<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>روسی_آئل_ریفائنری &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b1%d9%88%d8%b3%db%8c_%d8%a2%d8%a6%d9%84_%d8%b1%db%8c%d9%81%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b1%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:44 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>روسی_آئل_ریفائنری &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>یوکرین کا روسی آئل ریفائنریز پر حملے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1185/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1185/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 00:36:46 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[انٹیلی_جنس]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[روسی_آئل_ریفائنری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%b1%d9%88%d8%b3%db%8c-%d8%a2%d8%a6%d9%84-%d8%b1%db%8c%d9%81%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b1%db%8c%d8%b2-%d9%be%d8%b1-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[صدر زیلنسکی نے کہا کہ اگر روس کی جانب سے حملے جاری رہے تو یوکرین مزید انتظار نہیں کرے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک اہم بیان میں اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک روسی آئل ریفائنریز اور توانائی کی تنصیبات پر حملے دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع شدت اختیار کر چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر زیلنسکی نے واضح کیا کہ یوکرین نے امریکی حکام کی جانب سے دی گئی تجویز کے بعد تین روز تک روسی توانائی کے مراکز کو نشانہ نہیں بنایا تھا۔ تاہم اب یوکرینی قیادت کا ماننا ہے کہ اگر روس کی جانب سے حملوں کا سلسلہ نہ رکا تو یوکرین مزید خاموش نہیں رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرینی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک اپنی دفاعی حکمت عملی کے تحت جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روسی حملوں کے جواب میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا ایک مجبوری بن چکا ہے تاکہ جارحیت کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس صورتحال کے تناظر میں صدر زیلنسکی نے امریکی انٹیلی جنس تعاون محدود کیے جانے کے امکان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انٹیلی جنس شیئرنگ میں کمی کی گئی تو اس سے یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مزید برآں، یوکرینی صدر نے سٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس میں ممکنہ رکاوٹوں پر بھی خدشات کا اظہار کیا ہے۔ یہ سروس یوکرین کے لیے مواصلاتی رابطوں اور فوجی آپریشنز میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے، جس کے بغیر زمینی صورتحال کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے یوکرین نے ڈرون حملوں کے ذریعے روس کی متعدد آئل ریفائنریز کو نشانہ بنایا تھا، جس سے روسی توانائی کی پیداوار اور برآمدات پر اثرات مرتب ہوئے تھے۔ ان حملوں کو یوکرین کی جانب سے ایک اہم تزویراتی کامیابی قرار دیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب، عالمی برادری اور خاص طور پر امریکہ نے ان حملوں کے عالمی توانائی منڈیوں پر اثرات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ امریکہ کا موقف رہا ہے کہ توانائی کے مراکز پر حملوں سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرینی صدر کا یہ تازہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کیئف اپنی فوجی حکمت عملی میں کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ کے باوجود اپنے قومی مفادات کو ترجیح دینے کا عزم رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کو اپنی بقا کے لیے سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی حکام نے یوکرین کے ان اعلانات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا ہے، تاہم روس کی جانب سے یوکرینی تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری یہ کشیدگی خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل کے حوالے سے سفارتی حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تنازع کو کم کرنے کے لیے بات چیت کا عمل ضروری ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں دونوں فریقین اپنے اپنے فوجی اہداف کے حصول کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں، جس سے امن کی امیدیں ماند پڑ رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کے لیے امریکی امداد اور تکنیکی تعاون کی اہمیت مسلمہ ہے، اس لیے زیلنسکی کا انٹیلی جنس اور سیٹلائٹ سروسز پر تشویش کا اظہار ان کی پریشانی کو ظاہر کرتا ہے۔ آنے والے دن اس حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہوں گے کہ مغربی ممالک یوکرین کے اس فیصلے پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی منڈیوں پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یوکرین نے روسی توانائی تنصیبات پر حملے تیز کیے تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان ہے۔ یہ صورتحال عالمی معیشت کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1185/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یوکرین کا روسی آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ، توانائی تنصیبات پر حملے روکنے سے انکار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/915/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/915/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 23:37:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈرون_حملہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[روسی_آئل_ریفائنری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%b1%d9%88%d8%b3%db%8c-%d8%a2%d8%a6%d9%84-%d8%b1%db%8c%d9%81%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b1%db%8c-%d9%be%d8%b1-%da%88%d8%b1%d9%88%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے توانائی مراکز پر حملے جاری رہنے کے بعد کیف اب جوابی کارروائیاں روکنے کا پابند نہیں ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے، جس کے تازہ ترین واقعے میں یوکرین نے روس کے ریازان ریجن میں واقع ایک اہم آئل ریفائنری کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں ریفائنری میں شدید آگ بھڑک اٹھی، جس پر قابو پانے کے لیے ہنگامی امدادی ادارے مصروفِ عمل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریازان کے گورنر پاول مالکوف نے ٹیلی گرام پر اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ ڈرون حملے سے تنصیب کو نقصان پہنچا ہے اور حکام کی جانب سے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔ یہ ریفائنری روس کی سرکاری تیل کمپنی روسنیفٹ کی ملکیت ہے اور ملک کی مجموعی ریفائننگ صلاحیت کا تقریباً پانچ فیصد حصہ رکھتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے توانائی تنصیبات پر حملے روکنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ایک غیر ملکی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یوکرین نے ماضی میں کچھ عرصے کے لیے روسی ریفائنریوں پر حملے معطل کیے تھے، تاہم روس کی جانب سے مسلسل جارحیت کے بعد اب یہ سلسلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روس نے حالیہ دنوں میں یوکرین کے بجلی گھروں اور توانائی کے اہم مراکز کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے، جس سے لاکھوں افراد بجلی کی سہولت سے محروم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر روس اپنی کارروائیاں بند نہیں کرتا تو یوکرین بھی اپنے دفاعی حق کا استعمال جاری رکھے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرینی حکام کے مطابق، روس کی جانب سے رواں ہفتے کیے گئے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں ہی یہ کارروائی کی گئی ہے۔ یوکرین کی سرکاری توانائی کمپنی نفتوگاز نے بھی تصدیق کی ہے کہ پولتاوا میں گیس نکالنے کی ایک تنصیب کو نقصان پہنچنے کے بعد وہاں کام معطل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب، کریملن نے یوکرین کے اس اقدام کو امریکی امن کوششوں کے منافی قرار دیا ہے۔ روسی حکام کا موقف ہے کہ توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے حوالے سے ابھی مذاکرات جاری تھے اور کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا تھا۔ روس نے یوکرین کے وسطی علاقے کیرووہراد میں بھی حملے کیے جن میں جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واشنگٹن اور کیف کے درمیان بھی اس معاملے پر تناؤ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے یوکرین پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ روسی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کرے، تاہم زیلنسکی نے شرط رکھی ہے کہ اگر امریکا انہیں پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کے مزید انٹرسیپٹرز فراہم کرے تو وہ اس پر غور کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تنازع میں ٹیکنالوجی کا استعمال بھی ایک اہم پہلو بن کر ابھرا ہے۔ یوکرین کی جانب سے ڈرون حملوں میں اسٹارلنک کے استعمال پر پابندیوں اور حدود کے حوالے سے بھی بحث جاری ہے۔ ایلون مسک نے واضح کیا ہے کہ اس نظام کے فوجی استعمال کے فیصلے امریکی حکومت اور فوج کی زیرِ نگرانی ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کی وزارتِ دفاع کے مطابق، ڈرونز پر نصب اسٹارلنک آلات کی کارکردگی میں کچھ مشکلات پیش آئی تھیں، تاہم اب یہ آلات حرکت کے دوران بھی کام کر رہے ہیں۔ البتہ یوکرینی حکام کا ماننا ہے کہ 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار روسی ڈرونز کو روکنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دریں اثنا، یوکرینی بحریہ نے ایک اور اہم دعویٰ کیا ہے کہ روس کے وورونژ ریجن میں واقع بوریسوگلیبسک ایئر فیلڈ پر ایک رات کے حملے کے دوران روس کے چھ ایس یو 34 ایم فوجی طیارے تباہ کر دیے گئے ہیں۔ بحریہ کے مطابق اس کارروائی میں نیپچون ساحلی میزائل نظام کا استعمال کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/915/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>روس اور یوکرین توانائی جنگ بندی پر متفق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/181/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/181/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 15:18:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تروتھ_سوشل]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ_بندی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[روسی_آئل_ریفائنری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کیف]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/181/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان توانائی سے متعلق جنگ بندی فوری طور پر نافذ ہو رہی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں اہم اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ روس اور یوکرین توانائی سے متعلق جنگ بندی پر رضا مند ہوگئے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک حالیہ پوسٹ کے ذریعے تفصیلات شیئر کی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان توانائی کی تنصیبات اور شعبے سے جڑی جنگ بندی کا نفاذ کیا جا رہا ہے جو فوری طور پر لاگو ہوگی۔ امریکی صدر نے دونوں ممالک کو ہدایت کی کہ وہ اس معاہدے کی پاسداری کریں اور اس کی خلاف ورزی سے گریز کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر کے اس اہم بیان کے بعد روس اور یوکرین کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تردید یا تائید سامنے نہیں آئی تھی۔ اس پیشرفت کو بین الاقوامی سطح پر انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے توانائی کی سپلائی پر پڑنے والے اثرات کم ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گزشتہ روز امریکی صدر نے یوکرین میں سیاسی قیادت کی تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا جس پر روس کی جانب سے بھی مثبت ردعمل سامنے آیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی آئل ریفائنریز پر ہونے والے حملوں کے تناظر میں یوکرینی صدر پر کھل کر تنقید کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ تیل کی تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں عالمی منڈی میں ڈیزل کی فراہمی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حملوں سے امریکی کسانوں اور مویشی پالنے والے افراد کو بھی مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر نے اپنے بیان میں یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ یوکرینی قیادت نے تنازع کے پرامن حل اور جنگ کے خاتمے کے مواقع کو بارہا مسترد کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کی میز پر آنے کے کئی مواقع موجود تھے لیکن انہیں دانستہ طور پر ٹھکرایا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈونلڈ ٹرمپ نے مشورہ دیا تھا کہ یوکرین کو اب ایک ایسے نئے صدر کا انتخاب کرنا چاہیے جو روس کے ساتھ باضابطہ معاہدہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کو ایک ایسا نیا لیڈر درکار ہے جو اس طویل اور تباہ کن جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ معاہدہ کر سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر کے اس بیان کے فوراً بعد روسی حکام کی طرف سے ردعمل ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مطالبے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ روسی حکام کا کہنا تھا کہ یوکرینی صدر کی رخصتی کے حوالے سے امریکی مطالبہ ایک انتہائی اہم اور تاریخی نوعیت کا بیان ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی سیاسی مبصرین اس تمام صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ توانائی جنگ بندی کا یہ معاہدہ زمینی حقائق پر کتنا اثرانداز ہوتا ہے۔ توانائی کے شعبے میں اس عارضی یا جزوی سیز فائر سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے استحکام میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع کے باعث پچھلے کئی سالوں سے دنیا بھر میں توانائی کے بحران اور مہنگائی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس نوعیت کی جنگ بندی اگر طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے تو اس سے عام شہریوں اور معیشت کو بڑا ریلیف مل سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر جاری کشمکش اور اب اس توانائی جنگ بندی کے نفاذ کے بعد آئندہ کے چند روز انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔ دنیا بھر کی نگاہیں اب ماسکو، کیف اور واشنگٹن کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں تاکہ آئندہ کی حکمت عملی کا تعین ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واشنگٹن میں ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشمکش اپنے عروج پر ہے۔ توانائی کے شعبے کو محفوظ بنانے کے لیے اٹھائے گئے اس اقدام کو بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس اور یوکرین کے مابین اس مبینہ سمجھوتے کے تحت دونوں فریقین ایک دوسرے کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کریں گے۔ اس سے قبل اس نوعیت کے حملے دونوں ممالک کی معیشتوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہے تھے جن پر اب قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/181/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
