<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سفارتی_تعلقات &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b3%d9%81%d8%a7%d8%b1%d8%aa%db%8c_%d8%aa%d8%b9%d9%84%d9%82%d8%a7%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:31:48 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>سفارتی_تعلقات &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>ترک سفیر کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2492/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2492/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 21:36:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_ترک_دوستی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ترکیہ]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ_آصف]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%aa%d8%b1%da%a9-%d8%b3%d9%81%db%8c%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%af%d9%81%d8%a7%d8%b9-%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d8%a2%d8%b5%d9%81-%d8%b3%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی دارالحکومت میں ہونے والی ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے مابین دوطرفہ تعلقات اور دفاعی شعبے میں اشتراک کو مزید مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں تعینات جمہوریہ ترکیہ کے سفیر عرفان نذیر اوغلو نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف سے ان کے دفتر میں خصوصی ملاقات کی۔ اس اہم نشست کے دوران دونوں ممالک کے مابین باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کا مرکزی ایجنڈا پاکستان اور ترکیہ کے درمیان موجود دیرینہ برادرانہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانا اور مختلف شعبوں میں تعاون کے دائرہ کار کو وسیع کرنا تھا۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دوطرفہ روابط کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ترکیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان تمام شعبوں میں ترکیہ کے ساتھ اپنے روابط کو مزید گہرا اور مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران دفاعی شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دونوں اطراف نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دفاعی اشتراک کو بڑھانا دونوں برادر ممالک کے مفاد میں ہے اور اس ضمن میں مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترک سفیر عرفان نذیر اوغلو نے پاکستان اور ترکیہ کے مابین دوستانہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور ثقافتی رشتے بہت گہرے ہیں۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے ترکیہ کی دلچسپی کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع نے ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون کے فروغ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شعبے میں موجودہ اشتراک کو مزید جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی بات کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات میں خطے کی مجموعی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مسلسل رابطے اور مشاورت دونوں ممالک کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور ترکیہ کے مابین دفاعی تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے جس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ ہر مشکل وقت میں یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس ملاقات کو اسی تسلسل کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ترک سفیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو ہمیشہ ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور تزویراتی تعلقات کو مزید تقویت دے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترک سفیر نے وزیر دفاع کے جذبات کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کا یقین دلایا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے باقاعدگی سے رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور ترکیہ کے مابین دفاعی تعاون کے فروغ سے نہ صرف دونوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے میں بھی مدد ملے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور ترک سفیر عرفان نذیر اوغلو کے درمیان ہونے والی یہ نشست دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے دروازے کھلنے کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2492/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاک چین دوستی کے 75 برس، چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ کل پاکستان پہنچیں گی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2223/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2223/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 22:57:21 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسحاق_ڈار]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_چین_دوستی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_چین_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[چائنا_پاکستان_انفارمیشن_کوریڈور]]></category>
		<category><![CDATA[چین]]></category>
		<category><![CDATA[دفتر_خارجہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%a7%da%a9-%da%86%db%8c%d9%86-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa%db%8c-%da%a9%db%92-75-%d8%a8%d8%b1%d8%b3-%da%86%db%8c%d9%86%db%8c-%d9%88%d8%b2%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d8%b1%d8%ac%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[چینی وزارت خارجہ کی ترجمان اپنے دورے کے دوران چائنا پاکستان انفارمیشن کوریڈور کا افتتاح کریں گی اور اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کریں گی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاک چین دوستی کے 75 برس مکمل ہونے کے موقع پر چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ کل رات پاکستان کا دورہ کریں گی۔ ان کے ہمراہ چینی وزارت اطلاعات اور وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام پر مشتمل ایک وفد بھی پاکستان پہنچے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سفارتی ذرائع کے مطابق چینی وفد کی اسلام آباد آمد پر چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ، سفارت خانے کے عملے اور اعلیٰ پاکستانی حکام کی جانب سے ان کا پرتپاک استقبال کیا جائے گا۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے دورے کے دوران ماؤ ننگ پاکستان چائنا فرینڈشپ سینٹر میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گی۔ یہ تقریب پاک چین دوستی کے 75 برس مکمل ہونے کی تقریبات اور سی پیک کے فریم ورک کا ایک اہم حصہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس دورے کا ایک اہم ترین پہلو چائنا پاکستان انفارمیشن کوریڈور کا باقاعدہ افتتاح ہے۔ اس اقدام کا مقصد میڈیا، سٹریٹجک کمیونیکیشن، معلومات کے تبادلے، پبلک ڈپلومیسی اور ثقافتی تعاون کے شعبوں میں دونوں ممالک کے اشتراک کو مزید مستحکم بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان چینی وزارت خارجہ اپنے قیام کے دوران پاکستانی دفتر خارجہ کا دورہ بھی کریں گی۔ اس موقع پر ان کی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان کے ساتھ اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقاتوں کے دوران دونوں ممالک کے ترجمانوں کے مابین 26 اکتوبر کو باہمی دلچسپی کے امور اور اطلاعات و ابلاغ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی جائے گی، جس سے دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور چین کے مابین یہ اشتراک نہ صرف سفارتی بلکہ عوامی سطح پر بھی تعلقات کو فروغ دینے کا باعث بنے گا۔ حکام کے مطابق اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان معلومات کی ترسیل اور ثقافتی ہم آہنگی کے نئے راستے کھلیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چائنا پاکستان انفارمیشن کوریڈور کے قیام سے میڈیا کے شعبے میں تعاون کو ایک نیا ادارہ جاتی ڈھانچہ ملے گا۔ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک کمیونیکیشن کو بہتر بنانے کے لیے ایک کلیدی سنگ میل ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان میڈیا کے تبادلے اور صحافتی تعاون کے فروغ پر بھی بات چیت ہوگی۔ اس سے دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور چین کے درمیان یہ دوستی کئی دہائیوں پر محیط ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تعلقات مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ دورہ اسی تسلسل کا ایک حصہ ہے جو دوطرفہ اعتماد کو مزید مضبوط کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پاکستان کی جانب سے اس دورے کے لیے تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چینی وفد کی آمد سے قبل سکیورٹی اور پروٹوکول کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان سٹریٹجک پارٹنرشپ کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2223/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا دورہ روس، ولادیمیر پیوٹن سے اہم ملاقات متوقع</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/2216/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/2216/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 21:57:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تجارت]]></category>
		<category><![CDATA[تہران]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b5%d8%af%d8%b1-%d9%85%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af-%d9%be%d8%b2%d8%b4%da%a9%db%8c%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%af%d9%88%d8%b1%db%81-%d8%b1%d9%88%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[ایرانی صدر گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ماسکو جائیں گے، جہاں دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال ہوگا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ایران کے صدر مسعود پزشکیان آئندہ ہفتے روس کا اہم دورہ کریں گے، جس کے دوران ان کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات متوقع ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سیاسی تعلقات میں نمایاں بہتری آ رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی دارالحکومت ماسکو میں ایرانی صدر گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم (GECF) کے آٹھویں سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس اجلاس میں توانائی کے شعبے سے وابستہ مختلف ممالک کے سربراہان اور نمائندے شرکت کر رہے ہیں، جو عالمی توانائی منڈیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس میں تعینات ایرانی سفیر کاظم جلالی نے صدر کے اس دورے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ ملاقات کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس ملاقات میں علاقائی اور عالمی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے ایجنڈے میں دوطرفہ تجارت کے فروغ، توانائی کے شعبے میں تعاون اور غذائی تحفظ جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی شمالی-جنوبی ٹرانسپورٹ راہداری (INSTC) کے منصوبے پر بھی بات چیت کی جائے گی جو تجارتی روابط کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ٹرانسپورٹ راہداری کا بنیادی مقصد روس، ایران اور دیگر علاقائی ممالک کے درمیان سامان کی نقل و حمل کو تیز تر اور محفوظ بنانا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو ایک نئی جہت ملے گی اور معاشی انحصار میں بہتری آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایرانی حکام کے مطابق، اس ملاقات کے دوران کسی نئے معاہدے پر دستخط کا فی الحال کوئی پروگرام نہیں ہے۔ تاہم، دونوں ممالک کے درمیان جاری اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مشاورت کا عمل مسلسل جاری رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ جنوری 2025 میں روس اور ایران نے ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے میں توانائی، تجارت، نقل و حمل اور سکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کا ایک وسیع فریم ورک طے کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب روس اور ایران دونوں کو مغربی ممالک کی جانب سے سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا ہے۔ ان حالات میں دونوں ممالک اپنے باہمی تعلقات کو مضبوط بنا کر معاشی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی حال ہی میں تہران کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد ماسکو میں ہونے والے سربراہی اجلاس سے قبل دوطرفہ امور پر ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مشاورت کا یہ سلسلہ ماسکو میں بھی جاری رہے گا۔ دونوں ممالک کے سفارتی حلقے اس دورے کو خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایران اور روس کے مابین بڑھتا ہوا یہ تعاون نہ صرف دوطرفہ تجارت کو فروغ دے رہا ہے بلکہ علاقائی استحکام کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون عالمی منڈیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماسکو میں منعقد ہونے والا گیس برآمد کرنے والے ممالک کا فورم توانائی کی عالمی قیمتوں اور سپلائی چین کے حوالے سے اہم فیصلے کرنے کے لیے ایک بڑا پلیٹ فارم ہے۔ ایرانی صدر کی شرکت سے اس فورم کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مسعود پزشکیان اور ولادیمیر پیوٹن کی ملاقات سے دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک تعلقات میں ایک نئی روح پھونکے گی۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے لیے اپنے مفادات کے تحفظ اور باہمی تعاون کو بڑھانے کا ایک بہترین موقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/2216/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>صدر آصف زرداری کا جرمنی کا کامیاب دورہ مکمل، صحت کے شعبے میں تعاون پر اتفاق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2202/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2202/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 20:36:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایس_آئی_ایف_سی]]></category>
		<category><![CDATA[برلن]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_جرمنی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[جدید_ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سرمایہ_کاری]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[سیمنز]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b5%d8%af%d8%b1-%d8%a2%d8%b5%d9%81-%d8%b2%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%ac%d8%b1%d9%85%d9%86%db%8c-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%a7%d8%a8/</guid>

					<description><![CDATA[صدر مملکت نے جرمن کمپنی سیمنز کے وفد سے ملاقات کی اور پاکستان میں صحت کی سہولیات کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے پر زور دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">صدر مملکت آصف علی زرداری جرمنی کا سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد وطن واپس روانہ ہو گئے ہیں۔ برلن ایئرپورٹ پر اعلیٰ جرمن حکام اور جرمنی میں تعینات پاکستانی سفیر سلمان شریف نے صدر مملکت کو الوداع کیا۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 سال مکمل ہونے کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے دورے کے دوران صدر آصف علی زرداری نے جرمن صدر فرینک والٹر شٹائن مائر سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔ یہ دورہ دو دہائیوں سے زائد عرصے کے تعطل کے بعد ہوا ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور خیرسگالی کے نئے دور کا آغاز سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برلن میں قیام کے دوران صدر مملکت کی سیمنز ہیلتھ کمپنی کے ایگزیکٹو نائب صدر ڈینیئل فریش اور شعبہ حکومتی امور کی سربراہ ویرونیکا فسٹر سے ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر پاکستان کے شعبہ صحت میں جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جرمن وفد نے پاکستان کے شعبہ صحت میں تعاون کو مزید گہرا کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ وفد نے صدر مملکت کو بتایا کہ ان کے نمائندے جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، جہاں وہ صحت کی صنعت میں استعداد کار بڑھانے اور تکنیکی معاونت کے لیے مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر آصف علی زرداری نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سیمنز جیسے اداروں کے تکنیکی تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں صحت کی خدمات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے تحقیق اور ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر مملکت نے کہا کہ ہماری حکومت کی کوشش ہے کہ معیاری اور سستی صحت کی سہولیات ہر شہری تک پہنچائی جائیں، بالخصوص دور دراز علاقوں میں رہنے والے محروم طبقات کو ان سہولیات سے مستفید کرنا اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے سیمنز کی جانب سے پاکستان میں برسوں سے جاری خدمات کو سراہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیمنز کے وفد نے کینسر، فالج اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے لیے جدید تکنیکی حل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ وفد نے سندھ کے محکمہ صحت کی جانب سے کیے گئے منظم اقدامات کی تعریف کی اور پاکستان میں اپنے جاری منصوبوں کو مزید وسعت دینے کی خواہش ظاہر کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر زرداری نے تجویز دی کہ سیمنز اپنی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کے دیگر صنعتی اور سماجی شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کو متنوع بنائے۔ اس سلسلے میں انہوں نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے پلیٹ فارم کے ذریعے مکمل ادارہ جاتی تعاون کا یقین دلایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، صوبائی وزراء شرجیل میمن اور جام خان شورو بھی موجود تھے۔ وفد نے صدر مملکت کو پاکستان میں کمپنی کی کامیابیوں اور مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں بریفنگ بھی دی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیمنز کمپنی کئی دہائیوں سے پاکستان میں فعال ہے اور کراچی سمیت ملک کے تین بڑے شہروں میں اس کے 100 سے زائد ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ تعاون پاکستان کے صنعتی اور تکنیکی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر مملکت کے اس دورے کو پاکستان اور جرمنی کے درمیان معاشی اور سفارتی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ اس دورے کے نتیجے میں صحت اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے جس سے ملکی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جرمن قیادت کی جانب سے صدر زرداری کا پرتپاک استقبال دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مستقبل میں باہمی روابط کو مزید مستحکم کیا جائے گا تاکہ عوامی سطح پر بھی تعلقات کو فروغ مل سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2202/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>روس نے اسرائیل کے یہود دشمن مہم میں ملوث ہونے کے الزامات مسترد کر دیے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1903/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1903/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 02:17:15 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بنیامین_نیتن_یاہو]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_المذاہب_ہم_آہنگی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[روس_اسرائیل_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b1%d9%88%d8%b3-%d9%86%db%92-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84-%da%a9%db%92-%db%8c%db%81%d9%88%d8%af-%d8%af%d8%b4%d9%85%d9%86-%d9%85%db%81%d9%85-%d9%85%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[روسی وزارت خارجہ نے اسرائیلی وزیراعظم کے دعووں کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دے دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ماسکو کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا گیا ہے جن میں روس پر انٹرنیٹ کے ذریعے یہود دشمن مہم چلانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ روسی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو حیران کن اور مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ روس اور اسرائیل کے درمیان طویل تاریخی تعلقات موجود ہیں اور ایسے میں ایک ذمہ دار ملک کے سربراہ کی جانب سے اس طرح کے بے بنیاد الزامات عائد کرنا انتہائی افسوسناک اور ناقابل فہم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان نے مزید کہا کہ روس میں مختلف مذاہب اور قومیتوں کے درمیان ہم آہنگی، امن اور باہمی احترام کو فروغ دینا حکومتی پالیسی کا حصہ ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں یہود دشمنی کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل خود بھی ماضی میں متعدد بار اس بات کا اعتراف کر چکا ہے کہ روس میں اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی کو مکمل تحفظ حاصل ہے، لہذا روس کو کسی بھی قسم کی نفرت انگیز مہم سے جوڑنے کی کوششیں حقائق کے منافی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماسکو نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کے الزامات دونوں ممالک کے مابین قائم دیرینہ تعلقات کو متاثر کرنے کی کوشش ہو سکتے ہیں، جبکہ روس ہمیشہ سے عالمی سطح پر مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کوشاں رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اس ردعمل میں یہ باور کرایا گیا ہے کہ روس کسی بھی قسم کی نسلی یا مذہبی منافرت کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا اور نہ ہی ایسی کسی مہم کا حصہ بننے کا تصور کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے یہ الزامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے تھے جب عالمی سطح پر مختلف ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، تاہم ماسکو نے ان دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماسکو کا یہ موقف عالمی برادری کے سامنے بھی رکھا گیا ہے تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ روس پر لگائے گئے الزامات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ محض قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی وزارت خارجہ نے اپنے بیان کے آخر میں امید ظاہر کی ہے کہ اسرائیل اپنے بیانات میں احتیاط سے کام لے گا اور دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے غیر ضروری تنازعات سے گریز کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کے ذریعے ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس کی جانب سے جاری کردہ یہ بیان نہ صرف اسرائیلی قیادت کے لیے ایک پیغام ہے بلکہ ان تمام حلقوں کے لیے بھی ہے جو روس کی خارجہ پالیسی اور داخلی صورتحال کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1903/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سعودی اور عراقی وزرائے خارجہ کا رابطہ، علاقائی سکیورٹی پر تبادلہ خیال</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1884/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1884/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 23:18:31 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[امن]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[سکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عراق]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d8%b1%d8%a7%d9%82%db%8c-%d9%88%d8%b2%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%92-%d8%ae%d8%a7%d8%b1%d8%ac%db%81-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[سعودی اور عراقی وزرائے خارجہ نے ٹیلی فونک رابطے میں باہمی سکیورٹی تعاون بڑھانے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور عراق کے وزیر خارجہ کے درمیان اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں علاقائی صورتحال اور مشترکہ سکیورٹی چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس گفتگو کے دوران سکیورٹی خطرات کے تناظر میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔ عراقی وزیر خارجہ نے سعودی عرب میں شہریوں اور اہم شہری تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور مملکت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عراقی وزیر خارجہ نے اس بات کی مکمل یقین دہانی کرائی کہ عراق کی سرزمین کو سعودی عرب یا کسی بھی دوسرے ہمسایہ ملک کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا حملوں کے لیے استعمال ہونے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دونوں وزراء خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مشاورت کا عمل جاری رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے سکیورٹی اور سفارتی سطح پر رابطوں کو مزید فعال بنانے پر بھی اتفاق کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خطے میں کسی بھی قسم کی بدامنی کو روکنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔ اس بات چیت میں دہشت گردی کے خاتمے اور سرحد پار سکیورٹی کو یقینی بنانے کے امور بھی زیر بحث آئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کی جانب سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی پالیسی کو عالمی سطح پر بھی سراہا جاتا رہا ہے۔ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کا حل صرف بات چیت اور سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عراق کی جانب سے سعودی عرب کی سلامتی کو اپنی سلامتی قرار دینا دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ رابطہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان سکیورٹی پارٹنرشپ کو نئی جہت دینے کا باعث بنے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دونوں وزراء نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ خطے کے ممالک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔ اس طرح کے رابطے مستقبل میں مزید مضبوط تعلقات کی راہ ہموار کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب اور عراق کے درمیان یہ سفارتی رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے کو مختلف سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ دونوں ممالک نے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی مشاورت کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پیش رفت سے خطے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ دونوں ممالک نے اپنے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے پرامن ماحول کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کا اعادہ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1884/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یمن تنازع کا سفارتی حل: مصر کا سعودی عرب کے ساتھ رابطوں میں تیزی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1883/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1883/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 22:57:15 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[باب_المندب]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خطے_میں_امن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_حل]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b2%d8%b9-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d9%81%d8%a7%d8%b1%d8%aa%db%8c-%d8%ad%d9%84-%d9%85%d8%b5%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[مصری وزیر خارجہ اور انٹیلی جنس چیف نے ریاض میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی اور اہم پیغام پہنچایا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">مصر نے یمن کے جاری تنازع کے پرامن اور سفارتی حل کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں، جس کا مقصد خطے میں استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ اس سلسلے میں مصری قیادت کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ مسلسل رابطے کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حال ہی میں مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور انٹیلی جنس کے سربراہ حسن رشاد نے ریاض کا دورہ کیا ہے۔ اس دورے کے دوران انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی اور صدر عبدالفتاح السیسی کا خصوصی پیغام پہنچایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات میں یمن کی موجودہ صورتحال اور خطے کی سکیورٹی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مصر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یمن کے بحران کا واحد پائیدار حل صرف بات چیت اور سیاسی مفاہمت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قاہرہ کا موقف ہے کہ حوثیوں کو باب المندب کے قریب قبضے میں لیے گئے علاقوں سے انخلا کرنا چاہیے تاکہ بین الاقوامی سمندری راستوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ مصر نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب اور مصر کے درمیان دہائیوں پر محیط گہرے سفارتی اور معاشی تعلقات قائم ہیں۔ سعودی عرب مصر کا ایک اہم معاشی شراکت دار ہے جو توانائی کی فراہمی اور مرکزی بینک میں سرمایہ کاری کے ذریعے قاہرہ کی معیشت کو سہارا دیتا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ 2015 میں جب یمن میں تنازع شدت اختیار کر گیا تھا تو مصر نے سعودی اتحاد میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس وقت مصر کا کردار بنیادی طور پر بحری راستوں کی نگرانی اور تحفظ تک محدود رکھا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سن 2022 میں امریکی ثالثی کے نتیجے میں یمن میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا، جس کے بعد سے خطے میں عسکری کارروائیوں کی شدت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ مصر اسی جنگ بندی کو مستقل امن میں بدلنے کا خواہاں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مصر کا ماننا ہے کہ یمن میں جاری خانہ جنگی نہ صرف انسانی المیے کا سبب بن رہی ہے بلکہ یہ بحیرہ احمر کی تجارت کے لیے بھی خطرہ ہے۔ اس لیے سیاسی حل کے لیے بین الاقوامی برادری کا متحرک ہونا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے مصری قیادت کے پیغام کو سراہا ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک نے باہمی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں مصر کی جانب سے یمن کے معاملے پر مزید سفارتی سرگرمیوں کی توقع کی جا رہی ہے۔ قاہرہ کا مقصد تمام متعلقہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے تاکہ یمن کے عوام کو طویل المدتی ریلیف مل سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1883/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>صدر آصف علی زرداری اور مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1777/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1777/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 01:56:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آصف_علی_زرداری]]></category>
		<category><![CDATA[اسحاق_ڈار]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ایوان_صدر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_مالدیپ_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر_محمد_معیزو]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b5%d8%af%d8%b1-%d8%a2%d8%b5%d9%81-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d8%b2%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%be-%da%a9%db%92-%d8%b5%d8%af%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[صدر مملکت نے مالدیپ کے صدر کے اعزاز میں عشائیہ دیا، دونوں رہنماؤں نے تعلیم، صحت اور موسمیاتی تبدیلیوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں ایوانِ صدر کے اندر صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدرِ پاکستان نے معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا اور دونوں ممالک کے مابین برادرانہ تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے عزم کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران صدر آصف علی زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونا ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مشترکہ عقائد، باہمی اعتماد اور خودمختاری کے احترام پر مبنی ہیں جنہیں اب اقتصادی شراکت داری میں بدلنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر مملکت نے تعلیم، صحت، انسانی وسائل کی ترقی اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں مالدیپ کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کا یقین دلایا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مالے میں واقع پارلیمنٹ کی عمارت اور سکول آف میڈیسن پاکستان اور مالدیپ کی دیرینہ دوستی کی علامتیں ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعاون کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ چھوٹی جزیرہ ریاستیں ماحولیاتی خطرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔ صدر زرداری نے مالدیپ کے صدر کے پانچ ملین پودے لگانے کے اقدام کی بھرپور حمایت کی اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی امور پر گفتگو کرتے ہوئے دونوں صدور نے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی پاسداری پر زور دیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مالدیپ کے صدر کے ہمراہ آنے والے وفد میں وزیر خارجہ اریتھیشام آدم، وزیر دفاع و قومی خدمات حسن رشید، وزیر داخلہ و سلامتی علی احسان اور وزیر اقتصادی ترقی محمد سعید شامل تھے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی روابط کو مزید تقویت دینے کا باعث بن رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی، وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار، سینیٹر شیری رحمان اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا سمیت دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداران موجود تھے۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے بعد صدر آصف علی زرداری نے مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو اور ان کے وفد کے اعزاز میں ایک پُروقار سرکاری عشائیے کا اہتمام کیا۔ اس تقریب میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی اور قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے شرکت کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عشائیے میں چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف، چیف آف دی ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا نے بھی شرکت کی۔ یہ تقریب دونوں ممالک کے درمیان گہرے سفارتی روابط اور دوستانہ تعلقات کی عکاس تھی جس میں وفاقی کابینہ کے ارکان بھی موجود تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر آصف علی زرداری نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان مالدیپ کے ساتھ اپنے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی خیرسگالی کو تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی سطح پر تبادلوں میں اضافے میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دونوں رہنماؤں نے اس امر کو تسلیم کیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات قدرتی آفات سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کے لیے غیرمتناسب چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔ صدر مملکت نے ماحولیات کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں مالدیپ کے ساتھ تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے پاکستان کی مکمل آمادگی کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات میں دونوں جانب سے سفارتی کور کے نمائندوں اور پارلیمنٹیرینز نے بھی شرکت کی، جس سے اس دورے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دوستانہ تعلقات کو مستحکم بنانے اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1777/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وزیراعلیٰ مریم نواز سے سعودی سفیر ڈاکٹر راجح البقمی کی ملاقات، باہمی تعاون پر اتفاق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1776/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1776/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 01:37:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[برآمدات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سعودی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر_راجح_البقمی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زراعت]]></category>
		<category><![CDATA[سرمایہ_کاری]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%b0-%d9%85%d8%b1%db%8c%d9%85-%d9%86%d9%88%d8%a7%d8%b2-%d8%b3%db%92-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b3%d9%81%db%8c%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[ملاقات میں پنجاب سے سعودی عرب کو زرعی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے سعودی عرب کے نو تعینات سفیر ڈاکٹر راجح البقمی نے لاہور میں ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے سعودی سفیر کو پاکستان میں سفارتی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دہائیوں پر محیط برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ سعودی قیادت اور محمد نواز شریف کے درمیان اعتماد کا رشتہ ایک روشن مثال ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ نے سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کی اقتصادی اور مالی معاونت پر سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب تقریباً 9.8 ارب ڈالر کے ساتھ پاکستان کو ترسیلاتِ زر بھیجنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات میں پنجاب سے لائیو سٹاک، بیف، پولٹری، پھلوں اور سبزیوں کی سعودی عرب برآمدات بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ اس ضمن میں 500 ارب روپے سے زائد کی برآمدات کا ہدف مقرر کرنے پر اتفاق کیا گیا تاکہ تجارتی حجم میں اضافہ ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پنجاب سعودی عرب کو حلال سے تصدیق شدہ معیاری خوراک کی فراہمی میں ایک اہم پارٹنر بن سکتا ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ریاض میں پنجاب کے روڈ شو کے انعقاد پر بھی تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مریم نواز نے سعودی شہریوں کو پنجاب کے سیاحتی مقامات کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کا ثقافتی ورثہ اور لاہور کی مہمان نوازی عالمی سطح پر مشہور ہے۔ انہوں نے سعودی سفیر کو صوبے کی سیاحتی صلاحیتوں سے بھی آگاہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی سفیر ڈاکٹر راجح البقمی نے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان سٹریٹجک تعلقات کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کی حکومت، عوام اور افواجِ پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے حمایت پر شکریہ ادا کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ مریم نواز نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کی اور انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے برادر ملک کے تحفظ اور دفاع کے حق کی مکمل حمایت کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات میں اگست 2026 کے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا گیا۔ مریم نواز نے کہا کہ یہ معاہدہ خود مختاری اور سلامتی کے تحفظ کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی سفیر نے پنجاب کے تاریخی ورثے اور مغلیہ یادگاروں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ لاہور کی گرم جوشی اور روایات انہیں بہت پسند ہیں۔ انہوں نے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ پنجاب نے سابق سعودی سفیر کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ پاک سعودی دوستی وقت کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط ہو رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے اختتام پر وزیراعلیٰ مریم نواز نے خادمِ حرمین شریفین اور سعودی ولی عہد کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ہر پاکستانی کے دل میں ایک منفرد اور انتہائی محترم مقام رکھتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1776/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون: خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم پیش رفت</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1617/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1617/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 23:17:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ایس_پی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_سعودی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[ترکیہ]]></category>
		<category><![CDATA[حرمین_شریفین]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_معاہدہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%da%a9%d8%a7-%d8%af%d9%81%d8%a7%d8%b9%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%88%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین دفاعی شراکت داری حرمین شریفین کے تحفظ اور علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی صورتحال اور خطے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی تعلقات مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔ دونوں برادر ممالک کے مابین ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ علاقائی امن اور استحکام کے لیے ایک تزویراتی پیش رفت کی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حرمین شریفین کا تقدس پوری امتِ مسلمہ کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کی جانب سے بارہا یہ واضح کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کی خودمختاری اور مقدس مقامات کا تحفظ پاکستان کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی جارحیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اپنے حالیہ بیانات میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنے دفاعی وعدوں کی پاسداری کرے گا۔ یہ موقف پاکستان کی خارجہ پالیسی اور برادرانہ تعلقات کی گہرائی کا عکاس ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں تعینات سعودی سفیر ڈاکٹر راجح تامی البقامی کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات اور دفاعی تعاون، ادارہ جاتی روابط اور اسٹریٹجک رابطہ کاری کو مضبوط بنانے پر اتفاق اس امر کی علامت ہے کہ دونوں ممالک اپنے دیرینہ تعلقات کو نئے علاقائی حالات سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد میں پاکستان اور ترکیہ کی شمولیت اس بات کی علامت ہے کہ خطے کے اہم ممالک کسی بھی بحرانی صورتحال میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ اس اتحاد کا مقصد کسی کے خلاف جارحیت نہیں بلکہ اپنے دفاعی نظام کو مربوط اور فعال بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں جو مذہبی، ثقافتی اور تاریخی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے، جبکہ پاکستان نے بھی ہمیشہ سعودی عرب کے موقف کی حمایت کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خاص طور پر بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں تجارتی راستوں پر اثرات عالمی معیشت کے لیے تشویشناک ہیں۔ یمن کی حوثی ملیشیا سعودی عرب کو نشانہ بنا رہی ہے اور عالمی تجارتی روٹس میں رکاوٹیں علاقائی امن کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کا دفتر خارجہ اپنے بیانات میں مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ یمن سمیت خطے کے تمام تنازعات کا حل صرف اور صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ جنگ اور کشیدگی سے کسی کو فائدہ نہیں پہنچتا، بلکہ اس سے خطے کی معیشت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی معیشت توانائی کی درآمدات پر منحصر ہے، اس لیے مشرقِ وسطیٰ میں امن پاکستان کے لیے محض ایک سفارتی معاملہ نہیں بلکہ اس کا براہِ راست تعلق ملکی معاشی استحکام اور عوام کی فلاح و بہبود سے جڑا ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علاقائی سلامتی کے اس اہم موڑ پر پاکستان اپنی قومی سلامتی، معاشی ضروریات اور سفارتی آزادی کو ایک مربوط حکمت عملی کے تحت آگے بڑھا رہا ہے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ مسلم دنیا میں اعتماد سازی کے عمل کو فروغ دے اور کشیدگی کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر مکہ الائنس دفاعی تحفظ کے ساتھ ساتھ سفارتی کوششوں اور مذاکرات کی حمایت کو بھی اپنے ایجنڈے میں شامل رکھے، تو یہ اتحاد خطے میں طویل مدتی امن کے قیام کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے لیے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ہمیشہ سے خارجہ پالیسی کا مرکزی نقطہ رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے مابین دفاعی اور معاشی تعاون نہ صرف ان کے اپنے مفادات کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں حالات کا انحصار اس بات پر ہے کہ خطے کے فریقین کس حد تک سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ پاکستان پرامید ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود خطے میں امن کی بحالی کے لیے مذاکرات کی میز ہی بہترین راستہ ثابت ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1617/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
