<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سفارتی_دورہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b3%d9%81%d8%a7%d8%b1%d8%aa%db%8c_%d8%af%d9%88%d8%b1%db%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 22:26:30 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>سفارتی_دورہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>صدر آصف علی زرداری کا دورہ جرمنی: گارڈ آف آنر پیش، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2085/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2085/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 02:38:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[برلن]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_جرمنی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[تجارتی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[جرمنی]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_دورہ]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b5%d8%af%d8%b1-%d8%a2%d8%b5%d9%81-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d8%b2%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%af%d9%88%d8%b1%db%81-%d8%ac%d8%b1%d9%85%d9%86%db%8c-%da%af%d8%a7%d8%b1%da%88/</guid>

					<description><![CDATA[صدر مملکت آصف علی زرداری جرمنی کے سرکاری دورے پر برلن پہنچ گئے جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا اور انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">صدر مملکت آصف علی زرداری جرمنی کے صدر فرینک والٹر شٹائن مائر کی خصوصی دعوت پر ایک اہم سرکاری دورے پر جرمنی پہنچ گئے ہیں۔ اس دورے کو دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جرمن وزارت دفاع میں صدر آصف علی زرداری کے اعزاز میں ایک پروقار استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جرمنی کے صدر فرینک والٹر شٹائن مائر نے خود صدر مملکت کا استقبال کیا، جس کے بعد انہیں پاک فوج کے دستے کی طرز پر جرمن مسلح افواج کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ دورہ اس لحاظ سے بھی تاریخی اہمیت کا حامل ہے کہ گزشتہ 23 برسوں کے طویل عرصے کے بعد کسی بھی پاکستانی سربراہ مملکت کا یہ پہلا دورہ جرمنی ہے۔ اس موقع پر دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ بھی منا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر مملکت کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی موجود ہے جو مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے اپنے جرمن ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت کرے گا۔ اس دورے کا مقصد دوطرفہ سیاسی، اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو نئی جہتوں سے روشناس کرانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقاتوں کے دوران دونوں رہنما علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ اس کے علاوہ، معاشی تعاون کو بڑھانے اور مختلف شعبوں میں باہمی اشتراک کے مواقع تلاش کرنے پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سفارتی ماہرین کے مطابق، صدر آصف علی زرداری کا یہ دورہ پاکستان اور جرمنی کے مابین دیرینہ تعلقات کو ایک نئی بلندی پر لے جانے میں معاون ثابت ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بھی اہم پیش رفت متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جرمنی کے صدر فرینک والٹر شٹائن مائر کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں پاکستان کی جانب سے خطے میں امن و استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔ صدر مملکت جرمن قیادت کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے بھی آگاہ کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور جرمنی کے مابین گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے قائم دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مزید گہرے ہوئے ہیں۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون کی فضا کو مزید سازگار بنانے کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر مملکت کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی سطح پر بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر پاکستان اور یورپی ممالک کے مابین قریبی رابطے ناگزیر ہیں۔ جرمنی یورپی یونین کا ایک اہم رکن ملک ہے اور پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دورے کے دوران صدر مملکت جرمنی کے دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداران سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ مفادات کے حامل امور پر بات چیت کی جائے گی تاکہ باہمی تعاون کے نئے شعبوں کی نشاندہی کی جا سکے اور موجودہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی جانب سے جرمنی کے ساتھ تکنیکی اور تعلیمی شعبوں میں بھی تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلوں اور عوام کے مابین رابطوں کو فروغ دینے پر بھی اتفاق رائے پایا جاتا ہے جو تعلقات کی بنیاد ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر آصف علی زرداری کا یہ دورہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اہم اہداف کی تکمیل کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ اس دورے کے اختتام پر دونوں ممالک کی جانب سے مشترکہ اعلامیے کے جاری ہونے کا امکان ہے جس میں تعاون کے نئے معاہدوں کا ذکر ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جرمن میڈیا اور حکومتی حلقوں کی جانب سے بھی صدر مملکت کے اس دورے کو انتہائی گرمجوشی سے دیکھا جا رہا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ یہ دورہ نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ معاشی اور تجارتی میدان میں بھی پاکستان کے لیے خوشگوار نتائج کا حامل ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2085/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عمان کے سلطان کا 44 سال بعد برطانیہ کا دورہ، شاہ چارلس نے حدیث سنا دی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1834/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1834/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 10:57:32 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آبنائے_ہرمز]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[برطانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[برطانیہ_عمان_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_المللی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[حدیث_رسول]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_دورہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b9%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%b3%d9%84%d8%b7%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-44-%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d8%a8%d8%b1%d8%b7%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[برطانیہ کے شاہ چارلس نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق کا خیرمقدم کیا اور صحیح مسلم کی حدیث سنائی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">برطانیہ کے شاہ چارلس نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق کا شاندار استقبال کیا ہے جو چوالیس برس کے طویل عرصے کے بعد برطانیہ کے پہلے سرکاری دورے پر پہنچے ہیں۔ اس تاریخی دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینا اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو وسعت دینا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شاہ چارلس نے اپنے خصوصی خطاب کے دوران مہمانِ گرامی کا خیرمقدم کیا اور دونوں ممالک کے مابین دیرینہ اور تاریخی تعلقات کو خوش آئند قرار دیا۔ اس موقع پر تقریب میں برطانوی شاہی خاندان کے دیگر اہم اراضی اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے دوران برطانوی بادشاہ نے اپنے خطاب میں اسلامی روایات کا ذکر کیا اور صحیح مسلم کی ایک مبارک حدیثِ رسول عربی زبان میں پڑھ کر سنائی۔ انہوں نے اس حدیث کے ذریعے عمانی عوام کے شاندار کردار اور اخلاق کی بھرپور تحسین کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شاہ چارلس کی جانب سے پڑھی گئی حدیث کا مفہوم یہ بیان کیا گیا کہ اگر کوئی شخص عمان کے باسیوں کے پاس جاتا تو وہ مہمان نواز لوگ نہ تو کسی کو گالی دیتے اور نہ ہی کسی پر ہاتھ اٹھاتے۔ برطانوی شاہ کا یہ انداز دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان ثقافتی اور اخلاقی قربت کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطاب کے دوران برطانوی بادشاہ نے خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے سلطنتِ عمان کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے خاص طور پر آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور بحری تجارت کے تحفظ کے لیے عمانی حکومت کے مثبت کردار کی تعریف کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سلطان ہیثم بن طارق کا یہ دورہ دونوں ممالک کی قیادت کے مابین سیاسی ڈائیلاگ کو مزید مستحکم کرے گا اور مستقبل میں مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ مبصرین اس دورے کو دوطرفہ تعلقات میں ایک نیا سنگِ میل قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشرق وسطی میں امن کے حصول کے لیے عمانی حکمرانوں کی ہمیشہ سے مثبت اور غیر جانبدارانہ پالیسی رہی ہے جس کا اعتراف بین الاقوامی سطح پر کیا جاتا ہے۔ برطانوی شاہ کی جانب سے اس کا خصوصی ذکر کرنا اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ برطانیہ خطے میں امن کے لیے عمان کے کردار کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آبنائے ہرمز عالمی تجارت بالخصوص تیل کی ترسیل کے حوالے سے انتہائی کلیدی حیثیت رکھتی ہے جہاں سے دنیا کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس آبی گزرگاہ کے تحفظ اور کشیدگی کم کرنے میں عمانی سفارت کاری ہمیشہ سے انتہائی موثر ثابت ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برطانوی میڈیا اور سفارتی مبصرین کے مطابق شاہ چارلس کا عربی زبان میں حدیث کا حوالہ دینا ایک غیر معمولی اور انتہائی خوشگوار سفارتی اقدام تھا۔ اس عمل سے نہ صرف دونوں خطوں کے مابین ثقافتی قربت اجاگر ہوتی ہے بلکہ باہمی احترام کے جذبے کو بھی تقویت ملتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سلطان عمان کے اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے حوالے سے اہم بیٹھ کیں بھی منعقد ہوں گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو ایک نئی جہت ملے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1834/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عمان کے وزیرِ خارجہ سید بدر بن حمد سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/453/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/453/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 19:37:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسحاق_دار]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عمان_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ترقی_اور_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[دفتر_خارجہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_دورہ]]></category>
		<category><![CDATA[سید_بدر_بن_حمد]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%b9%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d9%90-%d8%ae%d8%a7%d8%b1%d8%ac%db%81-%d8%b3%db%8c%d8%af-%d8%a8%d8%af%d8%b1-%d8%a8%d9%86-%d8%ad%d9%85%d8%af-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[عمانی وزیرِ خارجہ اپنے دورے کے دوران آٹھویں پاک-عمان مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس میں عمانی وفد کی قیادت کریں گے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">عمان کے وزیرِ خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی سرکاری دورے پر دارالحکومت اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔ ان کا یہ اہم دورہ تیرہ سے چودہ اکتوبر کے دوران جاری رہے گا جس کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید فروغ دینا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر پہنچنے پر معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ استقبال کرنے والی اعلیٰ شخصیات میں سیکریٹری اقتصادی امور ڈویژن اور وزارتِ خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری مشرقِ وسطیٰ شامل تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی اپنے اس دورے کے دوران آٹھویں پاک-عمان مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس میں عمانی وفد کی قیادت کریں گے۔ اس کمیشن کا بنیادی مقصد دونوںبرادر ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارتِ خارجہ کے ذرائع کے مطابق دورے کے دوران عمان کے وزیرِ خارجہ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ باضابطہ دوطرفہ ملاقات بھی کریں گے۔ اس اہم ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے مابین تجارت، معیشت، سرمایہ کاری اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ پاکستان اور عمان کے درمیان دیرینہ اور تاریخی برادرانہ تعلقات استوار ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ مستحکم ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں جاری تعاون کی پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مستقبل میں تعاون کے نئے اور ممکنہ شعبوں کی نشاندہی بھی کی جائے گی تاکہ باہمی روابط مزید بڑھیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمان کے وزیرِ خارجہ کا یہ موجودہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور معاشی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ اس دورے کے اختتام پر دوطرفہ تعاون کے حوالے سے مختلف امور پر اتفاقِ رائے متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان خطے میں امن، استحکام اور معاشی ترقی کے حصول کے لیے تمام برادر ممالک کے ساتھ قریبی رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے۔ عمان کے ساتھ تعلقات کو پاکستان میں ہمیشہ سے ایک خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے جو گہرے اخوت پر مبنی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حالیہ برسوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس سے دوطرفہ تعاون کے دائرہ کار میں بھی خاطر خواہ وسعت آئی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس دورے سے عوام کے درمیان قربتیں بڑھیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دونوںممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور سفارتی سطح پر جاری اس تعاون کو مزید نتیجہ خیز بنانے کے لیے اس قسم کے اعلیٰ سطح کے دورے انتہائی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان دوروں سے باہمی مشاورت کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ دورہ پاک عمان دوطرفہ تعلقات کی تاریخ میں ایک اور اہم باب کا اضافہ کر رہا ہے جہاں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ اور دیگر حکام باہمی امور پر تفصیلی مشاورت مکمل کریں گے۔ وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں بھی اہم فیصلے متوقع ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان آمد پر عمانی وزیرِ خارجہ کے لیے وزارتِ خارجہ اور اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے کیے جانے والے استقبالی انتظامات دونوں ممالک کے مابین گہرے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔ یہ دورہ دونوں خطوں کے مفاد میں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/453/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولاکولتسیف 4 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/371/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/371/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 23:57:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_روس_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_دورہ]]></category>
		<category><![CDATA[طلال_چوہدری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[محسن_نقوی]]></category>
		<category><![CDATA[وزیر_داخلہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%b1%d9%88%d8%b3%db%8c-%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%af%d8%a7%d8%ae%d9%84%db%81-%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%af%db%8c%d9%85%db%8c%d8%b1-%da%a9%d9%88%d9%84%d8%a7%da%a9%d9%88%d9%84%d8%aa%d8%b3%db%8c%d9%81-4/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی دعوت پر روس کے وزیر داخلہ کا یہ پاکستان کا پہلا تاریخی دورہ ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">روس کے وزیر داخلہ ولادیمیر کولاکولتسیف 4 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ یہ کسی بھی روسی وزیر داخلہ کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے روسی ہم منصب کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تھی۔ اسلام آباد آمد پر وزیر مملکت طلال چوہدری نے روسی وزیر داخلہ کا پرتپاک استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے 4 روزہ دورے کے دوران ولادیمیر کولاکولتسیف پاکستانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور باہمی تعاون کے فروغ پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی وزیر داخلہ کا یہ دورہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور خطے میں روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ توقع ہے کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور روس کے درمیان اس اعلیٰ سطح کے رابطے سے علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ دونوں ممالک کے حکام اس دورے کو دوطرفہ سفارتی تعلقات میں ایک سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے دی گئی دعوت پر ہونے والا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے عمل کو مزید مضبوط کرے گا۔ پاکستان اور روس کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے امکانات پر بھی غور کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی وفد کے دورے کے دوران مختلف شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہونے کا بھی امکان ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور سیکیورٹی تعاون میں اضافہ ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی جانب سے روسی وزیر داخلہ کے اس دورے کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں ان کی آمد کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے حکام کے درمیان انسدادِ دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام جیسے اہم امور پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی وزیر داخلہ کی پاکستانی قیادت سے ہونے والی ملاقاتوں میں خطے کی موجودہ صورتحال اور عالمی مسائل پر بھی بات چیت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور روس کے درمیان یہ دورہ دونوں ممالک کے عوامی اور سرکاری تعلقات کو ایک نئی بلندی پر لے جانے کا باعث بنے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دورے کے اختتام پر دونوں ممالک کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ جاری کیے جانے کا امکان ہے جس میں تعاون کے مزید فروغ کے عزم کا اعادہ کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/371/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
