<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.30.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سوئی_گیس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b3%d9%88%d8%a6%db%8c_%da%af%db%8c%d8%b3/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 02 Nov 2026 00:27:41 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>سوئی_گیس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>لاہور کے علاقے گرین ٹاؤن میں سوئی گیس کی بندش پر شہریوں کو مشکلات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%db%92-%da%af%d8%b1%db%8c%d9%86-%d9%b9%d8%a7%d8%a4%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d9%88%d8%a6%db%8c-%da%af%db%8c%d8%b3/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%db%92-%da%af%d8%b1%db%8c%d9%86-%d9%b9%d8%a7%d8%a4%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d9%88%d8%a6%db%8c-%da%af%db%8c%d8%b3/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 10:37:53 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_پی_جی]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_گیس]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_ناردرن]]></category>
		<category><![CDATA[شہر_لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_مشکلات]]></category>
		<category><![CDATA[گرین_ٹاؤن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%db%92-%da%af%d8%b1%db%8c%d9%86-%d9%b9%d8%a7%d8%a4%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d9%88%d8%a6%db%8c-%da%af%db%8c%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[گرین ٹاؤن کے مکین سوئی گیس کی عدم دستیابی اور مہنگی ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور کے مختلف علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے مسائل وقتاً فوقتاً سر اٹھاتے رہتے ہیں، جن سے عام شہریوں کو شدید نوعیت کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بالخصوص سوئی گیس جیسی بنیادی ضرورت کی بندش نے گھریلو امور کو بری طرح متاثر کیا ہے اور لوگوں کی زندگیاں اجیرن بن گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے گنجان آباد علاقے گرین ٹاؤن میں سوئی گیس کی مسلسل بندش نے مکینوں کا جینا محال کر دیا ہے جہاں لوگ روزمرہ کے امور کے لیے شدید پریشانی سے دوچار ہیں۔ گیس کی اس غیر اعلانیہ بندش کے باعث خواتین کو کھانا پکانے اور دیگر گھریلو ضروریات پوری کرنے میں انتہائی دقت کا سامنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صبح کے اوقات میں جب گھروں میں ناشتے کی تیاری کا وقت ہوتا ہے تو گیس کی غائب ہونے کے باعث چولہے بالکل ٹھنڈے پڑے ہوتے ہیں۔ اس صورتحال میں بچوں کو اسکول اور بڑوں کو دفاتر کے لیے تیار کرنا مکینوں کے لیے ایک روزانہ کا عذاب بن چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گیس کی اس طویل اور مسلسل بندش سے نجات پانے کے لیے علاقہ مکینوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا کہ وہ متبادل ذرائع کا رخ کریں۔ مجبوراً شہری اپنی گھریلو ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اب مہنگی قیمتوں پر ایل پی جی سلنڈر خریدنے پر مجبور ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مارکیٹ میں ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور اضافی اخراجات نے گھریلو بجٹ کا توازن بگاڑ دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی مہنگائی کے طوفان سے پریشان ہیں اور اب ایل پی جی کی خریداری ان کی مالی استطاعت سے باہر ہو چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ گیس کی فراہمی کے بغیر بھی انہیں بھاری بھرکم بلز موصول ہو رہے ہیں جو کہ صریحاً ناانصافی ہے۔ ایک طرف گیس ملتی نہیں اور دوسری طرف بلوں کی ادائیگی لازم ہوتی ہے جس سے غریب اور متوسط طبقے کے لیے جینا دو بھر ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گرین ٹاؤن کے مکینوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لینے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور علاقے میں سوئی گیس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر سوئی گیس کی بحالی میں تاخیر ہو رہی ہے تو کم از کم حکومت کو اوپن مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمتوں کو سختی سے کنٹرول کرنا چاہیے۔ قیمتوں میں بے لگام اضافے کو روکنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ دور میں مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی دشوار ہو چکا ہے۔ ایسے میں سوئی گیس کی بندش نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے اور عوام کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر میں گراں فروشی کے خلاف مختلف علاقوں میں انتظامی کارروائیاں بھی جاری ہیں جن کے تحت قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قدم اٹھائے جا رہے ہیں۔ تاہم شہریوں کا تقاضا ہے کہ گیس اور توانائی کے شعبے میں بھی ایسے ہی سخت اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو سہولت مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گرین ٹاؤن کے مکینوں نے امید ظاہر کی ہے کہ متعلقہ حکام ان کے اس دیرینہ اور اہم مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔ گیس کی فراہمی بحال ہونے سے نہ صرف لوگوں کے گھریلو اخراجات معمول پر آئیں گے بلکہ انہیں ذہنی سکون بھی میسر آئے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے مختلف حصوں میں انتظامی امور اور ٹریفک کے حوالے سے بھی کارروائیاں دیکھنے میں آتی ہیں جہاں قوانین کی خلاف ورزی پر گاڑیوں کو تھانے منتقل کیا جاتا ہے۔ اس پس منظر میں عوامی بنیادی مسائل جیسے کہ گیس کی فراہمی پر بھی اتنی ہی توجہ دی جانی چاہیے جتنی دیگر انتظامی امور پر دی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام کا بنیادی حق ہے کہ انہیں ریاست کی طرف سے گیس، پانی اور بجلی جیسی سہولیات بلا تعطل فراہم کی جائیں تاکہ معاشرے میں توازن برقرار رہے۔ امید کی جاتی ہے کہ متعلقہ ادارے گرین ٹاؤن کے باسیوں کی اس فریاد کو سنیں گے اور جلد از جلد سوئی گیس کی بحالی کا عمل مکمل کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%db%92-%da%af%d8%b1%db%8c%d9%86-%d9%b9%d8%a7%d8%a4%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d9%88%d8%a6%db%8c-%da%af%db%8c%d8%b3/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>موسم سرما میں گیس کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے 18 ایل این جی کارگوز خریدنے کا فیصلہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%85-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%d8%a7%db%81%d9%85%db%8c-%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%85-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%d8%a7%db%81%d9%85%db%8c-%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 04:57:58 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_این_جی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پٹرولیم_ڈویژن]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_گیس]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[گیس_بحران]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%85-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%d8%a7%db%81%d9%85%db%8c-%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[حکومت نے سردیوں کے دوران گیس کی طلب اور رسد میں توازن برقرار رکھنے کیلئے حکمت عملی تیار کر لی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">حکومت پاکستان نے ملک میں موسم سرما کے دوران گیس کی طلب کو پورا کرنے اور صارفین کو بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تشکیل دے دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت سردیوں کے چار ماہ کے دوران ایل این جی کے 18 کارگوز درآمد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے وزیر اعظم کو گیس کی متوقع کھپت اور دستیابی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ایل این جی کے ان کارگوز کی خریداری کا عمل نومبر 2026 سے شروع ہو کر فروری 2027 تک جاری رہے گا تاکہ سرد موسم میں گیس کے بحران سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکمت عملی میں اس بات کو ترجیح دی گئی ہے کہ قطر سے سستی ایل این جی کی درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ قطر کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں کے تحت گیس کی فراہمی کو اولیت دی جائے گی، تاہم اگر قطر سے سپلائی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش آئی تو اسپاٹ مارکیٹ سے کارگوز خریدے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیال رہے کہ قطر کی جانب سے 6 نومبر سے ایل این جی سپلائی کے حوالے سے فورس میجور کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے پیش نظر حکومت متبادل ذرائع پر بھی کام کر رہی ہے۔ اسپاٹ مارکیٹ سے خریداری کے لیے فی ایم ایم بی ٹی یو قیمت کا تخمینہ 30 ڈالر تک لگایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں گیس کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو سوئی ناردرن اور سوئی سدرن گیس کمپنیوں کے پاس مقامی گیس کی مجموعی دستیابی ایک ارب 40 کروڑ مکعب فٹ یومیہ ہے۔ یہ مقدار سردیوں میں بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق صرف پنجاب میں سردیوں کے دوران گیس کی ضروریات ایک ارب مکعب فٹ یومیہ تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ مقامی گیس کی پیداوار میں کمی کے باعث گھریلو صارفین کو بھی گیس کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے پیش نظر ایل این جی درآمد ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ گیس کی لوڈشیڈنگ کو کم سے کم کیا جائے اور ترجیحی بنیادوں پر گھریلو صارفین کو گیس فراہم کی جائے۔ اس مقصد کے لیے گیس کے شعبے میں اصلاحات اور بہتر انتظام پر توجہ دی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں گیس کے ذخائر میں کمی ایک طویل مدتی چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے حکومت نئے گیس فیلڈز کی تلاش اور توانائی کے متبادل ذرائع پر بھی کام کر رہی ہے۔ تاہم فوری طور پر ایل این جی کی درآمد ہی گیس کی کمی کو پورا کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی ذرائع نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ گیس کی فراہمی کے نظام کو شفاف بنایا جائے گا تاکہ کسی بھی علاقے میں غیر منصفانہ لوڈشیڈنگ نہ ہو۔ اس حوالے سے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی ملک کے مختلف حصوں میں گیس کے دباؤ میں کمی کی شکایات سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ایل این جی کے نئے کارگوز کی آمد سے صورتحال میں بہتری آئے گی اور صارفین کو ریلیف ملے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ موسم سرما میں گیس کا استعمال احتیاط سے کریں تاکہ سسٹم پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔ گیس کی بچت ہی اس بحران سے نمٹنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے جس پر عمل کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے ایل این جی کی خریداری کا یہ ہدف ملکی توانائی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کیا گیا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ بروقت اقدامات سے سردیوں کے دوران گیس کی قلت پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور صنعتوں سمیت گھریلو صارفین کو سہولت ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%85-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%d8%a7%db%81%d9%85%db%8c-%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عارف والا میں موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%85-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%a2%d8%ba%d8%a7%d8%b2-%da%a9%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%85-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%a2%d8%ba%d8%a7%d8%b2-%da%a9%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 04:57:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایس_این_جی_پی_ایل]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سردی]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_گیس]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عارف_والا]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوام_کی_مشکلات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%85-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%a2%d8%ba%d8%a7%d8%b2-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[سردی کی شدت بڑھتے ہی گیس کے کم پریشر اور لوڈشیڈنگ سے گھریلو صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی عارف والا سمیت مختلف علاقوں میں سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ اور کم پریشر کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ سردی کی پہلی لہر کے ساتھ ہی شہریوں کو گیس کی فراہمی میں تعطل کا سامنا ہے جس سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ صبح سویرے ناشتہ تیار کرنے اور دوپہر کے کھانے کے اوقات میں گیس کا پریشر انتہائی کم ہو جاتا ہے یا گیس مکمل طور پر غائب ہو جاتی ہے۔ اس صورتحال کے باعث گھریلو خواتین کو کھانا پکانے اور دیگر امور کی انجام دہی میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گیس کی عدم دستیابی کے باعث صارفین کو متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ بہت سے شہری مہنگی ایل پی جی سلنڈر خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ کچھ افراد لکڑیاں جلا کر کھانا پکانے کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے ان کے ماہانہ اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عارف والا کے شہریوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ سردیوں کے موسم میں انہیں مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکام کو چاہیے کہ وہ گیس کی تقسیم کے نظام کو بہتر بنائیں تاکہ صارفین کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق گیس کے ذخائر میں کمی اور بڑھتی ہوئی طلب کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ گھریلو صارفین کی جانب سے گیس کے بے جا استعمال کو روکنے کے لیے بھی آگاہی مہمات چلائی جاتی ہیں تاکہ گیس کا پریشر برقرار رہ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے حکام کو چاہیے کہ وہ عارف والا کے متاثرہ علاقوں میں گیس کی فراہمی کے نظام کا جائزہ لیں اور تکنیکی خرابیوں کو دور کریں۔ بروقت اقدامات سے ہی عوام کی مشکلات کو کم کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی گیس کی طلب میں مزید اضافے کا امکان ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ عوام نے امید ظاہر کی ہے کہ انتظامیہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی تاکہ انہیں سرد موسم میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صارفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ گیس کے بلوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے لیکن سہولیات کی فراہمی میں کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس کی لوڈشیڈنگ کے دورانیے کو کم کیا جائے تاکہ عام آدمی کی زندگی میں آسانی پیدا ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عارف والا کے علاوہ بھی ملک کے دیگر شہروں میں گیس کے کم پریشر کی شکایات موصول ہوتی رہتی ہیں۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور گیس کی بہتر مینجمنٹ ہی اس دیرینہ مسئلے کا واحد حل ہے جس پر متعلقہ وزارتوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر گیس کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو انہیں شدید سردی میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے مقامی نمائندوں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو ایوانوں میں اٹھائیں اور عوام کی آواز حکام بالا تک پہنچائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی حتمی لائحہ عمل جاری نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم، شہریوں کی جانب سے مسلسل شکایات کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ متعلقہ حکام جلد ہی گیس کے پریشر کو بحال کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختصر یہ کہ سردیوں کا آغاز ہوتے ہی گیس کا بحران ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے جس سے عام آدمی کی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے فوری اور موثر اقدامات ہی اس مسئلے کو حل کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%85-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%a2%d8%ba%d8%a7%d8%b2-%da%a9%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پشاور کے مختلف علاقوں میں گیس کی فراہمی عارضی طور پر معطل رہے گی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%b4%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%ae%d8%aa%d9%84%d9%81-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%b4%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%ae%d8%aa%d9%84%d9%81-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 23:58:37 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایس_این_جی_پی_ایل]]></category>
		<category><![CDATA[ایس_این_جی_پی_ایل_پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_کنٹونمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ترقیاتی_کام]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_گیس]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%b4%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%ae%d8%aa%d9%84%d9%81-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ نے پائپ لائن کی منتقلی اور مرمتی کاموں کے پیش نظر شیڈول جاری کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پشاور کے متعدد علاقوں میں گیس کی فراہمی عارضی طور پر بند رہے گی۔ یہ اقدام شہر میں جاری ترقیاتی کاموں کے تسلسل میں اٹھایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعلامیے کے مطابق پشاور میں زکوڑی فلائی اوور اور جی ٹی روڈ پر مین پائپ لائن کی منتقلی کا کام کیا جائے گا۔ اس تکنیکی کام کے دوران پائپ لائن نیٹ ورک کو محفوظ بنانے کے لیے گیس کی سپلائی کو عارضی طور پر منقطع کرنا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گیس کی بندش کا سلسلہ منگل 20 اکتوبر کی رات 9 بجے سے شروع ہوگا جو بدھ 21 اکتوبر کی صبح 5 بجے تک جاری رہے گا۔ اس دوران متعلقہ علاقوں میں گیس کا دباؤ کم ہونے یا مکمل بندش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایس این جی پی ایل کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق متاثر ہونے والے علاقوں میں پشاور کنٹونمنٹ ایریا، لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) اور اس کے ملحقہ علاقے شامل ہیں۔ ان علاقوں میں ہسپتال کی ضروریات کے پیش نظر متبادل انتظامات کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مزید برآں نوتھیا، گلبرگ، چارسدہ روڈ اور پجاگی روڈ کے رہائشی بھی اس بندش سے متاثر ہوں گے۔ انتظامیہ نے ان تمام علاقوں کے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس دورانیے کے لیے پہلے سے متبادل انتظامات مکمل کر لیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان سوئی ناردرن نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ گیس کی بندش کے دوران اپنے گھروں اور تجارتی مراکز میں گیس کے آلات کو مکمل طور پر بند رکھیں۔ یہ احتیاطی تدبیر گیس کی بحالی کے وقت کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچنے کے لیے ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ گیس کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مرمتی کاموں کی تکمیل کے بعد گیس کی فراہمی کو مقررہ وقت پر بحال کر دیا جائے گا۔ صارفین کی سہولت اور حفاظت کو یقینی بنانا کمپنی کی اولین ترجیح ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پشاور میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے تحت انفراسٹرکچر کی بہتری کا کام جاری ہے جس کے باعث اکثر اوقات یوٹیلیٹی لائنز کی منتقلی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ شہری انتظامیہ اور متعلقہ ادارے ان کاموں کو جلد مکمل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق پائپ لائنز کی منتقلی سے مستقبل میں گیس کے بہاؤ میں بہتری آئے گی اور کسی بھی بڑے حادثے کے خطرات کم ہوں گے۔ اس طرح کے تکنیکی کاموں کے لیے عارضی بندش ایک معمول کا عمل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال یا گیس لیکیج کی شکایت کی صورت میں کمپنی کے ہیلپ لائن نمبرز پر فوری رابطہ کریں۔ ایس این جی پی ایل کی ٹیمیں کام کی نگرانی کے لیے فیلڈ میں موجود رہیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پشاور کے رہائشیوں سے گزارش ہے کہ وہ اس دوران گیس کے چولہوں اور ہیٹر کے والوز کو اچھی طرح چیک کر لیں تاکہ بحالی کے وقت گیس ضائع نہ ہو۔ احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہر صارف کی ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس عارضی بندش کے حوالے سے مزید معلومات کے لیے صارفین کمپنی کی ویب سائٹ یا قریبی ریجنل آفس سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔ انتظامیہ نے شہریوں کے تعاون کا شکریہ ادا کیا ہے جو اس مرمتی کام کے دوران درکار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ مقررہ وقت کے اندر تمام تکنیکی کام مکمل کر لیے جائیں گے تاکہ شہریوں کو معمول کی زندگی میں کم سے کم دشواری کا سامنا کرنا پڑے۔ گیس کی فراہمی کی بحالی کے بعد صورتحال معمول پر آ جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%b4%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%ae%d8%aa%d9%84%d9%81-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اوپن مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a7%d9%88%d9%be%d9%86-%d9%85%d8%a7%d8%b1%da%a9%db%8c%d9%b9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d9%be%db%8c-%d8%ac%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%db%8c%da%ba/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a7%d9%88%d9%be%d9%86-%d9%85%d8%a7%d8%b1%da%a9%db%8c%d9%b9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d9%be%db%8c-%d8%ac%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%db%8c%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 07:17:26 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اوپن_مارکیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_پی_جی]]></category>
		<category><![CDATA[بزنس_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_گیس]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کاروبار_پاکستان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a7%d9%88%d9%be%d9%86-%d9%85%d8%a7%d8%b1%da%a9%db%8c%d9%b9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d9%be%db%8c-%d8%ac%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[سوئی گیس کی قلت اور کم پریشر کے باعث شہریوں کو مہنگے داموں ایل پی جی خریدنا پڑ رہی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اوپن مارکیٹ میں لیکوئفائیڈ پیٹرولیم گیس یعنی ایل پی جی کی قیمتیں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں، جس کے نتیجے میں عام صارفین کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سرد موسم کی آمد اور سوئی گیس کی فراہمی میں تعطل کے باعث شہریوں کا رجحان ایل پی جی کی طرف بڑھتا ہے، تاہم اس دوران قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف علاقوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شہر کے پرچون بازاروں میں ایل پی جی سرکاری نرخوں کے برعکس من مانے داموں فروخت کی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمت چار سو تیس سے لے کر چار سو اسی روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے ایل پی جی کا سرکاری نرخ دو سو اناسی روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود عمل درآمد نظر نہیں آتا۔ سرکاری قیمت اور اوپن مارکیٹ کے ریٹ میں اس بڑے فرق کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقے کے گھریلو صارفین شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوئی گیس کے کم پریشر اور اس کی قلت کے باعث شہریوں کے پاس کھانا پکانے اور دیگر ضروریات کے لیے متبادل ایندھن استعمال کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا۔ اس مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دکاندار اور ڈسٹری بیوٹرز صارفین سے اضافی رقوم وصول کرنے میں مصروف ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک طرف تو سوئی گیس کے بھاری بھرکم بل باقاعدگی سے ادا کر رہے ہیں، اور دوسری طرف انہیں ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے مہنگی ایل پی جی بھی خریدنا پڑ رہی ہے۔ اس دہہرے مالی بوجھ نے سفید پوش طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ مہنگائی کے دور میں گھریلو بجٹ پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے، اور گیس کی اس مصنوعی قلت اور مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی مزید اجیرن کر دی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ بنیادی ضرورت کی اس شے کو خریدنے کے لیے بھی مالی تنگی کا شکار ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ اداروں کی جانب سے بازاروں میں چیکنگ کا موثر نظام نہ ہونے کے باعث ناجائز منافع خوروں کے حوصلے بلند ہیں۔ سرکاری نرخوں پر عمل درآمد کرانے والے ادارے مبینہ طور پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے بلیک مارکیٹنگ عروج پر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں اور سماجی حلقوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لیں۔ ایل پی جی کی اوپن مارکیٹ میں قیمتوں کو قابو میں لایا جائے اور سرکاری نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ناجائز منافع خوری اور بلیک مارکیٹنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہیے تاکہ غریب صارفین کو ریلیف مل سکے۔ سوئی گیس کی بلا تعطل فراہمی اور ایل پی جی کی مناسب داموں دستیابی اس وقت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر کے مختلف شہروں کی طرح صوبائی دارالحکومت میں بھی گیس کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے جس نے عام آدمی کا جینا محال بنا رکھا ہے۔ کم پریشر اور گیس کی غیاب کی شکایات آئے روز بڑھتی جا رہی ہیں مگر متعلقہ اداروں کی طرف سے کوئی خاطر خواہ قدم نہیں اٹھایا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مارکیٹ ذرائع کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ قلت کی بنیادی وجہ طلب اور رسد کا عدم توازن ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض عناصر مصنوعی مہنگائی کو ہوا دے رہے ہیں۔ پرچون سطح پر صارفین کو لوٹنے کا یہ سلسلہ بدستور جاری ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ اس طرح کے حالات میں جب بنیادی اشیائے خورونوش اور ایندھن عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائیں تو معاشرتی مسائل میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ حکومت کو فوری طور پر مارکیٹ کمیٹیوں کو فعال بنانا ہو گا تاکہ غریب عوام کی دادرسی ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام تر دعوؤں کے باوجود زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں جہاں مقررہ نرخوں کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور دکاندار اپنی مرضی کے دام وصول کر رہے ہیں۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ اس گھمبیر مسئلے پر فوری قابو پایا جائے تاکہ عام گھرانوں کا چولہا جل سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a7%d9%88%d9%be%d9%86-%d9%85%d8%a7%d8%b1%da%a9%db%8c%d9%b9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d9%be%db%8c-%d8%ac%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کراچی: اسٹیڈیم روڈ پر گیس لائن لیکیج سے رکشہ جل گیا، ڈرائیور جھلس کر زخمی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%b9%db%8c%da%88%db%8c%d9%85-%d8%b1%d9%88%da%88-%d9%be%d8%b1-%da%af%db%8c%d8%b3-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%86-%d9%84%db%8c%da%a9%db%8c%d8%ac/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%b9%db%8c%da%88%db%8c%d9%85-%d8%b1%d9%88%da%88-%d9%be%d8%b1-%da%af%db%8c%d8%b3-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%86-%d9%84%db%8c%da%a9%db%8c%d8%ac/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 17:57:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیڈیم_روڈ]]></category>
		<category><![CDATA[حادثہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رکشہ_ڈرائیور]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریسکیو_1122]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_گیس]]></category>
		<category><![CDATA[سول_اسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%b9%db%8c%da%88%db%8c%d9%85-%d8%b1%d9%88%da%88-%d9%be%d8%b1-%da%af%db%8c%d8%b3-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%86-%d9%84%db%8c%da%a9%db%8c%d8%ac/</guid>

					<description><![CDATA[واٹر بورڈ کی جانب سے پانی کی لائن بچھانے کے دوران کھدائی سے گیس پائپ لائن متاثر ہوئی، رکشہ ڈرائیور کو تشویشناک حالت میں برنس وارڈ منتقل کر دیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">شہرِ قائد کے مصروف ترین علاقے اسٹیڈیم روڈ پر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں زیرِ زمین گیس لائن میں لیکیج کے باعث ایک رکشہ اچانک آگ کا گولہ بن گیا۔ اس حادثے کے نتیجے میں رکشہ ڈرائیور شدید زخمی ہوا، جسے فوری طور پر طبی امداد کے لیے سول اسپتال کے برنس وارڈ منتقل کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کی تفصیلات کے مطابق نیو ٹاؤن کے قریب ایک نجی اسپتال کے سامنے واٹر بورڈ کا عملہ پانی کی نئی لائن بچھانے کے لیے کھدائی کا کام کر رہا تھا۔ اس دوران احتیاطی تدابیر نہ ہونے کے باعث گیس کی زیرِ زمین لائن کو شدید نقصان پہنچا جس سے گیس کا اخراج شروع ہو گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عینی شاہدین اور سوئی گیس حکام کے مطابق کھدائی کے دوران گیس پائپ لائن متاثر ہونے کی اطلاع واٹر بورڈ کے عملے نے بروقت نہیں دی، جس کی وجہ سے علاقے میں گیس کی بو پھیل گئی اور فضا انتہائی خطرناک ہو گئی۔ اسی دوران وہاں سے گزرنے والا رکشہ حادثے کی زد میں آ گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">زخمی ہونے والے 35 سالہ رکشہ ڈرائیور عمران نے اپنے ابتدائی بیان میں بتایا کہ جیسے ہی اس نے رکشہ اسٹارٹ کرنے کے لیے چابی گھمائی، گیس کے اخراج کی وجہ سے گاڑی میں زوردار دھماکہ ہوا اور آگ بھڑک اٹھی۔ آگ اتنی شدید تھی کہ رکشہ مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خوش قسمتی سے اس حادثے میں رکشے میں سوار ایک خاتون معجزانہ طور پر محفوظ رہیں، تاہم ڈرائیور بری طرح جھلس گیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق متاثرہ ڈرائیور نے یہ رکشہ محض چند روز قبل ہی قسطوں پر خریدا تھا، جو اب مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں، فائر ٹینڈرز اور ایمبولینسیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ ریسکیو اہلکاروں نے سخت جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا، تاہم تب تک رکشہ مکمل طور پر جل چکا تھا۔ علاقے کو فوری طور پر سیل کر کے پولیس کی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوئی گیس کے مقامی عملے نے موقع پر پہنچ کر گیس لیکیج کو بند کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کھدائی کے دوران متعلقہ محکموں کے درمیان رابطے کا فقدان اس حادثے کی بنیادی وجہ بنا، جس سے ایک غریب شہری کا روزگار تباہ ہو گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایس ایچ او نیو ٹاؤن نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس نے جائے وقوعہ کا معائنہ کر لیا ہے اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غفلت کے مرتکب افراد کا تعین کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں جاری ترقیاتی کاموں کے دوران یوٹیلیٹی سروسز کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ کھدائی کے دوران گیس اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچنا معمول بن چکا ہے جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سول اسپتال کے برنس وارڈ میں زیرِ علاج ڈرائیور کی حالت کے بارے میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ نے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے تاکہ ذمہ داران کا تعین کر کے قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسٹیڈیم روڈ جیسے مصروف شاہراہ پر اس طرح کے حادثے نے انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پانی کی لائن بچھانے جیسے کاموں کے دوران سوئی گیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ کوآرڈینیشن انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واٹر بورڈ کے حکام کی جانب سے تاحال اس غفلت پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم مقامی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ ڈرائیور کو اس کے نقصان کا ازالہ فراہم کیا جائے۔ رکشہ ڈرائیور کی حالت کے بارے میں آئندہ چند گھنٹے اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے بعد علاقے میں ٹریفک کی روانی بھی کچھ دیر کے لیے متاثر رہی، جسے بعد ازاں پولیس نے بحال کر دیا۔ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کھدائی والے مقامات کے قریب احتیاط برتیں اور کسی بھی قسم کی گیس کی بو محسوس ہونے پر فوری طور پر حکام کو مطلع کریں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%b9%db%8c%da%88%db%8c%d9%85-%d8%b1%d9%88%da%88-%d9%be%d8%b1-%da%af%db%8c%d8%b3-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%86-%d9%84%db%8c%da%a9%db%8c%d8%ac/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>منقطع سوئی گیس کنکشنز کی بحالی کیلئے کڑی شرائط عائد</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%85%d9%86%d9%82%d8%b7%d8%b9-%d8%b3%d9%88%d8%a6%db%8c-%da%af%db%8c%d8%b3-%da%a9%d9%86%da%a9%d8%b4%d9%86%d8%b2-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%ad%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%85%d9%86%d9%82%d8%b7%d8%b9-%d8%b3%d9%88%d8%a6%db%8c-%da%af%db%8c%d8%b3-%da%a9%d9%86%da%a9%d8%b4%d9%86%d8%b2-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%ad%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 10:37:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_این_جی_ٹیرف]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_کا_شعبہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ری_کُنکشن_فیس]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_گیس]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%85%d9%86%d9%82%d8%b7%d8%b9-%d8%b3%d9%88%d8%a6%db%8c-%da%af%db%8c%d8%b3-%da%a9%d9%86%da%a9%d8%b4%d9%86%d8%b2-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%ad%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%da%a9%da%91/</guid>

					<description><![CDATA[ایک سال سے زائد عرصے تک بند رہنے والے سوئی گیس کنکشنز کو اب نئی شرائط کے ساتھ بحال کیا جائے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سوئی گیس کے صارفین کیلئے ایک اہم فیصلہ سامنے آیا ہے جس کے تحت طویل عرصے سے منقطع رہنے والے کنکشنز کی بحالی کا عمل اب مزید آسان نہیں رہے گا۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے ایسے گیس کنکشنز کو دوبارہ فعال کرنے کیلئے سخت ضوابط اور کڑی شرائط لاگو کر دی گئی ہیں جن پر عمل کرنا صارفین کیلئے ضروری ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ نئی پالیسی ان تمام گھریلو اور دیگر صارفین پر اثرانداز ہوگی جن کے گیس کنکشنز مختلف وجوہات کی بنا پر طویل عرصے سے بند پڑے ہیں۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد گیس کے شعبے میں نظم و ضبط کو بہتر بنانا اور وسائل کا درست استعمال یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹس کے مطابق جو گیس کنکشنز ایک سال یا اس سے زائد عرصے تک منقطع رہے ہوں گے، ان کی بحالی اب عام طریقہ کار کے تحت ممکن نہیں ہوگی۔ اس مدت سے زیادہ بند رہنے والے کنکشنز کے حامل صارفین کو اب سستی گیس کی سہولت میسر نہیں رہے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئی شرائط کے تحت ایک سال سے زائد عرصے سے منقطع گیس کنکشنز کی بحالی کیلئے ایل این جی ٹیرف کی پالیسی کا اطلاق کیا جائے گا۔ یہ پالیسی صرف گھریلو صارفین تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اس کے دائرہ کار میں دیگر تمام کیٹیگریز کے صارفین بھی شامل ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طویل عرصے سے بند کنکشنز کو دوبارہ جاری کروانے کے خواہشمند صارفین کو پہلے ری کنکشن فیس ادا کرنا ہوگی۔ فیس کی ادائیگی کے بعد ہی ان کے منقطع گیس کنکشنز کو بحال کیا جائے گا اور اس کے بعد کا سلسلہ آگے بڑھے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ری کنکشن فیس کی ادائیگی کے بعد بحال ہونے والے ان کنکشنز پر بلنگ کا نظام تبدیل ہو جائے گا۔ بحالی کے بعد ان تمام صارفین کے گیس کے بل روایتی نرخوں کے بجائے ایل این جی ٹیرف کے مطابق جاری کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یہ پالیسی ان صارفین کیلئے بنائی گئی ہے جنہوں نے طویل عرصے تک اپنے کنکشنز کو غیر فعال رکھا یا بلوں کی ادائیگی نہیں کی۔ اب اگر وہ دوبارہ اس سہولت کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں نئی معاشی حقیقتوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گیس کمپنیوں کی جانب سے اس نئی پالیسی پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ تمام ضوابط کو شفاف طریقے سے نافذ کیا جا سکے۔ اس عمل سے گیس کے محکمے کو بھی ریونیو کی وصولی میں بہتری کی توقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں اور صارفین کی بڑی تعداد اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے کیونکہ مہنگائی کے اس دور میں ایل این جی ٹیرف کے تحت بلنگ کا بوجھ اٹھانا ہر خاندان کیلئے آسان نہیں ہوگا۔ تاہم ادارے اپنے طے شدہ اصولوں کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین معاشیات کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے توانائی کے شعبے کے خسارے کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے لیکن دوسری طرف عام آدمی کیلئے یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ محکمے کے حکام کا کہنا ہے کہ صارفین کو چاہیے کہ وہ اپنے کنکشنز سے متعلق امور کو بروقت نمٹائیں تاکہ انہیں مستقبل میں اس قسم کی سخت شرائط اور مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تمام صورتحال میں گیس کمپنیوں کے دفاتر میں بھی اس حوالے سے معلومات حاصل کرنے والے شہریوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ صارفین جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے مخصوص کنکشن پر کتنی فیس لاگو ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی سطح پر توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے اور سوئی گیس کے نظام میں بہتری کیلئے وقتاً فوقتاً ایسے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ان فیصلوں کا مقصد سسٹم کے اندر موجود خامیوں کو دور کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے دنوں میں اس پالیسی کے اثرات مزید واضح ہوں گے جب زیادہ سے زیادہ صارفین اپنے پرانے کنکشنز کی بحالی کیلئے درخواستیں جمع کروائیں گے۔ محکمہ اس پورے عمل کی کڑی نگرانی کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%85%d9%86%d9%82%d8%b7%d8%b9-%d8%b3%d9%88%d8%a6%db%8c-%da%af%db%8c%d8%b3-%da%a9%d9%86%da%a9%d8%b4%d9%86%d8%b2-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%ad%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور میں ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، شہریوں کو مشکلات کا سامنا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d9%be%db%8c-%d8%ac%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d9%be%db%8c-%d8%ac%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 10:16:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_پی_جی]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_گیس]]></category>
		<category><![CDATA[سیوریج]]></category>
		<category><![CDATA[شہری_مسائل]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_مشکلات]]></category>
		<category><![CDATA[گیس_بحران]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/123/</guid>

					<description><![CDATA[صوبائی دارالحکومت میں سوئی گیس کی بندش کے باعث ایل پی جی کی قیمت 450 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں اتوار کے روز مہنگائی کی ایک نئی لہر نے شہریوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں سوئی گیس کی فراہمی معطل ہونے کے باعث عوام ایل پی جی کے حصول کے لیے مارکیٹ کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوئی گیس کی بندش کے باعث ایل پی جی کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دکانداروں نے قیمتوں میں من مانا اضافہ کر دیا ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں ایل پی جی 450 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اتوار کا دن ہونے کے باوجود شہریوں کی بڑی تعداد ناشتے اور دیگر گھریلو ضروریات کے لیے گیس کی تلاش میں دکھائی دی۔ گیس کی عدم دستیابی نے خاص طور پر ان گھرانوں کو متاثر کیا ہے جو کھانا پکانے کے لیے مکمل طور پر سوئی گیس پر انحصار کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کے باعث قوت خرید ختم ہو چکی ہے، اب گیس کی قلت اور قیمتوں میں اضافے نے ان کے بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی موثر اقدام نظر نہیں آ رہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب شہر کے مختلف علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بھی تعطل کا سامنا ہے۔ حسن آباد روڈ پر سیوریج کا نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے سڑک پر گندا پانی جمع ہو گیا ہے، جس سے پیدل چلنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیوریج کا پانی جمع ہونے سے نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے بلکہ علاقے میں تعفن پھیلنے سے شہریوں کی صحت کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ مقامی افراد نے حکام سے فوری طور پر نکاسی آب کے نظام کو درست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر میں گیس کی قلت اور انفراسٹرکچر کے مسائل نے اتوار کے دن شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ایل پی جی کی قیمتوں کو سرکاری نرخوں پر لانے کے لیے فوری کارروائی کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت ایکشن لے تاکہ غریب عوام کو ریلیف مل سکے۔ گیس کی فراہمی کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ شہریوں کو روزمرہ کے امور میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے مختلف بازاروں میں ایل پی جی کی قیمتوں میں فرق بھی دیکھنے میں آیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں کوئی چیک اینڈ بیلنس موجود نہیں ہے۔ دکاندار اپنی مرضی سے قیمتیں وصول کر کے شہریوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حسن آباد روڈ پر سیوریج کے مسائل کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے حادثات کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے، جس کی ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ واسا اور ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ شہر کے نکاسی آب کے نظام کی بہتری کے لیے طویل مدتی منصوبے بنائیں۔ صرف وقتی اقدامات سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ مستقل بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر لاہور کے شہری ایک طرف مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں تو دوسری طرف بنیادی سہولیات کے فقدان نے ان کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ عوام کو امید ہے کہ متعلقہ حکام ان مسائل کا نوٹس لے کر فوری ریلیف فراہم کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d9%be%db%8c-%d8%ac%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
