہمایوں مدمقابل ہوں گے۔ صوبہ پنجاب سے نائب صدر کی نشست کے لیے چوہدری ارشد حسین اور محمد یاسین بھٹی کے درمیان مقابلہ دیکھنے میں آئے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سندھ سے نائب صدر کے عہدے کے لیے عبدالوہاب بلوچ اور جام آصف محمود لار میدان میں اتریں گے۔ ان تمام امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم کو تیز کر دیا ہے اور وکلاء سے حمایت حاصل کرنے کے لیے رابطے شروع کر دیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیکرٹری کی اہم نشست کے لیے میاں عرفان اکرم اور محمد عارف اعوان کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ ایڈیشنل سیکرٹری کے عہدے کے لیے قاضی شہریار اقبال اور سائرہ خالد راجپوت کے درمیان مقابلہ ہوگا، جو اس بار انتخابات میں خاصی توجہ کا مرکز ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فنانس سیکرٹری کے عہدے کے لیے محمد تنویر چوہدری اور رائے اظہر اقبال کھرل مدمقابل ہوں گے۔ انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں تاکہ پولنگ کے عمل کو شفاف اور پرامن طریقے سے یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے یہ انتخابات وکلاء کی سیاست میں ایک اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ ان انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والی نئی باڈی آئندہ ایک سال کے لیے وکلاء کے حقوق اور عدالتی امور میں اپنا کردار ادا کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امیدواروں کی جانب سے انتخابی منشور بھی جاری کیے جا رہے ہیں جن میں وکلاء کی فلاح و بہبود اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ وکلاء برادری ان انتخابات کے ذریعے اپنی قیادت کا انتخاب کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابی عمل کے دوران ضابطہ اخلاق کی پابندی کو یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ بار کے ممبران ان انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ قانونی برادری کے مسائل کو حل کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابات کی تاریخ کا اعلان پہلے ہی کیا جا چکا ہے اور اب حتمی فہرست کے اجرا کے بعد امیدواروں کی انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ وکلاء حلقوں میں ان انتخابات کے حوالے سے گہما گہمی عروج پر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات ہمیشہ سے ہی وکلاء برادری کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوتے ہیں۔ اس بار بھی امیدواروں کی جانب سے بھرپور انتخابی مہم چلائی جا رہی ہے تاکہ کامیابی حاصل کی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام امیدواروں کو انتخابی عمل کے دوران شفافیت برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ یہ انتخابات پرامن طریقے سے مکمل ہوں گے اور وکلاء برادری کو ایک فعال قیادت میسر آئے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/863/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھا لیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/831/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/831/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 13:18:11 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_جمال_مندوخیل]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_منیب_اختر]]></category>
		<category><![CDATA[چیف_جسٹس_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ac%d8%b3%d9%b9%d8%b3-%d9%85%d9%86%db%8c%d8%a8-%d8%a7%d8%ae%d8%aa%d8%b1-%d9%86%db%92-%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%85-%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85-%da%86%db%8c%d9%81-%d8%ac%d8%b3%d9%b9%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[سپریم کورٹ میں ہونے والی ایک پروقار تقریب میں جسٹس جمال مندوخیل نے ان سے حلف لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سپریم کورٹ آف پاکستان کے معزز جج جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ حلف برداری کی یہ اہم تقریب ملک کے اعلیٰ ترین عدلیہ کے مرکز، سپریم کورٹ کے احاطے میں منعقد کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے دوران سپریم کورٹ کے دوسرے ججز، عدالتی عملے کے ارکان اور دیگر اہم شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس پروقار موقع پر فضا انتہائی متوازن اور عدلیہ کے وقار کے مطابق تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معزز جج جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منیب اختر سے قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لیا۔ اس تقریب کی کارروائی باقاعدہ روایات کے مطابق انجام دی گئی جس میں عدالتی روایات کا بھرپور پاس رکھا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ تبدیلی اس وقت عمل میں آئی ہے جب موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان اپنے نجی دورے پر انگلینڈ تشریف لے گئے ہیں۔ ان کی بیرون ملک موجودگی کی وجہ سے عارضی طور پر یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصولہ اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان اکیس اکتوبر کو اپنے نجی دورے سے وطن واپس تشریف لائیں گے۔ ان کی واپسی کے بعد وہ دوبارہ اپنے عہدے کے تمام باضابطہ فرائض سنبھال لیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انگلینڈ سے واپسی اور چارج سنبھالنے تک جسٹس منیب اختر عدالتی امور کی انجام دہی کے لیے قائم مقام چیف جسٹس کے فرائض سرانجام دیتے رہیں گے۔ وہ اس مدت کے دوران عدالت عظمیٰ کے انتظامی اور عدلیہ کے معاملات کو دیکھیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سپریم کورٹ کے ترجمان کے مطابق عدلیہ کا نظام معمول کے مطابق رواں دواں ہے اور تمام امور آئین اور قانون کے دائرہ کار میں جاری ہیں۔ قائم مقام چیف جسٹس کی زیر نگرانی بنچوں کی تشکیل اور کیسوں کی سماعت کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جسٹس منیب اختر کا شمار سپریم کورٹ کے سینیئر اور تجربہ کار ججوں میں ہوتا ہے جو آئینی و قانونی امور پر گہری دسترس رکھتے ہیں۔ ان کے اس عارضی منصب سنبھالنے سے عدلیہ کے روزمرہ کے کاموں میں کوئی تعطل نہیں آئے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدلیتی حلقوں میں اس حلف برداری کی تقریب کو معمول کی آئینی اور انتظامی کارروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان کے عدالتی ڈھانچے میں سربراہ کی غیر موجودگی میں قائم مقام تقرر کی یہ روایت آئینی تقاضوں کے عین مطابق ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر اقتدار میں ہونے والی اس تقریب کے بعد تمام متعلقہ اداروں کو اس حوالے سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔ عوام اور وکلابرادری کو بھی اس عارضی انتظام سے باخبر رکھا گیا ہے تاکہ عدلیہ کا کام بلا تعطل جاری رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انگلینڈ کا نجی دورہ مکمل کرنے کے بعد چیف جسٹس کی آمد پر معمول کی تمام دفتری اور عدلیہ کی سرگرمیاں بحال ہو جائیں گی۔ اس دوران جسٹس منیب اختر آئین کے مطابق اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھاتے رہیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کی سب سے بڑی عدالت میں حلف برداری کی اس تقریب کا مقصد عدلیہ کے نظام کو کسی بھی قسم کے وقفے سے بچانا ہے۔ آئینی تقاضوں کے تحت یہ عارضی انتظام فوری طور پر کیا گیا تاکہ کوئی بھی دفتری امور التواء کا شکار نہ ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام قانونی ماہرین نے اس تقریب اور عارضی تقرر کو آئین پاکستان کے مطابق قرار دیا ہے۔ جسٹس منیب اختر کے پاس طویل عدلیہ کا تجربہ ہے جس کی بدولت وہ ان تمام ذمہ داریوں کو نہایت کامیابی اور احسن انداز میں پورا کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/831/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بھارت میں ووٹر لسٹوں سے ناموں کے اخراج پر ہنگامہ، اپوزیشن کا احتجاج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/624/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/624/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 10:57:35 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[الیکشن_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[بی_جے_پی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کانگریس_پارٹی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%d9%88%d9%b9%d8%b1-%d9%84%d8%b3%d9%b9%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%ae%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%d9%be/</guid>

					<description><![CDATA[بھارتی دارالحکومت میں ووٹر لسٹوں سے لاکھوں شہریوں کے نام خارج ہونے پر اپوزیشن جماعتیں سڑکوں پر نکل آئیں اور شدید احتجاج کیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ووٹر لسٹوں میں کی جانے والی متنازع تبدیلیوں کے خلاف شدید احتجاج کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے انتخابی فہرستوں سے بڑے پیمانے پر شہریوں کے نام خارج کیے جانے کے اس معاملے پر ملک بھر میں سیاسی گہما گہمی میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئی دہلی کی اہم شاہراہوں اور سڑکوں پر اپوزیشن جماعت کانگریس کے کارکنان اور دیگر سیاسی گروہوں کے ارکان بڑی تعداد میں جمع ہیں اور وہ اس حکومتی اقدام کے خلاف بھرپور مظاہرے کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ ووٹر لسٹوں میں کی گئی اس رد و بدل نے کروڑوں افراد کو ان کے بنیادی جمہوری حق یعنی حقِ رائے دہی سے محروم کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ووٹر فہرستوں سے مبینہ طور پر ساڑھے تیرہ کروڑ بھارتی شہریوں کے نام یکلخت خارج کر دیے گئے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس ناگہانی اخراج سے حکمران جماعت کو براہ راست سیاسی فائدہ پہنچا ہے جبکہ مسلم ووٹرز اس عمل سے غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مغربی بنگال کے ریاستی انتخابات کے حوالے سے بھی اپوزیشن حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ووٹروں کے اس اچانک اخراج نے انتخابی نتائج پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ تاہم الیکشن کمیشن اور متعلقہ حکام نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انتخابی عمل کی شفافیت کا بھرپور دفاع کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارت بھر میں اس وقت ووٹر لسٹوں کی خصوصی اور تفصیلی نظر ثانی کا سلسلہ جاری ہے جس کے تحت گھر گھر جا کر فہرستوں کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ اس مشق کا مقصد مبینہ طور پر دہرے اندراج یا نااہل ووٹرز کے ناموں کو فہرستوں سے ہٹا کر انہیں اپ ڈیٹ کرنا بتایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ناقدین اور اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے اس نظر ثانی کے عمل میں استعمال ہونے والے مرکزی سافٹ ویئر پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نظام کے تحت مقامی انتخابی عہدیداروں کو انتہائی محدود اختیارات دیے گئے ہیں جو زمینی حقائق کی درست تصدیق نہیں کر سکتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرضی کے مطابق درستگی نہ ہونے کی وجہ سے زمینی سطح پر شدید بے ضابطگیاں سامنے آ رہی ہیں جن کے باعث لاکھوں بے گناہ اور اہل افراد کے نام فہرستوں سے غائب ہو چکے ہیں۔ متاثرہ شہری اب اپنی اور اپنے آباؤ اجداد کی پرانی تاریخی دستاویزات تلاش کرنے میں شدید مشکلات کا شکار نظر آتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کاغذات کی سخت شرائط اور انتہائی مختصر ڈیڈ لائنز جیسے عوامل کی وجہ سے غریب، تارکینِ وطن، بزرگ اور بے گھر افراد سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ فہرستوں سے نام نکلنے والے یہ افراد اب قانونی چارہ جوئی کے لیے متعلقہ دفاتر کے طویل چکر کاٹنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابی کمیشن پر دباؤ اس وقت مزید بڑھ گیا جب میڈیا رپورٹس میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ چیف الیکشن کمشنر کے پینل کے اراکین نے رجسٹریشن کے طریقہ کار پر متعدد بار اعتراضات اٹھائے تھے۔ ان اندرونی اختلافات نے اس پورے انتخابی عمل کی شفافیت پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے اس انتظامی عمل کو برقرار رکھتے ہوئے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے درست فہرستوں کا ہونا بنیادی طور پر لازمی ہے۔ تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ انتخابی پینل شہریت کے بارے میں کوئی حتمی قانونی فیصلہ صادر کرنے کا مجاز نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپوزیشن جماعتوں نے من مانے اخراج اور اس عمل میں پائی جانے والی دیگر بے ضابطگیوں کی بنیاد پر حالیہ دنوں میں ایک بار پھر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن نے متعلقہ حکام کو یہ ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ خارج ہونے والے ووٹرز کی فوری نشاندہی کر کے ان کا دوبارہ اندراج یقینی بنائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ ملکی حالات میں نریندر مودی کی حکومت کو اپوزیشن کی طرف سے سخت سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ نوجوانوں کی نمائندہ نئی سیاسی جماعتیں بھی اس تنازع پر کافی متحرک ہو چکی ہیں۔ سیاسی ماہرین کے مطابق ووٹر لسٹوں کا یہ تنازع آنے والے ایام میں ملکی سیاست پر انتہائی گہرے اور دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">احتجاج کرنے والے سیاسی کارکنان اور عوام نے مطالبات پیش کیے ہیں کہ انتخابی نظام میں فوری اصلاحات لائی جائیں تاکہ کسی بھی شہری کو حقِ رائے دہی سے محروم نہ کیا جا سکے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے فی الحال اس صورتحال پر اعتدال اور قانون کے دائرے میں رہنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/624/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
