<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>روس_یوکرین_جنگ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b1%d9%88%d8%b3_%db%8c%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%86_%d8%ac%d9%86%da%af/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 02 Nov 2026 18:44:49 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>روس_یوکرین_جنگ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>یوکرین اور روس میں ایئر الرٹ ایپس ہیک، جعلی ایٹمی و کیمیائی وارننگز جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4744/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4744/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 02 Nov 2026 18:44:49 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایٹمی_وارننگ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[روس_یوکرین_جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_حملہ]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[صوفیہ_کوچمار]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فضائی_الرٹ]]></category>
		<category><![CDATA[کیف]]></category>
		<category><![CDATA[لویو]]></category>
		<category><![CDATA[یوکرین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/4744/</guid>

					<description><![CDATA[سائبر حملے کے دوران یوکرینی ایپس پر ایٹمی حملے اور سڑکوں پر لڑائی کے جھوٹے پیغامات بھیجے گئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یوکرین اور روس میں فضائی الرٹ فراہم کرنے والی اہم موبائل ایپلیکیشنز کو نامعلوم ہیکرز کی جانب سے سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اتوار کی رات ان سسٹمز سے شہریوں کے سمارٹ فونز پر انتہائی خوفناک اور غیر معمولی نوعیت کے جعلی انتباہات موصول ہونا شروع ہوئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان پیغامات میں دعویٰ کیا گیا کہ ملک پر مبینہ طور پر ایٹمی حملے، کیمیائی حملے اور دارالحکومت کی سڑکوں پر جنگ شروع ہونے والی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کے مختلف شہروں میں بسنے والے شہریوں کے فونز پر یہ اطلاعات چند منٹوں کے اندر اندر تیزی کے ساتھ پھیل گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں جاری طویل جنگ کے تناظر میں ان الرٹس کو دیکھ کر شہریوں میں ابتدائی طور پر شدید تشویش اور خوف کی لہر دوڑ گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مغربی شہر لویو کی رہائشی چونتیس سالہ صوفیہ کوچ مار نے اس واقعے پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ &quot;پہلی چیز جو میں نے دیکھی وہ &#039;ایٹمی&#039; کا لفظ تھا اور اس نے مجھے کافی گھبراہٹ اور خوف میں مبتلا کر دیا، تو میرا پہلا خیال یہی تھا کہ کوئی ایٹمی چیز واقعی ہماری طرف اڑ کر آ رہی ہے۔&quot;</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید بتایا کہ &quot;مگر پھر نوٹیفکیشن میں &#039;کیف میں اسڑکوں پر لڑائی&#039; کا ذکر آگیا، اور میں نے سوچا کہ انتظار کرو، نہیں، یہ ناممکن ہے۔&quot;</p>
<p class="wp-block-paragraph">کیف کی انتیس سالہ بیلارینا اینستاسیا رومانیتسکا نے بتایا کہ انہوں نے اپنے فون میں الرٹ ایپ انسٹال نہیں کر رکھی تھی لیکن دوستوں نے انہیں یہ پیغامات فارورڈ کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ &quot;میرا پہلا ردعمل یہ تھا کہ کیا یہ کسی قسم کا مذاق ہے، لیکن پھر میرے جسم نے ایسے ردعمل دیا جیسے میں دباؤ میں ہوں، میرا دل تیز دھڑکنے لگا اور معدہ جکڑ گیا۔&quot;</p>
<p class="wp-block-paragraph">بعض جعلی پیغامات میں روسی زبان کے الفاظ استعمال کیے گئے تھے جبکہ ایک پیغام میں مبینہ طور پر ہیکر گروپ کے ٹیلی گرام چینل کا لنک بھی درج تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صورتحال کے فوراً بعد یوکرین کی فضائیہ نے پندرہ منٹ کے اندر ایک باضابطہ بیان جاری کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فضائیہ کے بیان میں واضح کیا گیا کہ الرٹ ایپ کو کسی نے ہیک کر لیا ہے اور ریڈی ایشن کا کوئی خطرہ موجود نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم تمام متعلقہ علاقوں میں &quot;آل کلیئر&quot; کے باضابطہ پیغامات جاری کرنے میں ایک گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگ گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کیف اسکول آف اکنامکس کے سائبر سیکیورٹی ماہر ییوجین بالیوتوف نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے بی بی سی کو تفصیلات بتائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہر کے مطابق یہ بات بالکل واضح تھی کہ یوکرین کے الرٹ سسٹم کو روسی عناصر یا ہیکرز نے نشانہ بنایا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے وضاحت کی کہ بہت سے شہریوں نے الرٹس میں موجود لنک پر کلک کیا جو روسی ٹیلی گرام چینل کی طرف جاتا تھا، جس سے وہ مزید غلط معلومات اور فشنگ حملوں کی زد میں آسکتے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس طرح کے حربے جنگی حالات میں پروپیگنڈا اور نفسیاتی دباؤ کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب، یوکرین کے شہریوں نے اس خوفناک صورتحال کے فوراً بعد اس پر ہلکا پھلکا انداز اپناتے ہوئے مذاق کرنا شروع کر دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوفیہ کوچ مار نے بتایا کہ کام کے تمام گروپ چیٹس میں فوری طور پر پیغامات کا طوفان آ گیا اور سب لوگ اس بات پر تبادلہ خیال کرنے لگے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ &quot;اور جو چیز مجھے حیران کن لگی وہ یہ تھی کہ کتنی جلدی ہم سب نے اس پورے معاملے کو ایک مذاق میں تبدیل کر دیا۔&quot;</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین نے تنبیہ کی ہے کہ اگرچہ اس واقعے کے فوری اثرات محدود رہے لیکن اس نے اہم ترین سرکاری سسٹمز کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ ساڑھے چار سالہ جنگ کے دوران پہلے ہی عوام کو مسلسل خطرات سے باخبر رکھنا ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اب حکام کے لیے یہ بھی ضروری ہو گیا ہے کہ وہ شہریوں کو یہ یقین دہانی کرائیں کہ ان کے حفاظتی نظام مضبوط اور قابلِ اعتماد ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4744/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>روس اور یوکرین کے درمیان 540 جنگی قیدیوں کا تبادلہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/2063/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/2063/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 23:17:49 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امن_کوششیں]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تبادلہ]]></category>
		<category><![CDATA[جنگی_قیدی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[روس_یوکرین_جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b1%d9%88%d8%b3-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%8c%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7%d9%86-540-%d8%ac%d9%86%da%af%db%8c-%d9%82%db%8c%d8%af%db%8c%d9%88%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[ماسکو اور کیف نے دو سو ستر، دو سو ستر فوجیوں کی واپسی کا عمل مکمل کر لیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">روس اور یوکرین کے مابین جاری طویل فوجی تنازع کے دوران ایک بار پھر قیدیوں کے تبادلے کا عمل مکمل ہوا ہے جس کے تحت مجموعی طور پر 540 اہلکار اپنے اپنے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ اس اہم پیش رفت میں دونوں ممالک نے دو سو ستر، دو سو ستر قیدیوں کو رہا کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق رہائی پانے والے روسی فوجیوں کو لے کر دو فوجی ٹرانسپورٹ طیارے ماسکو کے علاقے میں پہنچ چکے ہیں۔ یہ طیارے الیوشن Il-76MD ماڈل کے تھے جنہوں نے کامیابی کے ساتھ اپنی منزل پر لینڈنگ کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ یہ تبادلہ دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کی واپسی کے جاری عمل کا ایک حصہ ہے۔ اس سے قبل بھی فریقین کے مابین اس طرح کے تبادلے ہوتے رہے ہیں جو جنگی حالات میں انسانی بنیادوں پر ایک اہم پیش رفت سمجھے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کے زیر کنٹرول علاقوں سے واپس لائے گئے روسی فوجیوں کو طبی معائنے اور ضروری کارروائی کے بعد ان کے اہل خانہ سے ملایا جائے گا۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق تمام رہا ہونے والے فوجی اب اپنے ملک کی حدود میں محفوظ طریقے سے پہنچ چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب یوکرین نے بھی اپنے 270 فوجیوں کی واپسی کی تصدیق کی ہے۔ یہ قیدی کافی عرصے سے روسی تحویل میں تھے اور ان کی رہائی کے لیے طویل عرصے سے سفارتی سطح پر کوششیں جاری تھیں جن کے نتیجے میں یہ تبادلہ ممکن ہو سکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود جنگی قیدیوں کا تبادلہ ان چند معاملات میں شامل ہے جن پر دونوں ممالک کے درمیان عملی تعاون برقرار ہے۔ عالمی برادری نے اس عمل کو کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس سے قبل بھی روس اور یوکرین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے کئی مراحل مکمل ہو چکے ہیں۔ ان تبادلوں میں اکثر ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک بھی شامل ہوتے ہیں جو فریقین کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ رہائی پانے والے فوجیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کی صحت کا جائزہ لینے کے بعد انہیں بحالی کے مراکز میں منتقل کیا جائے گا تاکہ وہ دوبارہ معمول کی زندگی گزار سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرینی حکام نے بھی اپنے واپس آنے والے فوجیوں کے استقبال کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ ان فوجیوں کے اہل خانہ طویل عرصے سے ان کی واپسی کے منتظر تھے اور اس خبر کے بعد ان کے گھروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اس تبادلے سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے عمل میں معمولی بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔ تاہم، جنگ کے خاتمے کے لیے ابھی بھی طویل سفارتی کوششوں اور مذاکرات کی ضرورت باقی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس اور یوکرین کے درمیان جاری اس تنازع نے خطے کی صورتحال کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ عالمی طاقتیں مسلسل فریقین پر زور دے رہی ہیں کہ وہ جنگ کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی میز پر آئیں اور پرامن حل تلاش کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں قیدیوں کے مزید تبادلوں کی توقع بھی کی جا رہی ہے کیونکہ دونوں ممالک کے پاس ابھی بھی بڑی تعداد میں ایک دوسرے کے فوجی قید ہیں۔ اس طرح کے اقدامات جنگ کے اثرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/2063/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یوکرین کے سابق فٹبالر روس کے خلاف جنگ میں ہلاک</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/sports/1146/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/sports/1146/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 19:16:39 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کھیل]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ایس_ایل]]></category>
		<category><![CDATA[پی_سی_بی]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈی_این_اے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس_یوکرین_جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[رومن_میکسی_میوک]]></category>
		<category><![CDATA[سپورٹس]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/sports/%db%8c%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%a8%d9%82-%d9%81%d9%b9%d8%a8%d8%a7%d9%84%d8%b1-%d8%b1%d9%88%d8%b3-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%ac%d9%86%da%af/</guid>

					<description><![CDATA[یوکرین کی قومی ٹیم کے سابق مڈفیلڈر رومن میکسی میوک کی ہلاکت کی تصدیق 20 ماہ بعد ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ہوئی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کی قومی فٹ بال ٹیم کے سابق کھلاڑی رومن میکسی میوک روس کے خلاف جاری جنگ میں اپنی جان کی بازی ہار گئے۔ ان کی ہلاکت کی تصدیق طویل عرصے تک لاپتہ رہنے کے بعد ڈی این اے نمونوں کی میچنگ کے ذریعے کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رومن میکسی میوک کے اہل خانہ کے مطابق وہ گزشتہ 20 ماہ سے محاذِ جنگ پر لاپتہ تھے، جس کے بعد ان کی بیٹی داریا کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے گئے تھے۔ ان نمونوں کی تصدیق کے بعد حکام نے باضابطہ طور پر ان کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرحوم فٹبالر نے اپنی اہلیہ سے آخری بار 30 جنوری 2025 کو ٹیلی فون پر رابطہ کیا تھا، جو کہ ان کی زندگی کی آخری گفتگو ثابت ہوئی۔ اس کال کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا تھا اور وہ جنگی حالات کے باعث لاپتہ ہو گئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رومن میکسی میوک نے اپنے کیریئر کے دوران یوکرین کے کئی معروف فٹ بال کلبوں کی نمائندگی کی، جن میں ڈائنامو کیف، دنیپرو، وولن، چورنومورٹس اور پری کارپیتیا شامل ہیں۔ وہ اپنی شاندار مڈفیلڈ مہارت کے لیے فٹ بال حلقوں میں پہچانے جاتے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی سطح پر بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ رومن نے 1998 سے 2002 کے درمیان یوکرین کی قومی فٹ بال ٹیم کی جرسی پہنی اور ملک کی جانب سے پانچ میچوں میں حصہ لیا۔ انہوں نے 2011 میں پیشہ ورانہ فٹ بال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سن 2022 میں روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی بڑھنے اور حملے کے بعد رومن میکسی میوک نے میدانِ عمل میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے یوکرین کی فوج کے 25 ویں سیچیسلاو ایئر بورن بریگیڈ میں بطور گنر شمولیت اختیار کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رومن میکسی میوک نے کھیل کے میدان سے نکل کر ملک کے دفاع کے لیے ہتھیار اٹھائے اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کی ہلاکت پر یوکرین کے کھیلوں کے حلقوں اور ان کے مداحوں میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین میں جاری اس طویل جنگ کے دوران کئی کھلاڑیوں اور عام شہریوں نے اپنی جانیں گنوائی ہیں۔ رومن کا شمار ان کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے ملک کی خاطر اپنے آرام دہ مستقبل کو خیرباد کہہ کر محاذِ جنگ کا رخ کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فٹ بال کی دنیا میں رومن میکسی میوک کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کا شمار ان کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف کھیل میں بلکہ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں بھی ہمت اور بہادری کی مثال قائم کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رومن کے اہل خانہ کے لیے یہ 20 ماہ انتہائی کرب اور انتظار میں گزرے۔ اب ڈی این اے کی تصدیق کے بعد ان کی آخری رسومات کی تیاریوں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا، جس میں ان کے ساتھی کھلاڑی اور اہل خانہ شرکت کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کی فٹ بال فیڈریشن اور ان کے سابق کلبوں کی جانب سے بھی رومن میکسی میوک کی ہلاکت پر تعزیتی پیغامات جاری کیے گئے ہیں۔ ان کے ساتھی کھلاڑیوں نے انہیں ایک بہترین انسان اور محب وطن قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جنگ کے میدان میں لاپتہ ہونے والے فوجیوں کی تلاش اور ان کی شناخت کا عمل انتہائی پیچیدہ ہوتا ہے۔ رومن کے کیس میں بھی جدید سائنسی طریقوں اور ڈی این اے ٹیسٹ نے ان کی ہلاکت کی تصدیق میں اہم کردار ادا کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رومن میکسی میوک کی زندگی کا سفر کھیل کے میدان سے شروع ہو کر جنگ کے محاذ پر ختم ہوا۔ ان کی قربانی کو یوکرین کے عوام اور کھیلوں کی تاریخ میں ایک اہم باب کے طور پر دیکھا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/sports/1146/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بحیرہ اسود میں ڈرون حملہ، مال بردار جہاز ڈوبنے سے 11 افراد لاپتا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/514/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/514/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 02:18:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایچ_ایس_ڈگنٹی]]></category>
		<category><![CDATA[بحیرہ_اسود]]></category>
		<category><![CDATA[بلغاریہ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈرون_حملہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس_یوکرین_جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a8%d8%ad%db%8c%d8%b1%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%88%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%88%d8%b1%d9%88%d9%86-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%81%d8%8c-%d9%85%d8%a7%d9%84-%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%d8%ac%db%81%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[بلغاریہ کے ساحل کے قریب پیش آنے والے واقعے میں 5 افراد کو بچا لیا گیا، لاپتا افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بحیرہ اسود میں بلغاریہ کے ساحل کے قریب ایک مال بردار جہاز ڈرون حملے کا شکار ہو کر ڈوب گیا ہے، جس کے نتیجے میں عملے کے 11 ارکان لاپتا ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ ساحل سے تقریباً 15 بحری میل کے فاصلے پر پیش آیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گنی بساؤ کے پرچم تلے چلنے والے اس مال بردار جہاز کا نام &#039;ایچ ایس ڈگنٹی&#039; بتایا گیا ہے۔ حادثے کے وقت جہاز پر کل 16 افراد سوار تھے، جن میں سے 5 افراد کو قریبی تجارتی جہازوں کی مدد سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاپتا ہونے والے افراد کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق لاپتا ہونے والے عملے کے ارکان میں زیادہ تر شامی اور مصری شہری شامل ہیں، جن کے بارے میں تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروہ یا ملک نے قبول نہیں کی ہے۔ بحیرہ اسود کا خطہ طویل عرصے سے جاری روس اور یوکرین تنازع کے باعث کشیدگی کی زد میں ہے، جہاں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس سے قبل بھی اسی علاقے میں ایک اور مال بردار جہاز &#039;چیلسی تھری&#039; کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ مالٹا کے پرچم بردار اس جہاز پر تین ڈرونز سے حملہ کیا گیا تھا، تاہم خوش قسمتی سے اس پر سوار تمام افراد محفوظ رہے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بلغاریہ کے حکام نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بلغاریہ کے صدر اور وزیراعظم نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے معاملے کی شفاف تحقیقات کا اعلان کیا ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بلغاریہ کے وزیراعظم رومین رادیف نے اس معاملے پر روسی سفیر کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی فریق پر الزام عائد کرنے سے قبل ٹھوس شواہد کی ضرورت ہے، جس کے لیے تحقیقاتی عمل جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لاین نے بھی بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ سمندری حدود میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیٹو کی جانب سے بھی جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ بحیرہ اسود میں اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔ اتحاد کا مقصد خطے میں جہاز رانی کی آزادی اور عالمی غذائی رسد کے راستوں کو محفوظ بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بحیرہ اسود میں جاری کشیدگی کے باعث بین الاقوامی تجارت اور خاص طور پر غذائی اجناس کی ترسیل کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ عالمی منڈیوں میں اس صورتحال کے اثرات کے پیش نظر سیکیورٹی خدشات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں، تاہم خراب موسمی حالات اور سمندری لہروں کے باعث آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ جلد ہی لاپتا افراد کے بارے میں کوئی اطلاع مل سکے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی سطح پر اس واقعے کے بعد تجارتی جہاز رانی کرنے والی کمپنیوں نے اپنے روٹس اور سیکیورٹی پروٹوکولز پر نظر ثانی شروع کر دی ہے۔ بحیرہ اسود میں امن و امان کی بحالی کے لیے سفارتی سطح پر بھی کوششیں تیز ہونے کا امکان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/514/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
