<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سزا &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b3%d8%b2%d8%a7/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:33:41 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>سزا &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>لندن: کوکین کے نشے میں غفلت برتنے پر اماراتی شاہی خاندان کی خاتون کو سزا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/982/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/982/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 19:17:05 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ابوظہبی]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بچے_کی_حفاظت]]></category>
		<category><![CDATA[برطانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سزا]]></category>
		<category><![CDATA[شاہی_خاندان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d9%84%d9%86%d8%af%d9%86-%da%a9%d9%88%da%a9%db%8c%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%b4%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ba%d9%81%d9%84%d8%aa-%d8%a8%d8%b1%d8%aa%d9%86%db%92-%d9%be%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے بچے کی دیکھ بھال میں غفلت برتنے اور منشیات کے استعمال پر مہرہ النہیان کو کمیونٹی آرڈر اور جرمانے کی سزا سنائی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لندن کی ایک عدالت نے ابوظہبی کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی 32 سالہ خاتون مہرہ النہیان کو بچے کی غفلت سے دیکھ بھال اور منشیات کے استعمال کے جرم میں سزا سنا دی ہے۔ یہ واقعہ رواں سال جون میں مغربی لندن میں پیش آیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی کے مطابق، مہرہ النہیان کوکین کے زیر اثر سڑک پر بے ہوشی کی حالت میں پائی گئی تھیں۔ ان کے ہمراہ ایک اور شخص بھی نشے کی حالت میں بے سدھ پڑا تھا، جبکہ ان کا تین سالہ بچہ سڑک پر اکیلا اور غیر محفوظ حالت میں موجود تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی راہ گیروں نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی اور حکام کی آمد تک بچے کی حفاظت کو یقینی بنایا۔ پولیس نے موقع سے منشیات کے استعمال سے متعلق اشیاء برآمد کیں، تاہم کوئی غیر قانونی منشیات موقع سے نہیں ملی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران مہرہ النہیان نے بچے کی دیکھ بھال میں غفلت برتنے کے الزام کا اعتراف کر لیا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ خاتون کا ابوظہبی کے حکمران النہیان خاندان سے شادی کے ذریعے تعلق ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مہرہ النہیان کے وکیل اسٹیفن ولو نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان کی موکلہ اپنے فعل پر انتہائی نادم ہیں۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ خاتون نے اپنی نشے کی لت سے چھٹکارا پانے کے لیے برطانیہ کے پریوری کلینک میں داخلہ بھی لیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مہرہ النہیان کو دو سالہ کمیونٹی آرڈر کی سزا دی ہے۔ اس کے علاوہ انہیں بحالی اور علاج کے عمل سے گزرنے کی سخت شرط عائد کی گئی ہے، جبکہ انہیں 8 ہزار ڈالر جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانونی ماہرین کے مطابق، مہرہ النہیان نے علاج کے تین ماہ مکمل کر لیے ہیں اور وہ اپنی بحالی کے لیے مزید معاون پروگراموں میں بھی شرکت جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ عدالتی کارروائی کے دوران ان کے مالی حالات کا بھی ذکر کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ خاتون کو ماہانہ 8 ہزار یورو کا وظیفہ ملتا ہے۔ اس واقعے کے بعد سے متحدہ عرب امارات کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، اور نہ ہی بچے کے ساتھ خاتون کے رشتے کی وضاحت کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برطانوی قانون کے تحت بچوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کے حوالے سے سخت ضوابط موجود ہیں۔ اس کیس نے عوامی سطح پر بچوں کی غفلت اور منشیات کے مضر اثرات کے حوالے سے ایک بار پھر بحث کو جنم دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ بچوں کی حفاظت والدین یا سرپرست کی اولین ذمہ داری ہے۔ نشے کی حالت میں بچوں کو خطرے میں ڈالنا ایک سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے جس پر قانون کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مہرہ النہیان کے وکلاء نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ان کی موکلہ اپنی زندگی کو بہتر بنانے اور مستقبل میں ایسی کسی بھی غفلت سے بچنے کے لیے پرعزم ہیں۔ عدالت نے ان کی بحالی کے عمل کو نگرانی میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لندن کی اس عدالت کا فیصلہ منشیات کے استعمال کے خلاف اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ عدالتی احکامات کے تحت خاتون کو اب اپنی اصلاح کے لیے مقررہ شرائط پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کے بعد سے مقامی میڈیا اور سماجی حلقوں میں اس موضوع پر مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تاہم، عدالتی فیصلے کے بعد اب یہ معاملہ قانونی طور پر ایک مخصوص مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں بحالی ہی اولین ترجیح ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/982/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسرائیلی فوج میں جاسوسی کرنے والے بدو کو ساڑھے 24 سال قید کی سزا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/744/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/744/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 22:37:32 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیلی_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جاسوسی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سزا]]></category>
		<category><![CDATA[سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84%db%8c-%d9%81%d9%88%d8%ac-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ac%d8%a7%d8%b3%d9%88%d8%b3%db%8c-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[اسرائیلی عدالت نے مجاہدین بریگیڈز کے لیے معلومات فراہم کرنے اور فوجی سازوسامان چوری کرنے کے جرم میں شہادہ ابو القیعان کو سزا سنا دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسرائیل کی ایک ضلعی عدالت نے غزہ میں سرگرم مسلح تنظیم مجاہدین بریگیڈز کے لیے جاسوسی کرنے کے جرم میں ایک بدو شہری شہادہ ابو القیعان کو 24 سال اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ ملزم پر فوجی راز افشا کرنے اور حساس تنصیبات کی معلومات پہنچانے کے الزامات ثابت ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی دستاویزات اور استغاثہ کے مطابق ملزم نے 2021 میں آن لائن ذرائع سے مجاہدین بریگیڈز کے ساتھ رابطہ قائم کیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ مسلسل اپنے علاقے کے قریب اسرائیلی فوجیوں کی نقل و حرکت اور ہیلی کاپٹرز کے بارے میں خفیہ معلومات فراہم کرتا رہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزم کی جانب سے اسرائیلی فوجی اڈوں، اہم ریلوے اسٹیشنوں، سرکاری کمپنیوں اور مختلف تجارتی مراکز کی تصاویر بھی تنظیم کو بھیجی گئیں۔ ان معلومات کا مقصد مبینہ طور پر تنظیم کو فوجی اہداف کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا تھا تاکہ وہ اپنی کارروائیاں ترتیب دے سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم نے 2019 میں اسرائیلی فوج سے ایک خودکار رائفل اور گولیوں کا میگزین چوری کیا تھا۔ اس کے علاوہ اس نے پانچ دستی بم اور ہزاروں گولیاں بھی تنظیم کو فراہم کرنے کی کوشش کی تھی جو اس کے مجرمانہ عزائم کا حصہ تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزم نے حساس معلومات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ اسرائیلی فوج میں بھرتی ہونے کا منصوبہ بنایا۔ وہ مئی 2022 میں فوج میں شامل ہوا تاکہ اندر سے معلومات حاصل کر سکے، تاہم صرف آٹھ روز بعد ہی اسرائیلی انٹیلیجنس ادارے شن بیت نے اسے گرفتار کر لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گرفتاری کے بعد ملزم نے اپنے خلاف عائد کردہ الزامات کو معاہدۂ اقرارِ جرم کے تحت تسلیم کر لیا تھا۔ بیرالسبع کی ضلعی عدالت نے اسے دہشت گرد تنظیم کا رکن ہونے، جنگ کے دوران دشمن کی مدد کرنے اور اسلحہ چوری کرنے کے جرائم میں سزا کا حکم سنایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">استغاثہ نے عدالتی کارروائی کے دوران اس بات پر بھی زور دیا کہ ملزم کی اسرائیلی شہریت منسوخ کی جانی چاہیے۔ اس سلسلے میں ایک باقاعدہ درخواست وزیر داخلہ یاریو لیون کے سامنے بھی پیش کی گئی ہے تاکہ قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق، ملزم کا یہ اقدام سیکیورٹی کے حوالے سے ایک بڑی ناکامی سمجھا جا رہا ہے۔ فوج کے اندر سے جاسوسی کرنے کے اس واقعے نے اسرائیلی سیکیورٹی اداروں کی جانچ پڑتال کے عمل پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزم کی گرفتاری کے بعد سے اسرائیلی حکام نے فوجی بھرتی کے عمل میں مزید سختیاں کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس کیس نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ کس طرح اندرونی ذرائع سے حساس معلومات کا حصول سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کا یہ فیصلہ اسرائیلی قانون کے تحت ان تمام افراد کے لیے ایک تنبیہ ہے جو ریاستی اداروں کے اندر رہتے ہوئے کسی بھی مسلح تنظیم کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ ملزم کو دی گئی طویل قید کی سزا اس کے سنگین جرائم کے تناسب سے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کیس کے بعد اسرائیلی انٹیلیجنس اور فوجی حکام نے اپنی نگرانی کے نظام کو مزید بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مستقبل میں اس طرح کے کسی بھی واقعے کو روکنے کے لیے بھرتی کے عمل کے دوران پس منظر کی جانچ پڑتال کو مزید سخت کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی فیصلے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ ملزم نے براہ راست حماس کے بجائے مجاہدین بریگیڈز کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دی تھی۔ یہ کیس اسرائیلی عدالتی تاریخ میں فوجی تنصیبات کے اندر جاسوسی کے حوالے سے ایک اہم مقدمہ تصور کیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/744/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
