<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.44.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سوڈان &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b3%d9%88%da%88%d8%a7%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Fri, 06 Nov 2026 17:41:28 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>سوڈان &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>سوڈانی وزیر داخلہ کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سے ملاقات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/5430/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/5430/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 06 Nov 2026 17:41:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ایس_پی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[آرمی_چیف]]></category>
		<category><![CDATA[انسداد_دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[جی_ایچ_کیو]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[راولپنڈی]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوڈان]]></category>
		<category><![CDATA[سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فیلڈ_مارشل]]></category>
		<category><![CDATA[وزیر_داخلہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/5430/</guid>

					<description><![CDATA[ملاقات میں سیکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سوڈان کے وزیرِ داخلہ لیفٹیننٹ جنرل پولیس بابیکر سمرا مصطفیٰ علی نے راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اہم دورے کے دوران سوڈانی وزیر داخلہ نے آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کا یہ سلسلہ جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقد ہوا جہاں دونوں شخصیات نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے اس ملاقات کے حوالے سے باضابطہ تفصیلات جاری کی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں علاقائی اور عالمی سطح پر بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دونوں رہنماؤں نے اس موقع پر دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے مختلف امکانات کا جائزہ لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا کہ بالخصوص سیکیورٹی کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید بڑھایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران انسدادِ دہشت گردی کے امور پر بھی خصوصی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دونوں جانب سے ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوڈانی وزیرِ داخلہ نے اس موقع پر علاقائی امن اور استحکام کے فروغ میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستانی کوششوں کو سراہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوڈانی وزیرِ داخلہ نے پاکستان اور سوڈان کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کا بھی اعتراف کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی دوستانہ رشتوں کو خوش آئند قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے معزز مہمان کا خیرمقدم کرتے ہوئے سوڈان کے ساتھ تعلقات پر بات کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے سوڈان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کی پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آرمی چیف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان سوڈان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے عزم کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشترکہ چیلنجز پر قابو پانے کے لیے باہمی قریبی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی اور دفاعی نوعیت کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/5430/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عالمی تنازعات اور انسانی المیہ: جنگ کے بعد کیا بچتا ہے؟</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1163/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1163/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 20:58:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امن_کی_تلاش]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[انسانیت]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ_کے_اثرات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارت_کاری]]></category>
		<category><![CDATA[سوڈان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b2%d8%b9%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c%db%81-%d8%ac%d9%86%da%af/</guid>

					<description><![CDATA[دنیا بھر میں جاری جنگیں صرف سیاسی مقاصد کا حصول نہیں بلکہ انسانی زندگیوں کی تباہی کا باعث بن رہی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">موجودہ دور میں دنیا کے مختلف خطوں میں جاری کشیدگی نے انسانیت کو ایک سنگین بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ غزہ سے لے کر یوکرین اور سوڈان تک، جنگوں کا یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ صرف جغرافیائی حدود کا تنازع نہیں بلکہ عام انسانوں کی بربادی کی داستان ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جنگ کے آغاز کا اعلان اکثر ایوانوں میں طاقت کے زور پر کیا جاتا ہے، مگر اس کا اختتام کسی اعلامیے سے نہیں بلکہ انسانی لاشوں اور اجڑے ہوئے گھروں پر ہوتا ہے۔ تاریخ فاتحین کے نام تو محفوظ کر لیتی ہے، لیکن ان چیخوں کو فراموش کر دیتی ہے جو جنگ کی نذر ہو جاتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمن، سوڈان اور دیگر متاثرہ علاقوں سے آنے والی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ 14 اکتوبر 2026 کو یمن سے آنے والی خبریں بتاتی ہیں کہ وہاں تازہ لڑائی نے طبی مراکز کو زخمیوں سے بھر دیا ہے اور لاکھوں افراد تک امداد کی رسائی متاثر ہوئی ہے۔ سوڈان میں جنگ، خشک سالی اور خوراک کی قلت نے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو عدم تحفظ سے دوچار کر رکھا ہے، جو محض اعداد و شمار نہیں بلکہ انسانی المیہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اکثر جنگوں کو قومی سلامتی، سرحدوں کے تحفظ، مذہب، آزادی یا قومی وقار کے نام پر جائز قرار دیا جاتا ہے۔ بلاشبہ ہر ملک کو اپنی خودمختاری کے تحفظ کا حق حاصل ہے، لیکن طاقتور ممالک کے بیان کردہ مقاصد اور زمینی حقائق کے درمیان ایک گہری خلیج موجود ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی طاقت کے موجودہ نظام میں اسلحہ محض دفاع کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ جب بڑی طاقتیں اپنے حریفوں کو کمزور کرنے، اہم تجارتی راستوں پر کنٹرول قائم رکھنے، وسائل تک رسائی حاصل کرنے یا اپنے اتحادیوں کی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے کمزور ممالک کو میدانِ جنگ بناتی ہیں، تو اس کی سب سے بڑی قیمت وہاں کے عام شہری ادا کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہر تنازع کی اپنی ایک الگ تاریخ اور داخلی تضادات ہوتے ہیں، تاہم یہ حقیقت ناقابلِ تردید ہے کہ عالمی طاقت کا غیر مساوی نظام کمزور ممالک کے لیے اپنے فیصلے خود کرنے کی گنجائش کو محدود کر دیتا ہے۔ قرض، اسلحے پر انحصار، اتحاد اور بیرونی دباؤ ان کی خودمختاری کو متاثر کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس منظرنامے کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ جنگ کا فیصلہ کرنے والے اور اس کا خمیازہ بھگتنے والے مختلف لوگ ہوتے ہیں۔ قیادتیں محفوظ مقامات پر بیٹھ کر فیصلے کرتی ہیں، جبکہ ایک مزدور اپنی روزی اور ایک طالب علم اپنا اسکول کھو دیتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جنگ کی تباہی صرف براہِ راست نشانہ بننے والوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات نسلوں تک محیط ہوتے ہیں۔ غربت، نفرت اور انتقام کی آگ کئی دہائیوں تک معاشروں کو عدم استحکام کا شکار رکھتی ہے، جس سے نکلنا ناممکن حد تک مشکل ہو جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی اداروں اور قوانین کی اخلاقی حیثیت پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ امن صرف قراردادوں سے قائم نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے اصولوں کا یکساں اطلاق اور خلاف ورزیوں پر جوابدہی ضروری ہے۔ کمزوروں کو خوف سے آزادی ملنا ہی حقیقی امن ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آج سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو بہتر بنانے کے بے شمار مواقع پیدا کیے ہیں، مگر افسوس کہ یہی ترقی تباہی کے مؤثر ذرائع بنانے میں استعمال ہو رہی ہے۔ بیماریوں کے خاتمے کے بجائے جنگی اخراجات پر اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ صرف معاشی ترجیحات کا مسئلہ نہیں بلکہ ہماری تہذیبی اقدار کا امتحان ہے۔ جنگ شروع کرنے کے لیے ایک غلط فیصلہ کافی ہوتا ہے، لیکن اس کے زخم بھرنے کے لیے انصاف، اعتماد اور تعمیرِ نو کے طویل سفر کی ضرورت ہوتی ہے جو کئی نسلوں پر محیط ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اب وقت آ گیا ہے کہ اقوامِ عالم اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کریں۔ ہمیں یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ جنگ کے بعد انسان کے پاس کیا بچا؟ کتنے خاندان اپنی چھت برقرار رکھ سکے اور کتنے بچوں کا مستقبل محفوظ رہا؟</p>
<p class="wp-block-paragraph">کسی بھی جنگ کی سب سے بڑی ناکامی اس وقت سامنے آتی ہے جب فتح کے دعووں کے درمیان انسانی زندگی کی کوئی قیمت باقی نہیں رہتی۔ دنیا کو اب قتل و غارت کو معمول سمجھنے کے بجائے امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1163/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
