<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.30.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سوئی_سدرن_گیس_کمپنی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b3%d9%88%d8%a6%db%8c_%d8%b3%d8%af%d8%b1%d9%86_%da%af%db%8c%d8%b3_%da%a9%d9%85%d9%be%d9%86%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 22:26:29 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>سوئی_سدرن_گیس_کمپنی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>کوئٹہ میں گیس بلوں میں اضافے کی وجوہات اور شکایات کے ازالے کیلئے اقدامات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%db%8c%d8%b3-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d9%81%db%92-%da%a9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%db%8c%d8%b3-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d9%81%db%92-%da%a9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Nov 2026 21:28:49 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اوگرا]]></category>
		<category><![CDATA[ایس_ایس_جی_سی]]></category>
		<category><![CDATA[بلوچستان]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_سدرن_گیس_کمپنی]]></category>
		<category><![CDATA[صارفین_کے_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کوئٹہ]]></category>
		<category><![CDATA[گیس_بل]]></category>
		<category><![CDATA[گیس_ٹیرف]]></category>
		<category><![CDATA[گیس_سپلائی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%db%8c%d8%b3-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d9%81%db%92-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[سوئی سدرن گیس کمپنی نے سرد موسم میں گیس کے زیادہ استعمال اور ٹیرف میں تبدیلی کو بلوں میں اضافے کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) نے کوئٹہ میں صارفین کو موصول ہونے والے گیس کے بھاری بلوں کے حوالے سے باضابطہ وضاحت جاری کر دی ہے۔ کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی گیس کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث بلوں کی رقوم بڑھ گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان کے مطابق، بلوں میں اضافے کی ایک اور بڑی وجہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے مقرر کردہ گیس ٹیرف میں ردوبدل ہے۔ کمپنی نے واضح کیا کہ شدید مالی نقصانات کے باوجود کوئٹہ کے صارفین کو گیس کی فراہمی کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایس ایس جی سی کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض صارفین بڑے بلوں سے بچنے کے لیے میٹرز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق ایسے ٹیم پر شدہ میٹرز کی بلنگ کنیکٹڈ لوڈ کی بنیاد پر کی جاتی ہے، جس سے بلوں میں نمایاں فرق آ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپنی نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ اگر انہیں اپنے میٹر کی ریڈنگ پر کسی قسم کا شک ہو تو وہ میٹر تبدیلی اور لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے باقاعدہ درخواست جمع کروا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان نے مزید وضاحت کی کہ اگر میٹر ٹیسٹ کے دوران اضافی چارجز یا ٹیمپرنگ ثابت نہ ہوئی تو صارفین سے وصول کی گئی اضافی رقم انہیں واپس کر دی جائے گی۔ اس عمل کو شفاف بنانے اور صارفین کی سہولت کے لیے کوئٹہ میں ایک خصوصی ہیلپ ڈیسک بھی قائم کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ ہیلپ ڈیسک بلوچستان ریجنل آفس میں کام کرے گا اور کوئٹہ کے ریجنل منیجر کی براہِ راست نگرانی میں صارفین کی شکایات کا ازالہ کرے گا۔ کمپنی نے اس اقدام کا مقصد صارفین کے خدشات کو دور کرنا اور بلنگ کے عمل کو شفاف بنانا قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوئی سدرن گیس کمپنی کے مطابق کوئٹہ میں گیس کی فراہمی کو یقینی بنانا کمپنی کی ترجیح ہے۔ شدید سردی کے موسم میں گیس کی طلب میں اضافے کے باوجود کمپنی اپنے وسائل کے مطابق فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپنی نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ گیس کے محتاط استعمال کو یقینی بنائیں تاکہ بلوں میں غیر ضروری اضافے سے بچا جا سکے۔ گیس کی بچت نہ صرف صارفین کے اپنے مالی مفاد میں ہے بلکہ اس سے سسٹم پر دباؤ بھی کم ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان کا کہنا ہے کہ میٹرز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ یہ دیگر صارفین کے لیے بھی مسائل کا باعث بنتی ہے۔ کمپنی کی جانب سے میٹرز کی نگرانی کا عمل بھی جاری رہتا ہے تاکہ گیس کے ضیاع کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کوئٹہ میں قائم نیا ہیلپ ڈیسک صارفین کی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے فعال کر دیا گیا ہے۔ صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی شکایات کے اندراج کے لیے متعلقہ ریجنل آفس سے رابطہ کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوگرا کے مقرر کردہ ٹیرف کے بارے میں کمپنی نے کہا کہ یہ ایک سرکاری عمل ہے جس پر عمل درآمد کرنا کمپنی کی ذمہ داری ہے۔ ٹیرف میں تبدیلی کے اثرات گیس کے بلوں پر براہِ راست مرتب ہوتے ہیں، خاص طور پر سردیوں کے دوران جب گیس کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%db%8c%d8%b3-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d9%81%db%92-%da%a9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
