<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ریلوے_انتظامیہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b1%db%8c%d9%84%d9%88%db%92_%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%b8%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:33:57 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>ریلوے_انتظامیہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>قراقرم ایکسپریس 30 اکتوبر سے نجی شعبے کے حوالے کر دی جائے گی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1403/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1403/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 07:56:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_ریلوے]]></category>
		<category><![CDATA[پرائم_ریل]]></category>
		<category><![CDATA[ٹرین_سفر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریلوے_انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[سفر]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قراقرم_ایکسپریس]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%82%d8%b1%d8%a7%d9%82%d8%b1%d9%85-%d8%a7%db%8c%da%a9%d8%b3%d9%be%d8%b1%db%8c%d8%b3-30-%d8%a7%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8%d8%b1-%d8%b3%db%92-%d9%86%d8%ac%db%8c-%d8%b4%d8%b9%d8%a8%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[پاکستان ریلوے نے لاہور سے کراچی کے درمیان چلنے والی قراقرم ایکسپریس کو نجی کمپنی پرائم ریل کے سپرد کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان ریلوے کی جانب سے مسافر ٹرینوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور ریونیو میں اضافے کے لیے میل اور ایکسپریس ٹرینوں کو مرحلہ وار نجی شعبے کے حوالے کرنے کا عمل جاری ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت کے تحت قراقرم ایکسپریس کو نجی کمپنی کے حوالے کرنے کا حتمی اعلان کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کے مطابق لاہور سے کراچی کے درمیان چلنے والی معروف ٹرین قراقرم ایکسپریس 30 اکتوبر 2026 سے نجی کمپنی &#039;پرائم ریل&#039; کے زیر انتظام کام کرے گی۔ یہ اقدام ریلوے کے مالیاتی خسارے کو کم کرنے اور مسافروں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کی حکومتی پالیسی کا حصہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان ریلوے کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق 29 اکتوبر 2026 تک ٹرین کی بکنگ اور دیگر انتظامی امور محکمہ ریلوے کے پاس رہیں گے۔ اس کے بعد 30 اکتوبر سے ٹرین کے تمام تر آپریشنل اور بکنگ کے معاملات مکمل طور پر نجی کمپنی پرائم ریل کی ذمہ داری ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کا کہنا ہے کہ نجی کمپنی کو ایڈوانس بکنگ شروع کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس مقصد کے لیے رابطہ ایپ کی انتظامیہ کو بھی ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ بکنگ کا عمل بلا تعطل جاری رہ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان ریلوے کی جانب سے ٹرینوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کا مقصد ٹرینوں میں سہولیات کے معیار کو عالمی سطح پر لانا ہے۔ نجی انتظام میں آنے کے بعد قراقرم ایکسپریس کے مسافروں کو جدید سہولیات اور بہتر سروس ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قراقرم ایکسپریس پاکستان ریلوے کی ایک اہم ٹرین ہے جو لاہور اور کراچی کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کے لیے ایک پسندیدہ ذریعہ آمدورفت سمجھی جاتی ہے۔ اس ٹرین کی نجکاری سے ریلوے کے محکمے پر مالی بوجھ کم ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریلوے حکام نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ ٹرین کی نجکاری کے دوران مسافروں کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔ بکنگ کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی شکایت نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تبدیلی کے بعد قراقرم ایکسپریس کے کرایوں اور سروس کے معیار میں ممکنہ تبدیلیوں پر بھی نظر رکھی جائے گی۔ ریلوے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ نجی کمپنی کے ساتھ معاہدے کی شرائط پر سختی سے عمل درآمد کروائیں گے تاکہ مسافروں کو بہترین سروس مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قراقرم ایکسپریس کے مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ 30 اکتوبر کے بعد کی بکنگ کے لیے نجی کمپنی کے مقرر کردہ ذرائع اور رابطہ ایپ کا استعمال کریں۔ ریلوے حکام نے اس حوالے سے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے ہیں تاکہ ٹرین کے آپریشنز میں کوئی تعطل نہ آئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ فیصلہ پاکستان ریلوے کی تنظیم نو کے عمل میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ حکومتی سطح پر ریلوے کے محکمے کو منافع بخش ادارہ بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے جن میں نجی شعبے کی شمولیت سر فہرست ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1403/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس حادثہ: ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/517/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/517/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 02:37:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ابتدائی_رپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[امدادی_کارروائیاں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_ریلوے]]></category>
		<category><![CDATA[ٹرین]]></category>
		<category><![CDATA[ٹرین_حادثہ]]></category>
		<category><![CDATA[حادثہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رحمان_بابا_ایکسپریس]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریلوے_انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%82%d8%b1%db%8c%d8%a8-%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86-%d8%a8%d8%a7%d8%a8%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9%d8%b3%d9%be%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%ad%d8%a7%d8%af%d8%ab/</guid>

					<description><![CDATA[کراچی سے پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس کے حادثے کی وجہ ٹرین کی کوچ کا پرزہ کراسنگ میں پھنسنا قرار دیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملتان کے قریب پیش آنے والے رحمان بابا ایکسپریس ٹرین حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی ہے جس میں حادثے کی وجوہات اور تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ اس افسوسناک واقعے میں ڈیڑھ سالہ بچی سمیت 6 مسافر جاں بحق جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ ریلوے کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق حادثے کی بنیادی وجہ ٹرین کی دوسری کوچ کا ایک پرزہ تھا جو ٹریک کے دوران لٹک رہا تھا۔ یہ پرزہ کراسنگ بلاک سے ٹکرایا جس کے نتیجے میں ٹرین کی بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کوچ نمبر 12430-6 کی فرنٹ ٹرالی کا ٹریس بار ہینگر کراسنگ کی نوز میں پھنس گیا تھا۔ اس رکاوٹ کے باعث پہلے ایک ڈبہ ڈی ریل ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے رحمان بابا ایکسپریس کی مزید 13 کوچز بھی پٹری سے اتر گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے وقت ٹرین کا انجن اور لگیج وین کراسنگ سے بحفاظت گزر چکے تھے، تاہم پچھلے حصے میں موجود کوچز اس تکنیکی خرابی کی زد میں آ گئیں۔ ٹرین اس وقت تقریباً 672 ٹن وزنی لوڈ کے ساتھ اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقاتی ٹیم کو حادثے کے مقام سے ٹریس بار ہینگر کا باقی ماندہ حصہ بھی مل گیا ہے، جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ٹرین کے پرزے کراسنگ میں پھنسے تھے۔ رپورٹ کے مطابق کراسنگ کے مقام پر دیگر پرزے بھی پھنسے ہوئے پائے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس حادثے کے نتیجے میں اپ اور ڈاؤن دونوں ٹریکس شدید متاثر ہوئے جس سے ریلوے کا نظام معطل ہو کر رہ گیا۔ حادثے کے فوراً بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی تھیں اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رحمان بابا ایکسپریس کراچی سے پشاور جانے والی ایک اہم ٹرین ہے جو روزانہ کی بنیاد پر بڑی تعداد میں مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچاتی ہے۔ اس حادثے کے بعد ریلوے حکام نے ٹریک کی بحالی اور واقعے کی مزید گہرائی سے جانچ پڑتال کا عمل شروع کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے میں جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جن کی اموات نے علاقے میں سوگ کی فضا پیدا کر دی ہے۔ زخمیوں میں سے کئی افراد کو طبی امداد کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر کا علاج جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ ریلوے کے اعلیٰ حکام نے حادثے کی شفاف تحقیقات کا یقین دلایا ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔ ابتدائی رپورٹ میں سامنے آنے والے حقائق کی روشنی میں تکنیکی ٹیمیں ٹریک کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان ریلوے کی جانب سے مسافروں کی حفاظت کے لیے حفاظتی معیارات پر نظر ثانی کی جا رہی ہے۔ حادثے کے بعد ٹرینوں کی بروقت مینٹیننس اور ٹریک کی جانچ پڑتال کے عمل کو مزید سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں نے حادثے کے مقام پر بروقت پہنچ کر امدادی کاموں میں حصہ لیا۔ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ایمبولینسز کا استعمال کیا گیا جبکہ مقامی لوگوں نے بھی اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیوں میں تعاون کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر ریلوے اور متعلقہ حکام نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/517/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
