<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>زرعی_اصلاحات &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b2%d8%b1%d8%b9%db%8c_%d8%a7%d8%b5%d9%84%d8%a7%d8%ad%d8%a7%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:31:57 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>زرعی_اصلاحات &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>قومی گندم پالیسی 2026-30 کی منظوری، خریداری کا عمل نجی شعبے کے سپرد کرنے کا فیصلہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/1675/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/1675/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 06:57:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[بلوچستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_بورڈ]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زرعی_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/%d9%82%d9%88%d9%85%db%8c-%da%af%d9%86%d8%af%d9%85-%d9%be%d8%a7%d9%84%db%8c%d8%b3%db%8c-2026-30-%da%a9%db%8c-%d9%85%d9%86%d8%b8%d9%88%d8%b1%db%8c-%d8%ae%d8%b1%db%8c%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[نئی پالیسی کے تحت گندم کے اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھنے اور مرحلہ وار نجی شعبے کو شامل کرنے کا لائحہ عمل طے کر لیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی حکومت نے زرعی شعبے میں بڑی اصلاحات متعارف کراتے ہوئے قومی گندم پالیسی 2026-30 کی منظوری دے دی ہے۔ اس نئی پالیسی کا بنیادی مقصد گندم کی خریداری، ذخیرہ اندوزی اور ترسیل کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور اسے مرحلہ وار نجی شعبے کے سپرد کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دستاویزات کے مطابق اس پالیسی کے تحت گندم کی خریداری کے نظام میں شفافیت لانے اور ویلیو چین کو بہتر بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ملک میں گندم کی دستیابی ہر وقت برقرار رہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اسٹریٹجک ذخائر موجود ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پالیسی کے تحت پنجاب اپنی ضروریات کے مطابق 30 لاکھ میٹرک ٹن گندم کا اسٹریٹجک ذخیرہ برقرار رکھنے کا پابند ہوگا۔ دیگر صوبوں اور علاقوں کے لیے بھی ذخائر کی مدت مقرر کر دی گئی ہے، جس کے مطابق پنجاب اور سندھ کو کم از کم 30 دن کی ضرورت کے مساوی گندم ذخیرہ کرنی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے لیے 45 دن جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 60 دن کی ضرورت کے برابر گندم کے ذخائر برقرار رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ اقدام ملک بھر میں گندم کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئی پالیسی کے تحت گندم کی بین الصوبائی نقل و حرکت کو اب اجازت ناموں اور ذخائر کی دستیابی سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ اس سے صوبوں کے درمیان گندم کی غیر قانونی نقل و حمل کی روک تھام میں مدد ملے گی اور مارکیٹ میں استحکام آئے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرکاری سطح پر گندم کی اجرائی قیمت کا تعین متعلقہ صوبائی حکومتیں خود کریں گی۔ تاہم حکومت کو گندم کی خریداری کا پہلا حق حاصل رہے گا تاکہ ضرورت پڑنے پر سرکاری ذخائر کو مارکیٹ قیمت پر جاری کر کے آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پالیسی میں نجی شعبے کی شمولیت کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ لائسنس یافتہ فلور ملوں کے لیے گندم کے ذخائر پر کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ہے، جس سے نجی شعبے کو اپنی کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے اور مارکیٹ میں مسابقت بڑھانے کا موقع ملے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گندم کی خریداری کو مکمل طور پر نجی شعبے کے سپرد کرنے کے لیے ایک واضح ٹائم لائن مقرر کی گئی ہے۔ اس ہدف کے مطابق 2027 میں نجی شعبہ 40 فیصد، 2028 میں 60 فیصد، 2029 میں 80 فیصد اور 2030 تک 100 فیصد خریداری کا عمل سنبھال لے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اصلاحاتی عمل سے سرکاری خزانے پر بوجھ کم ہونے کی توقع ہے جبکہ نجی شعبے کی شمولیت سے گندم کی تجارت میں شفافیت اور کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ یہ پالیسی طویل مدتی بنیادوں پر فوڈ سیکیورٹی کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پالیسی کے تمام اہداف پر عمل درآمد کے لیے ایک مربوط نظام وضع کیا گیا ہے۔ متعلقہ ادارے اس بات کی نگرانی کریں گے کہ نجی شعبہ مقررہ اہداف کے مطابق خریداری کے عمل کو آگے بڑھائے اور ذخیرہ اندوزی جیسے غیر قانونی اقدامات سے گریز کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پالیسی کا نفاذ زرعی معیشت میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ گندم کی خریداری کے روایتی سرکاری نظام میں تبدیلی سے نہ صرف انتظامی اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری سے گندم کی پروسیسنگ اور معیار میں بھی بہتری آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر قومی گندم پالیسی 2026-30 ملک میں گندم کے بحرانوں کو ختم کرنے اور ایک مستحکم نظام کی تشکیل کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ حکومت نے اس پالیسی کے ذریعے زرعی شعبے کو مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/1675/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پنجاب میں غربت کے خاتمے کیلئے ٹھوس معاشی پالیسیاں اپنا رہے ہیں: مریم نواز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1126/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1126/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 16:57:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اپنی_چھت_اپنا_گھر]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[خواتین_کی_خود_مختاری]]></category>
		<category><![CDATA[دھی_رانی_پروگرام]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزگار]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زرعی_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_فلاح]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ba%d8%b1%d8%a8%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%85%db%92-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d9%b9%da%be%d9%88%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ عوامی فلاحی منصوبوں کے ذریعے نچلے طبقے کو معاشی طور پر مستحکم اور بااختیار بنایا جا رہا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے غربت کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ صوبے میں غربت کے خاتمے کے لیے محض نعروں کے بجائے ٹھوس اور پائیدار معاشی پالیسیوں پر عمل درآمد جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب عوامی فلاحی منصوبوں کے ذریعے غریب اور پسماندہ طبقات کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ان اقدامات کا مقصد معاشرے کے کمزور افراد کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا اور انہیں ترقی کے دھارے میں شامل کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مریم نواز نے کہا کہ &#039;اپنی چھت، اپنا گھر&#039; پروگرام کے تحت بے گھر افراد کو چھت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ ہونہار سکالرشپ سکیم اور لیپ ٹاپ کی تقسیم سے طلبا کو تعلیمی میدان میں سہولیات دی جا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ دیہی علاقوں میں خواتین کو ہنرمند بنانے کے لیے خصوصی پروگرام شروع کیے گئے ہیں، جس کے ساتھ ساتھ انہیں بلا سود قرضے بھی فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ معاشی طور پر خودمختار ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ نے &#039;دھی رانی پروگرام&#039; کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کے تحت حکومت پنجاب مستحق خاندانوں کی بیٹیوں کی شادی کے تمام اخراجات خود برداشت کر رہی ہے، جو ایک اہم سماجی فلاحی قدم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">زرعی شعبے میں بہتری کے حوالے سے انہوں نے &#039;اپنا کھیت، اپنا روزگار&#039; سکیم کو نمایاں کیا، جس کے تحت ہزاروں ایکڑ سرکاری اراضی بے زمین کسانوں کو 10 سالہ لیز پر فراہم کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سکیم کا مقصد دیہی علاقوں میں غربت کا خاتمہ کرنا، زرعی پیداوار میں اضافہ لانا اور بے روزگاری کی شرح کو کم کرنا ہے۔ یہ منصوبہ دیہی معیشت کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مریم نواز نے کہا کہ نوجوانوں، خواتین اور ہنر مند افراد کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے آسان شرائط پر قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں، جس سے صوبے میں خود روزگاری کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پنجاب کی جانب سے ان تمام اقدامات کا مقصد ایک ایسا معاشی نظام تشکیل دینا ہے جس میں ہر شہری کو ترقی کے مساوی مواقع میسر ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پنجاب حکومت کی تمام تر توجہ عوام کی فلاح و بہبود اور صوبے کی پائیدار ترقی پر مرکوز ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کے ثمرات نچلی سطح تک پہنچ رہے ہیں اور ان سے عام آدمی کی زندگی میں بہتری آ رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پنجاب کی جانب سے جاری کردہ یہ معاشی پالیسیاں صوبے کے سماجی و اقتصادی منظرنامے کو تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">غربت کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر ان اقدامات کا اعادہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1126/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سندھ ہاری کمیٹی: کسانوں کے حقوق اور مائی بختاور کی لازوال قربانی کی داستان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/737/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/737/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 21:57:06 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کی_تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[تاریخی_جدوجہد]]></category>
		<category><![CDATA[جاگیردارانہ_نظام]]></category>
		<category><![CDATA[حیدربخش_جتوئی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زرعی_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[سماجی_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_ٹیننسی_ایکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%db%81%d8%a7%d8%b1%db%8c-%da%a9%d9%85%db%8c%d9%b9%db%8c-%da%a9%d8%b3%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%82%d9%88%d9%82-%d8%a7%d9%88%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[سندھ ہاری کمیٹی نے قیام کے بعد سے جاگیردارانہ نظام کے خلاف کسانوں کے حقوق اور زرعی اصلاحات کے لیے ایک طویل اور تاریخی جدوجہد کی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">برصغیر میں سماجی انصاف اور مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے ہونے والی تحریکوں میں سندھ ہاری کمیٹی کی جدوجہد ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ 1930 کی دہائی میں قائم ہونے والی اس تنظیم نے کسانوں، مزدوروں اور دانشوروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے جاگیردارانہ استحصال کے خلاف آواز بلند کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تحریک کا بنیادی مقصد ہاریوں کو ان کی محنت کا جائز معاوضہ دلانا اور فصل کی پیداوار میں آدھی بٹائی کا حق حاصل کرنا تھا۔ اس مقصد کے لیے کامریڈ حیدربخش جتوئی نے اپنی سرکاری ملازمت چھوڑ کر کسانوں کی قیادت سنبھالی اور سندھ بھر میں منظم تحریک کا آغاز کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحریک کے دوران مائی بختاور لاشاری کی قربانی نے تاریخ میں ایک انمٹ نقش چھوڑا۔ جون 1947 میں جب گاؤں کے مرد ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے ہوئے تھے، مائی بختاور نے اناج کے ذخائر کو غیر مقامی جاگیرداروں کے قبضے سے بچانے کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مائی بختاور کی شہادت نے سندھ کے کسانوں میں ایک نئی روح پھونک دی۔ اس واقعے کے بعد قانونی لڑائی لڑی گئی جس کے نتیجے میں ذمہ داران کو سزائیں ہوئیں۔ یہ واقعہ آج بھی کسانوں کے لیے اپنے حقوق کے تحفظ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سندھ ہاری کمیٹی نے قیام پاکستان کے بعد بھی اپنی جدوجہد جاری رکھی اور زرعی اصلاحات کے لیے مسلسل آواز اٹھائی۔ تنظیم کا مطالبہ تھا کہ بڑی جاگیرداریاں ختم کی جائیں اور زمینوں کی ازسرنو تقسیم کے ذریعے کسانوں کو ان کا حق دیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تحریک میں صرف سیاسی کارکن ہی نہیں بلکہ علمائے کرام اور سماجی رہنما بھی شامل تھے۔ کامریڈ حیدربخش جتوئی کی قیادت میں تنظیم نے سندھ اسمبلی کے سامنے مظاہرے کیے اور سندھ ٹیننسی ایکٹ کی منظوری میں کلیدی کردار ادا کیا، جس سے کسانوں کو قانونی تحفظ ملا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے میں مشینی دور کے آغاز اور سیاسی تبدیلیوں نے ہاری تحریک کی نوعیت کو تبدیل کر دیا۔ تاہم، کسانوں کے حقوق اور زمین کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ آج بھی سندھ کے زرعی حلقوں میں ایک اہم موضوع کی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا ماننا ہے کہ سندھ ہاری کمیٹی کی تاریخ کسانوں کو منظم کرنے اور انہیں ان کے بنیادی حقوق سے آگاہ کرنے کی ایک روشن مثال ہے۔ اس تحریک نے ثابت کیا کہ اجتماعی جدوجہد کے ذریعے استحصالی نظام کے خلاف کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سندھ ٹیننسی ایکٹ میں مختلف ادوار میں کی گئی ترامیم پر بھی ماہرین کی جانب سے بحث کی جاتی رہی ہے۔ کسانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے وقتاً فوقتاً آواز اٹھائی جاتی ہے تاکہ انہیں جدید غلامی سے بچایا جا سکے اور ان کی معاشی حالت بہتر بنائی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مائی بختاور کی قربانی اور ہاری کمیٹی کی جدوجہد سندھ کی سیاسی و سماجی تاریخ کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔ ان واقعات سے حاصل ہونے والا سبق آج بھی کسانوں کو اپنے جائز حقوق کے لیے پرامن اور قانونی جدوجہد کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سندھ میں زرعی اصلاحات کے نفاذ اور کسانوں کو زمین کا حق دینے کے لیے کی جانے والی کوششیں اس تحریک کے تسلسل کا حصہ ہیں۔ کامریڈ حیدربخش جتوئی اور ان کے ساتھیوں کی کاوشوں کو آج بھی سندھ کے عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آج کے دور میں جب زراعت کے طریقے بدل چکے ہیں، کسانوں کو درپیش مسائل بھی نئے رخ اختیار کر چکے ہیں۔ ہاری کمیٹی کی تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کسانوں کی خوشحالی کے بغیر ملکی معیشت کی ترقی کا خواب ادھورا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، سندھ ہاری کمیٹی کی یہ تاریخی جدوجہد اس بات کا ثبوت ہے کہ جب کوئی طبقہ اپنے حقوق کے لیے متحد ہو جائے تو اسے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ مائی بختاور کا نام سندھ کی تاریخ میں ہمیشہ ایک سورما کے طور پر زندہ رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/737/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
