<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سماجی_انصاف &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%ac%db%8c_%d8%a7%d9%86%d8%b5%d8%a7%d9%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:31:16 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>سماجی_انصاف &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>ریپ کیس: ملزم کے خاندان کی جانب سے متاثرہ لڑکی کو کروڑوں کی پیشکش کا انکشاف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2087/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2087/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 02:57:45 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف_کی_فراہمی]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم_کا_خاتمہ]]></category>
		<category><![CDATA[خواتین_کا_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریپ_کیس]]></category>
		<category><![CDATA[سماجی_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_نظام]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b1%db%8c%d9%be-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d9%85%d9%84%d8%b2%d9%85-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%b3%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ انصاف کی فراہمی میں مالی اثر و رسوخ کا استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں ریپ کے واقعات اور ان کے بعد متاثرہ خواتین پر پڑنے والے دباؤ کے حوالے سے تشویشناک انکشافات کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک حالیہ ریپ کیس میں ملزم کے بااثر اور امیر خاندان کی جانب سے متاثرہ لڑکی کو مقدمہ واپس لینے کے عوض بھاری رقم کی پیشکش کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ملزم کے اہل خانہ کی جانب سے متاثرہ لڑکی کو ڈیڑھ سے دو کروڑ روپے تک کی پیشکش کی گئی تاکہ وہ اپنے الزامات سے دستبردار ہو جائے۔ یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں کی گئی جب متاثرہ لڑکی کا بیان دفعہ 164 کے تحت پہلے ہی ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مریم نواز نے مزید کہا کہ اس کیس کے حوالے سے یہ سنگین الزام بھی سامنے آیا ہے کہ جس جج نے ملزم کو ضمانت دی تھی، انہیں بھی مبینہ طور پر رشوت دی گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نظامِ انصاف کی ساکھ کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ پنجاب نے واضح کیا کہ ریپ جیسے گھناؤنے جرائم میں متاثرہ خواتین کو ہر صورت تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت اور دولت کے بل بوتے پر قانون کو خریدنے کی کوششیں کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابل قبول ہیں اور انصاف کو کبھی بھی فروخت نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مریم نواز نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اس طرح کے تمام مقدمات کی خود نگرانی کریں گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی ملزم محض اپنے پیسے یا اثر و رسوخ کی وجہ سے قانون کی گرفت سے نہ بچ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پنجاب کی جانب سے اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرنے کا مقصد متاثرہ خواتین کا اعتماد بحال کرنا اور انہیں انصاف کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ کیسز کی شفاف تحقیقات کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانونی ماہرین کے مطابق دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ ہونے کے بعد کیس کی نوعیت کافی مضبوط ہو جاتی ہے، تاہم ملزمان کی جانب سے متاثرہ فریق پر دباؤ ڈالنا یا مالی لالچ دینا انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔ ایسے اقدامات سے عدالتی عمل متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ متاثرہ خواتین کو کسی بھی قسم کے مالی یا سماجی دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے اس معاملے میں مداخلت اور سخت نگرانی کے اعلان کو عوامی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس معاملے پر مزید قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ تحقیقات کے بعد حقائق منظر عام پر آئیں گے۔ حکومت پنجاب نے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی ملزم کو رعایت نہیں دی جائے گی اور قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ ایسے کیسز میں ملوث افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے تاکہ معاشرے میں ایک مثال قائم ہو سکے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا یہ بیان اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، وزیراعلیٰ نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ انصاف کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس کیس کی ہر پہلو سے تحقیقات کریں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2087/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ملتان: جبری مشقت سے انکار پر 15 سالہ یتیم بچے کو گاڑی تلے کچل کر قتل کر دیا گیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/crime/1532/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/crime/1532/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 23:57:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[جرم و سزا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اختر_فاروق]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[توقیر_نذیر]]></category>
		<category><![CDATA[جبری_مشقت]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سماجی_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[سی_سی_ٹی_وی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d8%a8%d8%b1%db%8c-%d9%85%d8%b4%d9%82%d8%aa-%d8%b3%db%92-%d8%a7%d9%86%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d9%be%d8%b1-15-%d8%b3%d8%a7%d9%84%db%81-%db%8c%d8%aa%db%8c%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمان کو بچے کا پیچھا کرتے اور جان بوجھ کر گاڑی چڑھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملتان کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے میں 15 سالہ یتیم لڑکے کو مبینہ طور پر جبری مشقت سے انکار کرنے پر گاڑی تلے کچل کر قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے نے علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی اطلاعات کے مطابق مقتول لڑکا ایک مقامی این جی او کے یتیم خانے میں مقیم تھا، جہاں سے اسے سات روز قبل الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے ملزم توقیر نذیر کے پاس بھیجا گیا تھا۔ ملزم مختلف عمارتوں میں بجلی کے کام کے ٹھیکے لیتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ لڑکے نے جب کام کرنے سے انکار کیا اور وہاں سے جانے کی کوشش کی تو ملزمان نے اس کا تعاقب شروع کر دیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیجز میں لڑکے کو بھاگتے اور ملزمان کو گاڑی میں اس کا پیچھا کرتے دیکھا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف زاویوں سے سامنے آنے والی سی سی ٹی وی ویڈیوز میں یہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزمان نے لڑکے کو جان بوجھ کر تیز رفتار گاڑی کے نیچے کچلا۔ یہ واقعہ حادثہ نہیں بلکہ ایک ظالمانہ قتل کی واردات معلوم ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے بعد پولیس فوری طور پر حرکت میں آئی اور مرکزی ملزم توقیر نذیر کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے اپنی مدعیت میں مقتول کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور واقعے کی مزید تحقیقات کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سی پی او ملتان اختر فاروق نے میڈیا کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران مقتول پر چوری یا کسی اور قسم کے الزام کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ماضی میں بھی یتیم خانے کے بچے اس ملزم کے پاس تربیت حاصل کرنے کے لیے جاتے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کے مطابق ملزمان نے اس واقعے کو حادثہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم سی سی ٹی وی کیمروں میں محفوظ ہونے والے مناظر نے ان کے جھوٹ کا پردہ چاک کر دیا۔ ویڈیوز میں ملزمان کی سفاکیت واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقتول لڑکے کے لواحقین، جن میں اس کے چچا اور ماموں شامل ہیں، قانونی کارروائی کے بعد لاش کو اپنے آبائی علاقے مظفرگڑھ لے گئے ہیں۔ اہل خانہ نے واقعے پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماجی حلقوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یتیم بچوں کے ساتھ اس طرح کا ظالمانہ سلوک ناقابل برداشت ہے اور ملوث افراد کو سخت ترین سزا دی جانی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ اس گھناؤنی واردات میں اور کون کون ملوث تھا۔ تفتیشی ٹیمیں شواہد اکٹھے کر رہی ہیں تاکہ ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے نے بچوں کے تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے اداروں کے کردار پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ یتیم بچوں کو کام پر بھیجنے والے اداروں کی بھی سخت نگرانی کی جانی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملزم کو قانون کے مطابق سخت سزا دلوائی جائے گی۔ سی پی او ملتان نے کہا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے بعد ہاؤسنگ سوسائٹی کے رہائشیوں میں بھی خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ پولیس نے علاقے میں سیکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لیا ہے اور مزید شواہد کی تلاش کے لیے علاقے کی ناکہ بندی اور تفتیش کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/crime/1532/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سندھ ہاری کمیٹی: کسانوں کے حقوق اور مائی بختاور کی لازوال قربانی کی داستان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/737/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/737/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 21:57:06 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کی_تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[تاریخی_جدوجہد]]></category>
		<category><![CDATA[جاگیردارانہ_نظام]]></category>
		<category><![CDATA[حیدربخش_جتوئی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زرعی_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[سماجی_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_ٹیننسی_ایکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%db%81%d8%a7%d8%b1%db%8c-%da%a9%d9%85%db%8c%d9%b9%db%8c-%da%a9%d8%b3%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%82%d9%88%d9%82-%d8%a7%d9%88%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[سندھ ہاری کمیٹی نے قیام کے بعد سے جاگیردارانہ نظام کے خلاف کسانوں کے حقوق اور زرعی اصلاحات کے لیے ایک طویل اور تاریخی جدوجہد کی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">برصغیر میں سماجی انصاف اور مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے ہونے والی تحریکوں میں سندھ ہاری کمیٹی کی جدوجہد ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ 1930 کی دہائی میں قائم ہونے والی اس تنظیم نے کسانوں، مزدوروں اور دانشوروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے جاگیردارانہ استحصال کے خلاف آواز بلند کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تحریک کا بنیادی مقصد ہاریوں کو ان کی محنت کا جائز معاوضہ دلانا اور فصل کی پیداوار میں آدھی بٹائی کا حق حاصل کرنا تھا۔ اس مقصد کے لیے کامریڈ حیدربخش جتوئی نے اپنی سرکاری ملازمت چھوڑ کر کسانوں کی قیادت سنبھالی اور سندھ بھر میں منظم تحریک کا آغاز کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحریک کے دوران مائی بختاور لاشاری کی قربانی نے تاریخ میں ایک انمٹ نقش چھوڑا۔ جون 1947 میں جب گاؤں کے مرد ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے ہوئے تھے، مائی بختاور نے اناج کے ذخائر کو غیر مقامی جاگیرداروں کے قبضے سے بچانے کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مائی بختاور کی شہادت نے سندھ کے کسانوں میں ایک نئی روح پھونک دی۔ اس واقعے کے بعد قانونی لڑائی لڑی گئی جس کے نتیجے میں ذمہ داران کو سزائیں ہوئیں۔ یہ واقعہ آج بھی کسانوں کے لیے اپنے حقوق کے تحفظ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سندھ ہاری کمیٹی نے قیام پاکستان کے بعد بھی اپنی جدوجہد جاری رکھی اور زرعی اصلاحات کے لیے مسلسل آواز اٹھائی۔ تنظیم کا مطالبہ تھا کہ بڑی جاگیرداریاں ختم کی جائیں اور زمینوں کی ازسرنو تقسیم کے ذریعے کسانوں کو ان کا حق دیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تحریک میں صرف سیاسی کارکن ہی نہیں بلکہ علمائے کرام اور سماجی رہنما بھی شامل تھے۔ کامریڈ حیدربخش جتوئی کی قیادت میں تنظیم نے سندھ اسمبلی کے سامنے مظاہرے کیے اور سندھ ٹیننسی ایکٹ کی منظوری میں کلیدی کردار ادا کیا، جس سے کسانوں کو قانونی تحفظ ملا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے میں مشینی دور کے آغاز اور سیاسی تبدیلیوں نے ہاری تحریک کی نوعیت کو تبدیل کر دیا۔ تاہم، کسانوں کے حقوق اور زمین کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ آج بھی سندھ کے زرعی حلقوں میں ایک اہم موضوع کی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا ماننا ہے کہ سندھ ہاری کمیٹی کی تاریخ کسانوں کو منظم کرنے اور انہیں ان کے بنیادی حقوق سے آگاہ کرنے کی ایک روشن مثال ہے۔ اس تحریک نے ثابت کیا کہ اجتماعی جدوجہد کے ذریعے استحصالی نظام کے خلاف کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سندھ ٹیننسی ایکٹ میں مختلف ادوار میں کی گئی ترامیم پر بھی ماہرین کی جانب سے بحث کی جاتی رہی ہے۔ کسانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے وقتاً فوقتاً آواز اٹھائی جاتی ہے تاکہ انہیں جدید غلامی سے بچایا جا سکے اور ان کی معاشی حالت بہتر بنائی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مائی بختاور کی قربانی اور ہاری کمیٹی کی جدوجہد سندھ کی سیاسی و سماجی تاریخ کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔ ان واقعات سے حاصل ہونے والا سبق آج بھی کسانوں کو اپنے جائز حقوق کے لیے پرامن اور قانونی جدوجہد کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سندھ میں زرعی اصلاحات کے نفاذ اور کسانوں کو زمین کا حق دینے کے لیے کی جانے والی کوششیں اس تحریک کے تسلسل کا حصہ ہیں۔ کامریڈ حیدربخش جتوئی اور ان کے ساتھیوں کی کاوشوں کو آج بھی سندھ کے عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آج کے دور میں جب زراعت کے طریقے بدل چکے ہیں، کسانوں کو درپیش مسائل بھی نئے رخ اختیار کر چکے ہیں۔ ہاری کمیٹی کی تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کسانوں کی خوشحالی کے بغیر ملکی معیشت کی ترقی کا خواب ادھورا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، سندھ ہاری کمیٹی کی یہ تاریخی جدوجہد اس بات کا ثبوت ہے کہ جب کوئی طبقہ اپنے حقوق کے لیے متحد ہو جائے تو اسے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ مائی بختاور کا نام سندھ کی تاریخ میں ہمیشہ ایک سورما کے طور پر زندہ رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/737/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
