<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سوئی_سدرن &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b3%d9%88%d8%a6%db%8c_%d8%b3%d8%af%d8%b1%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:33:57 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>سوئی_سدرن &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>سردیوں میں گیس کی طلب پوری کرنے کے لیے ایل این جی کے 18 کارگو خریدنے کا ہدف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1691/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1691/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 08:37:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اوگرا]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_این_جی]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_پی_جی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرولیم_ڈویژن]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_سدرن]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_ناردرن]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%b3%d8%b1%d8%af%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d9%84%d8%a8-%d9%be%d9%88%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[پنجاب میں موسم سرما کے دوران گیس کی ضرورت ایک ارب مکعب فٹ تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">آنے والے موسم سرما کے دوران ملک میں گیس کی بڑھتی ہوئی طلب اور رسد کے درمیان فرق کو کم کرنے کے لیے اہم انتظامی فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے مطابق اس سال سردیوں کے سیزن میں ایل این جی کے اٹھارہ کارگو خریدنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی کو مجموعی طور پر ایک ارب چالیس کروڑ مکعب فٹ مقامی گیس دستیاب ہے۔ اس کے مقابلے میں صرف صوبہ پنجاب کی اکیلے گیس کی ضروریات موسم سرما کے دوران ایک ارب مکعب فٹ تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے درآمدی حکمت عملی کے تحت قطر سے نسبتاً سستی مائع قدرتی گیس کی درآمد کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی کی خریداری کے لیے تیس ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کو آخری حد مقرر کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے اس صورتحال پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موسم سرما کے دوران ملک کی مجموعی گیس کی ضروریات کو احسن طریقے سے پورا کرنے کے لیے چوبیس کارگو درکار ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کے بیشتر حصوں میں موسم سرما کے دوران گھریلو اور صنعتی صارفین کی جانب سے گیس کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس موسمی اضافے سے نمٹنے کے لیے متعلقہ ادارے پیشگی تیاریوں اور درآمدی منصوبوں پر عمل پیرا ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقومی گیس کے ذخائر میں بتدریج کمی اور طلب میں اضافے کے باعث حکومت کو درآمدی ایل این جی پر انحصار بڑھانا پڑتا ہے۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا ماننا ہے کہ بروقت فیصلے اور درست منصوبہ بندی ہی بحران سے بچنے کا واحد حل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توانائی کی وزارت اور متعلقہ حکام ملک بھر کے تمام صارفین کو بلا تعطل گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ سردیوں کے ان مہینوں میں بالخصوص گھریلو صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے پیٹرولیم ڈویژن کے حکام بین الاقوامی منڈی کے اتار چڑھاؤ پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ درآمدی اخراجات کو قابو میں رکھتے ہوئے توانائی کی ضروریات پوری کرنا موجودہ معاشی چیلنجز میں اہم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موسمی تبدیلیوں کے ساتھ ہی ملک میں گیس کی کھپت کا گراف تیزی سے اوپر کی طرف جانا شروع ہو جاتا ہے۔ سردیوں کے ایام میں ہیٹروں اور گیس گیزرز کے مسلسل استعمال سے گھریلو سیکٹر پر دباؤ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ محکموں کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مقامی گیس کے کنوؤں سے پیداوار میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ درآمدی ایل این جی پر انحصار ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ طلب اور رسد کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی حلقوں کی جانب سے بین الاقوامی معاہدوں بالخصوص طویل مدتی ایل این جی سپلائی کے معاہدوں کو بہتر بنانے پر بھی کام جاری ہے۔ اس کا مقصد ملکی مبادلہ کے ذخائر کو بچانا اور عوام کو سستی توانائی کی فراہمی کو ممکن بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صنعتی شعبے کو بھی موسم سرما میں گیس کی مسلسل فراہمی چیلنج بنی رہتی ہے تاکہ برآمدی صنعتیں متاثر نہ ہوں۔ توانائی کی ترسیل کے اس پورے نظام کو چلانے کے لیے تمام متعلقہ کمپنیاں باہم مل کر حکمت عملی طے کرتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوگرا اور دیگر ریگولیٹری اداروں کے کردار پر بھی مختلف حلقوں کی طرف سے آراء سامنے آتی رہتی ہیں جن کا مقصد شعبے میں بہتری لانا ہے۔ عوام اور تاجر برادری کی جانب سے بھی سردیوں کے سیزن میں گیس کی بلا تعطل دستیابی کے مطالبات کیے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے توانائی کے متبادل ذرائع اور درآمدی راہداریوں پر بھی غور کیا جاتا ہے تاکہ ملکی معیشت کو استحکام مل سکے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لاتے ہوئے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1691/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کے الیکٹرک نے شہر میں عارضی لوڈ مینجمنٹ ختم کرنے کا اعلان کر دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/karachi/649/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/karachi/649/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 13:37:20 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آر_ایل_ين_جی]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_کا_تعطل]]></category>
		<category><![CDATA[بن_قاسم_پاور_پلانٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_سدرن]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%84%db%8c%da%a9%d9%b9%d8%b1%da%a9-%d9%86%db%92-%d8%b4%db%81%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d8%b6%db%8c-%d9%84%d9%88%da%88-%d9%85%db%8c%d9%86%d8%ac%d9%85%d9%86%d9%b9/</guid>

					<description><![CDATA[ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ آر ایل این جی کی سپلائی بحال ہونے اور پاور پلانٹ سے بجلی کی پیداوار مستحکم ہونے پر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی کے شہریوں کے لیے بجلی کے حوالے سے ایک اہم اور خوش آئند پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں پاور یوٹیلیٹی ادارے نے شہر قائد میں عارضی بنیادوں پر نافذ کی جانے والی لوڈ مینجمنٹ کو فوری طور پر ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ ادارے کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق یہ فیصلہ گیس کی فراہمی معمول پر آنے کے بعد عمل میں لایا گیا ہے تاکہ صارفین کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان کے الیکٹرک نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ متعلقہ اداروں کی جانب سے آر ایل این جی کی سپلائی مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہے جس کے بعد بجلی کی پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس بحالی کے نتیجے میں بن قاسم پاور پلانٹ تھری سے بجلی کی پیداوار اب مکمل طور پر مستحکم ہو چکی ہے اور پلانٹ مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کر رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادارے کے مطابق گیس کی ترسیل میں تعطل کی وجہ سے عارضی طور پر جو تکنیکی اور انتظامی مسائل پیدا ہوئے تھے ان پر کامیابی سے قابو پا لیا گیا ہے اور اب ترسیلی نظام معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔ بجلی کی پیداوار بڑھنے کے بعد کسی بھی اضافی یا ہنگامی نوعیت کی مینجمنٹ کی ضرورت باقی نہیں رہی ہے اور حالات پوری طرح قابو میں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کے الیکٹرک نے اس تمام صورتحال کے دوران بھرپور تعاون فراہم کرنے پر پاکستان ایل این جی لمیٹڈ اور دیگر متعلقہ سرکاری حکام کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔ ادارے کا ماننا ہے کہ حکام کے بروقت تعاون اور باہمی رابطہ کاری سے ہی ایندھن کی فراہمی کو قبل از وقت ممکن بنایا جا سکا ہے جو کہ ایک مثبت قدم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادارے کے ترجمان نے اس مشکل وقت میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے والے تمام صارفین کے لیے بھی گہرے تشکر کا اظہار کیا ہے جنہیں عارضی بندش کی وجہ سے روزمرہ امور میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ صارفین کی مشکلات کو ہمیشہ مدنظر رکھا جاتا ہے اور ترسیل کی بحالی کو ادارے نے اپنی اولین ترجیح بنایا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم ترجمان کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ عارضی لوڈ مینجمنٹ کے خاتمے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ شہر بھر سے تمام تر بجلی کی بندش مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔ روایتی اور معمول کے شیڈول کے مطابق بجلی کی فراہمی میں تعطل کا سلسلہ بدستور اپنے طے شدہ ضابطوں کے تحت جاری رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق جن علاقوں میں بجلی چوری کی شرح زیادہ ہے یا بلوں کی مد میں ریکوری کا تناسب انتہائی کم ہے وہاں پہلے سے طے شدہ شیڈول کے تحت عارضی تعطل جاری رہے گا۔ یہ پالیسی ادارے کے مالیاتی نقصانات کو کم کرنے اور سسٹم کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے تاکہ دیانتدار صارفین متاثر نہ ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معمول کے مطابق کی جانے والی روایتی لوڈ شیڈنگ کا تفصیلی شیڈول کے الیکٹرک کی باضابطہ ویب سائٹ پر عوام کی سہولت کے لیے پہلے ہی ہر وقت دستیاب ہے۔ صارفین اپنے متعلقہ علاقے کا یہ شیڈول آن لائن دیکھ سکتے ہیں تاکہ وہ اپنی روزمرہ کی کاروباری اور گھریلو سرگرمیوں کو اسی مناسبت سے باآسانی ترتیب دے سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ چند روز قبل کے الیکٹرک کی جانب سے یہ اہم اطلاع دی گئی تھی کہ آر ایل این جی کی سپلائی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سے پاور پلانٹس کو مطلوبہ مقدار میں ایندھن فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ اس کمی کے باعث ادارے کو مجبورا عارضی لوڈ مینجمنٹ کا ناگزیر لائحہ عمل اپنانا پڑا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سابقہ اعلان کے بعد شہر کے مختلف حصوں میں بجلی کی فراہمی جزوی طور پر متاثر ہوئی تھی جس پر شہریوں اور کاروباری حلقوں کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ اب سپلائی بہتر ہونے کے بعد حالات بتدریج معمول پر آنے کی طرف گامزن ہیں اور مجموعی پیداوار میں استحکام دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترسیلی نظام کو بلا تعطل مستحکم رکھنے کے لیے ادارے کی تکنیکی ٹیمیں فیلڈ میں مسلسل متحرک اور چوکس ہیں۔ کے الیکٹرک کا عزم ہے کہ وہ اپنے تمام صارفین کو معیاری اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لاتی رہے گی تاکہ کسی بھی ناگوار اور ہنگامی صورتحال سے بروقت بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ ملک کے مجموعی توانائی کے منظر نامے میں دیگر اہم پیشرفت بھی جاری ہیں جن سے معیشت اور عام آدمی کو ریلیف ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ حکومتی سطح پر توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور ترسیلی نیٹ ورک کی بہتری کے لیے طویل المدتی منصوبوں پر بھی بیک وقت کام جاری ہے جو کہ خوش آئند ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر قائد میں صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بجلی کی بلاتعطل فراہمی انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اس تازہ فیصلے سے کاروباری طبقے کو بھی بڑا ریلیف ملے گا۔ کے الیکٹرک انتظامیہ کا عزم ہے کہ وہ آئندہ بھی اس قسم کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پیشگی حکمت عملی کے تحت اقدامات جاری رکھے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/karachi/649/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان کو اکتوبر کا پہلا ایل این جی کارگو موصول، سردیوں میں گیس کی طلب میں اضافے کا خدشہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/524/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/524/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 04:36:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_این_جی]]></category>
		<category><![CDATA[اینگرو_ٹرمینل]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_کا_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_سدرن]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_ناردرن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[صنعت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-%d8%a7%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%81%d9%84%d8%a7-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d8%a7%db%8c%d9%86-%d8%ac%db%8c-%da%a9%d8%a7%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[قطر سے آنے والا گیس بردار جہاز اینگرو ٹرمینل پر لنگر انداز ہو گیا، تاہم موسم سرما میں طلب اور رسد میں فرق برقرار رہنے کا امکان ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کو اکتوبر کے مہینے میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا پہلا کارگو موصول ہو گیا ہے، جس سے ملک میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ یہ کارگو قطر سے لایا گیا ہے جو ملکی توانائی کی ضروریات کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گیس بردار جہاز &#039;العرِیش&#039; منگل کے روز صبح 11 بج کر 5 منٹ پر اینگرو کے ایل این جی ٹرمینل پر پہنچا اور لنگر انداز ہوا۔ جہاز کے پہنچنے کے بعد دوپہر 12 بجے سے گیس کو دوبارہ قدرتی حالت میں تبدیل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگرچہ یہ کارگو موصول ہو چکا ہے، تاہم ماہرین اور متعلقہ حکام کی جانب سے موسم سرما 2026-27 کے دوران گیس کی فراہمی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ملک میں سردیوں کے موسم میں گیس کی طلب میں غیر معمولی اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعداد و شمار کے مطابق، موسم سرما کے دوران ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایل این جی کے مجموعی طور پر 24 کارگوز کی ضرورت درکار ہوگی۔ گیس کی یہ مقدار صنعتوں اور گھریلو صارفین کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان کے نیٹ ورک پر گیس کی طلب موجودہ 550 ملین مکعب فٹ یومیہ سے بڑھ کر 1550 ملین مکعب فٹ یومیہ تک پہنچنے کا امکان ہے، جو ایک بڑا فرق ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے نظام میں بھی طلب میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ کمپنی کی طلب موجودہ 300 ملین مکعب فٹ یومیہ سے بڑھ کر 500 ملین مکعب فٹ یومیہ تک جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس سے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گیس کی طلب اور رسد میں اس بڑے فرق کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ موسم سرما کے دوران مختلف شعبوں کو گیس کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں ترجیحات کا تعین کرنا حکام کے لیے ایک چیلنج ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خدشات کے مطابق، گیس کی محدود دستیابی کے پیش نظر برآمدی صنعتوں، غیر برآمدی صنعتوں، سی این جی سیکٹر اور سیمنٹ کے کارخانوں کو گیس کی فراہمی متاثر ہونے کا امکان ہے۔ ان شعبوں میں گیس کی قلت سے پیداواری عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان ماضی میں بھی موسم سرما کے دوران گیس کے شدید بحرانوں کا سامنا کر چکا ہے، جس کے پیش نظر اب حکام زیادہ محتاط دکھائی دیتے ہیں۔ گیس کی بچت اور متبادل ذرائع کا استعمال بھی اس بحران سے نمٹنے کے لیے تجویز کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کی معاشی ترقی کے لیے صنعتوں کو بلا تعطل گیس کی فراہمی ناگزیر ہے، کیونکہ گیس کی قلت سے نہ صرف برآمدات متاثر ہوتی ہیں بلکہ روزگار کے مواقع بھی کم ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ حکومت اس صورتحال کو مانیٹر کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر، اکتوبر میں موصول ہونے والا یہ پہلا کارگو ایک مثبت قدم ہے، تاہم آنے والے مہینوں میں گیس کی فراہمی کو یقینی بنانا ایک بڑا امتحان ہوگا۔ توانائی کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ادارے مسلسل صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/524/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
