<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.44.1"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>زرمبادلہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b2%d8%b1%d9%85%d8%a8%d8%a7%d8%af%d9%84%db%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Fri, 06 Nov 2026 20:11:45 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>زرمبادلہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پاکستان کا بیرونی قرض 10 برس میں دگنا ہو کر 135 ارب ڈالر تک پہنچ گیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/5476/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/5476/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 06 Nov 2026 20:11:45 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بجٹ_خسارہ]]></category>
		<category><![CDATA[بیرونی_قرضے]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زرمبادلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قرض_کا_بوجھ]]></category>
		<category><![CDATA[مالیاتی_ادارے]]></category>
		<category><![CDATA[معاشی_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[معاشی_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[معاشی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[ورلڈ_بینک]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/5476/</guid>

					<description><![CDATA[ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان کے بیرونی قرضوں کے حجم میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ورلڈ بینک کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کے بیرونی قرضوں کا حجم گزشتہ دس برسوں کے دوران تقریباً دگنا ہو چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک پر واجب الادا بیرونی قرضوں کی مالیت 135 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی مالیاتی ادارے کی یہ رپورٹ ملکی معاشی صورتحال کے حوالے سے اہمیت کی حامل ہے۔ اس رپورٹ میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران قرض لینے کے رجحانات اور ان کے مجموعی ملکی معیشت پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دس برسوں کے دوران پاکستان کی جانب سے بیرونی ذرائع سے حاصل کردہ قرضوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک کو مختلف معاشی چیلنجز اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کا سامنا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرونی قرضوں میں اس اضافے کی بنیادی وجوہات میں تجارتی خسارہ، بجٹ کا توازن برقرار رکھنے کے لیے بیرونی فنڈنگ پر انحصار اور پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لیے نئے قرضے حاصل کرنا شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ورلڈ بینک کی یہ رپورٹ پاکستان کی معاشی تاریخ میں قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کی ایک اہم دستاویز ہے۔ رپورٹ میں قرضوں کے انتظام کے لیے مزید موثر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر بھی اشارہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق قرضوں کا یہ حجم ملکی معاشی پالیسیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے جس کے لیے طویل مدتی معاشی اصلاحات اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا جاتا رہا ہے۔ معاشی استحکام کے لیے محصولات میں اضافہ اور اخراجات کو کنٹرول کرنا ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان ماضی میں بھی معاشی استحکام کے لیے مختلف عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک سے قرضے لیتا رہا ہے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھا جا سکے۔ یہ قرضے اکثر ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے ان اعداد و شمار پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم معاشی ٹیمیں ملکی معیشت کو دستاویزی بنانے اور ٹیکس محصولات میں اضافے کے لیے کوشاں ہیں۔ حکومتی سطح پر معاشی اصلاحات کا عمل جاری ہے تاکہ قرضوں پر انحصار کم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے درکار زرمبادلہ کا انتظام کرنا ملکی معیشت کے لیے ایک مستقل چیلنج رہا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے وقتاً فوقتاً معاشی اصلاحات کے حوالے سے تجاویز بھی دی جاتی رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ بیرونی قرضوں کی قسطوں اور سود کی ادائیگیوں میں صرف ہوتا ہے، جس سے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی دستیابی متاثر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی ماہرین قرضوں کے حجم کو کم کرنے کے لیے برآمدی شعبے کو فروغ دینے پر زور دیتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ورلڈ بینک کی یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اپنی معاشی پالیسیوں کو بہتر بنانے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ اس رپورٹ کے مندرجات پر معاشی حلقوں میں بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ آنے والے وقت میں پاکستان کی معاشی حکمت عملی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ کس طرح بیرونی قرضوں کے بوجھ کو کم کیا جائے اور ملکی آمدنی کے ذرائع کو بڑھایا جائے۔ حکومتی سطح پر معاشی استحکام کے لیے مختلف اقدامات زیر غور ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/5476/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسٹیٹ بینک کے غیر ملکی ذخائر میں 39 ملین ڈالر کا اضافہ، مجموعی سطح 21.56 ارب ڈالر ہوگئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/5132/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/5132/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 05 Nov 2026 18:28:00 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[اکتوبر_2026]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تجارتی_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زرمبادلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[غیر_ملکی_ذخائر]]></category>
		<category><![CDATA[مالیاتی_استحکام]]></category>
		<category><![CDATA[مرکزی_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[معاشی_رپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[معیشت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/5132/</guid>

					<description><![CDATA[مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 30 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں ملکی ذخائر میں بہتری ریکارڈ کی گئی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق ملکی غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کا رجحان برقرار ہے۔ مرکزی بینک کے پاس موجود ذخائر میں 39 ملین امریکی ڈالر کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد یہ ذخائر 21.56 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ اعداد و شمار 30 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی جاری کردہ تفصیلات میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملکی معاشی استحکام کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر کی یہ صورتحال اہم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرکزی بینک کے مطابق 30 اکتوبر 2026 تک ملک کے مجموعی مائع غیر ملکی ذخائر کی مالیت 26.86 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ اس مجموعی تعداد میں اسٹیٹ بینک کے اپنے ذخائر کے ساتھ ساتھ دیگر مالیاتی ذرائع بھی شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں تجارتی بینکوں کے پاس موجود ذخائر کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں کام کرنے والے کمرشل بینکوں کے پاس موجود خالص غیر ملکی ذخائر کا حجم 5.30 ارب ڈالر رہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرکزی بینک نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ 30 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے فاریکس ریزرو میں 39 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر ملکی درآمدات اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ان ذخائر میں اضافے سے ملکی ادائیگیوں کی صلاحیت میں بہتری آتی ہے اور کرنسی کی قدر کو مستحکم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسٹیٹ بینک آف پاکستان ملک کا مرکزی مالیاتی ادارہ ہے جو ہر ہفتے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی پوزیشن جاری کرتا ہے۔ یہ رپورٹ ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ملکی معاشی صورتحال کا ایک اہم اشاریہ سمجھی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کا مطلب یہ ہے کہ ملک کی بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ کم ہو رہا ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ یہ اعداد و شمار ملکی معیشت کے بیرونی شعبے میں استحکام کی عکاسی کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی معاشی پالیسیوں میں زرمبادلہ کے ذخائر کو ایک کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری کردہ یہ ڈیٹا ملکی معیشت کی سمت کا تعین کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر 26.86 ارب ڈالر کے مائع ذخائر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کی مالیاتی پوزیشن میں بہتری آ رہی ہے۔ یہ اعداد و شمار ملکی معاشی پالیسیوں کے تسلسل اور بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات کا نتیجہ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ ہفتوں میں بھی زرمبادلہ کے ذخائر کی صورتحال پر نظر رکھی جائے گی تاکہ ملکی معیشت کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ یہ رپورٹ ملکی معاشی منظر نامے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ یہ تازہ ترین اعداد و شمار ملکی معیشت کے لیے حوصلہ افزا ہیں اور مالیاتی استحکام کے عکاس ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/5132/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں معیشت مستحکم، زرِمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/4790/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/4790/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 03 Nov 2026 03:31:06 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آصف_علی_زرداری]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_مارکیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[برآمدات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جی_ٹوئنٹی_فور]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زرمبادلہ]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[محمد_اورنگزیب]]></category>
		<category><![CDATA[معیشت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/4790/</guid>

					<description><![CDATA[اسٹیٹ بینک کے مطابق ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 21.5 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران معاشی اشاریوں میں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے اور ملک نے چیلنجز کے باوجود معاشی محاذ پر پیشرفت کی ہے۔ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود ملکی معیشت نے استحکام کا مظاہرہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد سے ملنے والی رپورٹس کے مطابق حکومت کی اقتصادی پالیسیوں، معاشی ٹیم کی کوششوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے نتیجے میں اہم معاشی اہداف حاصل کیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک کے زرِمبادلہ کے ذخائر اکیس اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں جو سالانہ بنیادوں پر باون فیصد زیادہ ہیں۔ اس اضافے سے ملکی کرنسی کو استحکام ملا اور درآمدی کور تین اعشاریہ تین ماہ تک پہنچ گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزارتِ خزانہ کے مطابق اس عرصے کے دوران ملکی برآمدات گیارہ فیصد اضافے کے ساتھ گیارہ اعشاریہ دو ارب ڈالر رہیں۔ آئی ٹی برآمدات میں اٹھارہ فیصد اضافہ ہوا جو ایک ارب پچیس کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر میں بھی چودہ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ دس اعشاریہ نو ارب ڈالر رہیں۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے بھی چودہ اعشاریہ تین ارب ڈالر کی رقم موصول ہو چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بیس فیصد اضافے کے ساتھ سات سو بیس ملین ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے بھی معاشی کارکردگی کو سراہا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا پروگرام طے شدہ اصولوں کے مطابق جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں پچپن فیصد اضافہ ہوا اور نئے سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد نے مارکیٹ کا رخ کیا۔ اس سہ ماہی میں چار کمپنیوں نے شمولیت اختیار کی اور چار اعشاریہ چھ ارب روپے جمع کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پہلی نومبر سے پاکستان نے ترقی پذیر ممالک کے مالیاتی امور کے گروپ جی ٹوئنٹی فور کی چیئرمین شپ سنبھال لی ہے۔ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اس کی قیادت کر رہے ہیں جنہوں نے عالمی مالیاتی نظام میں ترقی پذیر معیشتوں کے مرکزی کردار پر زور دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اسے ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بھی ترقی پذیر دنیا کی نمائندگی کو ایک اہم موقع قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں شرحِ سود میں کمی کے بعد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے قرضوں کے حجم میں اضافہ ہوا۔ ہاؤسنگ فنانس، زرعی شعبے اور گاڑیوں کی خریداری کے لیے قرضوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی بورڈ آف رونیو نے سہ ماہی کے دوران مقررہ ہدف سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا۔ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ ٹیکس اصلاحات اور ڈیجیٹائزیشن کا نتیجہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کا مجموعی قرضہ مجموعی قومی پیداوار کے تناسب کے لحاظ سے کم ہوا ہے۔ کاروں کی فروخت اور سیمنٹ سمیت دیگر شعبوں میں کاروباری سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے نچلے طبقے کو بچانے کے لیے پچھتر ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اجراء کیا گیا جس سے بارہ ملین سے زائد شہریوں کو براہ راست فائدہ پہنچا۔ معاشی ماہرین کے مطابق اصلاحات کے تسلسل سے عام آدمی کو مزید ریلیف ملنے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/4790/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>معاشی استحکام آ چکا، آئی ٹی برآمدات ساڑھے پانچ ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، وزیر خزانہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/2095/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/2095/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 07:57:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ٹی_برآمدات]]></category>
		<category><![CDATA[برآمدات]]></category>
		<category><![CDATA[بینکنگ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_کی_فراہمی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زرمبادلہ]]></category>
		<category><![CDATA[زرمبادلہ_کے_ذخائر]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[محمد_اورنگزیب]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b4%db%8c-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d8%ad%da%a9%d8%a7%d9%85-%d8%a2-%da%86%da%a9%d8%a7-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a8%d8%b1%d8%a2%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%aa/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک میں توانائی کی فراہمی تسلی بخش ہے اور معاشی اصلاحات اب عملی مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں ایک نجی یونیورسٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ملک کی موجودہ معاشی صورتحال پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں توانائی کی قلت کو پیدا نہیں ہونے دیا گیا اور نہ ہی اس حوالے سے کسی قسم کے بحران کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پٹرول پمپس پر ایندھن کے حصول کے لیے کبھی لمبی قطاریں نہیں لگیں اور نہ ہی توانائی کے مسائل کی وجہ سے ملک میں امن و امن کی صورتحال پر کوئی منفی اثر پڑا۔ ان کے مطابق حکومت نے خطے میں جاری تنازعات کے باوجود توانائی کی خریداری اور فراہمی کے عمل کو انتہائی مؤثر انداز میں جاری رکھا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملک میں رواں سال نومبر تک کی توانائی کی جملہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مناسب ترین انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ آنے والے سردیوں کے موسم میں بھی توانائی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کی طرف سے کام جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملکی معیشت کے دیگر شعبوں کا ذکر کرتے ہوئے محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات جو ماضی میں ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ تھیں، اب بڑھ کر چار اعشاریہ چھ ارب ڈالر تک جا پہنچی ہیں۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ رواں مالی سال کے دوران مجموعی آئی ٹی برآمدات ساڑھے پانچ ارب ڈالر کی سطح کو چھو لیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر موجود ہیں جو تین ماہ سے زائد عرصے کی درآمدات کے لیے مکمل طور پر کافی ہیں۔ ماضی کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب زرمبادلہ کے ذخائر محض دو ہفتوں کی درآمدات کے برابر رہ گئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی درجہ بندی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے انکشاف کیا کہ گزشتہ سال کے مہینے اپریل سے لے کر اب تک پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں تین مرتبہ بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ عالمی مالیاتی منڈیوں میں رسائی کے لیے بھی حکومت نے نمایاں اور عملی اقدامات کیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے رواں سال اپریل میں پرائیویٹ پلیسمنٹ کی اور پانڈا بانڈ کے اجرا کے ذریعے عالمی سرمائے کی منڈی تک اپنی رسائی بحال کی۔ اسی طرح ستمبر کے پہلے ہفتے کے دوران تین ارب یورو کے بانڈز کامیابی کے ساتھ جاری کیے گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر خزانہ کے مطابق ان پاکستانی یورو بانڈز کے لیے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کی جانب سے موصول ہونے والے آرڈرز جاری کیے گئے حجم سے دو گنا زیادہ تھے۔ ایشیا، مشرق وسطی، یورپ اور امریکا کے نامور سرمایہ کاروں نے پاکستان کے ان بانڈز میں گہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ اب بین الاقوامی سرمایہ کار صرف بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام پر ہی انحصار نہیں کر رہے بلکہ وہ پاکستان کی مجموعی معاشی صورتحال کا بھی بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ موجودہ آئی ایم ایف پروگرام آئندہ سال کے مہینے اکتوبر میں اپنے اختتام کو پہنچے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام کو ریلیف کی فراہمی کے بارے میں وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ حکومت نے روایتی عمومی سبسڈی کے نظام کو خیرباد کہہ کر ہدفی سبسڈی دینے کا دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ حکومتی ریلیف کا اصل فائدہ صرف اور صرف مستحق طبقے تک ہی پہنچ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ موٹر سائیکلوں، تین پہیوں والی گاڑیوں اور آٹھ سو سی سی سے کم انجن والی گاڑیوں کے مالکان کے لیے خصوصی ہدفی سبسڈی فراہم کی گئی ہے۔ اس اسکیم کے تحت اب تک ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد منفرد افراد بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر فائدہ اٹھا چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محمد اورنگزیب نے اپنے خطاب کے آخر میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان میں معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ گہرے نوعیت کی ساختی اصلاحات پر بھی تیزی سے عمل درآمد جاری ہے۔ اب یہ تمام تر اصلاحات محض منصوبہ بندی کے مرحلے میں نہیں بلکہ عملی میدان میں داخل ہو چکی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/2095/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافے کیلئے ویلیو ایڈڈ مصنوعات پر توجہ ناگزیر</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/2048/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/2048/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 21:36:53 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[برآمدات]]></category>
		<category><![CDATA[برآمدی_صلاحیت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_ٹیکسٹائل]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکسٹائل_انڈسٹری]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زرمبادلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%b9%db%8c%da%a9%d8%b3%d9%b9%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d8%a8%d8%b1%d8%a2%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[ملکی معیشت کی مضبوطی کیلئے ٹیکسٹائل کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے عالمی منڈی میں مسابقت بڑھانے کی ضرورت ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی معیشت میں ٹیکسٹائل کا شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جس کی برآمدات ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کا اہم ذریعہ ہیں۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ محض خام مال یا دھاگے کی برآمد کافی نہیں، بلکہ برآمدات کی اصل قوت جانچنے کیلئے مصنوعات میں مقامی سطح پر شامل کی جانے والی قدر یعنی ویلیو ایڈیشن کو بڑھانا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی منڈی میں اب مقابلہ صرف سستی پیداوار کا نہیں بلکہ معیار، ڈیزائن اور بروقت ترسیل کا ہے۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات عالمی سطح پر اپنی ایک الگ شناخت رکھتی ہیں، لیکن جدید ٹیکنالوجی اور بہتر مارکیٹنگ کے بغیر ہم اپنی پیداواری صلاحیت کا مکمل فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صنعتی ماہرین کے مطابق، کپاس سے تیار ہونے والے مختلف درجوں کے سامان کی قیمت میں بہت فرق ہوتا ہے۔ اگر پاکستان جدید مشینری، بہتر ڈیزائننگ اور عالمی برانڈنگ پر توجہ مرکوز کرے تو کم مقدار میں بھی زیادہ زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔ اس کیلئے صنعتی تحقیق اور تربیت یافتہ افرادی قوت کا کردار کلیدی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برآمدات میں حائل رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ، ہڑتالیں اور ترسیلی نظام میں خامیاں اکثر آرڈرز کی بروقت تکمیل میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ یہ مسائل عالمی خریداروں کا اعتماد مجروح کرتے ہیں، جس سے پاکستان کو معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ دور میں خریدار ماحول دوست پیداوار اور بین الاقوامی معیار کے مطابق مصنوعات کی فراہمی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر پیداواری لاگت بڑھ جائے تو صنعت کار کے لیے منافع برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ عالمی منڈی میں خریدار اضافی قیمت ادا کرنے کے بجائے دیگر ممالک کا رخ کر لیتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کو چاہیے کہ ٹیکسٹائل صنعت کیلئے ایک طویل مدتی اور ناقابل تبدیل پالیسی تشکیل دے، جس میں صنعتکاروں، کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کے نمائندے شامل ہوں۔ ایسی پالیسی کا مقصد پیداواری لاگت کو کم کرنا اور برآمد کنندگان کو آسان مالیاتی سہولیات فراہم کرنا ہونا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چھوٹے کاروباری اداروں کو جدید مشینری اور توانائی کی بچت کرنے والی ٹیکنالوجی کے حصول کیلئے مالی معاونت فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، بینکاری نظام کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ ادائیگیوں میں تاخیر اور ورکنگ کیپیٹل کے مسائل حل ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صنعتی پالیسی میں مزدوروں کے تحفظ، مناسب اجرت اور پیشہ ورانہ تربیت کو لازمی حصہ بنانا چاہیے تاکہ صنعت اور مزدور کے مفادات میں ہم آہنگی پیدا ہو۔ جب تک مزدوروں کی فلاح اور پیداواری عمل میں بہتری نہیں آئے گی، تب تک پائیدار ترقی ممکن نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ٹیکسٹائل برآمدات میں 5 ارب ڈالر سے زائد کا حجم خوش آئند ہے، جو گزشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 249 ملین ڈالر زیادہ ہے۔ یہ اضافہ ایک مثبت اشارہ ہے لیکن اسے حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کو بنگلا دیش، ویتنام اور تھائی لینڈ جیسے ممالک کی مثالوں سے سیکھنا ہوگا، جنہوں نے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمد پر توجہ مرکوز کر کے اپنی معیشت کو مستحکم کیا۔ ان ممالک کی کامیابی کا راز جدید ٹیکنالوجی اور بروقت ترسیل کی صلاحیت میں مضمر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کو ٹیکسٹائل صنعت کی ترقی کیلئے فوری اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔ مصنوعات کی قدر میں اضافے کے بغیر زیادہ ڈالر کمانا ناممکن ہے، اور یہی راستہ پاکستان کو معاشی استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں، بلکہ اس کا براہ راست تعلق روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور غربت میں کمی سے ہے۔ ایک مستحکم صنعتی پالیسی ہی ملک کو معاشی بحرانوں سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/2048/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ملکی زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 26 ارب 83 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1924/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1924/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 04:37:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[ایکسچینج_ریٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زرمبادلہ]]></category>
		<category><![CDATA[سٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%85%d9%84%da%a9%db%8c-%d8%b2%d8%b1%d9%85%d8%a8%d8%a7%d8%af%d9%84%db%81-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%ac%d9%85%d9%88%d8%b9%db%8c-%d8%b0%d8%ae%d8%a7%d8%a6%d8%b1-26-%d8%a7%d8%b1%d8%a8-83/</guid>

					<description><![CDATA[سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملکی معاشی استحکام کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری دیکھی گئی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 26 ارب 83 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی سطح سے تجاوز کر گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرکزی بینک کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے اپنے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد یہ ذخائر 21 ارب 48 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب کمرشل بینکوں کے پاس موجود فارن کرنسی اکاؤنٹس میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق بینکوں کے ذخائر میں 4 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی جس کے بعد ان کے پاس موجود ڈالر ڈپازٹس 5 ارب 34 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہ گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں یہ استحکام ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ مرکزی بینک کے ذخائر میں اضافہ بیرونی ادائیگیوں اور ملکی درآمدات کے لیے ایک اہم سہارا ثابت ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی معاشی پالیسیوں میں تسلسل اور برآمدات میں بہتری کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے میں مدد مل رہی ہے۔ حکومت اور سٹیٹ بینک کی جانب سے معاشی اعشاریوں کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم کسی بھی ملک کی معاشی طاقت اور بین الاقوامی تجارت میں اس کی ساکھ کا تعین کرتا ہے۔ ان ذخائر کی بدولت پاکستان کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور قرضوں کی ادائیگی میں آسانی رہتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سٹیٹ بینک آف پاکستان ہر ہفتے ملکی زرمبادلہ کی پوزیشن کے بارے میں تفصیلی اعداد و شمار جاری کرتا ہے تاکہ عوام اور سرمایہ کاروں کو ملکی معیشت کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گزشتہ کچھ عرصے سے ملکی معیشت میں بہتری کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں جس کا براہ راست اثر زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑ رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے معاشی اصلاحات کا عمل جاری ہے جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بینکنگ سیکٹر میں موجود فارن کرنسی ڈپازٹس کی صورتحال بھی ملکی معیشت کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ اگرچہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں معمولی کمی ہوئی ہے تاہم مرکزی بینک کے ذخائر میں اضافہ مجموعی توازن کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے سے روپے کی قدر کو استحکام ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے مہینوں میں معیشت مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ یہ رپورٹ ملکی مالیاتی نظام کی شفافیت کو ظاہر کرتی ہے۔ عوام اور کاروباری طبقے کے لیے یہ اعداد و شمار معاشی منصوبہ بندی کرنے میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں جاری معاشی سرگرمیوں اور برآمدی شعبے کی کارکردگی میں بہتری کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کا یہ سلسلہ جاری رہنے کی امید ہے۔ حکومت کی جانب سے برآمدات بڑھانے کے لیے خصوصی مراعات بھی دی جا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں زرمبادلہ کے ذخائر کو مزید بڑھانے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کا فروغ بھی انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان کی جانب سے مختلف ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد سے بھی معاشی بہتری کے امکانات روشن ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1924/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستانی فری لانسرز نے ستمبر میں تاریخ کا سب سے زیادہ زرمبادلہ کما لیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1067/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1067/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 10:17:05 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ٹی_سیکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[اقتصادی_ترقی]]></category>
		<category><![CDATA[برآمدات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زرمبادلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%81%d8%b1%db%8c-%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%b1%d8%b2-%d9%86%db%92-%d8%b3%d8%aa%d9%85%d8%a8%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[پاکستانی فری لانسرز نے ڈیجیٹل اکانومی میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے ستمبر میں ریکارڈ برآمدی آمدن حاصل کی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستانی فری لانسرز نے ملکی ڈیجیٹل اکانومی کے شعبے میں ایک اور بڑا سنگ میل عبور کر لیا ہے اور ستمبر کے دوران ملکی تاریخ کا سب سے زیادہ ماہانہ زرمبادلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس کامیابی سے ملک کے آئی ٹی اور ڈیجیٹل برآمدات کے شعبے کو مزید استحکام ملا ہے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ کے دوران پاکستانی فری لانسرز کی برآمدی آمدن ریکارڈ انیس کروڑ ستر لاکھ ڈالرز تک پہنچ گئی جو کہ ملکی معیشت کے لیے ایک انتہائی خوش آئند اور حوصلہ افزا خبر ہے۔ اس غیر معمولی اضافے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور فری لانسنگ کا شعبہ انتہائی تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق ستمبر کے مہینے میں سالانہ بنیادوں پر فری لانسرز کی آمدنی میں انچاس فیصد کا نمایاں اور تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ ماہانہ بنیادوں پر اس میں گیارہ فیصد ترقی دیکھی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی یعنی جولائی سے ستمبر کے دوران پاکستانی فری لانسرز نے مجموعی طور پر پچپن کروڑ ڈالر کی برآمدی کمائی کی ہے جو کہ ایک شاندار کارکردگی ہے۔ اس طرح رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں فری لانسرز کی ایکسپورٹ ارننگ میں چھتالیس فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ فری لانسنگ کے شعبے میں یہ مسلسل ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی نوجوان ڈیجیٹل دنیا میں نئے مواقع تلاش کرنے اور ملک کے لیے قیمتی غیر ملکی زرمبادلہ کمانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستانی فری لانسرز نے مجموعی طور پر ایک ارب چھہتر کروڑ ڈالرز کا زرمبادلہ کمایا تھا جو کہ اس وقت بھی ایک نمایاں حجم تھا لیکن رواں برس کے آغاز میں ہی سامنے آنے والے اعداد و شمار اس سے بھی زیادہ بہتر مستقبل کی نوید سنا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کو فروغ دینے، نوجوانوں کو جدید سہولیات فراہم کرنے اور انٹرنیٹ کی بہتر فراہمی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فری لانسرز کو درپیش بین الاقوامی ادائیگیوں کے مسائل کے حل اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے لیے بھی مختلف نوعیت کے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے غیر ملکی کلائنٹس کے ساتھ کام جاری رکھ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملکی برآمدات میں اضافہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس تناظر میں آئی ٹی اور فری لانسنگ کا شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقتصادی تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر فری لانسرز کو مناسب تربیت، جدید وسائل اور سازگار ماحول فراہم کیا جاتا رہے تو پاکستان آنے والے برسوں میں دنیا کے صف اول کے فری لانسنگ ہبز میں شامل ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ریکارڈ آمدن سے نہ صرف انفرادی طور پر وابستہ افراد کی معاشی حالت بہتر ہوئی ہے بلکہ اس کے مجموعی طور پر ملکی معیشت پر بھی انتہائی مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں جو کہ مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ محکمے اس بات کی بھی کوشش کر رہے ہیں کہ ملک کے پسماندہ اور چھوٹے شہروں کے نوجوانوں کو بھی فری لانسنگ کی تربیت دی جائے تاکہ وہ بھی اس ڈیجیٹل انقلاب سے مستفید ہو سکیں اور ملکی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ کامیابی اس عزم کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ پاکستانی نوجوان دنیا کے کسی بھی خطے کے مقابلے میں پیچھے نہیں ہیں اور وہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہو کر عالمی منڈی میں اپنی ایک الگ پہچان بنانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1067/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: عراق کو 60 ارب ڈالر کا معاشی نقصان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/984/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/984/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 19:36:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تیل_کی_برآمدات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زرمبادلہ]]></category>
		<category><![CDATA[سونا]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%85%d8%b4%d8%b1%d9%82-%d9%88%d8%b3%d8%b7%db%8c%d9%b0-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%b4%db%8c%d8%af%da%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a7%d9%82-%da%a9%d9%88-60-%d8%a7%d8%b1%d8%a8/</guid>

					<description><![CDATA[امریکا اور ایران کے مابین جاری کشیدگی کے باعث عراقی معیشت شدید بحران کا شکار، زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے خطے کے دیگر ممالک کی طرح عراق کی معیشت کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے روم میں اپنے اطالوی ہم منصب سے ملاقات کے دوران انکشاف کیا ہے کہ اس تناؤ کے نتیجے میں عراق کو مجموعی طور پر 60 ارب ڈالر کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عراقی وزیر خارجہ نے اطالوی ہم منصب کو خطے کی موجودہ صورتحال اور اس کے ملکی معیشت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تیل کی برآمدات میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں گراوٹ نے ملکی معیشت کو ایک سنگین بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عراق کی معیشت کا دارومدار بڑی حد تک تیل کی برآمدات پر ہے، جو ملکی آمدنی کا تقریباً 90 فیصد حصہ فراہم کرتی ہیں۔ تاہم، حالیہ کشیدگی کے باعث تیل کی پیداوار اور برآمدات متاثر ہوئی ہیں، جس سے حکومتی خزانے پر شدید دباؤ پڑا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارتِ تیل کے اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر کے دوران عراق کی تیل کی برآمدات یومیہ 26 لاکھ بیرل تک محدود رہیں۔ تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی یہ آمدنی عراق کے لیے درآمدات کی ادائیگی اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی فراہمی کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی مشکلات کے پیشِ نظر عراق کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 20 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے، جس نے ملکی مالیاتی نظام کو کمزور کر دیا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں ملک میں مہنگائی کی شرح میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس سے عام شہریوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی دباؤ کو کم کرنے اور صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے عراقی مرکزی بینک نے گزشتہ ہفتے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ تین سال سے زائد عرصے میں پہلی بار عراقی دینار کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں کمی کی گئی ہے تاکہ ملکی کرنسی کو مستحکم رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عراقی حکام کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں اپنی معیشت کا تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس مقصد کے تحت 2037 تک غیر تیل ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تناسب موجودہ 10 فیصد سے بڑھا کر 45 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگرچہ جنگی حالات کے دوران تیل کی پیداوار میں نمایاں کمی دیکھی گئی تھی، تاہم گزشتہ ماہ کے دوران عراق کی برآمدات میں معمولی بہتری کے آثار نمایاں ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود ملکی معیشت تاحال شدید چیلنجوں کا سامنا کر رہی ہے اور حکومتی سطح پر اصلاحات جاری ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ کشیدگی نہ صرف عراق بلکہ پورے خطے کی ترقی کے لیے رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی چین میں خلل نے عالمی منڈیوں کو بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عراقی حکومت اب اپنی معاشی پالیسیوں کو ازسرِ نو ترتیب دینے پر غور کر رہی ہے تاکہ بیرونی دباؤ کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ اس میں مقامی صنعتوں کو فروغ دینا اور برآمدات کے متنوع ذرائع تلاش کرنا شامل ہے تاکہ تیل پر انحصار کو بتدریج ختم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی برادری اور مالیاتی ادارے بھی عراق کی معاشی بحالی کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ عراقی وزیر خارجہ کی اطالوی ہم منصب سے ملاقات کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے کہ عراق عالمی سطح پر اپنے معاشی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں عراق کی معاشی بہتری کا انحصار خطے میں امن و امان کی بحالی اور تیل کی مستحکم برآمدات پر ہے۔ اگر کشیدگی میں کمی آتی ہے تو عراق اپنی معاشی اصلاحات کو زیادہ تیزی سے نافذ کرنے کے قابل ہو سکے گا، جس سے عوام کو ریلیف ملنے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/984/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وزیر خزانہ کی آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر سے ملاقات، معاشی اصلاحات پر تبادلہ خیال</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/732/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/732/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 21:18:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ایم_ایف]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[بنکاک]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زرمبادلہ]]></category>
		<category><![CDATA[سرمایہ_کاری]]></category>
		<category><![CDATA[سونا]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%ae%d8%b2%d8%a7%d9%86%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%a7%db%8c%d9%81-%da%a9%db%92-%da%88%d9%be%d9%b9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[بنکاک میں ہونے والی ملاقات میں پاکستان کی معاشی پیش رفت، اصلاحاتی ترجیحات اور پائیدار نمو کے اہداف پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر خزانہ نے بنکاک میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک سے اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال اور اصلاحاتی ایجنڈے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کے ساتھ جاری شراکت داری کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت معاشی استحکام کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اصلاحات کے نفاذ کے لیے سیاسی عزم اور ان پر مسلسل عملدرآمد کی اہمیت کو اجاگر کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان نے بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس میں دوبارہ واپسی کی ہے جس میں سرمایہ کاروں نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت ملکی معیشت پر عالمی برادری کے اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گفتگو کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور مسلسل تین سالوں سے بنیادی مالیاتی سرپلس کے حصول کو نمایاں کیا گیا۔ اس کے علاوہ مجموعی قومی پیداوار کے تناسب سے قرضوں میں کمی لانے کے حکومتی اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور پالیسیوں میں تسلسل لانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زرمبادلہ کے مناسب ذخائر کو برقرار رکھنا اور محصولات میں اضافہ ملکی معیشت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات میں سماجی تحفظ کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کرنے اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے ہدفی فیول سبسڈی جیسے اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ عام آدمی پر بوجھ کم ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انسانی سرمائے کی ترقی پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اخراجات کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان شعبوں میں سرمایہ کاری سے ہی پائیدار معاشی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انفراسٹرکچر اور عوامی خدمات کی بہتری کے لیے وسائل کی فراہمی کو بھی اہم قرار دیا گیا۔ وزیر خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے لیے فنڈز کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نے پاکستان کی جانب سے معاشی اصلاحات کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پائیدار معاشی نمو کے لیے سخت فیصلوں اور نظم و ضبط کا تسلسل ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے مستقبل میں بھی معاشی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ پاکستان کی جانب سے اصلاحاتی عمل کو جاری رکھنے اور معاشی اہداف کے حصول کے لیے پرعزم رہنے کا اعادہ کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مختلف عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ حکومت کا مقصد ملکی معیشت کو خود کفیل بنانا اور بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین معاشیات کے مطابق عالمی اجلاسوں میں اس طرح کی ملاقاتیں پاکستان کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ ملکی معیشت میں بہتری کے اشارے عالمی سطح پر مثبت پیغام دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالیاتی نظم و ضبط کی بدولت ملکی معیشت میں استحکام آ رہا ہے۔ آنے والے مہینوں میں مزید اصلاحاتی اقدامات سے معاشی صورتحال میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/732/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
