<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>روس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b1%d9%88%d8%b3/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Tue, 03 Nov 2026 15:58:58 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>روس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>میل نیا ٹرمپ روس اور یوکرین کے نمائندوں کی میزبانی وائٹ ہاؤس میں کریں گی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4859/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4859/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 03 Nov 2026 15:58:58 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[امن_مذاکرات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فائر_بندی]]></category>
		<category><![CDATA[میلنیا_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[وائٹ_ہاؤس]]></category>
		<category><![CDATA[واشنگٹن]]></category>
		<category><![CDATA[یوکرین]]></category>
		<guid isPermaLink="false"></guid>

					<description><![CDATA[وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکہ کی خاتونِ اول جنگ زدہ فریقین کے مابین ملاقات کی میزبانی کریں گی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکہ کی خاتونِ اول میل نیا ٹرمپ واشنگٹن میں روس اور یوکرین کے نمائندوں کی میزبانی کے فرائض انجام دیں گی۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے منگل کے روز جاری کردہ بیان کے مطابق اس ملاقات میں دونوں ممالک کے فریقین کو مدعو کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس نے یوکرین کے ساتھ نئے امن مذاکرات کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ یہ ملاقات فائر بندی کے امور پر تبادلہ خیال کے لیے واشنگٹن میں منعقد کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وائٹ ہاؤس نے اس پیش رفت کو امریکی تاریخ کا ایک غیر معمولی لمحہ قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ملاقات کا مقصد دونوں جنگ زدہ ممالک کے درمیان جاری تنازع کو حل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تقریب کے انعقاد کے لیے تاحال کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے شرکاء کے ناموں یا اس اجلاس میں شرکت کرنے والی شخصیات کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی حکام اور سفارتی ذرائع کی جانب سے بھی اس سلسلے میں تصدیق سامنے آ چکی ہے کہ فریقین کے درمیان رابطے جاری ہیں۔ امریکی صدر کے دفتر سے جاری بیان میں اس ملاقات کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ماسکو کی طرف سے یوکرین میں مسافروں کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان حملوں کے باوجود سفارتی سطح پر رابطوں کا سلسلہ جاری رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی خاتونِ اول کو اولیشکی میں ریلیف کے لیے طے پانے والی عارضی فائر بندی کے معاملے پر بھی سراہا گیا ہے۔ اس امدادی فائر بندی کو دونوں فریقین کے مابین کشیدگی کم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس اور یوکرین کے درمیان جاری مسلح تنازع کے باعث خطے میں انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ واشنگٹن میں ہونے والی اس متوقع ملاقات کو بین الاقوامی سطح پر بڑی اہمیت دی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران فائر بندی کے نفاذ اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی کے امور پر بات چیت کی توقع ہے۔ ماہرین اور مبصرین اس پیش رفت کو ایک اہم سفارتی قدم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ اس ملاقات کی تیاریوں کے حوالے سے مزید معلومات وقت آنے پر شیئر کی جائیں گی۔ انتظامیہ اس عمل کو کامیاب بنانے کے لیے پرامید دکھائی دیتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کے بحران کے حل کے لیے ماضی میں بھی متعدد بین الاقوامی کوششیں کی جا چکی ہیں جن کے دوران مختلف ممالک نے ثالث کا کردار ادا کیا۔ اب واشنگٹن میں ہونے والا یہ اجلاس اس سلسلے کی ایک نئی کڑی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس کی جانب سے امن مذاکرات کی تصدیق کے بعد عالمی منڈی اور سیاسی حلقوں میں اس کے مثبت اثرات کی توقع کی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کے نمائندگان اس ملاقات میں اپنے اپنے مؤقف کی ترجمانی کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکہ میں ہونے والے اس اعلیٰ سطح کے رابطے کا مقصد فریقین کے درمیان پائی جانے والی خلیج کو کم کرنا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس تمام عمل کے دوران سکیورٹی اور دیگر پروٹوکول کے امور کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ملاقات کے انعقاد سے قبل دونوں ممالک کے درمیان مختلف محاذوں پر کشیدگی میں کمی بیشی دیکھی گئی ہے۔ تاہم واشنگٹن کا یہ اقدام امن کی بحالی کی جانب ایک انوکھا اور غیر معمولی قدم سمجھا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4859/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یوکرین اور روس میں ایئر الرٹ ایپس ہیک، جعلی ایٹمی و کیمیائی وارننگز جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4744/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4744/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 02 Nov 2026 18:44:49 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایٹمی_وارننگ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[روس_یوکرین_جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_حملہ]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[صوفیہ_کوچمار]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فضائی_الرٹ]]></category>
		<category><![CDATA[کیف]]></category>
		<category><![CDATA[لویو]]></category>
		<category><![CDATA[یوکرین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/4744/</guid>

					<description><![CDATA[سائبر حملے کے دوران یوکرینی ایپس پر ایٹمی حملے اور سڑکوں پر لڑائی کے جھوٹے پیغامات بھیجے گئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یوکرین اور روس میں فضائی الرٹ فراہم کرنے والی اہم موبائل ایپلیکیشنز کو نامعلوم ہیکرز کی جانب سے سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اتوار کی رات ان سسٹمز سے شہریوں کے سمارٹ فونز پر انتہائی خوفناک اور غیر معمولی نوعیت کے جعلی انتباہات موصول ہونا شروع ہوئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان پیغامات میں دعویٰ کیا گیا کہ ملک پر مبینہ طور پر ایٹمی حملے، کیمیائی حملے اور دارالحکومت کی سڑکوں پر جنگ شروع ہونے والی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کے مختلف شہروں میں بسنے والے شہریوں کے فونز پر یہ اطلاعات چند منٹوں کے اندر اندر تیزی کے ساتھ پھیل گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں جاری طویل جنگ کے تناظر میں ان الرٹس کو دیکھ کر شہریوں میں ابتدائی طور پر شدید تشویش اور خوف کی لہر دوڑ گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مغربی شہر لویو کی رہائشی چونتیس سالہ صوفیہ کوچ مار نے اس واقعے پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ &quot;پہلی چیز جو میں نے دیکھی وہ &#039;ایٹمی&#039; کا لفظ تھا اور اس نے مجھے کافی گھبراہٹ اور خوف میں مبتلا کر دیا، تو میرا پہلا خیال یہی تھا کہ کوئی ایٹمی چیز واقعی ہماری طرف اڑ کر آ رہی ہے۔&quot;</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید بتایا کہ &quot;مگر پھر نوٹیفکیشن میں &#039;کیف میں اسڑکوں پر لڑائی&#039; کا ذکر آگیا، اور میں نے سوچا کہ انتظار کرو، نہیں، یہ ناممکن ہے۔&quot;</p>
<p class="wp-block-paragraph">کیف کی انتیس سالہ بیلارینا اینستاسیا رومانیتسکا نے بتایا کہ انہوں نے اپنے فون میں الرٹ ایپ انسٹال نہیں کر رکھی تھی لیکن دوستوں نے انہیں یہ پیغامات فارورڈ کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ &quot;میرا پہلا ردعمل یہ تھا کہ کیا یہ کسی قسم کا مذاق ہے، لیکن پھر میرے جسم نے ایسے ردعمل دیا جیسے میں دباؤ میں ہوں، میرا دل تیز دھڑکنے لگا اور معدہ جکڑ گیا۔&quot;</p>
<p class="wp-block-paragraph">بعض جعلی پیغامات میں روسی زبان کے الفاظ استعمال کیے گئے تھے جبکہ ایک پیغام میں مبینہ طور پر ہیکر گروپ کے ٹیلی گرام چینل کا لنک بھی درج تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صورتحال کے فوراً بعد یوکرین کی فضائیہ نے پندرہ منٹ کے اندر ایک باضابطہ بیان جاری کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فضائیہ کے بیان میں واضح کیا گیا کہ الرٹ ایپ کو کسی نے ہیک کر لیا ہے اور ریڈی ایشن کا کوئی خطرہ موجود نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم تمام متعلقہ علاقوں میں &quot;آل کلیئر&quot; کے باضابطہ پیغامات جاری کرنے میں ایک گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگ گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کیف اسکول آف اکنامکس کے سائبر سیکیورٹی ماہر ییوجین بالیوتوف نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے بی بی سی کو تفصیلات بتائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہر کے مطابق یہ بات بالکل واضح تھی کہ یوکرین کے الرٹ سسٹم کو روسی عناصر یا ہیکرز نے نشانہ بنایا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے وضاحت کی کہ بہت سے شہریوں نے الرٹس میں موجود لنک پر کلک کیا جو روسی ٹیلی گرام چینل کی طرف جاتا تھا، جس سے وہ مزید غلط معلومات اور فشنگ حملوں کی زد میں آسکتے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس طرح کے حربے جنگی حالات میں پروپیگنڈا اور نفسیاتی دباؤ کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب، یوکرین کے شہریوں نے اس خوفناک صورتحال کے فوراً بعد اس پر ہلکا پھلکا انداز اپناتے ہوئے مذاق کرنا شروع کر دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوفیہ کوچ مار نے بتایا کہ کام کے تمام گروپ چیٹس میں فوری طور پر پیغامات کا طوفان آ گیا اور سب لوگ اس بات پر تبادلہ خیال کرنے لگے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ &quot;اور جو چیز مجھے حیران کن لگی وہ یہ تھی کہ کتنی جلدی ہم سب نے اس پورے معاملے کو ایک مذاق میں تبدیل کر دیا۔&quot;</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین نے تنبیہ کی ہے کہ اگرچہ اس واقعے کے فوری اثرات محدود رہے لیکن اس نے اہم ترین سرکاری سسٹمز کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ ساڑھے چار سالہ جنگ کے دوران پہلے ہی عوام کو مسلسل خطرات سے باخبر رکھنا ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اب حکام کے لیے یہ بھی ضروری ہو گیا ہے کہ وہ شہریوں کو یہ یقین دہانی کرائیں کہ ان کے حفاظتی نظام مضبوط اور قابلِ اعتماد ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4744/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یوکرین میں روسی حملوں سے بجلی کا نظام درہم برہم، درجنوں علاقے تاریکی میں ڈوب گئے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4551/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4551/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Nov 2026 20:58:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اولیشکی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹریاٹ_میزائل]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_کا_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[خیرسون]]></category>
		<category><![CDATA[ڈرون_حملے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[روسی_حملے]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[نزنی_نووگوروڈ]]></category>
		<category><![CDATA[ولادیمیر_زیلنسکی]]></category>
		<category><![CDATA[یوکرین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%d9%88%d8%b3%db%8c-%d8%ad%d9%85%d9%84%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d8%a8%d8%ac%d9%84%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[یوکرین کے چار علاقوں میں توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ روس کے علاقے نزنی نووگوروڈ میں ڈرون حملے سے صنعتی تنصیب کو نقصان پہنچا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بتایا ہے کہ گزشتہ رات روس کی جانب سے کیے گئے شدید فضائی حملوں کے نتیجے میں ملک کے چار مختلف علاقوں میں بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے، جس سے لاکھوں گھروں کو بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کی ریاستی ایمرجنسی سروس کے مطابق، ونیٹسیا کے علاقے میں ہونے والے ایک حملے میں 13 سالہ بچی سمیت دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بجلی کی تنصیبات پر مسلسل حملوں کے باعث ملک بھر میں ہنگامی بنیادوں پر بجلی کی کٹوتی کی جا رہی ہے اور دارالحکومت کیف سمیت کئی شہروں میں پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب، روسی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کے ڈرون حملوں کے نتیجے میں روس کے علاقے نزنی نووگوروڈ میں ایک صنعتی تنصیب کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔ مقامی گورنر گلیب نکیتن نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے شہریوں کو ایندھن کی خریداری میں احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ متاثرہ تنصیب تیل یا ایندھن کی سپلائی سے منسلک تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ رات یوکرین کے 235 ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے۔ یوکرین کی فضائیہ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ روز سے اب تک روس کے 433 میں سے 371 طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کو مار گرایا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کے صدر نے ٹیلی گرام پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ روس بیلسٹک میزائلوں کو روکنے والے انٹرسیپٹرز کی کمی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ روسی حملوں کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دریں اثنا، خیرسون کے علاقے اولیشکی میں جاری مقامی جنگ بندی کا وقت اتوار کی رات ختم ہو رہا ہے۔ یہ عارضی جنگ بندی گزشتہ ہفتے شروع ہوئی تھی جس کا مقصد محصور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کے انسانی حقوق کے محتسب دمیترو لوبینٹس کے مطابق، اس جنگ بندی کے دوران 94 سالہ بزرگ سے لے کر ایک سال کے بچے تک، سینکڑوں افراد کو اولیشکی سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ یہ شہر فروری 2022 سے روسی قبضے میں ہے اور وہاں خوراک اور بجلی کی شدید قلت پائی جاتی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین نے روس کے روستوو ریجن میں واقع کا مین سکی پلانٹ کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جو مبینہ طور پر روسی میزائلوں کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ تاہم ماسکو کی جانب سے اس مخصوص حملے کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے ایک انٹرویو میں کہا کہ یوکرین کی جانب سے روسی ریفائنریز پر حملے عالمی ایندھن کی منڈی میں عدم توازن پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان کارروائیوں سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کا مؤقف ہے کہ وہ توانائی کے اہداف پر مکمل جنگ بندی کے حق میں ہے، تاہم ان کا الزام ہے کہ ماسکو اس معاہدے پر آمادہ نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کا تبادلہ جاری ہے جس سے فرنٹ لائن کے علاوہ دیگر علاقوں میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4551/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بحیرہ اسود میں محدود جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی کوششیں تیز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4425/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4425/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Nov 2026 12:58:40 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[اناج_کی_ترسیل]]></category>
		<category><![CDATA[بحیرہ_اسود]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ترکیہ]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_کا_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ_بندی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_تجارت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کینیڈا]]></category>
		<category><![CDATA[مارکو_روبیو]]></category>
		<category><![CDATA[یوکرین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%d8%ad%db%8c%d8%b1%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%88%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ad%d8%af%d9%88%d8%af-%d8%ac%d9%86%da%af-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اناج اور توانائی کی بلا تعطل ترسیل کے لیے ترکیہ اور بھارت کی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کے روز اٹلانٹا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ عالمی برادری بحیرہ اسود میں ایک محدود جنگ بندی کے قیام میں گہری دلچسپی لے رہی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود توانائی اور اناج کی عالمی منڈیوں تک بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مارکو روبیو نے واضح کیا کہ امریکہ اس وقت ترکیہ اور بھارت کی جانب سے پیش کردہ مختلف تجاویز کا بغور جائزہ لے رہا ہے تاکہ اناج کی ترسیل کے عمل کو دوبارہ فعال کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ان تجاویز پر غور کا مقصد سپلائی چین میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اگرچہ بحیرہ اسود میں محدود جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی سطح پر حمایت بڑھ رہی ہے، تاہم امریکہ اس طویل تنازعے کے ایک وسیع تر اور جامع مذاکراتی حل کے لیے بھی اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکہ اور کینیڈا سمیت دیگر عالمی قوتیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ جنگی حالات کے باوجود انسانی بنیادوں پر اناج کی ترسیل کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کا یہ مطالبہ ہے کہ بحیرہ اسود کو تجارتی سرگرمیوں کے لیے محفوظ بنایا جائے تاکہ دنیا بھر میں غذائی قلت کے خدشات کو کم کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4425/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ روس متوقع، صدر پوتن سے اہم ملاقات کا امکان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2224/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2224/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 22:57:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقتصادی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[بزنس_فورم]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_روس_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[تجارت]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[سرمایہ_کاری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%d8%b4%db%81%d8%a8%d8%a7%d8%b2-%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%81-%da%a9%d8%a7-%d8%af%d9%88%d8%b1%db%81-%d8%b1%d9%88%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم شہباز شریف کے متوقع دورہ روس کے دوران دوطرفہ تجارت، توانائی اور علاقائی تعاون کے فروغ پر بات چیت متوقع ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سفارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کا جلد روس کا دورہ متوقع ہے جس کے دوران وہ روسی صدر ولادیمیر پوتن سے اعلیٰ سطحی ملاقات کریں گے۔ اس اہم دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران دونوں رہنما پاکستان اور روس کے مابین تجارتی حجم میں اضافے، توانائی کے شعبے میں تعاون اور تیل و گیس کی فراہمی کے معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ اس کے علاوہ صنعتی ترقی، سرمایہ کاری اور مشترکہ اقتصادی منصوبوں پر بھی بات چیت متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان سٹیل ملز کی بحالی اور جدید کاری کے لیے روسی تعاون حاصل کرنا بھی اس دورے کے اہم ایجنڈے میں شامل ہو سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں بھی باہمی اشتراک عمل کو بڑھانے پر غور کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقتصادی روابط کو مستحکم کرنے کے لیے بینکاری اور مالیاتی لین دین میں سہولتوں کی فراہمی پر بھی بات ہوگی۔ تجارتی ادائیگیوں کے طریقہ کار کو آسان بنانے اور کاروباری برادری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے دونوں ممالک کے حکام کے درمیان مشاورت متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علاقائی صورتحال بالخصوص افغانستان کی موجودہ صورتحال اور جنوبی و وسطی ایشیا میں امن و استحکام کے قیام کے حوالے سے بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان تبادلہ خیال ہوگا۔ بین الاقوامی فورمز پر پاکستان اور روس کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق رائے متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم کے دورے کے موقع پر پاکستان روس بزنس فورم کے انعقاد کا بھی قوی امکان ہے جس میں پاکستان سے تقریباً 100 کاروباری شخصیات اور مختلف کمپنیوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اس فورم کا مقصد دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان براہ راست روابط کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستانی کاروباری وفد میں ٹیکسٹائل، زراعت، خوراک، ادویات اور توانائی کے شعبوں سے وابستہ اہم کمپنیاں شامل ہوں گی۔ بزنس ٹو بزنس ملاقاتوں کے ذریعے مشترکہ سرمایہ کاری اور نئے کاروباری مواقع تلاش کرنے پر توجہ دی جائے گی تاکہ تجارتی شراکت داری کو عملی شکل دی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے اس دورے میں سابقہ طے شدہ پروگرام کے اہم حصوں کو برقرار رکھا جائے گا۔ اس سے قبل بھی ایک بڑے کاروباری وفد کے ہمراہ دورے کا منصوبہ تھا تاہم کچھ وجوہات کی بنا پر اسے ملتوی کر دیا گیا تھا، اب اسے نئے سرے سے حتمی شکل دی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم شہباز شریف کے دورے کے دوران روس میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ اس نشست میں طلبہ کے تعلیمی تجربات، ان کے مسائل اور پاکستان اور روس کے درمیان تعلیمی و ثقافتی تعاون کو بڑھانے کے طریقوں پر گفتگو کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متوقع دورے کے دوران وزیراعظم کے روس کے تاریخی اور ثقافتی شہر سینٹ پیٹرزبرگ کے ایک روزہ دورے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر روابط اور ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور روس کے درمیان حالیہ برسوں میں اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک تجارت، توانائی اور صنعتی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو وسعت دینے کے خواہاں ہیں تاکہ خطے میں اقتصادی ترقی کے نئے دروازے کھل سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم کا یہ مجوزہ دورہ اسی سلسلے کی ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے جس سے سیاسی روابط مضبوط ہوں گے۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی اقتصادی شراکت داری کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے جو خطے کے لیے بھی سودمند ثابت ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم وزیراعظم کے دورے کی حتمی تاریخوں، وفد کی مکمل تشکیل اور ملاقاتوں کے تفصیلی پروگرام کا باضابطہ اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔ متعلقہ وزارتیں اور سفارتی حکام اس حوالے سے تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دینے میں مصروف عمل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2224/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا دورہ روس، ولادیمیر پیوٹن سے اہم ملاقات متوقع</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/2216/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/2216/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 21:57:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تجارت]]></category>
		<category><![CDATA[تہران]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b5%d8%af%d8%b1-%d9%85%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af-%d9%be%d8%b2%d8%b4%da%a9%db%8c%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%af%d9%88%d8%b1%db%81-%d8%b1%d9%88%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[ایرانی صدر گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ماسکو جائیں گے، جہاں دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال ہوگا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ایران کے صدر مسعود پزشکیان آئندہ ہفتے روس کا اہم دورہ کریں گے، جس کے دوران ان کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات متوقع ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سیاسی تعلقات میں نمایاں بہتری آ رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی دارالحکومت ماسکو میں ایرانی صدر گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم (GECF) کے آٹھویں سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس اجلاس میں توانائی کے شعبے سے وابستہ مختلف ممالک کے سربراہان اور نمائندے شرکت کر رہے ہیں، جو عالمی توانائی منڈیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس میں تعینات ایرانی سفیر کاظم جلالی نے صدر کے اس دورے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ ملاقات کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس ملاقات میں علاقائی اور عالمی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے ایجنڈے میں دوطرفہ تجارت کے فروغ، توانائی کے شعبے میں تعاون اور غذائی تحفظ جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی شمالی-جنوبی ٹرانسپورٹ راہداری (INSTC) کے منصوبے پر بھی بات چیت کی جائے گی جو تجارتی روابط کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ٹرانسپورٹ راہداری کا بنیادی مقصد روس، ایران اور دیگر علاقائی ممالک کے درمیان سامان کی نقل و حمل کو تیز تر اور محفوظ بنانا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو ایک نئی جہت ملے گی اور معاشی انحصار میں بہتری آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایرانی حکام کے مطابق، اس ملاقات کے دوران کسی نئے معاہدے پر دستخط کا فی الحال کوئی پروگرام نہیں ہے۔ تاہم، دونوں ممالک کے درمیان جاری اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مشاورت کا عمل مسلسل جاری رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ جنوری 2025 میں روس اور ایران نے ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے میں توانائی، تجارت، نقل و حمل اور سکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کا ایک وسیع فریم ورک طے کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب روس اور ایران دونوں کو مغربی ممالک کی جانب سے سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا ہے۔ ان حالات میں دونوں ممالک اپنے باہمی تعلقات کو مضبوط بنا کر معاشی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی حال ہی میں تہران کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد ماسکو میں ہونے والے سربراہی اجلاس سے قبل دوطرفہ امور پر ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مشاورت کا یہ سلسلہ ماسکو میں بھی جاری رہے گا۔ دونوں ممالک کے سفارتی حلقے اس دورے کو خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایران اور روس کے مابین بڑھتا ہوا یہ تعاون نہ صرف دوطرفہ تجارت کو فروغ دے رہا ہے بلکہ علاقائی استحکام کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون عالمی منڈیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماسکو میں منعقد ہونے والا گیس برآمد کرنے والے ممالک کا فورم توانائی کی عالمی قیمتوں اور سپلائی چین کے حوالے سے اہم فیصلے کرنے کے لیے ایک بڑا پلیٹ فارم ہے۔ ایرانی صدر کی شرکت سے اس فورم کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مسعود پزشکیان اور ولادیمیر پیوٹن کی ملاقات سے دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک تعلقات میں ایک نئی روح پھونکے گی۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے لیے اپنے مفادات کے تحفظ اور باہمی تعاون کو بڑھانے کا ایک بہترین موقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/2216/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>روس اور یوکرین کا الیوشکی میں انسانی امداد کیلئے عارضی جنگ بندی پر اتفاق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/2200/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/2200/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 20:17:16 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[الیوشکی]]></category>
		<category><![CDATA[امن_کوششیں]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_امداد]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ_بندی]]></category>
		<category><![CDATA[خیرسون]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b1%d9%88%d8%b3-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%8c%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%88%d8%b4%da%a9%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[دونوں ممالک نے شہریوں کے محفوظ انخلا اور خوراک و ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے مقامی سطح پر کارروائیاں روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">روس اور یوکرین نے خیرسون کے علاقے الیوشکی میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے تاکہ متاثرہ شہریوں تک خوراک، ادویات اور دیگر ضروری سامان پہنچایا جا سکے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد محصور آبادی کو محفوظ راستے فراہم کرنا اور انہیں انسانی بحران سے نکالنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی انسانی حقوق کی کمشنر یانا لانتراٹووا نے تصدیق کی ہے کہ یوکرین کے کمشنر دمتری لوبینیتس کے ساتھ ان کے رابطے جاری ہیں اور دونوں فریقین طے شدہ معاہدوں کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ انسانی مشن کے انتظامات حتمی مراحل میں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، اس مقامی جنگ بندی کا مقصد الیوشکی میں انسانی امداد کی فراہمی کو بلا تعطل ممکن بنانا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے بتایا کہ ایک آزاد میڈیا ادارہ اس پورے عمل کی نگرانی کرے گا اور انسانی مشن کے دوران ہونے والی پیش رفت کو دستاویزی شکل دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل والی ری گیراسیموف نے اعلان کیا ہے کہ روسی فوج 27 اکتوبر کو ماسکو کے وقت کے مطابق صبح چار بجے سے الیوشکی کے محاذ پر عارضی طور پر فوجی کارروائیاں روک دے گی۔ اس دوران کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی سے گریز کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے گزشتہ ماہ الیوشکی کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا تھا۔ روسی حکام کا دعویٰ ہے کہ علاقے میں یوکرینی گولہ باری اور ڈرون حملوں کے باعث خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی تھی جس سے عام شہریوں کی زندگی متاثر ہوئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">الیوشکی ضلع کے سربراہ روسلان خومینکو کے مطابق، گزشتہ کچھ عرصے کے دوران علاقے میں توپ خانے اور ڈرونز کے ذریعے متعدد حملے کیے گئے جس سے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ ان حملوں کے نتیجے میں امدادی سرگرمیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس انسانی مشن کے تحت نہ صرف خوراک اور ادویات پہنچائی جائیں گی بلکہ ان شہریوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے گا جو جنگی حالات کے باعث اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے تھے۔ یہ عمل بین الاقوامی نگرانی میں مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دونوں ممالک کے درمیان جاری اس کشیدگی کے دوران انسانی بنیادوں پر ہونے والا یہ معاہدہ ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ امدادی سامان کی بروقت ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس اور یوکرین کے درمیان اس سے قبل بھی انسانی ہمدردی کے معاملات پر رابطے ہوتے رہے ہیں، تاہم الیوشکی کے لیے ہونے والا یہ حالیہ معاہدہ زمینی صورتحال کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ مقامی حکام نے شہریوں سے تعاون کی اپیل کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امدادی ٹیمیں اب اس بات کی تیاری کر رہی ہیں کہ کس طرح محفوظ راستوں سے متاثرہ لوگوں تک پہنچا جائے۔ اس مشن کی کامیابی کا انحصار جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد اور دونوں فریقین کی جانب سے دی گئی یقین دہانیوں پر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">الیوشکی میں انسانی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے عالمی برادری بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس عارضی وقفے سے شہریوں کو درپیش مشکلات میں کمی آئے گی اور انہیں بنیادی سہولیات تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/2200/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>روس اور یوکرین کے درمیان 540 جنگی قیدیوں کا تبادلہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/2063/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/2063/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 23:17:49 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امن_کوششیں]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تبادلہ]]></category>
		<category><![CDATA[جنگی_قیدی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[روس_یوکرین_جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b1%d9%88%d8%b3-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%8c%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7%d9%86-540-%d8%ac%d9%86%da%af%db%8c-%d9%82%db%8c%d8%af%db%8c%d9%88%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[ماسکو اور کیف نے دو سو ستر، دو سو ستر فوجیوں کی واپسی کا عمل مکمل کر لیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">روس اور یوکرین کے مابین جاری طویل فوجی تنازع کے دوران ایک بار پھر قیدیوں کے تبادلے کا عمل مکمل ہوا ہے جس کے تحت مجموعی طور پر 540 اہلکار اپنے اپنے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ اس اہم پیش رفت میں دونوں ممالک نے دو سو ستر، دو سو ستر قیدیوں کو رہا کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق رہائی پانے والے روسی فوجیوں کو لے کر دو فوجی ٹرانسپورٹ طیارے ماسکو کے علاقے میں پہنچ چکے ہیں۔ یہ طیارے الیوشن Il-76MD ماڈل کے تھے جنہوں نے کامیابی کے ساتھ اپنی منزل پر لینڈنگ کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ یہ تبادلہ دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کی واپسی کے جاری عمل کا ایک حصہ ہے۔ اس سے قبل بھی فریقین کے مابین اس طرح کے تبادلے ہوتے رہے ہیں جو جنگی حالات میں انسانی بنیادوں پر ایک اہم پیش رفت سمجھے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کے زیر کنٹرول علاقوں سے واپس لائے گئے روسی فوجیوں کو طبی معائنے اور ضروری کارروائی کے بعد ان کے اہل خانہ سے ملایا جائے گا۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق تمام رہا ہونے والے فوجی اب اپنے ملک کی حدود میں محفوظ طریقے سے پہنچ چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب یوکرین نے بھی اپنے 270 فوجیوں کی واپسی کی تصدیق کی ہے۔ یہ قیدی کافی عرصے سے روسی تحویل میں تھے اور ان کی رہائی کے لیے طویل عرصے سے سفارتی سطح پر کوششیں جاری تھیں جن کے نتیجے میں یہ تبادلہ ممکن ہو سکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود جنگی قیدیوں کا تبادلہ ان چند معاملات میں شامل ہے جن پر دونوں ممالک کے درمیان عملی تعاون برقرار ہے۔ عالمی برادری نے اس عمل کو کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس سے قبل بھی روس اور یوکرین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے کئی مراحل مکمل ہو چکے ہیں۔ ان تبادلوں میں اکثر ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک بھی شامل ہوتے ہیں جو فریقین کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ رہائی پانے والے فوجیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کی صحت کا جائزہ لینے کے بعد انہیں بحالی کے مراکز میں منتقل کیا جائے گا تاکہ وہ دوبارہ معمول کی زندگی گزار سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرینی حکام نے بھی اپنے واپس آنے والے فوجیوں کے استقبال کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ ان فوجیوں کے اہل خانہ طویل عرصے سے ان کی واپسی کے منتظر تھے اور اس خبر کے بعد ان کے گھروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اس تبادلے سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے عمل میں معمولی بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔ تاہم، جنگ کے خاتمے کے لیے ابھی بھی طویل سفارتی کوششوں اور مذاکرات کی ضرورت باقی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس اور یوکرین کے درمیان جاری اس تنازع نے خطے کی صورتحال کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ عالمی طاقتیں مسلسل فریقین پر زور دے رہی ہیں کہ وہ جنگ کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی میز پر آئیں اور پرامن حل تلاش کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں قیدیوں کے مزید تبادلوں کی توقع بھی کی جا رہی ہے کیونکہ دونوں ممالک کے پاس ابھی بھی بڑی تعداد میں ایک دوسرے کے فوجی قید ہیں۔ اس طرح کے اقدامات جنگ کے اثرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/2063/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ماسکو: ڈرون حملوں کے خطرے کے باعث فضائی آپریشن متاثر، پابندیاں ختم</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/2040/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/2040/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 20:17:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[ایئرپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پروازیں]]></category>
		<category><![CDATA[چین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈرون_حملہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d9%85%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88-%da%88%d8%b1%d9%88%d9%86-%d8%ad%d9%85%d9%84%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%b7%d8%b1%db%92-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%a7%d8%b9%d8%ab/</guid>

					<description><![CDATA[روسی دارالحکومت کے ہوائی اڈوں پر ڈرون حملوں کے خدشات کے پیش نظر عارضی پابندیاں عائد کی گئیں جو اب مرحلہ وار ختم کر دی گئی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">روس کے دارالحکومت ماسکو میں جمعہ کے روز ڈرون حملوں کے خطرے کے پیش نظر فضائی آپریشن کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں شہر کے چاروں بڑے ہوائی اڈوں پر پروازوں کی آمد و رفت عارضی طور پر معطل رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی وفاقی فضائی ٹرانسپورٹ ایجنسی &#039;روساویاتسیا&#039; کے مطابق، شیریمیتوا، ژوکوفسکی، ونوکووو اور دومودیدوو ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی خدشات کے تحت پروازوں کے شیڈول میں بار بار تبدیلیاں کی گئیں، جس سے ہزاروں مسافر متاثر ہوئے اور انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین نے تصدیق کی ہے کہ جمعہ کے روز دارالحکومت کی جانب آنے والے 11 ڈرونز کو روسی فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے فضا میں ہی مار گرایا، جس کے بعد حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فضائی پابندیوں کے باعث ماسکو آنے والی متعدد پروازوں کو متبادل شہروں کی جانب موڑنا پڑا۔ اطلاعات کے مطابق سینٹ پیٹرزبرگ کے پلکووو ایئرپورٹ پر 25 اور نزنی نووگورود کے چکالوف ایئرپورٹ پر 13 پروازیں ہنگامی بنیادوں پر اتاری گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شیریمیتوا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فضائی حملے کا الرٹ جاری ہونے کے بعد مسافروں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا اور ٹرمینلز کے مخصوص حصوں تک رسائی کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں الرٹ ختم کر دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی حکام کے مطابق، جمعہ کی شام تک صورتحال میں بہتری کے بعد شیریمیتوا اور ژوکوفسکی ایئرپورٹس پر عائد پابندیاں مکمل طور پر اٹھا لی گئی ہیں، جبکہ دیگر دو ہوائی اڈوں پر پروازیں حکام کی خصوصی اجازت اور نگرانی میں بحال کی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی وزارت ٹرانسپورٹ نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہوائی اڈے روانہ ہونے سے قبل اپنی متعلقہ ایئرلائنز کے آن لائن سسٹم یا ایئرپورٹ انتظامیہ سے پروازوں کی تازہ ترین صورتحال کی تصدیق ضرور کر لیں کیونکہ حالات کسی بھی وقت تبدیل ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ پہلا موقع نہیں جب ماسکو کو ڈرون حملوں کے خطرات کا سامنا کرنا پڑا ہو، تاہم حالیہ واقعہ نے روسی دارالحکومت کے فضائی نیٹ ورک کو ایک بار پھر شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے، جس کی وجہ سے انتظامیہ انتہائی چوکس ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی حکام نے واضح کیا ہے کہ دارالحکومت کی فضائی حدود کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پروازوں کے شیڈول میں ردوبدل کے باعث ایئرلائنز کو بھی اپنے آپریشنز کو دوبارہ ترتیب دینے میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ مسافروں کو متبادل پروازوں کی فراہمی اور معلومات کی فراہمی کے لیے ہیلپ لائنز کو فعال کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی پروازوں کے مسافروں کو خاص طور پر ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی سفری دستاویزات اور پرواز کے وقت کے حوالے سے ایئرپورٹ حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں تاکہ کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماسکو کے ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے باوجود، حکام کا کہنا ہے کہ پروازوں کی مکمل بحالی میں کچھ وقت لگ سکتا ہے کیونکہ فضائی ٹریفک کا نظام معمول پر آنے کے لیے مرحلہ وار اقدامات کیے جا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/2040/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>روس کو میدان جنگ میں شکست دینا ناممکن ہے، صدر پوتن کا مذاکرات پر زور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1904/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1904/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 02:17:45 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[امن_مذاکرات]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[روس_یوکرین_تنازع]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتکاری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b1%d9%88%d8%b3-%da%a9%d9%88-%d9%85%db%8c%d8%af%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d9%86%da%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b4%da%a9%d8%b3%d8%aa-%d8%af%db%8c%d9%86%d8%a7-%d9%86%d8%a7%d9%85%d9%85%da%a9%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ یوکرین کے ساتھ تنازع کا حل مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے اور روس حتمی امن معاہدے کے لیے تیار ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ روس یوکرین کے ساتھ جاری تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ایک حتمی امن معاہدہ ممکن ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ روس اور یوکرین کے عوام تاریخی طور پر ایک ہی قوم ہیں اور ان کے درمیان اختلافات کو بات چیت کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر پوتن نے واضح کیا کہ روس کو میدانِ جنگ میں شکست دینا ایک ناممکن ہدف ہے اور اسے اسٹریٹجک شکست دینے کی کوششیں حقیقت سے دور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو ممالک روس کو کمزور کرنے کے لیے جنگی حکمت عملی اپنا رہے ہیں، انہیں موجودہ عالمی حقائق کو تسلیم کرنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی صدر نے یورپی ممالک کی روس مخالف پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں سیاسی شیزوفرینیا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ روس یورپ کے ساتھ کسی بھی قسم کی جنگ کا خواہشمند نہیں ہے اور نہ ہی ایسی کوئی تیاری کر رہا ہے، بلکہ روس کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہی یورپی عوام کے مفاد میں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے پوتن نے دعویٰ کیا کہ یوکرینی قیادت اپنے شہریوں کو جنگی وسائل کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زبردستی شہریوں کو محاذ پر بھیجا جا رہا ہے اور فوج سے فرار ہونے والے اہلکاروں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر پوتن نے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ فوج سے فرار ہونے والے اہلکاروں کی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ان کے خلاف تین لاکھ سے زائد فوجداری مقدمات درج کیے گئے ہیں جو کہ ایک سنگین صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی صدر نے 2014 کے واقعات اور منسک معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماسکو ہمیشہ سے پُرامن حل کا حامی رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس نے ماضی میں بھی مذاکرات کی پیشکش کی تھی لیکن اس کے جواب میں شہری آبادی کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں روسی صدر نے انکشاف کیا کہ امریکہ، روس اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی رابطے دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد حتمی امن معاہدے کے بعد تمام فریقین کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی صدر نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اگر روس اور یوکرین کی سلامتی پر بات چیت ہوتی ہے تو اس کے ساتھ مجموعی یورپی سلامتی کے ڈھانچے پر بھی گفتگو ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو مختصر مدتی جنگ بندی کے بجائے دیرپا امن کا خواہاں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی صدر کے مطابق، یورپی ممالک میں جاری سیاسی عمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں کے عوام روس کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں صورتحال میں بہتری آئے گی اور فریقین ایک متفقہ لائحہ عمل تک پہنچ سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر یوکرین تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔ روس کا یہ مؤقف کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، عالمی برادری میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان یہ تنازع گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے جس کے اثرات عالمی معیشت اور سلامتی پر مرتب ہوئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سہ فریقی مذاکرات کا یہ عمل کس حد تک امن کی راہ ہموار کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی صدر نے اپنی گفتگو کے آخر میں کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ روس کے ساتھ تعلقات میں بہتری ہی خطے کے استحکام کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1904/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
