<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سفارتکاری &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b3%d9%81%d8%a7%d8%b1%d8%aa%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Wed, 04 Nov 2026 20:43:10 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>سفارتکاری &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>امریکی وسط المدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک جماعت کی کامیابی سے عالمی سطح پر ہلچل</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/5003/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/5003/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 04 Nov 2026 20:43:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایران_تنازع]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تجارتی_شراکت_دار]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیموکریٹک_جماعت]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتکاری]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کانگریس]]></category>
		<category><![CDATA[مشرق_وسطیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[وسط_المدتی_انتخابات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/5003/</guid>

					<description><![CDATA[ڈیموکریٹک جماعت کی فتح سے تجارتی شراکت داروں اور ایران کے ساتھ تنازع کے مستقبل پر اثرات مرتب ہوں گے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکہ میں ہونے والے وسط المدتی انتخابات کے نتائج کے بعد دنیا بھر میں اس کے سیاسی اور معاشی اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برطانوی نشریاتی ذرائع کے مطابق ان انتخابات میں ڈیموکریٹک جماعت کی جانب سے حاصل کی گئی کامیابی کو بلیو ویو کا نام دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس انتخابی نتائج کے بعد دنیا بھر کے تجارتی شراکت داروں، حریف ممالک اور تزویراتی اتحادیوں میں اس کے مضمرات پر غور شروع ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حریفوں کی کامیابی کے بعد کانگریس پر ان کا کنٹرول کمزور ہو گیا ہے جس کے بعد ایران کے ساتھ جاری تنازع کی سمت غیر یقینی ہو گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایران کے ساتھ جاری آٹھ ماہ کے اس تنازع کے بارے میں ووٹرز میں پہلے ہی گہری تھکن پائی جا رہی تھی کیونکہ عوام اسے مہنگے ایندھن کی قیمتوں کا ذمے دار قرار دے رہے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بریکاسٹر رپورٹ کے مطابق عوام کی اس ناراضی اور تھکن کا اظہار وسط المدتی انتخابات میں ووٹنگ کے ذریعے سامنے آیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں اسرائیل سمیت دیگر اتحادی ممالک بھی واشنگٹن میں ہونے والی اس سیاسی تبدیلی کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکہ کے تجارتی شراکت دار اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ کانگریس کی نئی صورتحال کے بعد بین الاقوامی تجارتی پالیسیوں اور محصولات میں کیا تبدیلی آتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ عالمی معاشی منڈیوں میں بھی اس بات پر بحث جاری ہے کہ آیا امریکی قانون ساز ادارے کی نئی ترکیب بین الاقوامی مالیاتی معاہدوں کو متاثر کرے گی یا نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وسط المدتی انتخابات کا انعقاد عام طور پر صدارتی مدت کے وسط میں ہوتا ہے جس میں ووٹرز کانگریس کے ارکان کا چناؤ کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ نتائج کے نتیجے میں امریکی قانون ساز ادارے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو چکا ہے جو کہ وائٹ ہاؤس کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سیاسی تبدیلی کے بعد بین الاقوامی سطح پر خارجہ امور اور دفاعی پالیسیوں کے حوالے سے بھی نئے مباحثے جنم لے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف ممالک کی حکومتیں اپنے سفارتی اور معاشی لائحہ عمل کو امریکی کانگریس کی نئی ترجیحات کے مطابق ڈھالنے کے لیے مشاورت کر رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی سطح پر تجزیہ کار اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا کانگریس میں تبدیل شدہ اکثریت صدر کی پالیسیوں کو روکنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکہ کا شمار دنیا کی بڑی معیشتوں میں ہوتا ہے اس لیے اس کے اندرونی انتخابی نتائج ہمیشہ سے عالمی منڈیوں اور سفارت کاری پر اثر انداز ہوتے آئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پیش رفت کے بعد دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور معاہدوں کے حوالے سے نئی حکمت عملیوں پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/5003/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آبنائے ہرمز پر کشیدگی: ایران کا امریکی جواب مسترد، امریکی صدر کی فضائی کارروائی کی تصدیق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4951/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4951/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 04 Nov 2026 07:43:36 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئل_ٹینکر]]></category>
		<category><![CDATA[آبنائے_ہرمز]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[پاسداران_انقلاب]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جوہری_پروگرام]]></category>
		<category><![CDATA[خلیج_فارس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتکاری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قشم_جزیرہ]]></category>
		<category><![CDATA[قطر]]></category>
		<category><![CDATA[محسن_رضائی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/4951/</guid>

					<description><![CDATA[قطر کی ثالثی میں مذاکرات جاری ہیں جبکہ خلیج فارس میں آئل ٹینکرز پر حملوں اور جوابی کارروائیوں سے خطے میں صورتحال کشیدہ ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے پیش کردہ سات شرائط پر امریکی ردعمل کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ایران کے مطالبات کو مکمل اور واضح طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایران کے جزیرے قشم پر فضائی حملے کی تصدیق کی ہے۔ امریکی صدر نے اسے ایک معمولی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ ایک اینٹی ایئر کرافٹ تنصیب کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے پیش کردہ جواب ایران کے حقوق اور مطالبات کے مطابق نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز اسی صورت میں کھولی جائے گی جب امریکہ تمام سات شرائط پر عمل درآمد کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا عمل جاری ہے۔ قطر اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان تجاویز کے تبادلے میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی حکام کے مطابق یہ فضائی حملہ دفاعی نوعیت کا تھا جو ایک امریکی طیارے پر ایرانی فائرنگ کے ردعمل میں کیا گیا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ فی الحال کسی بڑی جنگ کے خواہشمند نہیں ہیں تاہم ضرورت پڑنے پر مزید کارروائی کے لیے تیار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دریں اثنا، خطے میں تجارتی جہاز رانی کو بھی شدید خطرات کا سامنا ہے۔ یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) نے اطلاع دی ہے کہ عمان کے ساحلی گاؤں لیمہ کے قریب ایک آئل ٹینکر کے انجن روم کو دو نامعلوم پروجیکٹائلز سے نشانہ بنایا گیا، تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بندر خمیر کے اوپر دو امریکی ڈرونز کو تباہ کر دیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ چار آئل ٹینکرز بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں آئے ہیں جبکہ دو دیگر جہازوں کو قبضے میں لے لیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی عسکری قیادت کو حکم دیا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا فوری جواب دینے کے لیے تیار رہیں۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ خلیج میں موجود زیرِ سمندر کیبلز اور یورپی ممالک کے مفادات بھی اہداف میں شامل ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ ایران کے ساتھ موجودہ صورتحال سے مطمئن ہیں اور انہیں فی الحال کسی بڑی جنگی مہم کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ایران کے جوہری ذخائر پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اس حوالے سے بالواسطہ رابطے جاری ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے جہاں سے دنیا بھر کا ایک بڑا حصہ تیل سمندری راستے سے پہنچایا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر مذاکرات کا عمل ناکام ہوتا ہے تو خطے میں عسکری تصادم کا دائرہ کار وسیع ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4951/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کا معاہدہ فی الحال دور کی بات ہے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4861/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4861/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 03 Nov 2026 16:27:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تہران]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ_بندی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتکاری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قشم]]></category>
		<category><![CDATA[قطر]]></category>
		<category><![CDATA[مشرق_وسطیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[واشنگٹن]]></category>
		<category><![CDATA[وسط_مدتی_انتخابات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/4861/</guid>

					<description><![CDATA[قطر کی ثالثی جاری، امریکہ نے ایران کے جزیرے قشم پر فضائی حملے کر دیے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں مگر کسی بھی معاہدے تک پہنچنا تاحال فریقین کے لیے ممکن نہیں ہو سکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے منگل کے روز برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے اس صورتحال کی تصدیق کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عہدیدار کے مطابق دونوں ممالک کے مابین جنگ کے خاتمے کے لیے فی الحال کوئی حتمی اور قابلِ عمل معاہدہ طے نہیں پا سکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے اس ماحول میں خلیجی ریاست قطر نے فریقین کے درمیان پائے جانے والے فاصلوں کو مٹانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قطری ثالثی کا مقصد امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد خطے میں کسی بھی ممکنہ نئی کشیدگی اور محاذ آرائی کو روکنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سفارتی سرگرمیوں کے متوازی طور پر گزشتہ شب امریکی فورسز نے ایران کے جزیرے قشم کو اپنے فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کارروائیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ایک امریکی عہدیدار نے انہیں دفاعی نوعیت کا اقدام قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی حکام کے مطابق قشم جزیرے پر کیے جانے والے ان حملوں کا بنیادی ہدف زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ میزائل مبینہ طور پر خطے میں موجود امریکی اثاثوں اور تنصیبات کے خلاف استعمال کیے جا رہے تھے جنہیں نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک اور امریکی عہدیدار نے اس معاملے پر مزید وضاحت دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ فضائی حملے دائرہ کار میں محدود تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسرے عہدیدار کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے ہرگز یہ اشارہ نہیں ملتا کہ امریکہ خطے میں کسی بڑی فوجی یلغار کا ارادہ رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطے میں امن کے قیام کے لیے قطری سفارت کار دونوں فریقوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مفاہمت کی ان کوششوں کا مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان موجود خلیج کو کم کرنا اور سفارتی ڈیڈ لاک کو توڑنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد خطے کی سیاسی اور عسکری صورتحال میں اہم تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی طاقتیں بھی مشرق وسطیٰ میں جاری اس محاذ آرائی کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جزیرہ قشم پر ہونے والے ان حالیہ حملوں کے بعد فریقین کے مابین تناؤ میں اضافے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم دونوں اطراف سے سفارتی رابطوں کو بھی تاحال مکمل طور پر منقطع نہیں کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے بین الاقوامی سطح پر مختلف تجاویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4861/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکہ ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے قطری سفارتی وفد تہران پہنچ گیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/3232/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/3232/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 30 Oct 2026 14:17:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تہران]]></category>
		<category><![CDATA[جے_ڈی_وینس]]></category>
		<category><![CDATA[خلیج]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتکاری]]></category>
		<category><![CDATA[سیز_فائر]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%81-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d9%85%d8%b0%d8%a7%da%a9%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%ad%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d9%82%d8%b7/</guid>

					<description><![CDATA[قطری وفد دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے اور ممکنہ سیز فائر معاہدے کی بحالی کے لیے سرگرم ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور امریکہ اور ایران کے درمیان دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے قطر کی فعال سفارتی کوششیں ایک بار پھر تیز ہو چکی ہیں۔ اس سلسلے میں قطری ثالثوں کا ایک اہم وفد جمعہ کی صبح ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گیا ہے تاکہ دونوں حریف ممالک کے درمیان معطل سفارتی رابطوں کو دوبارہ بحال کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے آئی آر این اے کے مطابق یہ سفارتی مشن قطری وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی کے سینئر مشیر کی قیادت میں تہران پہنچا ہے۔ اس اعلیٰ سطح کے وفد کی آمد کا بنیادی مقصد واشنگتن اور تہران کے مابین ممکنہ جنگ بندی معاہدے کی بحالی کے لیے فریقین کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ سفارتی پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی دارالحکومت واشنگتن سے خطے کے حوالے سے متضاد اور مختلف نوعیت کے اشارے موصول ہو رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ایران کے سیکیورٹی چیف محسن رضاعی کے نام ایک خط ارسال کیا گیا تھا جسے سفارتی حلقوں میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اطلاعات کے مطابق امریکی نائب صدر کا یہ خط تہران میں انتہائی مثبت انداز میں وصول کیا گیا ہے اور ایرانی حکام کی طرف سے اس کے مناسب جواب کے حوالے سے مختلف زاویوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ قطری وفد کا تہران کا یہ دورہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے تاکہ ایرانی حکام سے باضابطہ جواب حاصل کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے خلیجی ممالک کے اتحادیوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے ہونے والے امریکی وسطی مدتی انتخابات کے بعد کسی بھی ممکنہ عسکری صورتحال کے لیے پوری طرح تیار رہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس قسم کے بیانات کے بعد سفارتی سطح پر تناؤ کم کرنے کی کوششیں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قطری وفد کی جانب سے ایرانی حکام تک پہنچائے جانے والے خط میں براہ راست امن کی کوئی مخصوص اور سخت شرائط پیش کرنے کے بجائے مذاکرات کے لیے ایک نئے اور لچکدار فریم ورک کی تجویز دی گئی ہے۔ اس سفارتی اقدام کا مقصد امریکہ کی طرف سے متوقع ممکنہ فضائی حملوں یا سخت عسکری کارروائیوں کے سلسلے کو روکنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تہران میں موجود باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر کے اس خط کا مجموعی لہجہ پچھلی امریکی انتظامیہ کے بیانات اور رویے کے مقابلے میں کافی احترام والا تھا جسے تہران میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ تاہم، اس کے باوجود ایرانی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی حتمی سرکاری ردعمل عوامی سطح پر سامنے نہیں آیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قطری وفد اپنے اس دورے کے دوران تہران میں قیام کے دوران ایرانی اعلیٰ حکام اور وزارت خارجہ کے نمائندوں سے اہم ملاقاتیں کرے گا۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی موجودہ پیچیدہ سیکیورٹی صورتحال، دوطرفہ امور اور آئندہ کے مذاکرات کے مراحل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سفارتی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ قطری وفد کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان خلیجی ملک کے توسط سے تعطل کا شکار رابطہ بحال کرنے کا ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔ اس مشن کی کامیابی سے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق اگر فریقین کے درمیان جاری یہ پس پردہ بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھتی ہے تو آئندہ ایک ہفتے کے اندر قطر کے دارالحکومت دوحہ یا ترکی کے شہر استنبول میں ایک اور اعلیٰ سطحی ملاقات متوقع ہے۔ اس ممکنہ اجلاس میں دونوں فریقین مذاکرات کے باضابطہ آغاز اور اس کی شرائط پر بات چیت کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطے کے سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ قطر کی یہ ثالثی مشرق وسطیٰ میں کسی بھی بڑی فوجی محاذ آرائی کو روکنے میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی نے پہلے ہی خطے کے امن و امن کو شدید خطرے میں ڈال رکھا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قطر اس سے قبل بھی بین الاقوامی تنازعات کے حل میں ایک کامیاب ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس بار بھی امریکی ایرانی تعلقات میں جمی برف کو پگھلانے کی سنجیدہ کوشش کر رہا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں تہران میں ہونے والی ان خفیہ ملاقاتوں اور قطری وفد کے مشن کی کامیابی پر مرکوز ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ چند روز کے دوران یہ بات بالکل واضح ہو جائے گی کہ تہران واشنگتن کی اس نئی سفارتی پیشکش پر کیا حتمی موقف اختیار کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنا باقی ہے کہ آیا فریقین ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہوتے ہیں یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/3232/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دفتر خارجہ میں اہم سفارتی تقرریوں اور تبادلوں کی تیاریاں</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2478/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2478/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 15:58:18 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[دفتر_خارجہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رحیم_حیات_قریشی]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتکاری]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_تقرریاں]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[سید_حیدر_شاہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1-%d8%ae%d8%a7%d8%b1%d8%ac%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%81%d9%85-%d8%b3%d9%81%d8%a7%d8%b1%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d9%82%d8%b1%d8%b1%db%8c%d9%88%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[وزارت خارجہ میں اعلیٰ سطح پر سفیروں کی تعیناتیوں کا عمل شروع، وزیراعظم کی منظوری سے حتمی نوٹیفکیشن جاری ہوگا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے اہم سفارتی عہدوں پر تقرریوں اور تبادلوں کا عمل شروع کر دیا ہے جس کے تحت کئی سینئر سفارت کاروں کو نئی ذمہ داریاں سونپے جانے کا امکان ہے۔ ان تبدیلیوں کا مقصد سفارتی امور کو مزید مستحکم بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق دفتر خارجہ کے اسپیشل سیکریٹری نبیل منیر کو برسلز میں یورپی یونین کے لیے پاکستان کا سفیر مقرر کیے جانے کا قوی امکان ہے۔ نبیل منیر اس سے قبل قائم مقام سیکریٹری خارجہ کے فرائض بھی سرانجام دے چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ صورتحال میں برسلز میں تعینات پاکستانی سفیر رحیم حیات قریشی کے تبادلے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ انہیں اسپین میں پاکستان کا سفیر تعینات کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے، جس کی حتمی منظوری وزیراعظم پاکستان دیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقوام متحدہ میں پاکستان کے نئے مستقل مندوب کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ سید حیدر شاہ، جو اس وقت نیدرلینڈز میں تعینات ہیں، رواں ہفتے نیویارک پہنچ کر اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے اور عاصم افتخار احمد کی جگہ لیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عاصم افتخار احمد کے سیکریٹری خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد سے نیویارک میں مستقل مندوب کی نشست خالی تھی۔ سید حیدر شاہ کی تعیناتی سے اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفارتی نمائندگی کا عمل مزید موثر انداز میں جاری رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب نیدرلینڈز میں سفیر کی خالی ہونے والی نشست پر بھی غور و خوض جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اہم عہدے کے لیے ایک سینئر سفارت کار کو بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے تاکہ سفارتی تسلسل برقرار رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دفتر خارجہ کے اندرونی امور کے حوالے سے بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ سینئر سفارت کار بلال حئی کو ایڈیشنل فارن سیکریٹری برائے افغانستان تعینات کر دیا گیا ہے۔ یہ تقرری خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سفارتی ماہرین کے مطابق یہ تقرریاں اور تبادلے معمول کے سفارتی عمل کا حصہ ہیں، جن کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کے مفادات کا تحفظ اور دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ ان تبدیلیوں سے سفارتی نیٹ ورک کو نئی توانائی ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان تمام تقرریوں اور تبادلوں کا حتمی نوٹیفکیشن وزیراعظم پاکستان کی باضابطہ منظوری کے بعد جاری کیا جائے گا۔ منظوری ملتے ہی متعلقہ سفارت کار اپنی نئی ذمہ داریوں کا چارج سنبھال لیں گے اور اپنے نئے اسٹیشنز پر تعینات ہو جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی خارجہ پالیسی کے تحت دنیا بھر میں تعینات سفارت کاروں کو وقتاً فوقتاً تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ سفارتی تجربے کو بہتر بنایا جا سکے۔ یہ عمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر مکمل کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے ان تقرریوں کے حوالے سے باضابطہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ آئندہ چند روز میں ان تمام تعیناتیوں کے حوالے سے سرکاری اعلامیہ جاری کر دیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سفارت کاروں کی یہ نئی تعیناتیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب پاکستان عالمی فورمز پر اپنے موقف کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ یورپی یونین اور اقوام متحدہ جیسے اہم پلیٹ فارمز پر تجربہ کار سفارت کاروں کی موجودگی ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پاکستان کی جانب سے ان تقرریوں کو ملکی مفاد میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ نئے سفیر اپنے متعلقہ ممالک میں پاکستان کے امیج کو بہتر بنانے اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2478/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>متحدہ عرب امارات کی جانب سے لانا نسیبہ اقوام متحدہ کی سیکرٹری جنرل کے لیے نامزد</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/2222/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/2222/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 22:37:33 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[انتونیو_گوتریس]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خلیج_تعاون_کونسل]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتکاری]]></category>
		<category><![CDATA[سیکرٹری_جنرل]]></category>
		<category><![CDATA[شیخ_محمد_بن_زاید]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d9%85%d8%aa%d8%ad%d8%af%db%81-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کی اگلی سربراہی کے لیے لانا نسیبہ کو امیدوار نامزد کر دیا ہے جنہیں خلیجی ممالک کی مکمل حمایت حاصل ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کے آئندہ سیکرٹری جنرل کے انتخاب کے لیے لانا نسیبہ کو باضابطہ طور پر نامزد کر دیا ہے۔ اس اہم پیش رفت کا اعلان صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے صدور کو ارسال کردہ ایک خصوصی خط کے ذریعے کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لانا نسیبہ کا سفارتی کیریئر انتہائی شاندار رہا ہے اور وہ 2013 سے 2024 تک اقوام متحدہ میں متحدہ عرب امارات کی مستقل مندوب کے طور پر خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔ اس طویل عرصے کے دوران انہوں نے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور کئی اہم عہدوں پر فائز رہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے سفارتی سفر کے دوران، لانا نسیبہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی نائب صدر اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین کی انتظامی کونسل کی صدر کے طور پر ذمہ داریاں نبھائیں۔ اس کے علاوہ، وہ دو مرتبہ سلامتی کونسل کی صدارت بھی کر چکی ہیں، جو ان کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اماراتی صدر نے اپنی نامزدگی کے خط میں لانا نسیبہ کے وسیع تجربے اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے کی ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کو سراہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لانا نسیبہ بین الاقوامی تعاون کے فروغ اور عالمی امن کے قیام کے لیے ایک بہترین انتخاب ثابت ہو سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نامزدگی کو خطے میں وسیع حمایت حاصل ہوئی ہے اور خلیج تعاون کونسل کے تمام چھ رکن ممالک نے لانا نسیبہ کی امیدواری کی مکمل تائید کی ہے۔ یہ حمایت ان کی بین الاقوامی ساکھ اور سفارتی کامیابیوں کا واضح اظہار ہے جو انہیں ایک مضبوط امیدوار بناتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر لانا نسیبہ اس منصب کے لیے منتخب ہو جاتی ہیں تو وہ اقوام متحدہ کی تاریخ میں پہلی خاتون سیکرٹری جنرل ہوں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مصر کے بطرس بطرس غالی کے بعد اس اعلیٰ ترین عالمی عہدے پر فائز ہونے والی دوسری عرب شخصیت بن جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقوام متحدہ کے موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی مدت ملازمت 31 دسمبر 2026 کو مکمل ہو رہی ہے۔ نئے سیکرٹری جنرل کا انتخاب اقوام متحدہ کے ضابطہ کار کے مطابق عمل میں لایا جائے گا، جس میں سلامتی کونسل کی سفارش پر جنرل اسمبلی حتمی تقرر کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئے سیکرٹری جنرل کی ذمہ داریاں یکم جنوری 2027 سے شروع ہوں گی۔ فی الحال اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے درمیان مختلف امیدواروں پر مشاورت کا عمل جاری ہے اور اس اہم عہدے کے لیے کسی بھی امیدوار کے انتخاب کا حتمی اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لانا نسیبہ کی سفارتی سرگرمیوں میں عالمی امن، سلامتی، انسانی امداد اور پائیدار ترقی کے ایجنڈے کو ہمیشہ مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ بین الاقوامی اداروں میں اصلاحات کے حوالے سے بھی ان کے خیالات کو عالمی سطح پر کافی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی مبصرین لانا نسیبہ کی نامزدگی کو ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایک تجربہ کار سفارت کار کی حیثیت سے وہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر مختلف ممالک کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/2222/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آر فور ممالک کا اجلاس، سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/2055/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/2055/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 22:37:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آر_فور]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی_ملیشیا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتکاری]]></category>
		<category><![CDATA[علاقائی_سلامتی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a2%d8%b1-%d9%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%ac%d9%84%d8%a7%d8%b3-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[وزارتی اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں یمن میں حوثی ملیشیا کے حملوں کی مذمت اور فلسطین کے دو ریاستی حل پر زور دیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">آر فور ممالک کے حالیہ وزارتی اجلاس میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور اہم سیکیورٹی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعلامیے میں یمن کی حکومت اور مملکت سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب پر کیے جانے والے مسلسل حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ شرکاء نے حوثی ملیشیا سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام جارحانہ کارروائیاں فوری بند کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے دھمکیاں اور حملے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ اعلامیے میں شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے بشمول تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی سخت اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے تناظر میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تنازعات کے حل کے لیے سفارتکاری اور مذاکرات کا راستہ اپنانا ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلسطینی عوام کے حقوق کے حوالے سے اجلاس میں دو ٹوک موقف اختیار کیا گیا۔ اعلامیے میں مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں جاری اسرائیلی آبادکاری کی سرگرمیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے پرتشدد کارروائیاں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزراء نے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل پر جلد عمل درآمد پر زور دیا۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آر فور ممالک کے اس اجلاس نے علاقائی سلامتی کے حوالے سے ایک متفقہ لائحہ عمل طے کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کے ممالک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل کے حوالے سے اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ رکن ممالک باہمی مشاورت کے عمل کو مزید تیز کریں گے۔ علاقائی امن و استحکام کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دینا ہی واحد راستہ ہے جس سے خطے کو جنگ اور تنازعات سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کی حمایت اور فلسطین کے معاملے پر متفقہ موقف نے آر فور ممالک کے اتحاد کو مزید مستحکم کیا ہے۔ اعلامیے میں شامل نکات بین الاقوامی سطح پر خطے کے ممالک کے متوازن اور ذمہ دارانہ کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آئندہ بھی اس طرح کے اجلاسوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ علاقائی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا سکے۔ اس طرح کے اقدامات خطے میں اعتماد سازی کے عمل کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/2055/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>روس کو میدان جنگ میں شکست دینا ناممکن ہے، صدر پوتن کا مذاکرات پر زور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1904/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1904/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 02:17:45 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[امن_مذاکرات]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[روس_یوکرین_تنازع]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتکاری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b1%d9%88%d8%b3-%da%a9%d9%88-%d9%85%db%8c%d8%af%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d9%86%da%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b4%da%a9%d8%b3%d8%aa-%d8%af%db%8c%d9%86%d8%a7-%d9%86%d8%a7%d9%85%d9%85%da%a9%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ یوکرین کے ساتھ تنازع کا حل مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے اور روس حتمی امن معاہدے کے لیے تیار ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ روس یوکرین کے ساتھ جاری تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ایک حتمی امن معاہدہ ممکن ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ روس اور یوکرین کے عوام تاریخی طور پر ایک ہی قوم ہیں اور ان کے درمیان اختلافات کو بات چیت کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر پوتن نے واضح کیا کہ روس کو میدانِ جنگ میں شکست دینا ایک ناممکن ہدف ہے اور اسے اسٹریٹجک شکست دینے کی کوششیں حقیقت سے دور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو ممالک روس کو کمزور کرنے کے لیے جنگی حکمت عملی اپنا رہے ہیں، انہیں موجودہ عالمی حقائق کو تسلیم کرنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی صدر نے یورپی ممالک کی روس مخالف پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں سیاسی شیزوفرینیا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ روس یورپ کے ساتھ کسی بھی قسم کی جنگ کا خواہشمند نہیں ہے اور نہ ہی ایسی کوئی تیاری کر رہا ہے، بلکہ روس کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہی یورپی عوام کے مفاد میں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے پوتن نے دعویٰ کیا کہ یوکرینی قیادت اپنے شہریوں کو جنگی وسائل کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زبردستی شہریوں کو محاذ پر بھیجا جا رہا ہے اور فوج سے فرار ہونے والے اہلکاروں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر پوتن نے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ فوج سے فرار ہونے والے اہلکاروں کی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ان کے خلاف تین لاکھ سے زائد فوجداری مقدمات درج کیے گئے ہیں جو کہ ایک سنگین صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی صدر نے 2014 کے واقعات اور منسک معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماسکو ہمیشہ سے پُرامن حل کا حامی رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس نے ماضی میں بھی مذاکرات کی پیشکش کی تھی لیکن اس کے جواب میں شہری آبادی کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں روسی صدر نے انکشاف کیا کہ امریکہ، روس اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی رابطے دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد حتمی امن معاہدے کے بعد تمام فریقین کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی صدر نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اگر روس اور یوکرین کی سلامتی پر بات چیت ہوتی ہے تو اس کے ساتھ مجموعی یورپی سلامتی کے ڈھانچے پر بھی گفتگو ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو مختصر مدتی جنگ بندی کے بجائے دیرپا امن کا خواہاں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی صدر کے مطابق، یورپی ممالک میں جاری سیاسی عمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں کے عوام روس کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں صورتحال میں بہتری آئے گی اور فریقین ایک متفقہ لائحہ عمل تک پہنچ سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر یوکرین تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔ روس کا یہ مؤقف کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، عالمی برادری میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان یہ تنازع گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے جس کے اثرات عالمی معیشت اور سلامتی پر مرتب ہوئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سہ فریقی مذاکرات کا یہ عمل کس حد تک امن کی راہ ہموار کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی صدر نے اپنی گفتگو کے آخر میں کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ روس کے ساتھ تعلقات میں بہتری ہی خطے کے استحکام کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1904/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1752/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1752/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 18:38:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ایس_پی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_مالدیپ_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر_محمد_معیزو]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتکاری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%be-%da%a9%db%92-%d8%b5%d8%af%d8%b1-%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af-%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%b2%d9%88-%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%a7%da%a9/</guid>

					<description><![CDATA[صدر مالدیپ نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے پاکستان کے دورے کے دوران پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارتوں اور صلاحیتوں کی بھرپور تعریف کی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مسلسل اور فعال کردار ادا کر رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، صدر مالدیپ کی جانب سے یہ اظہار خیال ایک اہم ملاقات کے دوران کیا گیا۔ انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے خطے کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران پاکستان اور مالدیپ کے مابین دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی دوستانہ روابط کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون بڑھ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دفاعی تعاون کے حوالے سے بات کرتے ہوئے دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اس شعبے میں روابط کو مزید مستحکم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ دفاعی شراکت داری کو فروغ دینے سے دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے پاکستان کی جانب سے مالدیپ کے ساتھ تعاون کے جذبے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات مالدیپ کی خارجہ پالیسی میں خاص اہمیت رکھتے ہیں اور وہ ان تعلقات کو مزید مضبوط دیکھنے کے خواہاں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی ایس پی آر کے اعلامیے کے مطابق، ملاقات میں علاقائی صورتحال پر بھی گفتگو کی گئی۔ پاکستان نے خطے میں امن کے لیے اپنی پرعزم پالیسی کا اعادہ کیا، جسے مالدیپ کے صدر نے سراہتے ہوئے پاکستان کی کوششوں کو خطے کے لیے ناگزیر قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے ورکنگ گروپس کے قیام پر بھی غور کیا گیا۔ اس سے قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان مختلف سطحوں پر روابط رہے ہیں، تاہم موجودہ دورہ ان تعلقات میں ایک نیا باب ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور مالدیپ کے مابین ثقافتی اور اقتصادی شعبوں میں بھی تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی سطح پر روابط بڑھانے سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان قربتیں مزید بڑھیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر مالدیپ نے پاکستان کی میزبانی کا شکریہ ادا کیا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دورہ ان کے لیے انتہائی مفید رہا اور وہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کے حوالے سے پرامید ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی جانب سے بھی مالدیپ کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ ملاقات اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان خطے کے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں سیکیورٹی اور استحکام کے حوالے سے پاکستان کا کردار انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی جانب سے امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دفاعی اور اقتصادی شعبوں میں مزید معاہدوں کی توقع کی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کے حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1752/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جرمنی میں پاکستان کے نئے سفیر سلمان شریف نے سفارتی اسناد پیش کر دیں</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1537/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1537/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 00:36:40 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آصف_علی_زرداری]]></category>
		<category><![CDATA[برلن]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_جرمنی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[تجارت]]></category>
		<category><![CDATA[جرمنی]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سرمایہ_کاری]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتکاری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ac%d8%b1%d9%85%d9%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a6%db%92-%d8%b3%d9%81%db%8c%d8%b1-%d8%b3%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[برلن میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران پاکستانی سفیر نے جرمن صدر فرینک والٹر اسٹین مائر سے ملاقات کی اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">جرمنی میں پاکستان کے نو تعینات سفیر سلمان شریف نے برلن میں منعقدہ ایک باوقار تقریب کے دوران جرمن صدر فرینک والٹر اسٹین مائر کو اپنی سفارتی اسناد پیش کر دیں۔ یہ تقریب جرمن صدارتی دفتر میں منعقد ہوئی جس میں سفارتی آداب کے مطابق پاکستان کی مکمل نمائندگی کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موقع پر سفیر سلمان شریف نے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری، وزیراعظم پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے جرمن صدر کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کا خصوصی پیغام پہنچایا۔ دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات میں پاکستان اور جرمنی کے درمیان برسوں پر محیط دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو وسعت دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بات چیت کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور ماحول دوست ٹیکنالوجی جیسے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر خصوصی زور دیا گیا۔ دونوں ممالک نے ان شعبوں میں موجود وسیع امکانات سے فائدہ اٹھانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور جرمنی کے مابین سفارتی تعلقات کے قیام کو 75 برس مکمل ہو چکے ہیں۔ اس سنگِ میل کے تناظر میں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کا رواں ہفتے متوقع دورۂ جرمنی دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جرمن صدر فرینک والٹر اسٹین مائر نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے صدر آصف علی زرداری کے دورۂ جرمنی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دوطرفہ تعلقات کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جرمن صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان طویل عرصے سے قائم سفارتی تعلقات تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جرمنی پاکستان کے ساتھ کثیرالجہتی تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کے مابین موجود دیرینہ تعلقات کو باہمی مفاد کے نئے اور جدید شعبوں تک لے جانے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں سفارتی سطح پر مسلسل رابطوں کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سفیر سلمان شریف نے جرمن صدر کو یقین دلایا کہ وہ اپنے دورِ تعیناتی کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے بندھن کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جرمنی میں پاکستانی سفارت خانے کے حکام کے مطابق یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگی۔ پاکستان اور جرمنی کے درمیان مختلف سطحوں پر وفود کے تبادلے کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور جرمنی کے مابین تجارتی حجم میں اضافے کے لیے بھی دونوں ممالک کے حکام پرعزم ہیں۔ ماحول دوست ٹیکنالوجی کے شعبے میں جرمن مہارت سے استفادہ کرنا پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہے جس پر ملاقات میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سفارتی اسناد پیش کرنے کی تقریب کے بعد پاکستانی سفیر نے جرمن حکام کے ساتھ بھی ملاقاتیں کیں جن میں دوطرفہ امور اور عالمی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔ پاکستان اور جرمنی کے درمیان یہ سفارتی پیش رفت دونوں ممالک کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ملاقات کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود دیرینہ تعلقات کو باہمی مفاد کے نئے شعبوں تک لے جانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور جرمنی کے درمیان یہ سفارتی پیش رفت مستقبل میں تعاون کے نئے دروازے کھولے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1537/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
