<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>زرمبادلہ_کے_ذخائر &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b2%d8%b1%d9%85%d8%a8%d8%a7%d8%af%d9%84%db%81_%da%a9%db%92_%d8%b0%d8%ae%d8%a7%d8%a6%d8%b1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:32:15 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>زرمبادلہ_کے_ذخائر &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>معاشی استحکام آ چکا، آئی ٹی برآمدات ساڑھے پانچ ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، وزیر خزانہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/2095/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/2095/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 07:57:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ٹی_برآمدات]]></category>
		<category><![CDATA[برآمدات]]></category>
		<category><![CDATA[بینکنگ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_کی_فراہمی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زرمبادلہ]]></category>
		<category><![CDATA[زرمبادلہ_کے_ذخائر]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[محمد_اورنگزیب]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b4%db%8c-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d8%ad%da%a9%d8%a7%d9%85-%d8%a2-%da%86%da%a9%d8%a7-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a8%d8%b1%d8%a2%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%aa/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک میں توانائی کی فراہمی تسلی بخش ہے اور معاشی اصلاحات اب عملی مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں ایک نجی یونیورسٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ملک کی موجودہ معاشی صورتحال پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں توانائی کی قلت کو پیدا نہیں ہونے دیا گیا اور نہ ہی اس حوالے سے کسی قسم کے بحران کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پٹرول پمپس پر ایندھن کے حصول کے لیے کبھی لمبی قطاریں نہیں لگیں اور نہ ہی توانائی کے مسائل کی وجہ سے ملک میں امن و امن کی صورتحال پر کوئی منفی اثر پڑا۔ ان کے مطابق حکومت نے خطے میں جاری تنازعات کے باوجود توانائی کی خریداری اور فراہمی کے عمل کو انتہائی مؤثر انداز میں جاری رکھا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملک میں رواں سال نومبر تک کی توانائی کی جملہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مناسب ترین انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ آنے والے سردیوں کے موسم میں بھی توانائی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کی طرف سے کام جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملکی معیشت کے دیگر شعبوں کا ذکر کرتے ہوئے محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات جو ماضی میں ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ تھیں، اب بڑھ کر چار اعشاریہ چھ ارب ڈالر تک جا پہنچی ہیں۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ رواں مالی سال کے دوران مجموعی آئی ٹی برآمدات ساڑھے پانچ ارب ڈالر کی سطح کو چھو لیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر موجود ہیں جو تین ماہ سے زائد عرصے کی درآمدات کے لیے مکمل طور پر کافی ہیں۔ ماضی کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب زرمبادلہ کے ذخائر محض دو ہفتوں کی درآمدات کے برابر رہ گئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی درجہ بندی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے انکشاف کیا کہ گزشتہ سال کے مہینے اپریل سے لے کر اب تک پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں تین مرتبہ بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ عالمی مالیاتی منڈیوں میں رسائی کے لیے بھی حکومت نے نمایاں اور عملی اقدامات کیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے رواں سال اپریل میں پرائیویٹ پلیسمنٹ کی اور پانڈا بانڈ کے اجرا کے ذریعے عالمی سرمائے کی منڈی تک اپنی رسائی بحال کی۔ اسی طرح ستمبر کے پہلے ہفتے کے دوران تین ارب یورو کے بانڈز کامیابی کے ساتھ جاری کیے گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر خزانہ کے مطابق ان پاکستانی یورو بانڈز کے لیے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کی جانب سے موصول ہونے والے آرڈرز جاری کیے گئے حجم سے دو گنا زیادہ تھے۔ ایشیا، مشرق وسطی، یورپ اور امریکا کے نامور سرمایہ کاروں نے پاکستان کے ان بانڈز میں گہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ اب بین الاقوامی سرمایہ کار صرف بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام پر ہی انحصار نہیں کر رہے بلکہ وہ پاکستان کی مجموعی معاشی صورتحال کا بھی بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ موجودہ آئی ایم ایف پروگرام آئندہ سال کے مہینے اکتوبر میں اپنے اختتام کو پہنچے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام کو ریلیف کی فراہمی کے بارے میں وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ حکومت نے روایتی عمومی سبسڈی کے نظام کو خیرباد کہہ کر ہدفی سبسڈی دینے کا دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ حکومتی ریلیف کا اصل فائدہ صرف اور صرف مستحق طبقے تک ہی پہنچ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ موٹر سائیکلوں، تین پہیوں والی گاڑیوں اور آٹھ سو سی سی سے کم انجن والی گاڑیوں کے مالکان کے لیے خصوصی ہدفی سبسڈی فراہم کی گئی ہے۔ اس اسکیم کے تحت اب تک ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد منفرد افراد بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر فائدہ اٹھا چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محمد اورنگزیب نے اپنے خطاب کے آخر میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان میں معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ گہرے نوعیت کی ساختی اصلاحات پر بھی تیزی سے عمل درآمد جاری ہے۔ اب یہ تمام تر اصلاحات محض منصوبہ بندی کے مرحلے میں نہیں بلکہ عملی میدان میں داخل ہو چکی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/2095/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان کے زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر میں مزید اضافہ ریکارڈ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1894/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1894/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 01:16:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[ایس_بی_پی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زرمبادلہ_کے_ذخائر]]></category>
		<category><![CDATA[سونا]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%b2%d8%b1%d9%85%d8%a8%d8%a7%d8%af%d9%84%db%81-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%ac%d9%85%d9%88%d8%b9%db%8c-%d8%b0%d8%ae%d8%a7%d8%a6%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 26 ارب 83 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری کا تسلسل جاری ہے اور ملکی زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری دیکھی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرکزی بینک کی رپورٹ کے مطابق 16 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران پاکستان کے زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 26 ارب 83 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ اس اضافے سے ملکی معاشی استحکام کو مزید تقویت ملنے کی توقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسٹیٹ بینک کے اپنے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے جو اب 21 ارب 48 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ ایک ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے ذخائر میں ایک کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ ملک میں کام کرنے والے کمرشل بینکوں کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر کی صورتحال بھی مستحکم ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس اس وقت 5 ارب 34 کروڑ 44 لاکھ ڈالر کے ذخائر موجود ہیں جو ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں یہ اضافہ ملکی درآمدات اور بیرونی ادائیگیوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس سے نہ صرف ملکی کرنسی کی قدر میں استحکام آتا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی معاشی ساکھ بھی بہتر ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کی کوششیں رنگ لا رہی ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کا یہ رجحان ملکی معیشت کو درپیش بیرونی دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی برآمدات میں اضافے اور ترسیلات زر کی بہتر آمد نے بھی زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے معاشی استحکام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسٹیٹ بینک آف پاکستان ہر ہفتے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی تفصیلات جاری کرتا ہے تاکہ عوام اور سرمایہ کاروں کو ملکی مالیاتی صورتحال سے آگاہ رکھا جا سکے۔ یہ شفافیت معاشی اعتماد کو بحال رکھنے کے لیے ناگزیر سمجھی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں جاری مختلف معاشی سرگرمیاں اور توانائی کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت بھی زرمبادلہ کے ذخائر پر مثبت اثرات مرتب کر رہی ہے۔ مختلف صنعتی شعبوں میں پیداواری صلاحیت بڑھانے سے بھی ملکی معیشت کو سہارا مل رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے نجکاری کے عمل اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات بھی معاشی بہتری کے سفر میں اہم ہیں۔ ان اقدامات سے مستقبل میں زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید اضافے کی امید کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر یہ اعداد و شمار ملکی معیشت کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہیں۔ معاشی استحکام کا یہ سفر نہ صرف ملکی ترقی کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے عام آدمی کے لیے بھی معاشی مواقع پیدا ہونے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1894/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>حکومتی قرضوں میں روزانہ اضافے کی خبر نامکمل اور گمراہ کن ہے: وزارتِ خزانہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1502/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1502/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 19:38:35 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[جی_ڈی_پی]]></category>
		<category><![CDATA[حکومتی_قرضے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روپے]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زرمبادلہ_کے_ذخائر]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa%db%8c-%d9%82%d8%b1%d8%b6%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%d9%88%d8%b2%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d9%81%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%ae%d8%a8%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ معیشت کے حجم اور جی ڈی پی کے تناسب سے دیکھا جائے تو ملک میں قرضوں کی بڑھنے کی رفتار میں نمایاں کمی آئی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزارتِ خزانہ نے حکومتی قرضوں میں روزانہ کی بنیاد پر بیس ارب روپے اضافے سے متعلق زیرِ گردش خبر کی تردید کرتے ہوئے اسے معاشی حقائق کے منافی اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ وزارت کا مؤقف ہے کہ اس قسم کے اعداد و شمار عوامی قرضوں کی مکمل اور درست تصویر پیش نہیں کرتے اور معیشت کی اصل سمت کو سمجھنے کے لیے دیگر اہم معاشی اشاریوں کو مدنظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قرضوں کی حقیقی اور درست صورتحال کا احاطہ کرنے کے لیے اقتصادی ماہرین ہمیشہ ان کا موازنہ مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی کے حجم سے کرتے ہیں۔ پاکستان کے معاشی اعداد و شمار کے مطابق جی ڈی پی کے تناسب سے ملکی قرضوں کی شرح میں پچھلے کچھ برسوں کے دوران نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرکاری دستاویزات اور معاشی رپورٹنگ کے مطابق پاکستان کے کل قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب مالی سال دو ہزار تئیس کے اختتام پر پچھتر فیصد سے زائد تھا جو مسلسل کوششوں سے کم ہو کر مالی سال دو ہزار چھبیس کے اختتام پر اڑسٹھ فیصد رہ گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح حکومتی قرضوں میں سالانہ اضافے کی شرح مالی سال دو ہزار تئیس کے دوران تقریباً چھبیس فیصد تک جا پہنچی تھی، جو مالی سال دو ہزار چھبیس میں کم ہو کر محض سات اعشاریہ سات فیصد پر آ گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی صورتحال میں بہتری کی ایک اور واضح مثال یہ ہے کہ اگست دو ہزار چھبیس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مرکزی حکومت کے ذمے واجب الادا قرضوں میں جون دو ہزار چھبیس کے مقابلے میں تقریباً چھ سو نواسی ارب روپے کی نمایاں کمی دیکھی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرونی قرضوں کے حوالے سے بھی وزارتِ خزانہ نے وضاحت کی ہے کہ حکومتی بیرونی قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب مالی سال دو ہزار تئیس کے تینتیس فیصد سے کم ہو کر مالی سال دو ہزار چھبیس کے اختتام پر تئیس فیصد پر آ چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ حکومتی بیرونی قرضے مالی سال دو ہزار بائیس کے اختتام پر ایک سو ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال دو ہزار چھبیس کے اختتام پر ایک سو چھ اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر تک پہنچے، جس کا مطلب ہے کہ اس دورانیے میں اوسط سالانہ اضافہ محض ایک اعشاریہ سات ارب ڈالر رہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے برعکس ماضی کے ادوار بالخصوص مالی سال دو ہزار پندرہ سے دو ہزار بائیس کے درمیان حکومتی بیرونی قرضے چون اعشاریہ سات ارب ڈالر سے اچانک بڑھ کر ایک سو ارب ڈالر تک پہنچ گئے تھے، جو سالانہ اوسطاً چھ اعشاریہ چار ارب ڈالر بنتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قرضوں کی سروسنگ اور ادائیگی کے اخراجات میں بھی خاطر خواہ بہتری آئی ہے اور مالی سال دو ہزار پچیس کے دوران تقریباً آٹھ ہزار نو سو ارب روپے کے مقابلے میں یہ اخراجات مالی سال دو ہزار چھبیس میں کم ہو کر چھ ہزار نو سو ارب روپے رہ گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی وفاقی محصولات اور آمدنی کے مقابلے میں قرضوں کی ادائیگی کا جو بوجھ مالی سال دو ہزار تئیس میں چونسٹھ فیصد تک تھا، وہ مالی سال دو ہزار چھبیس کے دوران کم ہو کر اڑتیس فیصد کی سطح پر آ گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی معاشی ٹیم کی مؤثر حکمتِ عملی کے تحت مالی سال دو ہزار پچیس، دو ہزار چھبیس اور دو ہزار ستائیس کے ابتدائی مہینوں کے دوران تقریباً پانچ ہزار نو سو بیس ارب روپے سے زائد کے مہنگے قرضے مقررہ مدت سے پہلے ہی واپس کر دیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اندرونی قرضوں کی اوسط مدت اور میعاد مالی سال دو ہزار چوبیس کے ڈھائی سال سے بڑھ کر اب تقریباً چار سال تک پہنچ چکی ہے، جس کی بدولت ملک پر قرضوں کی فوری واپسی کا دباؤ بھی کافی حد تک کم ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملکی زرمبادلہ کے ذخائر جو ماضی میں انتہائی نچلی سطح یعنی دو اعشاریہ نو ارب ڈالر تک گر گئے تھے، ستمبر دو ہزار چھبیس تک بڑھ کر اکیس اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کی مضبوط سطح کو چھو چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں وزارتِ خزانہ نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ کل قرضوں کے مجموعی حجم کو محض دنوں کی تعداد پر تقسیم کر کے روزانہ کی بنیاد پر قرض گیری ظاہر کرنا زمینی حقائق کے منافی ہے اور اس سے عوام میں بے بنیاد تشویش پھیلتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1502/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وزیر خزانہ کی آئی ایم ایف کے اعلیٰ عہدیدار سے ملاقات، معاشی اصلاحات پر گفتگو</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/664/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/664/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 15:17:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ایم_ایف]]></category>
		<category><![CDATA[بنکاک_اجلاس]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زرمبادلہ_کے_ذخائر]]></category>
		<category><![CDATA[سرمایہ_کاری]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فیول_سبسڈی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%ae%d8%b2%d8%a7%d9%86%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%a7%db%8c%d9%81-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%b0-%d8%b9%db%81%d8%af%db%8c%d8%af/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بنکاک میں آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر سے ملاقات کی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عالمی مالیاتی ادارے کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک سے ملاقات کی ہے جس میں ملک کی موجودہ معاشی صورتحال اور اصلاحاتی ترجیحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ ملاقات بنکاک میں ورلڈ بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس کے موقع پر عمل میں آئی جس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ امور اور معاشی پالیسیوں پر بات چیت کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران وفاقی وزیر خزانہ نے بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری کو سراہا اور پاکستان کی معاشی سمت کو بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملکی معیشت کو استحکام دینے کے لیے ساختی اصلاحات پر مسلسل عمل درآمد اور مضبوط سیاسی عزم انتہائی ضروری ہے تاکہ پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر خزانہ نے بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس میں پاکستان کی کامیاب واپسی کا ذکر کیا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے دکھائی جانے والی بھرپور دلچسپی اور شرکت کو اجاگر کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے عالمی عہدیدار کو ملک کے کمزور طبقات کے تحفظ اور معاشرتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ حکومت معاشرے کے پس ماندہ طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہدفی فیول سبسڈی کے نظام پر مؤثر انداز میں کام کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موقع پر زرمبادلہ کے ذخائر میں ہونے والے اضافے کا خاص طور پر ذکر کیا گیا جس سے ملکی معاشی پوزیشن کو مزید تقویت ملی ہے اور تجارتی سرگرمیاں بہتر ہوئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر خزانہ نے مسلسل تین سال تک بنیادی مالیاتی سرپلس کے حصول کے سنگ میل پر روشنی ڈالی اور اسے معاشی نظم و ضبط کا بڑا ثبوت قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران مجموعی قومی پیداوار کے تناسب سے ملکی قرضوں میں کمی کے رجحان کو بھی نمایاں کیا گیا جو حکومت کی مالیاتی حکمت عملی کی کامیابی کا مظہر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دونوں رہنماؤں کے درمیان پائیدار معاشی نمو کے حصول کے لیے پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھنے اور مالیاتی نظم و ضبط کو ہر صورت یقینی بنانے پر اتفاق رائے ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ صحت اور تعلیم جیسے اہم شعبوں کے لیے مختص اخراجات کا تحفظ کیا جائے تاکہ انسانی وسائل کی ترقی کا عمل متاثر نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر خزانہ نے زرمبادلہ کے مناسب ذخائر کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ کسی بھی بیرونی دباؤ یا معاشی چیلنج سے مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں محصولات کے دائرہ کار کو بڑھانے اور ٹیکس وصولی میں اضافے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا تاکہ قومی خزانے کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران انسانی سرمائے کی ترویج، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے نئے وسائل فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی بات چیت کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی معاشی ٹیم ملکی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھنے کے لیے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور اصلاحات کا ایجنڈا جاری رکھے ہوئے ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/664/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
