<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سرکاری_ملازمین &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c_%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 22:26:30 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>سرکاری_ملازمین &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پنشن ملازم کا قانونی اور آئینی حق ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/2114/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/2114/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 10:16:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_ہائی_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پنشن_حق]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_شاہ_رخ_ارجمند]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریٹائرمنٹ_مراعات]]></category>
		<category><![CDATA[سرکاری_ملازمین]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_فیصلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%b4%d9%86-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%db%8c-%d8%ad%d9%82-%db%81%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے وزارتِ خزانہ اور دیگر متعلقہ حکام کو قومی بچت مرکز کے افسر کی پنشن فوری جاری کرنے کا حکم دے دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم تحریری فیصلے میں قرار دیا ہے کہ پنشن کوئی خیرات، رعایت یا عطیہ نہیں بلکہ ملازم کا بنیادی قانونی اور آئینی حق ہے۔ عدالت عالیہ نے وزارتِ خزانہ اور متعلقہ حکام کو قومی بچت مرکز میں تعینات افسر نوید اللّٰہ کو ریٹائرمنٹ پر پنشن اور دیگر مالی مراعات فوری طور پر ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جسٹس شاہ رخ ارجمند کی جانب سے جاری کردہ اس تفصیلی فیصلے میں سرکاری ملازمین کے حقوق اور مالی بقایا جات کے حوالے سے اہم قانونی نکتہ اٹھایا گیا ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ ملازمین کی فلاح و بہبود اور ان کے قانونی فوائد کے تحفظ کی سمت میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کی سماعت کے دوران وزارتِ خزانہ کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا تھا کہ متعلقہ ملازم کی کنٹریکٹ پر تعیناتی وفاقی پبلک سروس کمیشن کے طریقہ کار کے ذریعے عمل میں نہیں آئی تھی۔ اسی مؤقف کو بنیاد بناتے ہوئے محکمہ کی جانب سے پنشن اور دیگر مراعات کی ادائیگی میں تاخیر یا رکاوٹ ڈالی جا رہی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی ریکارڈ اور دستاویزات کے جائزے سے معلوم ہوا کہ نوید اللّٰہ نے اٹھائیس مئی انیس سو پچانوے کو وزارتِ خوراک میں گریڈنگ انسپکٹر کے طور پر سرکاری کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ اس کے بعد سولہ اگست انیس سو ستانوے کو ان کی ملازمت کو باضابطہ طور پر مستقل کر دیا گیا تھا جس کے بعد وہ مسلسل فرائض انجام دیتے رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریکارڈ کے مطابق قومی بچت مرکز میں منتقلی کے بعد موصوف کو دو ہزار بارہ میں ریگولرائز کیا گیا اور پھر دو ہزار پندرہ میں انہیں مکمل طور پر مستقل کر دیا گیا۔ تمام دفتری مراحل طے کرنے کے باوجود جب ریٹائرمنٹ پر پنشن کی ادائیگی نہ ہوئی تو ملازم نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد ہائی کورٹ نے تمام فریقین کے دلائل سننے اور ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد وزارتِ خزانہ کا اعتراض مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ طویل عرصے تک سرکاری خدمات سرانجام دینے والے ملازم کو اس کے قانونی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ جب ایک ملازم نے اپنی زندگی کے قیمتی سال سرکاری محکمے کی خدمت میں صرف کر دیے ہوں تو اسے ریٹائرمنٹ کے بعد کسمپرسی میں چھوڑنا اور جائز حقوق سے محروم رکھنا سراسر ناانصافی ہے۔ قانون ہر محنت کش اور ملازم کو اس کی محنت کا صلہ اور ریٹائرمنٹ کے بعد مالی تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قومی بچت مرکز اور وزارتِ خزانہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ عدالتی احکامات کی روشنی میں فوری طور پر تمام واجبات کا حساب لگایا جائے۔ اس عمل میں مزید تاخیر کرنے سے گریز کیا جائے تاکہ ملازم کو کسی قسم کی مزید ذہنی اور مالی پریشانی کا سامنا نہ کرناپڑے اور اس کے حقوق کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانونی ماہرین نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے پاکستان کے سرکاری ملازمین کے لیے ایک بڑی قانونی فتح قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ملک بھر کے ان تمام ملازمین کو قانونی مدد ملے گی جن کے پنشن کیسز مختلف محکموں میں تاخیر کا شکار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پنشن کے حوالے سے اس نوعیت کے عدالتی فیصلے ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں جو انتظامیہ کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ ملازمین کے ساتھ ہونے والے معاہدوں اور سروس رولز کی پاسداری کی جائے۔ سرکاری اداروں کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے معاملات کو بروقت حل کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس فیصلے کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ وزارتِ خزانہ اور دیگر متعلقہ سرکاری ادارے نوید اللّٰہ کے تمام واجبات کی جلد ادائیگی کو یقینی بنائیں گے۔ عدالتی حکم نامے کی کاپی متعلقہ حکام کو ارسال کر دی گئی ہے تاکہ اس پر فوری عمل درآمد کا آغاز کیا جا سکے اور مزید کسی تاخیر کے بغیر معاملات کو طے کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فلاحی ریاست میں ملازمین کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر سرکاری اداروں کی طرف سے اس قسم کے عذر پیش کیے جائیں گے تو ملازمین کبھی بھی اپنے فرائض منصبی اطمینان کے ساتھ انجام نہیں دے سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ افسر نے عدالت کے اس فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی کو سراہا ہے۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد سرکاری اداروں میں کام کرنے والے دیگر ملازمین کو بھی ایک قانونی مثال مل گئی ہے جس کی روشنی وہ اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھا سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/2114/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 24 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2003/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2003/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 14:37:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_آئی_اے]]></category>
		<category><![CDATA[بی_آئ_ایس_پی]]></category>
		<category><![CDATA[بینظیر_انکم_اسپورٹ_پروگرام]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریکوری]]></category>
		<category><![CDATA[سرکاری_ملازمین]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%db%8c%d9%86%d8%b8%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d9%86%da%a9%d9%85-%d8%b3%d9%be%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af%d8%b1%d8%a7%d9%85-%d9%85%db%8c%da%ba-24-%d8%a7%d8%b1%d8%a8/</guid>

					<description><![CDATA[قومی اسمبلی میں پیش کردہ دستاویزات کے مطابق ایک لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین اور ان کے شریک حیات نے مستحقین کے فنڈز وصول کیے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک کے غریب اور نادار طبقات کی مالی معاونت کے لیے قائم کیے جانے والے معروف فلاحی ادارے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا ہولناک انکشاف سامنے آیا ہے۔ وزارت تخفیف غربت اور سماجی تحفظ کی جانب سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کی گئی توثیقی دستاویزات کے مطابق پروگرام سے ایک لاکھ سے زائد نااہل سرکاری ملازمین نے فنڈز وصول کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس انتہائی حساس اور چونکا دینے والے معاملے میں مجموعی طور پر چوبیس ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو کہ غریب عوام کے حق پر مبینہ ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس بدعنوانی اور فنڈز کی غیر قانونی منتقلی سے مستحق خاندانوں کی حق تلفی ہوئی ہے جن کے لیے یہ امدادی رقم مختص کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قومی اسمبلی میں پیش کی گئی تفصیلات سے یہ بات بھی عیاں ہوئی ہے کہ مالی سال دو ہزار انیس اور بیس کے دوران سرکاری ملازمین اور پنشنرز نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے تئیس ارب تیرہ کروڑ روپے کی بھاری رقم وصول کی۔ حیرت انگیز طور پر دو ہزار انیس میں ان بے ضابطگیوں کی واضح نشاندہی کیے جانے کے باوجود مبینہ طور پر چھ سال تک نادار افراد کے فنڈز کی غیر متعلقہ افراد کو ادائیگیاں جاری رہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دستاویزات میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ متعلقہ اداروں کی طرف سے ملازمین کی نشاندہی کے بعد بھی نوی کروڑ روپے کی مزید ادائیگیاں کی جاتی رہیں جو انتظامی نگرانی اور احتساب کے نظام پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اس غفلت اور لاپرواہی نے فلاحی اداروں کے اندرونی کنٹرول سسٹمز کی کارکردگی کو بھی شدید تنقید کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریکارڈ کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ مالی سال دو ہزار بیس اور اکیس میں بارہ ہزار سے زائد سرکاری ملازمین نے چودہ کروڑ سٹھ لاکھ روپے سے زائد کی رقم حاصل کی۔ اس کے بعد کے برسوں میں بھی اس طرح کی غیر قانونی وصولیوں کا سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں برابر جاری رہا اور مختلف مالی سالوں میں سرکاری عملہ امدادی رقوم سے مستفید ہوتا رہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرکاری دستاویزات کے مطابق مالی سال دو ہزار اکیس اور بائیس میں دو ہزار چار سو سینتالیس، جبکہ مالی سال دو ہزار بائیس اور تئیس میں دو ہزار دو سو پینتیس سرکاری ملازمین اس عمل میں ملوث پائے گئے۔ اس کے علاوہ مالی سال دو ہزار تئیس اور چوبیس کے دوران دو سو ستائیس سرکاری ملازمین نے بھی یہ امدادی رقوم اپنے نام کروائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مالی سال دو ہزار چوبیس اور پچیس میں بھی بارہ ہزار سے زائد سرکاری ملازمین کی جانب سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز وصول کرنے کے شواہد سامنے آئے۔ ان تمام اعداد و شمار نے پارلیمنٹ میں ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے اور اراکین پارلیمنٹ نے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ان مالی بے ضابطگیوں میں اکیلے سرکاری ملازمین ہی ملوث نہیں تھے بلکہ ان کے شریک حیات بھی اس غیر قانونی عمل میں برابر کے شریک رہے۔ اس مکہ مکروہ نیٹ ورک میں حیرت انگیز طور پر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اپنے دو سو چھتیس ملازمین کے نام بھی شامل پائے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلاحی پروگرام کے اندر اپنے ہی ملازمین کا اس نوعیت کی بے ضابطگیوں میں ملوث ہونا ادارے کے اندرونی احتساب پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اربوں روپے کی اس مبینہ کرپشن اور بے ضابطگیوں کے مقابلے میں اب تک کی جانے والی ریکوری کی رفتار انتہائی سست اور نامناسب دکھائی دیتی ہے۔ دستیاب دستاویزات کے مطابق چوبیس ارب روپے کی بڑی رقم کے مقابلے میں اب تک صرف اکیس کروڑ یا مجموعی طور پر لگ بھگ اکہتر کروڑ روپے ہی ریکور کیے جا سکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفصیلات کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے نے مالی بے ضابطگیوں میں ملوث سرکاری ملازمین سے چونسٹھ کروڑ روپے کی خطیر رقم برآمد کی۔ اس کے علاوہ دیگر سرکاری محکموں نے چودہ کروڑ پچاس لاکھ روپے کی ریکوری کرنے میں کامیابی حاصل کی جو کہ کل خسارے کا بہت چھوٹا حصہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادھر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی انتظامیہ نے اپنے ملوث پائے جانے والے ملازمین سے دو کروڑ پندرہ لاکھ روپے کی رقم واپس وصول کی۔ اس طرح تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ کوششوں کے باوجود کل ملا کر تقریبا ستر کروڑ پینسٹھ لاکھ روپے ہی سرکاری خزانے میں واپس لائے جا سکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریکوری کی اس انتہائی کم مقدار اور مجموعی بے ضابطگیوں کی کثیر رقم کے درمیان پایا جانے والا یہ اکھاڑ پچھاڑ اور بڑا فرق حکومتی نگرانی کے نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ عوامی حلقوں اور پارلیمانی اراکین کی جانب سے اس بات کا شدت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ تمام لوٹی گئی رقم پائی پائی کر کے واپس لی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی انتظامیہ نے انکشافات کے بعد تمام مالی بے ضابطگیوں میں ملوث سرکاری ملازمین اور افراد کا مکمل ریکارڈ متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ارسال کر دیا ہے۔ اداروں کی جانب سے اس ریکارڈ کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی اور چھان بین کا عمل تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاملے کی تہہ تک پہنچنے اور آئندہ اس قسم کی غفلت کو روکنے کے لیے ایک انتہائی اہم فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت چھ لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ اس جامع اسکریننگ کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ آئندہ کوئی بھی غیر مستحق سرکاری ملازم قومی خزانے سے غریبوں کا حق نہ مار سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2003/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبرپختونخوا میں سرکاری ملازمین کے لیے اسمارٹ ایپ سے حاضری لازمی قرار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1993/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1993/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 12:37:39 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسمارٹ_اٹینڈنس_ایپ]]></category>
		<category><![CDATA[اقدامات]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[حاضری]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈسپلن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سرکاری_دفاتر]]></category>
		<category><![CDATA[سرکاری_ملازمین]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا نے تمام سرکاری ملازمین کے لیے دفتری اوقاتِ کار پر سختی سے عملدرآمد کا حکم دے دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا کے محکمہ خزانہ نے صوبے بھر کے تمام سرکاری ملازمین کے لیے دفتری اوقاتِ کار پر سختی سے عملدرآمد کرنے کی سخت ہدایات جاری کر دی ہیں تاکہ انتظامی امور میں بہتری لائی جا سکے اور دفتری کارروائیوں میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں ایک باقاعدہ نوٹیفکیشن اور سرکلر جاری کیا گیا ہے جس میں تمام متعلقہ افسران اور عملے کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران وقت کی پابندی کو ہر صورت یقینی بنانے کی تاکید کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جاری کردہ احکامات کے مطابق صوبائی محکموں کے تمام افسران اور ماتحت عملے کے لیے صبح نو بجے اپنے دفاتر میں پہنچنا لازم قرار دیا گیا ہے۔ تاخیر سے آنے والے اہلکاروں کی وجہ سے دفتری کارروائیوں میں جو تعطل پیدا ہوتا تھا، اس کے تدارک کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے تاکہ عوام کو بلا تاخیر ریلیف فراہم کیا جا سکے اور پبلک سروس ڈیلیوری کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی احکامات کی روشنی میں روایتی حاضری کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے اب تمام ملازمین کے لیے اسمارٹ اٹینڈنس ایپ کا استعمال لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ ملازمین کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنی آمد اور روانگی کا اندراج اسی موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے ہی کریں گے تاکہ حاضری کے عمل میں کسی قسم کی گنجائش باقی نہ رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ سرکلر میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ دفتری اوقات کی پابندی نہ کیے جانے اور ملازمین کے دیر سے آنے کی وجہ سے سرکاری امور بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث اہم فائلوں کی پروسیسنگ میں تاخیر ہوتی ہے اور عام شہریوں کے مسائل کے حل میں بھی شدید رکاوٹیں حائل ہوتی ہیں جو کہ انتظامیہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ اسمارٹ اٹینڈنس ایپ کے نفاذ سے ملازمین کی حاضری کے نظام میں شفافیت آئے گی اور غیر حاضری یا تاخیر کے رجحان پر مؤثر طریقے سے قابو پایا جا سکے گا۔ جدید ٹیکنالوجی کے اس استعمال سے سرکاری دفاتر کی کارکردگی بہتر ہوگی اور گورننس کے معیار میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے جس سے مجموعی طور پر صوبائی محکموں کا نظام درست سمت میں گامزن ہو سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرکلر میں تمام ملازمین کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ مقررہ وقت پر اپنی حاضری یقینی بنائیں اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی سے گریز کریں۔ محکمہ نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی بھی افسر یا اہلکار اسمارٹ ایپ پر حاضری درج کرنے میں ناکام رہا یا تاخیر سے آنے کی عادت برقرار رکھی تو اس کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ملازمین کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی اور قواعد و ضوابط کے مطابق تضبطی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری محکموں میں حاضری کے نظام کو فول پروف بنانا اور سروس ڈیلیوری کے نظام کو مزید شفاف اور فعال بنانا ہے تاکہ عوام کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرناپڑے اور دفتری امور بلا تعطل چلتے رہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت کے اس فیصلے کو عوامی حلقوں اور دفتری امور کے ماہرین کی طرف سے سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے سرکاری مشینری کی کارکردگی میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔ تمام محکموں کے سربراہان کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماتحت عملے میں اسمارٹ اٹینڈنس ایپ کے استعمال کو یقینی بنائیں اور روزانہ کی بنیاد پر حاضری کے ریکارڈ کی خود نگرانی کریں تاکہ نظم و ضبط قائم رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ خزانہ کے اس نئے اور اہم اقدام کے تحت تمام صوبائی محکموں میں ایک نیا ڈسپلن متعارف کرایا جا رہا ہے جس کا بنیادی مقصد ملازمین کی حاضری کو ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے ذریعے چیک کرنا ہے۔ روایتی رجسٹرز اور حاضری کے فرسودہ طریقوں کو ختم کر کے اب سمارٹ فونز میں موجود اس خاص ایپلی کیشن کو استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جس پر تمام ملازمین کو بلا چوں و چراں عملدرآمد کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ دفتری اوقات کی پاسداری نہ کرنے کی وجہ سے جو عوامی مسائل التوا کا شکار ہوتے ہیں، ان پر اب قابو پایا جا سکے گا۔ پشاور سمیت صوبے بھر کے تمام سرکاری دفاتر میں اسمارٹ اٹینڈنس ایپ کے ذریعے حاضری کی یہ پابندی فوری طور پر نافذ کر دی گئی ہے اور تمام محکموں کو اس حوالے سے احکامات موصول ہو چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرکاری ملازمین کو اس نئے نظام سے متعلق مکمل آگاہی بھی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ ایپ کے استعمال میں کسی قسم کی تکنیکی مشکل کا سامنا نہ کرناپڑے۔ محکمہ خزانہ کے مطابق جو ملازمین اسمارٹ ایپ پر حاضری درج کرنے میں جان بوجھ کر کوتاہی برتیں گے، ان کے خلاف فوری طور پر قواعد کے مطابق تضبطی کارروائی کا آغاز کر دیا جائے گا اور کسی بھی قسم کی سفارش کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسمارٹ اٹینڈنس ایپ کے ذریعے حاضری کا یہ جدید نظام صوبائی حکومت کی گڈ گورننس پالیسی کا ایک اہم حصہ ہے جس کا مقصد سرکاری اداروں میں کرپشن، سستی اور کاہلی کے رجحان کا خاتمہ کرنا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اور متعلقہ حکام کی ہدایات کی روشنی میں یہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ سرکاری ملازمین اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور وقت پر اپنے دفاتر میں موجود رہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام متعلقہ محکموں کے سربراہان کو ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ اپنے دفاتر میں اسمارٹ ایپ کے ذریعے حاضری کے عمل کو ذاتی دلچسپی لے کر یقینی بنائیں اور اس بات کی رپورٹ مرتب کریں کہ کتنے فیصد ملازمین نے وقت پر حاضری درج کی۔ محکمہ خزانہ اس پورے عمل کی کڑی نگرانی کرے گا تاکہ اس پالیسی کو اس کی اصل روح کے مطابق کامیاب بنایا جا سکے اور صوبے کے عوام کو بہترین خدمات فراہم کی جا سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1993/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سرکاری ملازمین کی غیر ملکی شہریت سے متعلق نئے ڈیکلریشن رولز جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1824/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1824/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 09:38:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیبلشمنٹ_ڈویژن]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیکلریشن_رولز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سرکاری_ملازمین]]></category>
		<category><![CDATA[سول_سرونٹس]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d9%85%d9%84%da%a9%db%8c-%d8%b4%db%81%d8%b1%db%8c%d8%aa-%d8%b3%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سرکاری ملازمین کی غیر ملکی شہریت اور سفری دستاویزات سے متعلق نیا آفس میمورنڈم جاری کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت کے ادارہ برائے اسٹیبلشمنٹ نے ملکی انتظامی ڈھانچے میں شفافیت کو مزید فروغ دینے اور انتظامی امور کو بہتر بنانے کی غرض سے ایک نہایت اہم قدم اٹھایا ہے۔ اس سلسلے میں ایک باضابطہ آفس میمورنڈم جاری کیا گیا ہے جو ملک بھر کے تمام سرکاری ملازمین اور سول سرونٹس پر یکساں طور پر نافذ العمل ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئے جاری کردہ ڈیکلریشن رولز دو ہزار چھبیس کے تحت تمام متعلقہ سرکاری ملازمین کے لیے یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی ذاتی حیثیت کے علاوہ اپنے زیرِ کفالت تمام افراد کی غیر ملکی شہریت کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ضابطے کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ سرکاری محکموں میں خدمات سر انجام دینے والے افراد کے پاس اگر کوئی دوسری شہریت یا غیر ملکی دستاویزات موجود ہیں تو ان کا ریکارڈ مکمل طور پر متعلقہ حکام کے پاس محفوظ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صرف غیر ملکی شہریت ہی نہیں بلکہ اس نئے میمورنڈم کے دائرہ کار میں غیر ملکی سفری دستاویزات اور پاسپورٹس کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں تاکہ ہر قسم کی معلومات بروقت اعلیٰ حکام تک پہنچائی جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ اگر کسی سرکاری ملازم نے کسی غیر ملکی شہری کے ساتھ شادی کی ہے یا اس کا کوئی زیرِ کفالت فرد کسی دوسرے ملک کی قانونی حیثیت رکھتا ہے تو اس کا انکشاف بھی متعلقہ فارم پر لازمی کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں اس بات کی سخت تاکید کی گئی ہے کہ تمام متعلقہ افراد ان قواعد کے سرکاری گزٹ میں باضابطہ نوٹیفکیشن شائع ہونے کے بعد مقررہ مدت کے اندر اندر اپنے ڈیکلریشن جمع کرا دیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میمورنڈم کے متن کے مطابق یہ تمام تر تفصیلات جمع کرانے کے لیے نوٹیفکیشن کی تاریخ سے لے کر نوے دن کی مدت مقرر کی گئی ہے جس کے دوران تمام متعلقہ افسران اور ملازمین کو اپنی بابت معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر کوئی ملازم مقررہ وقت کے اندر اپنا ڈیکلریشن جمع کرانے میں ناکام رہتا ہے یا جان بوجھ کر اس عمل سے گریز کرتا ہے تو اس کے اس اقدام کو سرکاری قواعد کے تحت مس کنڈکٹ تصور کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">غلط معلومات فراہم کرنے یا حقائق کو چھپانے کی صورت میں بھی متعلقہ ملازم کو قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ ایسے تمام اقدامات کو نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزی شمار کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف سول سرونٹس ای فیشن سی اینڈ ڈسپلن رولز دو ہزار بیس کے تحت سخت ترین محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اس حوالے سے ملک کی تمام وزارتوں اور مختلف ڈویژنز کے سربراہان کو خصوصی ہدایات ارسال کر دی ہیں تاکہ وہ اس عمل کی نگرانی کریں اور ریکارڈ کو مرتب کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام متعلقہ وزارتوں اور محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماتحت کام کرنے والے تمام افسران کا تمام ضروری ریکارڈ یکجا کریں اور اسے مقررہ وقت کے اندر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو فراہم کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس مرتب کردہ ریکارڈ میں متعلقہ افسران کے مکمل نام، ان کے موجودہ عہدے، بنیادی پے اسکیل اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی غیر ملکی شہریت و سفری دستاویزات کی تفصیلی حیثیت درج ہونی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میمورنڈم کے مطابق یہ تمام تر نئی ہدایات اور ڈیکلریشن رولز ان تمام افسران پر لاگو ہوں گے جو براہِ راست متعلقہ انتظامی کنٹرول کے تحت اپنے فرائض منصبی انجام دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم اس حکم نامے میں کچھ مخصوص گروپس کو مستثنیٰ بھی قرار دیا گیا ہے جن میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس آف پاکستان، سیکرٹریٹ گروپ اور آفس مینیجمنٹ گروپ شامل ہیں جن کے لیے طریقہ کار مختلف ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1824/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سندھ حکومت کا سرکاری ملازمین کا ریٹائرمنٹ ریکارڈ ڈیجیٹلائز کرنے کا فیصلہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/961/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/961/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 10:38:11 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[جی_پی_فنڈ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹلائزیشن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریٹائرمنٹ_ریکارڈ]]></category>
		<category><![CDATA[سرکاری_امور]]></category>
		<category><![CDATA[سرکاری_ملازمین]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[صوبائی_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[سندھ حکومت نے تمام سرکاری ملازمین کا ریٹائرمنٹ ریکارڈ آن لائن کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ بروقت ادائیگیاں یقینی بنای جا سکیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سندھ حکومت نے صوبے بھر کے تمام سرکاری محکموں میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کے ریٹائرمنٹ کے امور کو مزید بہتر بنانے اور ان کے ریکارڈ کو شفاف اور محفوظ رکھنے کے لیے ایک اہم فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت تمام ملازمین کا ریٹائرمنٹ سے متعلق ریکارڈ مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر کے آن لائن نظام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی اور واضح مقصد یہ ہے کہ ملازمین کو ان کی ریٹائرمنٹ کے روز ہی تمام واجبات کی ادائیگی کو یقینی بنایا جا سکے اور انہیں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس حوالے سے محکمہ کالج تعلیم سندھ نے باضابطہ طور پر اس پالیسی پر عملدرآمد کے لیے ایک نیا حکم نامہ جاری کر دیا ہے جس کی تمام متعلقہ دفتری حلقوں میں توثیق کر دی گئی ہے۔ اس مراسلے کے اجراء سے صوبے بھر کے تعلیمی اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں میں ملازمین کے مالی امور کو نمٹانے کے طریقہ کار میں نمایاں بہتری آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ نیا نظام سابقہ روایتی اور سست رفتار دفتری کارروائی کو ختم کرنے میں اہم مددگار ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ کالج تعلیم کے سیکریٹری ندیم الرحمان میمن کی منظوری کے بعد جاری ہونے والے اس اہم مراسلے پر سیکشن افسر جنرل ایڈمنسٹریشن غلام مصطفی کے دستخط ثبت ہیں۔ اس حکومتی فیصلے کے بعد متعلقہ انتظامیہ نے فوری طور پر اس پر عملدرآمد کی تیاریاں شروع کر دی ہیں تاکہ مقررہ مدت کے اندر تمام ضروری کارروائی کو تکمیل تک پہنچایا جا سکے اور ملازمین کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جاری کردہ احکامات کے مطابق تمام سرکاری محکموں کے ملازمین کا ریٹائرمنٹ سے چھ ماہ قبل کا تمام تر ریکارڈ متعلقہ دفاتر کو فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس وقت کی پابندی کا مقصد یہ ہے کہ متعلقہ محکمے وقت مقررہ سے پہلے ہی تمام کاغذی کارروائی اور مالی حساب کتاب مکمل کر سکیں تاکہ ریٹائرمنٹ کے دن کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی ہدایات میں اس بات کی بھی سخت تاکید کی گئی ہے کہ گریجویٹی اور جی پی فنڈ کے تمام مالی معاملات اور فائلیں مقررہ وقت کے اندر اندر مکمل کر کے حل کی جائیں۔ اس نئے آن لائن نظام کی وجہ سے اب کسی بھی فائل کو طویل عرصے تک روکے رکھنا ممکن نہیں رہے گا اور تمام مراحل ڈیجیٹل نگرانی میں طے پائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماضی میں سرکاری ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے فنڈز اور واجبات حاصل کرنے کے لیے طویل اور پیچیدہ دفتری مراحل سے گزرنا پڑتا تھا جس کی وجہ سے اکثر غیر ضروری تاخیر ہو جاتی تھی۔ بعض اوقات ملازمین کو اپنی پنشن، گریجویٹی اور جی پی فنڈ کے حصول کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑتا تھا جس سے وہ شدید ذہنی اذیت اور مالی مشکلات کا شکار ہوتے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سندھ حکومت کے اس نئے ڈیجیٹل اقدام سے اس دیرینہ مسئلے کا مستقل اور موثر حل نکلنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ آن لائن نظام کے نفاذ سے تمام تر ریکارڈ محفوظ رہے گا اور دفتری امور میں شفافیت کو فروغ ملے گا، جس سے بدعنوانی یا تاخیری حربوں کی گنجائش بھی ختم ہو جائے گی اور سرکاری مشینری زیادہ فعال انداز میں کام کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت کے اس پختہ قدم کا مقصد بنیادی طور پر سرکاری ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد کے مراحل میں بھرپور ریلیف فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنی جمع پونجی اور قانونی واجبات باآسانی اور وقت پر حاصل کر سکیں۔ اس سے ملازمین کا ریاست اور متعلقہ محکموں پر اعتماد بھی بحال ہوگا اور وہ اپنے فرائض زیادہ دل جمعی اور اطمینان سے انجام دے سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ کالج تعلیم کی جانب سے جاری ہونے والے اس حکم نامے کے بعد صوبے کے دیگر تمام محکموں میں بھی اس طرح کے جدید اقدامات اٹھائے جانے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس پالیسی پر مکمل سختی سے عمل درآمد کریں اور اپنے ماتحت عملے کو بھی اس حوالے سے پوری طرح آگاہ کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ڈیجیٹل منتقلی کے عمل کو عملی طور پر کامیاب بنانے کے لیے ماہر تکنیکی عملے کی خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ آن لائن سسٹم میں کسی بھی قسم کی تکنیکی خرابی کی صورت میں فوری طور پر اس کا ازالہ کیا جا سکے۔ صوبائی سطح پر اس نظام کی کڑی اور مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ تمام امور احسن طریقے سے انجام پائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ صوبے کے ہر محکمے میں ملازمین کے ریکارڈ کی منتقلی کا عمل شفاف طریقے سے مکمل ہو۔ ڈیجیٹلائزیشن کا یہ عمل سرکاری دفاتر میں کاغذی کارروائی کے بوجھ کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا اور کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ وہ اس عمل میں کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی سے گریز کریں۔ اس جامع نظام کے مکمل فعال ہونے کے بعد سندھ بھر کے سرکاری ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے روز ہی ان کے مالی حقوق اور فنڈز ملنا شروع ہو جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/961/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نومبر میں سرکاری ملازمین اور طلبا کو مسلسل تین چھٹیاں ملنے کا امکان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/645/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/645/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 13:16:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ایکسپریس_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پیر_کی_چھٹی]]></category>
		<category><![CDATA[تعطیلات]]></category>
		<category><![CDATA[تعطیلات_کا_اعلان]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_ادارے]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سرکاری_ملازمین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%86%d9%88%d9%85%d8%a8%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b7%d9%84%d8%a8%d8%a7-%da%a9%d9%88-%d9%85%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[علامہ اقبال کے یوم پیدائش کے موقع پر عام تعطیل اور ہفتہ وار تعطیلات ملا کر تین چھٹیاں بنیں گی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر کے طلبا اور سرکاری ملازمین کے لیے ایک خوشخبری سامنے آئی ہے جس کے مطابق آئندہ ماہ نومبر کے دوران انہیں لگاتار تین روز کی چھٹیاں ملنے کا امکان روشن ہو گیا ہے۔ سرکاری کیلنڈر کے مطابق نومبر میں عام تعطیل کے باعث یہ طویل ویک اینڈ بنے گا جس سے شہریوں کو آرام کا اچھا موقع ملے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہر سال کی طرح اس بار بھی 9 نومبر کو پاکستان بھر میں مصور پاکستان اور شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے یوم ولادت کے موقع پر سرکاری سطح پر عام تعطیل کی جاتی ہے۔ اس سال یہ پرمسرت دن پیر کے روز آ رہا ہے جس کی وجہ سے ملازمین کو اضافی چھٹی کا تحفہ ملے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرکاری کیلنڈر کی تفصیلات کے مطابق پیر کے روز عام تعطیل ہونے سے قبل ہفتہ اور اتوار کی روایتی ہفتہ وار تعطیلات بھی آ رہی ہیں جنہیں ملا کر ملازمین کو تین دن کا مسلسل آرام میسر ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تعلیمی اداروں میں بھی اسی دوران تعطیلات کا سلسلہ رہے گا جہاں 7 نومبر سے لے کر 9 نومبر تک اسکول، کالجز اور جامعات بند رہیں گی جس سے طلبا بھی مستفید ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس طرح طلبا اور اساتذہ سمیت تمام تعلیمی عملے کو بھی تین روز تک درس و تدریس کے معمولات سے چھٹی کا پرلطف موقع حاصل ہو جائے گا اور وہ اس دوران اپنی مصروفات سے ہٹ کر وقت گزار سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرکاری ملازمین اس دوران اپنے اہل خانہ کے ساتھ سیر و تفریح یا گھریلو کاموں کو نمٹانے کا منصوبہ بنا سکتے ہیں کیونکہ لگاتار تین روز ملنے سے انہیں سفر کرنے کا بھی مناسب وقت مل جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوم اقبال کا یہ دن پوری قوم انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ مناتی ہے اور اس موقع پر ملک بھر میں مختلف تقریبات کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے جن میں علامہ اقبال کی شاعری اور افکار پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تعلیمی اداروں میں بھی علامہ اقبال کی ولادت کے حوالے سے خصوصی تقاریب منعقد ہوتی ہیں جہاں طلبا ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں مگر اس بار تعطیل پیر کے روز ہونے کی وجہ سے یہ تمام سرگرمیاں اس سے قبل کے دنوں میں انجام دی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہری اس طویل تعطیل کے حوالے سے تاحال پرامید ہیں اور سرکاری کیلنڈر کے مطابق اس شیڈول سے انہیں سال کے اختتام سے قبل ایک بہترین وقفہ مل جائے گا جو جسمانی اور ذہنی تھکن دور کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی طرف سے جاری کردہ سالانہ تعطیلات کے تناظر میں یہ تین دن کا وقفہ تمام متعلقہ افراد کے لیے انتہائی خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے جس سے معمول کی مصروفات سے ہٹ کر کچھ دیر سکون کے پل میسر آ سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے اس قسم کے طویل ویک اینڈز ہمیشہ سے راحت کا باعث بنتے ہیں جہاں وہ روزمرہ کی دفتری اور تعلیمی دوڑ دھوپ سے کچھ دیر کے لیے جان چھڑا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہ نومبر کے دوران آنے والی اس عام تعطیل کی بدولت نہ صرف ملازمین بلکہ عام شہریوں کو بھی اپنے ضروری امور کو نمٹانے کا ایک بہترین اور سنہری موقع ہاتھ آئے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تعلیمی اداروں کے شیڈول کے مطابق 7 نومبر سے شروع ہونے والا یہ تعطیلات کا سلسلہ 9 نومبر تک جاری رہے گا جو طلبہ کے لیے پڑھائی کے دوران ایک خوشگوار وقفہ ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پاکستان کے سالانہ تعطیلات کے نوٹیفکیشن کے مطابق اس بار یہ دن کیلنڈر پر ایسی جگہ آیا ہے جس سے چھٹیوں کا دورانیہ خود بخود بڑھ گیا ہے اور تمام متعلقہ طبقے اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/645/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
