<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سول_سروس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b3%d9%88%d9%84_%d8%b3%d8%b1%d9%88%d8%b3/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:33:37 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>سول_سروس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>سول افسران سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر فرائض انجام دیں، وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1666/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1666/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 05:57:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[تنویر_احمد_طاہر]]></category>
		<category><![CDATA[چیف_جسٹس_امین_الدین_خان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سرکاری_افسران]]></category>
		<category><![CDATA[سول_سروس]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_دباؤ]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_فیصلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d9%88%d9%84-%d8%a7%d9%81%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d8%af%d8%a8%d8%a7%d8%a4-%d8%b3%db%92-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af-%db%81%d9%88-%da%a9%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی آئینی عدالت نے پولیس افسر کی ترقی سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سول سرونٹس کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک رہنے کی ہدایت کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم عدالتی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سول افسران کو ہر قسم کے سیاسی دباؤ سے آزاد رہ کر اپنے فرائض کی انجام دہی کرنی چاہیے۔ عدالت نے یہ ریمارکس پولیس افسر تنویر احمد طاہر کی ترقی کے لیے دائر کردہ اپیل کی سماعت کے دوران دیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی، جس کا تحریری فیصلہ جسٹس علی باقر نجافی نے تحریر کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ سرکاری ملازمین کو ریاست اور عوام کے خادم کی حیثیت سے دیانتداری اور بے خوفی کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی فیصلے میں بانی پاکستان، قائد اعظم محمد علی جناح کے تاریخی خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے سول سرونٹس کے لیے اصول وضع کیے گئے۔ عدالت نے کہا کہ حکومتیں اور وزراء آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن سرکاری افسران کا کام کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کرنا نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سرکاری افسران کو اپنی سروس کی ساکھ، وقار اور دیانتداری کو ہر صورت برقرار رکھنا چاہیے۔ سول سرونٹس کو چاہیے کہ وہ اخلاقی اصولوں کی پاسداری کریں اور حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو غیر جانبدارانہ انداز میں نبھائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ سیاستدانوں کو سرکاری ملازمین کے کام میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔ ایسی مداخلت نہ صرف اداروں کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ بدعنوانی، رشوت ستانی اور اقربا پروری جیسی سنگین سماجی برائیاں بھی جنم لیتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کيس کے ميرٹ پر بات کرتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ ترقی کسی بھی افسر کا بنیادی حق نہیں ہے، تاہم ہر ملازم یہ حق رکھتا ہے کہ اسے قواعد و ضوابط کے مطابق منصفانہ طور پر ترقی کے عمل میں زیر غور لایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے واضح کیا کہ ترقی کے لیے مقررہ معیار پر پورا اترنا لازمی ہے اور سینٹرل سلیکشن بورڈ (سی ایس بی) کے صوابدیدی اختیار میں بلاوجہ مداخلت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ پولیس افسر تنویر احمد طاہر نے گریڈ 20 میں ترقی کے لیے درکار 70 نمبروں کے مقابلے میں 63.56 نمبر حاصل کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلے میں کہا گیا کہ تین مرتبہ ترقی مؤخر ہونے سے کسی افسر کو خودکار ترقی کا حق حاصل نہیں ہو جاتا۔ ترقی مؤخر کرنے کے لیے قانونی جواز اور معقول وجوہات کا ہونا ضروری ہے، تاہم اس معاملے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی گنجائش موجود نہیں تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے مزید کہا کہ کسی بھی افسر کی ترقی کے معاملے میں من مانی اور امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اگر کسی افسر کو اپنی سروس کی مدت یا دیگر امور پر تحفظات ہوں تو اسے متعلقہ محکمے یا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے رجوع کرنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا کہ احتساب ریفرنس میں بریت کے بعد ترقی میں رکاوٹ کی بنیاد کا دوبارہ جائزہ لینا ضروری ہے۔ تاہم مجموعی طور پر افسران کو اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ فیصلہ سول سروس کے ڈھانچے میں اصلاحات اور سیاسی مداخلت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ عدالتی ہدایات کا مقصد سرکاری اداروں میں میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنانا اور افسر شاہی کو سیاسی دباؤ سے محفوظ رکھنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قائد اعظم کے وژن کے مطابق، ایک مضبوط ریاست کے لیے ضروری ہے کہ اس کے سول سرونٹس غیر سیاسی اور پیشہ ورانہ ہوں۔ عدالت نے امید ظاہر کی کہ تمام سرکاری افسران ان اصولوں پر کاربند رہیں گے تاکہ عوامی اعتماد میں اضافہ ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپیل خارج کرتے ہوئے کیس کو نمٹا دیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ ترقی کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنائیں۔ یہ فیصلہ آئندہ کے لیے سول سرونٹس کے طرز عمل کے تعین میں ایک رہنما دستاویز کی حیثیت رکھے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1666/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وفاقی حکومت کی جانب سے سول اور پولیس سروس کے افسران کے تقرر و تبادلے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/759/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/759/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 00:18:00 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیبلشمنٹ_ڈویژن]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[افسران]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامی_امور]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سپورٹس_بورڈ]]></category>
		<category><![CDATA[تقرر_و_تبادلے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سول_سروس]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82%db%8c-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d8%b3%d9%88%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے مختلف وزارتوں اور محکموں میں گریڈ 19 کے افسران کی نئی تعیناتیوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی حکومت نے انتظامی امور کو بہتر بنانے اور مختلف محکموں میں خالی اسامیوں کو پر کرنے کے لیے سول اور پولیس سروس کے متعدد افسران کے تقرر و تبادلوں کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشنز کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 19 کے افسر محمد عمیر کو کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) میں ممبر امپلیمنٹیشن تعینات کیا گیا ہے۔ اس سے قبل وہ سی ڈی اے میں ہی ممبر فنانس کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے تھے اور اب انہیں اضافی چارج بھی دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نوٹیفکیشن کے مطابق، محمد عمیر کو ممبر پلاننگ اینڈ ڈیزائن سی ڈی اے کا اضافی چارج بھی سونپا گیا ہے۔ یہ اضافی ذمہ داری تین ماہ کی مدت یا کسی مستقل افسر کی تعیناتی تک برقرار رہے گی، جس سے سی ڈی اے کے امور میں تسلسل برقرار رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس سروس کے گریڈ 19 کے افسر کیپٹن (ر) مستنصر فیروز، جو پنجاب حکومت میں خدمات انجام دے رہے تھے، کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ان کی خدمات اب اسلام آباد پولیس کے سپرد کر دی گئی ہیں جہاں وہ اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارتوں اور ڈویژنز میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ تقرری کے منتظر ہارون الرشید کو ڈپٹی سیکریٹری وزارت بین الصوبائی رابطہ تعینات کیا گیا ہے، جبکہ عاصمہ احمد کو پاکستان سپورٹس بورڈ میں ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عاصمہ احمد اس سے قبل فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن میں پرنسپل کے طور پر کام کر رہی تھیں۔ ان کی نئی تعیناتی کو اہم انتظامی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے پاکستان سپورٹس بورڈ کے انتظامی امور میں بہتری متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دیگر تبادلوں میں سیکشن افسر آصف دلشاد کا اوورسیز پاکستانیز ڈویژن سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن تبادلہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح ڈپٹی سیکریٹری ساجد خان کو پاور ڈویژن سے منتقل کر کے وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس میں تعینات کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) میں تعینات سیکریٹریٹ گروپ کے گریڈ 19 کے افسر سلیم شہزاد ملک کی خدمات بھی واپس اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سپرد کر دی گئی ہیں، جہاں وہ اپنی اگلی تعیناتی کے منتظر رہیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی سطح پر بھی انتظامی ردوبدل کیا گیا ہے۔ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 19 کے افسر وسیم احمد کا پنجاب حکومت سے خیبر پختونخوا حکومت میں تبادلہ کر دیا گیا ہے، جہاں وہ صوبائی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے کیے گئے یہ تقرر و تبادلے معمول کی انتظامی کارروائی کا حصہ ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد سرکاری مشینری کو فعال بنانا اور مختلف وفاقی اداروں میں کام کی رفتار کو تیز کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ ان احکامات پر متعلقہ افسران کو فوری طور پر اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان تعیناتیوں سے وفاقی اداروں کی کارکردگی میں بہتری لانے کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف وزارتوں اور محکموں میں ہونے والی یہ تبدیلیاں حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہیں۔ انتظامی ماہرین کے مطابق، اس طرح کے تبادلے سرکاری اداروں میں نئی سوچ اور متحرک قیادت لانے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/759/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
