<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سزائے_موت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b3%d8%b2%d8%a7%d8%a6%db%92_%d9%85%d9%88%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:33:15 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>سزائے_موت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>امریکہ: سزائے موت سے بچ جانے والی قیدی کرسٹا پائیک کا مسلسل تکلیف میں مبتلا ہونے کا انکشاف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/3250/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/3250/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 31 Oct 2026 08:17:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ٹینیسی]]></category>
		<category><![CDATA[جیل]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سزائے_موت]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%81-%d8%b3%d8%b2%d8%a7%d8%a6%db%92-%d9%85%d9%88%d8%aa-%d8%b3%db%92-%d8%a8%da%86-%d8%ac%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%82%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت پر عملدرآمد کی ناکام کوشش کے بعد کرسٹا پائیک نے پہلی بار عوامی بیان جاری کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت پر عملدرآمد کی ناکام کوشش سے زندہ بچ جانے والی 50 سالہ قیدی کرسٹا پائیک نے واقعے کے بعد اپنا پہلا عوامی بیان جاری کیا ہے۔ کرسٹا پائیک نے اپنے وکلاء کے ذریعے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ وہ ستمبر میں پیش آنے والے واقعے کے بعد سے مسلسل شدید جسمانی اور ذہنی تکلیف میں مبتلا ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرسٹا پائیک کا کہنا ہے کہ اس رات کے بعد سے ایسا کوئی لمحہ نہیں گزرا جب انہیں درد کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بازو، ہاتھ اور گلا شدید تکلیف میں ہیں اور انہیں بولنے میں بھی دشواری کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو انتظامی نااہلی قرار دیتے ہوئے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیال رہے کہ 30 ستمبر کو ٹینیسی کی جیل میں کرسٹا پائیک کو مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم یہ عمل ناکام رہا۔ حکام کے مطابق پینٹوباربیٹل نامی دوا ان کے خون میں شامل ہونے کے بجائے بازوؤں میں جمع ہوگئی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ناکام کوشش کے بعد کرسٹا پائیک کو کئی دن ہسپتال میں گزارنا پڑے جہاں وہ بے ہوشی کی حالت میں رہی تھیں۔ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد انہیں واپس اسی جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں وہ 1995 میں قتل کے ایک مقدمے میں گزشتہ 30 برس سے قید ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرسٹا پائیک کو 18 سال کی عمر میں کولین سلیم نامی لڑکی کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اس جرم میں ان کے ساتھ ان کا اس وقت کا دوست بھی شامل تھا، تاہم نابالغ ہونے کے باعث اسے سزائے موت نہیں دی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے بعد ٹینیسی کے گورنر بل لی نے ریاست میں تمام سزائے موت پر عملدرآمد رواں سال کے باقی عرصے کے لیے روک دیا ہے اور اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ اصلاحات کے کمشنر فرینک اسٹرادا نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ لڑکی کی والدہ مے مارٹنیز، جو اس دن پھانسی کے عمل کو دیکھنے کے لیے موجود تھیں، نے اس واقعے کو ایک &#039;بدانتظامی&#039; قرار دیا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف انصاف کی متلاشی تھیں لیکن یہ عمل انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرسٹا پائیک کے وکلاء نے وفاقی جج سے درخواست کی ہے کہ انہیں تنہائی سے نکال کر دیگر قیدیوں کے ساتھ ملنے کی اجازت دی جائے۔ وکلاء کا موقف ہے کہ ناکام پھانسی کے بعد تنہائی میں رکھنے سے ان کی ذہنی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر بل لی نے حال ہی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کا امکان رکھتے ہیں کہ کرسٹا پائیک کی سزا وہی رہے گی جو پہلے تھی، جب تک کہ عدالتیں اس میں کوئی تبدیلی نہ لائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ عدالتی فیصلوں کے پابند ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرسٹا پائیک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ اپنی بحالی کے عمل سے گزر رہی ہیں اور پہلے سے بہتر محسوس کر رہی ہیں، تاہم مکمل صحت یابی ابھی دور ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اب بھی اس واقعے کے صدمے سے باہر نہیں آ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ 2026 میں ٹینیسی میں یہ دوسرا موقع تھا جب سزائے موت پر عملدرآمد کا عمل ناکام ہوا۔ اس سے قبل مئی میں ٹونی کیروتھرز کی پھانسی بھی اس وقت ملتوی کر دی گئی تھی جب حکام ان کے جسم میں انجیکشن لگانے کے لیے رگ تلاش کرنے میں ناکام رہے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کرسٹا پائیک تاریخ کی واحد قیدی سمجھی جاتی ہیں جو مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت کی کوشش سے زندہ بچی ہیں۔ اس واقعے نے امریکہ میں سزائے موت کے طریقہ کار پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرسٹا پائیک کی دوست اور &#039;چائلڈ ارائز ٹینیسی&#039; کی بانی بیتھنی مان نے کہا کہ وہ مسلسل ان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ انہوں نے گورنر کی جانب سے سزائے موت کے طریقہ کار پر نظرثانی کی بجائے اسے جاری رکھنے کے ارادے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/3250/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کراچی: جعلی پولیس مقابلے میں نوجوان کے قتل پر اہلکار کو سزائے موت</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/karachi/3207/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/karachi/3207/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 30 Oct 2026 09:14:44 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_مقابلہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سزائے_موت]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[شاہین_فورس]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانون]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d8%ac%d8%b9%d9%84%db%8c-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%d9%85%d9%82%d8%a7%d8%a8%d9%84%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[ماڈل کرمنل کورٹ نے گلستان جوہر میں پیش آنے والے واقعے کا فیصلہ سناتے ہوئے ایک اہلکار کو سزائے موت اور دو کو عمر قید کی سزا سنا دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی کی ماڈل کرمنل کورٹ ایسٹ نے گلستان جوہر میں پیش آنے والے جعلی پولیس مقابلے کے ایک انتہائی اہم مقدمے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر پولیس اہلکار شہریار کو سزائے موت کا حکم دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس کیس میں ملوث دیگر دو شریک ملزمان، ناصر اور فیصل کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ فیصلے کے مطابق تینوں مجرموں کو مقتول کے ورثا کو بطور ہرجانہ پانچ پانچ لاکھ روپے کی رقم بھی ادا کرنی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کی تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ 2022 میں پیش آیا تھا، جس کے بعد تھانہ شاہراہ فیصل میں پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پراسیکیوشن نے عدالت میں واقعے کے تمام شواہد پیش کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پراسیکیوشن کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ شاہین فورس کے اہلکاروں نے گلشن اقبال کے علاقے میں عامر نامی نوجوان کو رکنے کا اشارہ کیا تھا۔ نوجوان کے نہ رکنے پر پولیس اہلکاروں نے اس کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس اہلکار پیچھا کرتے ہوئے ایک رہائشی فلیٹ میں داخل ہو گئے جہاں انہوں نے نوجوان عامر پر فائرنگ کر دی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گیا تھا، جس سے علاقے میں شدید غم و غصہ پایا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے فوراً بعد ملوث اہلکاروں نے اسے ایک پولیس مقابلہ قرار دے کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کی تھی۔ تاہم تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ یہ مقابلہ جعلی تھا اور نوجوان کو بلاوجہ نشانہ بنایا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے اور گواہان کے بیانات سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ آج فیصلہ سناتے ہوئے جج نے قرار دیا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں اور شہریوں کی جان کی حفاظت پولیس کی اولین ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقتول کے لواحقین نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے انصاف کی فراہمی قرار دیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ پولیس فورس میں نظم و ضبط برقرار رکھنے اور غیر قانونی اقدامات کی روک تھام کے لیے اہم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے عدالتوں کا سخت موقف عوامی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وردی کی آڑ میں قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف ایسی کارروائیاں ناگزیر ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران پراسیکیوشن نے ٹھوس شواہد اور فرانزک رپورٹس کی مدد سے ملزمان کا جرم ثابت کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کسی بھی شہری کو بلاوجہ نشانہ بنانا سنگین جرم ہے جس کی سزا ملنی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلے کے بعد ملزمان کو سخت سیکیورٹی میں جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ عدالتی حکم کے مطابق جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مجرموں کو مزید قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کی تفصیلات عدالتی آرڈر میں شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں پولیس کے ہاتھوں جعلی مقابلوں کے واقعات پر ماضی میں بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ اس کیس کا فیصلہ ایک مثال بنے گا تاکہ مستقبل میں کوئی بھی اہلکار اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے کسی کی جان نہ لے سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ پولیس فورس کا کام عوام کی جان و مال کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ انہیں خوفزدہ کرنا۔ قانون کی بالادستی ہی معاشرے میں امن و امان کا واحد ذریعہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/karachi/3207/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور ہائیکورٹ نے بیوی اور چچی کو آگ لگانے والے مجرم کی سزائے موت برقرار رکھی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/2439/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/2439/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 09:17:32 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_مقدمہ]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[جوہر_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[خوشاب]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سزائے_موت]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور_نیوز]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%86%db%92-%d8%a8%db%8c%d9%88%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%86%da%86%db%8c-%da%a9%d9%88-%d8%a2%da%af/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے تمام شواہد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں مجرم اعجاز حسین کی اپیل خارج کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے بیوی اور چچی کو آگ لگانے والے قتل کے مجرم اعجاز حسین کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیل خارج کر دی ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے نتیجے میں مجرم کی سزائے موت برقرار رکھی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اپیل پر سماعت کرنے والے دو رکنی بینچ میں جسٹس شہرام سرور چوہدری اور جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر شامل تھے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل اور کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کی تفصیلات کے مطابق مجرم اعجاز حسین کی بیوی نورین اختر کے میکے جانے پر تلخ صورتحال پیدا ہوئی تھی۔ ملزم نے طیش میں آ کر اپنی بیوی نورین اختر اور چچی پروین اختر پر آگ لگا دی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ہولناک واقعے کے نتیجے میں پروین اختر شدید جھلس کر جاں بحق ہو گئی تھیں جبکہ نورین اختر زخمی ہونے میں کامیاب رہی تھیں لیکن وہ شدید متاثر ہوئیں۔ پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ خوشاب کے تھانہ جوہر آباد میں درج کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تھانہ جوہر آباد میں یہ مقدمہ 14 مئی 2020ء کو قتل اور اقدامِ قتل کی دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس سنگین معاملے کی تفتیش مکمل کر کے متعلقہ عدالت میں چالان پیش کیا تھا جس پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی اور سماعت کے دوران زخمی ہونے والی بیوی نورین اختر کی گواہی مجرم کے خلاف انتہائی اہم ثابت ہوئی۔ اس کے علاوہ کیس کے دیگر چشم دید گواہوں کے بیانات بھی مجرم کے خلاف مضبوط ثبوت کے طور پر سامنے آئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے تمام شواہد، گواہوں کے بیانات اور ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد مجرم کی اپیل کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ فراہم کردہ شواہد کی روشنی میں مجرم پر جرم ثابت ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس طرح عدالتِ عالیہ نے ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے مجرم اعجاز حسین کی سزائے موت کے خلاف دائر کردہ اپیل کو باضابطہ طور پر خارج کر دیا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/2439/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سعودی عرب میں سزائے موت پانے والے بنگلادیشی جوڑے کی تصاویر جعلی نکلیں</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1822/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1822/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 09:37:16 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ویریفائی]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[اے_آઈ]]></category>
		<category><![CDATA[بنگلادیش]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[چین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سزائے_موت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d8%b2%d8%a7%d8%a6%db%92-%d9%85%d9%88%d8%aa-%d9%be%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[تحقیقاتی اداروں نے تصدیق کی ہے کہ سوشل میڈیا پر سعودی عرب میں سزائے موت پانے والے بنگلادیشی مرد اور خاتون سے منسوب تصاویر اور ویڈیوز جعلی اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب میں سزائے موت پانے والے ایک بنگلادیشی مرد اور خاتون کے واقعے سے منسوب سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز کی حقیقت سامنے آ گئی ہے، جنہیں تحقیقات کے بعد جعلی اور پرانے واقعات سے جوڑا ہوا قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹس کے مطابق سولہ اکتوبر سے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر کچھ تصاویر اور ویڈیوز مسلسل شیئر کی جا رہی تھیں، جن میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ یہ مواد مکہ مکرمہ میں غیر اخلاقی فعل کے الزام میں سزائے موت پانے والے بنگلادیشی جوڑے کا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم تحقیقاتی اداروں اور فیکٹ چیکنگ پلیٹ فارمز کی جانب سے کی گئی پڑتال سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ان میں سے بعض تصاویر مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعے تیار کی گئی تھیں جبکہ کئی ویڈیوز بالکل پرانی اور غیر متعلقہ تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی وزارت داخلہ کے مطابق چودہ اکتوبر دو ہزار چھبیس کو ایک بنگلادیشی مرد اور خاتون کو سزا دی گئی تھی، تاہم وزارت کی جانب سے اس واقعے کے حوالے سے تمام تفصیلات یا تصاویر جاری نہیں کی گئی تھیں جس کا فائدہ اٹھا کر افواہیں پھیلائی گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیکٹ چیک ادارے آئی ویریفائی پاکستان کی تحقیقات میں یہکشاں انکشاف ہوا کہ وائرل ہونے والی تصویر میں تابوت پر روتا ہوا شخص دراصل دو ہزار انیس میں ملائیشیا میں انتقال کرنے والے ایک بنگلادیشی مزدور کی خبر کا حصہ تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح مرد اور خاتون کے چہروں کو ظاہر کرنے والی تصویر کو جدید مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کیا گیا تھا، جبکہ زیرِ حراست دکھائے جانے والے افراد کی تصاویر بھی ترمیم شدہ پائی گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز کے حوالے سے بھی یہ انکشاف ہوا کہ وہ اس واقعے سے قطعی تعلق نہیں رکھتی تھیں، بلکہ خانہ کعبہ کے قریب مرد اور خاتون کی وائرل ہونے والی ویڈیو فروری دو ہزار چھبیس کی پرانی ویڈیو تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سزائے موت پانے والے افراد کی مبینہ بیٹی کی حیثیت سے وائرل ہونے والی ویڈیو بھی مئی دو ہزار چھبیس سے انٹرنیٹ پر پہلے ہی موجود تھی، جس کا اس حالیہ واقعے سے کوئی تعلق نہیں بنتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علاوہ ازیں، ایک خاتون کو سزائے موت دینے کے حوالے سے گردش کرنے والی ویڈیو دراصل دو ہزار پندرہ کے ایک بالکل مختلف واقعے کی نکلی جسے غلط رنگ دے کر اب دوبارہ شیئر کیا جا رہا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی ویریفائی پاکستان نے اپنی حتمی رپورٹ میں اس امر کی مکمل تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب میں سزائے موت پانے والے بنگلادیشی شہریوں سے منسوب تمام تر وائرل تصاویر اور ویڈیوز سراسر غلط تناظر میں سوشل میڈیا پر پھیلائی گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادارے نے ان تمام مناظر اور ویڈیوز کو مذکورہ واقعے سے جوڑنے کے تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے اور صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ بغیر تحقیق کے ایسی چیزیں آگے نہ پھیلائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کے متعلقہ حکام کی جانب سے بھی ہمیشہ اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ قانونی کارروائیوں اور سزاؤں کے بارے میں صرف سرکاری بیانات پر انحصار کیا جائے تاکہ کسی بھی قسم کے پروپیگنڈے یا غلط فہمی کی گنجائش باقی نہ رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تازہ واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت کے دور میں ڈیجیٹل شواہد کی جانچ پڑتال کتنی ضروری ہے تاکہ معاشرے میں افواہوں اور جعلی خبروں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1822/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسلام آباد: سوتیلی بیٹی سے زیادتی کے مجرم کو سزائے موت کا حکم</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/islamabad/1664/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/islamabad/1664/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 05:18:05 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اسلام آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[خواتین_کا_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈی_این_اے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سزائے_موت]]></category>
		<category><![CDATA[سنگین_جرم]]></category>
		<category><![CDATA[شہزاد_ٹاؤن]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%d8%b3%d9%88%d8%aa%db%8c%d9%84%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-%d8%b3%db%92-%d8%b2%db%8c%d8%a7%d8%af%d8%aa%db%8c-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے ڈی این اے رپورٹ اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مجرم کو سزائے موت اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے ایک انتہائی افسوسناک اور سنگین کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سوتیلی بیٹی سے زیادتی کے مرتکب مجرم کو سزائے موت کا حکم دیا ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد سہیل نے کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد محفوظ فیصلہ سنایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم افتخار پر الزام ثابت ہوا کہ اس نے اپنی سوتیلی بیٹی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ عدالت نے مجرم کو سزائے موت کے ساتھ ساتھ پانچ لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے جو سرکاری خزانے میں جمع ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے فیصلے میں متاثرہ لڑکی کو دس لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ، زیادتی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کی کفالت اور پرورش کے لیے مجرم کو مزید بیس لاکھ روپے کی رقم ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کی تفصیلات کے مطابق مجرم اپنی سوتیلی بیٹی کی والدہ کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک طویل عرصے تک اسے زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔ یہ سلسلہ تقریباً ایک سال تک جاری رہا جس کے بعد حقیقت سامنے آئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کیس میں اہم پیش رفت پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ڈی این اے رپورٹ سے ہوئی۔ فرانزک ٹیسٹ کے دوران پیدا ہونے والے بچے کا ڈی این اے مجرم افتخار سے میچ کر گیا، جس نے کیس میں ٹھوس سائنسی شواہد فراہم کیے اور مجرم کے جرم کو ثابت کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کا مقدمہ فروری 2025 میں متاثرہ لڑکی کی والدہ کی مدعیت میں تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے ابتدائی تفتیش کے بعد چالان عدالت میں پیش کیا جس کے بعد ٹرائل کا عمل شروع ہوا اور آج عدالت نے فیصلہ سنا دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی فیصلے کو انصاف کی فراہمی کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ جیسے جدید سائنسی طریقوں سے ایسے گھناؤنے جرائم میں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانا آسان ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے مجرمان کے خلاف سخت ترین سزاؤں کا نفاذ معاشرے میں خوف اور عبرت کا باعث بنتا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماجی حلقوں نے بھی عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور عدالت کا یہ فیصلہ متاثرہ خاندان کے لیے انصاف کی ایک بڑی علامت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذکورہ کیس میں پراسیکیوشن نے عدالت کے سامنے تمام شواہد اور گواہان پیش کیے جن کی روشنی میں جج نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جرم کی نوعیت انتہائی سنگین ہے اور اس میں کسی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے قوانین کو مزید سخت کیا گیا ہے۔ حکومت اور عدلیہ کی جانب سے ایسے کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کے لیے خصوصی عدالتیں بھی قائم کی گئی ہیں تاکہ متاثرین کو جلد انصاف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تھانہ شہزاد ٹاؤن پولیس نے اس کیس کی تفتیش میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے۔ فرانزک شواہد کے ساتھ ساتھ دیگر گواہیوں کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا جس سے مجرم کے خلاف کیس مضبوط ہوا اور اسے سزا سنائی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ لڑکی اور اس کے اہل خانہ کو قانونی مدد فراہم کرنے کے لیے متعلقہ اداروں نے بھی کردار ادا کیا۔ معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے واقعات کے خلاف آواز اٹھائے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کرے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/islamabad/1664/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سعودی عرب میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر دو غیر ملکیوں کو سزائے موت</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1622/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1622/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 23:56:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بنگلہ_دیش]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تقدس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سزائے_موت]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_قوانین]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_وزارت_داخلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%b3%d8%ac%d8%af-%da%a9%db%92-%d8%aa%d9%82%d8%af%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%a7%d9%85%d8%a7%d9%84%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[سعودی وزارت داخلہ کے مطابق مکہ مکرمہ کی ایک مسجد میں سنگین جرم کے مرتکب ہونے والے بنگلہ دیشی شہریوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کر دیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب میں حال ہی میں ایک افسوسناک واقعے کے بعد دو بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دی گئی ہے۔ سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ کارروائی 14 اکتوبر بروز بدھ کو عمل میں لائی گئی جس کے بعد عدالتی فیصلے پر مکمل عمل درآمد کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد پر مکہ مکرمہ کی ایک مسجد کے اندر انتہائی غیر اخلاقی اور قابل اعتراض حرکات کرنے کا الزام تھا۔ عدالت نے معاملے کی سنگینی اور مسجد کے تقدس کی پامالی کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزمان کو موت کی سزا سنائی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی وزارت داخلہ کے مطابق ملزمان کی جانب سے دائر کی گئی اپیلیں مسترد ہونے کے بعد قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔ عدالت نے شواہد کی روشنی میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ مسجد جیسے مقدس مقام پر اس طرح کا عمل ناقابل معافی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کے بعد بین الاقوامی میڈیا میں بھی اس پر بحث کی جا رہی ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سزائے موت پانے والے ان افراد کے اہل خانہ سے بھی رابطہ کیا گیا ہے تاکہ معاملے کی مزید تفصیلات سامنے لائی جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کا عدالتی نظام اسلامی قوانین کے تحت انتہائی سخت ہے، خاص طور پر مساجد اور مقدس مقامات کے حوالے سے وہاں کے قوانین میں کوئی نرمی نہیں برتی جاتی۔ مسجد کے تقدس کو پامال کرنا سعودی معاشرے میں ایک سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی حکام کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا اور مقدس مقامات کے احترام کا تحفظ کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ اسی اصول کے تحت عدالت نے اس کیس میں سخت ترین سزا کا فیصلہ سنایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذکورہ افراد کی گرفتاری اور ان پر چلنے والے مقدمے کے دوران تمام قانونی مراحل کو شفاف انداز میں مکمل کیا گیا۔ سعودی وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد قانون کی بالادستی کے لیے ضروری تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کے بعد سے سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں اس حوالے سے تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں کو بھی بارہا ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ مقامی قوانین اور مذہبی روایات کا مکمل احترام کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت سعودی عرب بھر کی مساجد میں نظم و ضبط اور تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات موجود ہیں۔ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پر فوری کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ افراد کے اہل خانہ اس صورتحال پر گہرے صدمے میں ہیں، تاہم سعودی عدالتی نظام نے اپنے قوانین کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔ اس کیس نے ایک بار پھر سعودی عرب میں سخت قوانین کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں بھی سعودی حکومت کی جانب سے اس طرح کے جرائم کے خلاف سخت موقف برقرار رہنے کی توقع ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے مساجد اور دیگر عوامی مقامات پر کڑی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1622/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوث 5 شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1143/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1143/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 18:57:44 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریاض]]></category>
		<category><![CDATA[سزائے_موت]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_وزارت_داخلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d9%84%d9%88%d8%ab-5-%d8%b4%db%81%d8%b1%db%8c%d9%88%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[سعودی وزارت داخلہ کے مطابق مجرمان سکیورٹی فورسز پر حملوں اور دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت میں ملوث تھے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب میں دہشت گردی اور سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث پانچ سعودی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔ سعودی پریس ایجنسی اور وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق، ان افراد کو ان کے سنگین جرائم پر قانونی کارروائی کے بعد کیفر کردار تک پہنچایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت داخلہ کے مطابق سزائے موت پانے والے پانچوں افراد کا تعلق سعودی عرب سے ہی تھا۔ ان پر ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کے ساتھ روابط رکھنے، مملکت کے اندر تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرنے اور ان پر عمل درآمد میں مدد فراہم کرنے کے الزامات ثابت ہوئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرکاری اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ مجرمان سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں، سکیورٹی مراکز اور سرکاری گاڑیوں پر ہتھیاروں اور دھماکا خیز مواد کے ذریعے حملے کرنے کے مرتکب ہوئے تھے۔ ان پر غیر قانونی طور پر اسلحہ اور گولہ بارود رکھنے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان افراد پر دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کے الزامات بھی ثابت ہوئے تھے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام جرائم کی وجہ سے ملک کی داخلی سلامتی کو خطرات لاحق تھے، جس کے پیش نظر قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی سکیورٹی اداروں نے ان افراد کو گرفتار کرنے کے بعد تفتیش مکمل کی اور انہیں متعلقہ عدالتوں میں پیش کیا۔ عدالتی کارروائی کے دوران تمام ثبوتوں اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے پانچوں ملزمان کو سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کے فیصلے کے بعد سعودی سپریم کورٹ اور اپیل کورٹ نے بھی ان سزاؤں کی توثیق کر دی تھی۔ شاہی فرمان کے بعد ہفتے کے روز مشرقی صوبے (الشرقیہ ریجن) میں ان سزاؤں پر عمل درآمد کیا گیا، جس کے بعد یہ کیس اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ مملکت اپنے شہریوں کے تحفظ اور امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ کسی بھی شخص کو ملک میں دہشت گردی پھیلانے یا سکیورٹی اداروں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگرچہ وزارت داخلہ نے سزائے موت پر عمل درآمد کی تصدیق کی ہے، تاہم سرکاری بیان میں مجرمان کے ناموں، ان کی عمروں یا مقدمے کی سماعت سے متعلق مزید تفصیلی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ یہ کارروائی سعودی قانون کے تحت مکمل رازداری اور ضابطے کے مطابق کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب میں دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جاتی ہے۔ حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں جن کا مقصد معاشرے کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کے اثرات سے محفوظ رکھنا اور قانون کی بالادستی کو قائم رکھنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماضی میں بھی سعودی عرب نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سخت قوانین متعارف کرائے ہیں اور ان پر سختی سے عمل درآمد کیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد نہ صرف اندرونی استحکام کو برقرار رکھنا ہے بلکہ خطے میں امن و امان کی فضا کو بھی یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کی جانب سے جاری کردہ یہ بیان ملکی میڈیا پر نمایاں طور پر نشر کیا گیا ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر سکیورٹی اداروں کو دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ کارروائی سعودی عرب کے عدالتی نظام کی شفافیت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مستعدی کو ظاہر کرتی ہے۔ ملک میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی جانب سے مسلسل نگرانی اور انٹیلی جنس معلومات پر مبنی آپریشنز جاری رہتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1143/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بھارت: شوہر کو قتل کر کے لاش کنکریٹ کے ڈرم میں چھپانے والی بیوی کو سزائے موت</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1025/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1025/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 23:57:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[انڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سزائے_موت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%b4%d9%88%db%81%d8%b1-%da%a9%d9%88-%d9%82%d8%aa%d9%84-%da%a9%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%84%d8%a7%d8%b4-%da%a9%d9%86%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%b9-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[میرٹھ کی عدالت نے اپنے شوہر کو بے دردی سے قتل کرنے والی خاتون اور ان کے ساتھی کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنا دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارت کے شہر میرٹھ کی ایک عدالت نے ایک انتہائی لرزہ خیز قتل کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے مقتول کی اہلیہ اور اس کے ساتھی کو سزائے موت کی سزا سنائی ہے۔ ملزمان نے شوہر کو قتل کرنے کے بعد لاش کو ٹکڑوں میں کاٹ کر ایک ڈرم میں ڈال دیا تھا اور اسے کنکریٹ سے بھر دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی کے دوران ضلع جج اروند کمار نے ڈیڑھ سال تک جاری رہنے والے مقدمے کا فیصلہ سنایا۔ دونوں مجرموں، مسکان اور ساحل شکلا، کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہیں سزائے موت کے علاوہ 20 ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعہ مارچ 2025 میں پیش آیا تھا جب لندن میں ملازمت کرنے والے سوربھ راجپوت اپنی اہلیہ کے ساتھ میرٹھ میں موجود تھے۔ پولیس کے مطابق، ملزمہ مسکان نے اپنے بوائے فرینڈ ساحل کے ساتھ مل کر اپنے شوہر کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا تاکہ وہ اپنے تعلقات کو جاری رکھ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ ملزمان نے قتل کے لیے پہلے سے ہی چاقو اور بے ہوشی کی دوا کا انتظام کر رکھا تھا۔ تین مارچ کی رات مسکان نے سوربھ کے کھانے میں نشہ آور دوا ملا دی، جس کے بعد ساحل نے اسے قابو کیا اور مسکان نے چاقو کے وار کر کے اسے قتل کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قتل کے بعد ملزمان نے لاش کو باتھ روم میں ٹکڑوں میں تقسیم کیا اور ثبوت مٹانے کے لیے کمرے کو بلیچنگ پاؤڈر سے صاف کیا۔ اگلے دن مسکان نے بازار سے ایک بڑا ڈرم اور سیمنٹ خریدا، جس میں لاش کے ٹکڑے ڈال کر اسے کنکریٹ سے بھر دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واردات کے بعد دونوں ملزمان سیر و تفریح کے لیے شملہ اور منالی روانہ ہو گئے تھے۔ سوربھ کے اہل خانہ نے ان کے لاپتا ہونے کی رپورٹ درج کرائی تھی، جس کے بعد پولیس نے تفتیش کا آغاز کیا تو یہ ہولناک جرم سامنے آیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس نے جب مسکان اور ساحل سے پوچھ گچھ کی تو انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ پولیس نے ڈرم کو قبضے میں لے کر کٹر کی مدد سے کاٹا اور مقتول کی باقیات برآمد کیں۔ اس دوران ملزمان نے لاش چھپانے کے بعد فرار ہونے کی کوشش بھی کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقتول سوربھ راجپوت نے 2016 میں مسکان سے پسند کی شادی کی تھی، جس کی ان کے خاندان والوں نے مخالفت کی تھی۔ بعد ازاں مالی مشکلات کے باعث سوربھ اپنے والدین سے الگ ہو کر رہائش پذیر ہو گئے تھے، جس کے دوران مسکان اور ساحل کے درمیان قربتیں بڑھ گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت میں پیشی کے دوران ملزمان کے خلاف عوامی غصہ بھی دیکھنے میں آیا، جہاں کچھ وکلا نے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے سخت سکیورٹی کے حصار میں دونوں کو بحفاظت واپس جیل منتقل کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقتول کے بھائی راہول نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بھائی کو بے دردی سے قتل کیا گیا اور اس جرم میں ملوث افراد کو سخت ترین سزا ملنی چاہیے تھی۔ انہوں نے اس معاملے میں مزید سازش کا شبہ بھی ظاہر کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب مسکان کے اپنے والدین نے بھی اپنی بیٹی کے اس فعل کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی نے جو ظلم کیا ہے، وہ ناقابل معافی ہے اور اسے معاشرے کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کیس نے پورے علاقے میں سنسنی پھیلا دی تھی کیونکہ قتل کا طریقہ کار انتہائی سفاکانہ تھا۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف ملزمان کو گرفتار کیا بلکہ لاش کو بھی برآمد کر لیا، جس سے مقدمے کے تمام پہلو واضح ہو گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے سزائے موت کے ساتھ ساتھ دیگر دفعات کے تحت دونوں مجرموں کو سات سال قید کی سزا بھی سنائی ہے۔ یہ فیصلہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے ایسے جرائم کے خلاف ایک سخت پیغام سمجھا جا رہا ہے جہاں ذاتی مفادات کے لیے انسانی جانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1025/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نضال حسن کی پھانسی براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ واپس</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/906/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/906/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 22:37:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جے_ڈی_وینس]]></category>
		<category><![CDATA[چین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سزائے_موت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c-%d8%b5%d8%af%d8%b1-%da%88%d9%88%d9%86%d9%84%da%88-%d9%b9%d8%b1%d9%85%d9%be-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%b6%d8%a7%d9%84-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی صدر نے فورٹ ہڈ فائرنگ کیس کے مجرم کی سزائے موت کی براہِ راست نشریات کا متنازع منصوبہ ترک کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کے مجرم نضال حسن کی سزائے موت کو براہِ راست نشر کرنے کا اپنا سابقہ فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ کی جانب سے اس تجویز کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نضال حسن امریکی فوج میں بطور ماہرِ نفسیات خدمات انجام دے چکے ہیں اور انہیں 2009 میں ٹیکساس کے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کرکے 13 فوجیوں کو ہلاک کرنے کے جرم میں 2013 میں فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر ٹرمپ کا ابتدائی مؤقف یہ تھا کہ اس پھانسی کو آن لائن براہِ راست دکھایا جانا چاہیے تاکہ دنیا بھر میں دہشت گردی میں ملوث عناصر کو ایک واضح پیغام دیا جا سکے اور یہ منظر ایک عبرت کا نشان بن سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم اس تجویز کے سامنے آنے کے بعد امریکی حلقوں میں بحث چھڑ گئی تھی۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی صدر کے اس فیصلے سے کھل کر اختلاف کیا اور کہا کہ وہ خود اس قسم کی نشریات دیکھنے کے حق میں نہیں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس معاملے پر امریکا کے 72 ریٹائرڈ جرنیلوں، ایڈمرلز اور دیگر اعلیٰ فوجی حکام نے بھی حکومت کو ایک خط لکھا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ پھانسی کی براہِ راست نشریات کے منصوبے کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان فوجی حکام کا کہنا تھا کہ اس طرح کی نشریات اخلاقی اور پیشہ ورانہ اقدار کے منافی ہوں گی۔ دباؤ بڑھنے کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے نیک نیت لوگ کسی کو مرتے ہوئے دیکھنا پسند نہیں کرتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ نضال حسن کی سزائے موت پر اپنے مقررہ وقت پر عمل درآمد کیا جائے گا، تاہم اب اسے کسی بھی پلیٹ فارم پر براہِ راست نشر نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس کی تشہیر کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ 5 نومبر 2009 کو پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے میں نضال حسن نے فوجی اڈے کے اندر اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں 13 افراد موقع پر ہی جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کے بعد سے نضال حسن کی سزا پر عمل درآمد کا معاملہ طویل عرصے تک قانونی پیچیدگیوں اور بحث کا شکار رہا ہے۔ اب جبکہ حتمی فیصلہ سامنے آ چکا ہے، سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی انتظامیہ نے اس فیصلے کو حتمی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا اور مجرم کو اس کے کیے کی سزا دی جائے گی، تاہم اخلاقی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے نشریات سے گریز کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس فیصلے کا خیرمقدم ان حلقوں کی جانب سے کیا جا رہا ہے جو اسے ایک غیر روایتی اور غیر ضروری اقدام قرار دے رہے تھے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ امریکی عدالتی اور فوجی روایات کے عین مطابق ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اب جبکہ براہِ راست نشریات کا تنازع ختم ہو چکا ہے، توقع کی جا رہی ہے کہ متعلقہ حکام جلد ہی سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے حتمی تاریخ کا اعلان کریں گے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/906/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
