<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ریاست_مخالف_مواد &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa_%d9%85%d8%ae%d8%a7%d9%84%d9%81_%d9%85%d9%88%d8%a7%d8%af/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 19 Oct 2026 10:37:57 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>ریاست_مخالف_مواد &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مواد کا معاملہ، اقرار الحسن عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقل</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1432/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1432/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 10:37:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اقرار_الحسن]]></category>
		<category><![CDATA[این_سی_سی_آئی_اے]]></category>
		<category><![CDATA[پیکا_ایکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریاست_مخالف_مواد]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_کرائم]]></category>
		<category><![CDATA[سوشل_میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d9%88%d8%b4%d9%84-%d9%85%db%8c%da%88%db%8c%d8%a7-%d9%be%d8%b1-%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa-%d9%85%d8%ae%d8%a7%d9%84%d9%81-%d9%85%d9%88%d8%a7%d8%af-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[کراچی کی مقامی عدالت نے عوام راج پارٹی کے سربراہ اقرار الحسن کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، عدالت نے 14 روز میں چالان طلب کر لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نے عوام راج پارٹی کے سربراہ اور سابق ٹی وی اینکر اقرار الحسن کو ریاست مخالف مواد سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے مقدمے میں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ ملزم کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے عدالت میں پیش کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ وہ مذکورہ مقدمے کا چالان 14 روز کے اندر جمع کرائے۔ سماعت کے دوران اقرار الحسن کے وکیل صفائی نے ان کی ضمانت کے لیے درخواست بھی دائر کر دی ہے، جس پر عدالت نے پراسیکیوشن اور تفتیشی افسر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے دلائل طلب کر لیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقرار الحسن کے خلاف یہ مقدمہ پیکا ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے ریاست، ریاستی اداروں اور ان کے عہدیداروں کے خلاف ہتک آمیز اور اشتعال انگیز مواد نشر کیا، جس کا مقصد عوامی رائے کو مشتعل کرنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق اقرار الحسن کی ایک ویڈیو کا حوالہ دیا گیا ہے۔ تفتیشی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ مواد وفاق کی سالمیت اور یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہے اور اس کے ذریعے قانونی اقدامات کو متنازع بنا کر پیش کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم کے زیر استعمال ڈیجیٹل آلات بشمول موبائل فون اور لیپ ٹاپ کی فرانزک جانچ کا عمل جاری ہے۔ حکام کے مطابق تقریباً 10 جی بی ڈیٹا کا تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ مزید شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اقرار الحسن کو 12 اکتوبر کی رات لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کے اہل خانہ نے گرفتاری کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، جبکہ ان کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ گرفتاری کے وقت قانونی تقاضوں کو نظر انداز کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل 15 اکتوبر کو کراچی کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت نے اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ کے خلاف دائر درخواست مسترد کر دی تھی۔ اس کے بعد سے وہ چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر سائبر کرائم حکام کی تحویل میں تھے، جہاں ان سے تفتیش کا عمل جاری رہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل صفائی نے عدالت میں متنازع ویڈیو کا ٹرانسکرپٹ پیش کرتے ہوئے دلیل دی کہ ان کے مؤکل نے جو بات کی وہ عوامی اور سیاسی بحث کا حصہ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کوئی شکایت کنندہ یا متاثرہ شخص سامنے نہیں آیا اور مقدمہ محض ایک رپورٹ کی بنیاد پر قائم کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے کیس کی مزید کارروائی کے لیے آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالت فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">این سی سی آئی اے کی جانب سے درج ایف آئی آر میں پیکا ایکٹ کی دفعات 9، 10، 20، 24 اور 26 اے شامل کی گئی ہیں۔ ان دفعات کے تحت سائبر دہشت گردی، ہراسانی اور جعلی معلومات پھیلانے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزم کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑی تعداد میں فالوورز موجود ہیں، جس کے پیش نظر حکام کا کہنا ہے کہ اس مواد کی تشہیر سے عوامی نظم و نسق پر اثر پڑ سکتا تھا۔ اسی بنیاد پر کیس کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی احکامات کے بعد اقرار الحسن کو جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ اب تمام تر نظریں چالان جمع ہونے اور ضمانت کی درخواست پر ہونے والی اگلی سماعت پر مرکوز ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1432/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ریاست مخالف مواد کا مقدمہ؛ اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ چیلنج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/557/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/557/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 08:38:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آزادی_اظہار]]></category>
		<category><![CDATA[اقرار_الحسن]]></category>
		<category><![CDATA[این_سی_سی_آئی_اے]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[جسمانی_ریمانڈ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریاست_مخالف_مواد]]></category>
		<category><![CDATA[سوشل_میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[سیشن_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa-%d9%85%d8%ae%d8%a7%d9%84%d9%81-%d9%85%d9%88%d8%a7%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%82%d8%af%d9%85%db%81%d8%9b-%d8%a7%d9%82%d8%b1%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%84%d8%ad%d8%b3%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[سیشن عدالت شرقی میں اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ کے خلاف اپیل دائر کی گئی ہے جس پر عدالت نے تفتیشی افسر کو نوٹس جاری کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی کی سیشن عدالت شرقی میں عوام راج پارٹی کے سربراہ اور معروف اینکر پرسن اقرار الحسن کے خلاف درج ریاست مخالف مواد کے مقدمے میں ان کے جسمانی ریمانڈ کے عدالتی حکم کو باضابطہ طور پر چیلنج کر دیا گیا ہے۔ یہ قانونی کارروائی ان کے دفاعی وکیل کی جانب سے عمل میں لائی گئی ہے جنہوں نے مجسٹریٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرتے ہوئے عدالت سے نظرثانی کی استدعا کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دائر کردہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نچلی عدالت کے مجسٹریٹ نے بغیر کسی ٹھوس اور غیر معمولی وجہ کے جسمانی ریمانڈ کی منظوری دی جو کہ ملک کے مروجہ قانونی تقاضوں کے برعکس ہے۔ وکیل صفائی کے مطابق فوجداری انصاف کے نظام میں جسمانی ریمانڈ کو ایک غیر معمولی اقدام سمجھا جاتا ہے جسے خاص حالات میں ہی استعمال کیا جانا چاہئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل میاں علی اشفاق نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے میں درکار تمام اہم ڈیجیٹل شواہد پہلے ہی تفتیشی اداروں کی مکمل تحویل میں آ چکے ہیں۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی یعنی این سی سی آئی اے کے پاس اس وقت اقرار الحسن کے موبائل فونز اور ایک عدد ٹیبلٹ محفوظ موجود ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفصیلات کے مطابق مجموعی طور پر چار موبائل فونز اور ایک ٹیبلٹ تفتیشی حکام کے قبضے میں ہیں جن کا فرانزک تجزیہ کیا جانا ابھی باقی ہے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ جب متعلقہ الیکٹرانک آلات اور آلات تفتیشی ایجنسی کے پاس موجود ہیں تو مزید تفتیش کے لیے ملزم کی جسمانی تحویل کی قطعی کوئی ضرورت نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ جدید تکنیکی دور میں فرانزک تجزیہ کرنے اور سوشل میڈیا کمپنیوں سے مطلوبہ معلومات یا ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے ملزم کو جیل یا پولیس کی تحویل میں رکھنا لازم نہیں۔ تفتیش کار بغیر جسمانی ریمانڈ کے بھی اپنی قانونی کارروائی اور تفتیش کو بخوبی آگے بڑھا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دفاعی ٹیم کی جانب سے عدالت سے باضابطہ استدعا کی گئی ہے کہ مجسٹریٹ کی جانب سے دیا گیا جسمانی ریمانڈ کا حکم فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ این سی سی آئی اے کو ہدایت دی جائے کہ وہ ملزم کی غیر موجودگی یا بغیر جسمانی ریمانڈ کے اپنی تفتیش مکمل کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپیل میں یہ اہم نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ ایک صحافی کو محض سوشل میڈیا پر کی گئی کسی پوسٹ کی بنیاد پر جسمانی ریمانڈ پر دینا معاشرے میں آزادی اظہار رائے کے بنیادی حق پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس قسم کے اقدامات سے میڈیا اور اظہار رائے کی آزادی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیشن عدالت نے اس اپیل پر سماعت کرتے ہوئے متعلقہ تفتیشی افسر کو نوٹس جاری کر دیا ہے اور انہیں اگلی سماعت پر عدالت میں طلب کر لیا ہے۔ عدالت اس معاملے پر فریقین کے مزید دلائل سننے کے بعد آئندہ کوئی مناسب فیصلہ صادر کرے گی جس پر سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس مقدمے کا تعلق سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر شیئر کیے جانے والے مواد سے ہے جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سخت کارروائی عمل میں لائی گئی۔ اس حوالے سے مختلف قانونی فورمز اور حلقوں میں بحث و مباحثے کا سلسلہ برابر جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں صحافتی تنظیمیں اور ممتاز قانونی ماہرین اس نوعیت کے مقدمات اور ریمانڈ کے احکامات پر اپنے گہرے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ قانون کے تقاضے ہر صورت پورے کیے جانے چاہئیں لیکن ساتھ ہی شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جانا چاہئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی کے دوران آئندہ دنوں میں مزید اہم پیشرفت متوقع ہے جہاں تفتیشی افسر کی جانب سے عدالت میں اپنی رپورٹ پیش کی جائے گی۔ اس موقع پر عدالت فیصلہ کرے گی کہ آیا جسمانی ریمانڈ کا حکم برقرار رکھا جاتا ہے یا اسے ختم کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کراچی میں اس قانونی چارہ جوئی کو ذرائع ابلاغ اور سیاسی حلقوں میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ اس کا تعلق آزادی صحافت اور سائبر کرائم کے قوانین سے ہے۔ تمام متعلقہ فریقین کی نظریں اب سیشن عدالت کے آئندہ فیصلے پر مکمل طور پر مرکوز ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کی آئندہ سماعت کے دوران عدالت کے روبرو دونوں جانب سے مزید قانونی نکات پر بحث کی توقع کی جا رہی ہے۔ عدالت کے اس فیصلے سے پاکستان میں سائبر کرائم کے تحت صحافیوں اور سیاسی شخصیات کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے ایک نیا قانونی تناظر سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/557/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
