<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.38.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>روزگار_کے_مواقع &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b1%d9%88%d8%b2%da%af%d8%a7%d8%b1_%da%a9%db%92_%d9%85%d9%88%d8%a7%d9%82%d8%b9/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:09 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>روزگار_کے_مواقع &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>سندھ پبلک سروس کمیشن میں اصلاحات، عمر کی حد اور مواقع بڑھا دیے گئے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/1586/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/1586/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 12:17:14 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات_میں_تبدیلی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزگار_کے_مواقع]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سرکاری_نوکریاں]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_پبلک_سروس_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%d9%be%d8%a8%d9%84%da%a9-%d8%b3%d8%b1%d9%88%d8%b3-%da%a9%d9%85%db%8c%d8%b4%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b5%d9%84%d8%a7%d8%ad%d8%a7%d8%aa-%d8%b9%d9%85%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[سندھ کابینہ نے کمیشن کے تحت امتحان کی عمر کی حد 33 سال اور مواقع 5 کرنے کی منظوری دے دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سندھ حکومت نے صوبے کے نوجوانوں کو روزگار کے مزید مواقع فراہم کرنے اور پبلک سروس کمیشن کے نظام کو مزید شفاف اور بہتر بنانے کے لیے اہم نوعیت کے اصلاحاتی فیصلوں کی منظوری دی ہے جس سے امیدواروں کو بڑی سہولت ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کراچی میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں صوبائی کابینہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کے انتظامی اور تعلیمی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے دوران صوبائی کابینہ نے سندھ پبلک سروس کمیشن میں جامع اصلاحات کی منظوری دی جن کا مقصد نوجوانوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانا اور امتحانی عمل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان سندھ حکومت کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مشترکہ مسابقتی امتحان یعنی سی سی ای کے لیے عمر کی بالائی حد کو تیس سال سے بڑھا کر تینتیس سال کر دیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمر کی حد میں اس اضافے سے ان تمام امیدواروں کو امتحان میں شرکت کا موقع مل سکے گا جو مقررہ عمر کی وجہ سے پہلے اس عمل سے باہر ہو جاتے تھے اور اس فیصلے کو طلبہ کی طرف سے سراہا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمر کی حد کے علاوہ صوبائی کابینہ نے سی سی ای امتحان میں شرکت کے مواقع کی تعداد کو بھی تین سے بڑھا کر پانچ کرنے کی منظوری دی ہے جس سے امیدواروں کو تیاری اور کامیابی کے لیے مزید مواقع میسر آئیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امتحان میں شرکت کے مواقع بڑھنے سے نوجوانوں میں مقابلے کا رجحان مزید بہتر ہوگا اور وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر سکیں گے جبکہ انہیں ناکامی کی صورت میں دوبارہ کوشش کرنے کا موقع بھی ملے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں امتحان کے معیار اور پاسنگ مارکس کے حوالے سے بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ امیدوار کامیاب ہو کر سرکاری خدمات کا حصہ بن سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان نے بتایا کہ کابینہ نے مشترکہ مسابقتی امتحان دو ہزار چھبیس کے لیے کامیابی کا کم از کم معیار چالیس فیصد سے کم کر کے تینتیس فیصد کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس فیصلے کا بنیادی مقصد صوبے کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے طلبہ کو مساوی مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بھی سول سروس میں آ کر اپنی خدمات انجام دے سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معیار میں اس نرمی سے میرٹ اور مسابقت کا عمل متاثر کیے بغیر امیدواروں کے لیے کامیابی کے امکانات میں اضافہ ہوگا اور سرکاری محکموں میں خالی اسامیاں بروقت پر کی جا سکیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سندھ کابینہ نے امتحان کے طریقہ کار کو جدید بنانے کے لیے بھی ایک اہم قدم اٹھایا ہے جس کے تحت اب ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلے کے مطابق ایک پرچے پر مشتمل امتحانات کے لیے کمپیوٹرائزڈ ٹیسٹنگ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے امتحانی نتائج میں شفافیت اور تیزی آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپیوٹرائزڈ نظام کے نفاذ سے کاپی کلچر اور انسانی مداخلت کا عنصر کم ہوگا اور قابلیت کی بنیاد پر شفاف انداز میں امیدواروں کا انتخاب ممکن ہو سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت سندھ کا یہ اقدام صوبے میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے دروازے کھولنے اور سرکاری محکموں میں میرٹ کی بالادستی قائم کرنے کی سمت میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امید کی جا رہی ہے کہ ان اصلاحات کے نفاذ سے سندھ پبلک سروس کمیشن کے تحت ہونے والے امتحانات کا معیار مزید بلند ہوگا اور صوبے کو بہترین افسران مل سکیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/1586/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان کی اسی فیصد کم آمدن والی آبادی دیہی علاقوں کی مکین ہے، عالمی بینک</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1272/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1272/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 12:57:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[خوراک_کے_اخراجات]]></category>
		<category><![CDATA[دیہی_علاقے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزگار_کے_مواقع]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d9%81%db%8c%d8%b5%d8%af-%da%a9%d9%85-%d8%a7-%d9%85%d8%af%d9%86-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق ملک کے متوسط اور غریب طبقات اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">عالمی بینک نے پاکستان میں غربت اور معاشی صورتحال سے متعلق اپنی ایک نئی رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کی کم آمدن والی اسی فیصد آبادی کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دیہی علاقوں میں مقیم اس کم آمدن والی آبادی کو روزمرہ زندگی میں مختلف سماجی اور معاشی خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان علاقوں میں بنیادی سہولیات اور وسائل کی کمی غربت کے خاتمے کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان خوراک پر ہونے والے اخراجات میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ ملک کا متمول اور امیر طبقہ اپنی کل آمدنی کا تقریباً بیس سے تیس فیصد حصہ خوراک پر خرچ کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے برعکس، متوسط اور غریب طبقات کی ایک بہت بڑی تعداد اپنی مجموعی آمدن کا ستر سے اسی فیصد حصہ صرف خوراک کی بنیادی ضروریات کی تکمیل پر خرچ کرنے پر مجبور ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے یہ کم آمدنی والے طبقات سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ مہنگائی کی لہر غریب خاندانوں کے لیے غذائی تحفظ کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی بینک کی اس رپورٹ کے مطابق اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے دوران مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے خطے میں غربت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم دو ہزار انیس کے بعد یہ مثبت پیش رفت رک گئی اور کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے نتیجے میں خطے میں غربت کی شرح میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ دو ہزار چوبیس کے دوران اس خطے کی چودہ اعشاریہ تین فیصد آبادی یومیہ تین ڈالر سے کم آمدنی پر گزارا کر رہی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی سطح پر یومیہ تین ڈالر سے کم آمدنی والی آبادی کی شرح دس اعشاریہ چار فیصد ہے، جو خطے کی صورتحال کو زیادہ تشویشناک بناتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے ممالک میں چھبیس اعشاریہ نو فیصد آبادی کی یومیہ آمدنی چار اعشاریہ بیس ڈالر ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دنیا بھر میں چار اعشاریہ بیس ڈالر یومیہ آمدنی والی آبادی کی اوسط شرح اٹھارہ اعشاریہ نو فیصد ہے، جو خطے کے اعداد و شمار سے نمایاں طور پر کم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی بینک کی جانب سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ غربت کی شرح سے جڑے یہ منفی معاشی رجحانات دو ہزار چھبیس تک برقرار رہ سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی ماہرین کے مطابق ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور زرعی شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ملک میں غربت کی شرح میں کمی لانے اور عوام کے وسائلِ آمدن کے فروغ کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کا مقصد ان اقدامات کے ذریعے معاشرے کے پسماندہ اور کم آمدنی والے طبقات کی مالی حالت بہتر بنانا اور ان کی آمدنی میں اِضافہ کو یقینی بنانا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1272/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بینکوں کے ڈیپازٹس کو ملکی معاشی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے، گوہر اعجاز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1080/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1080/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 11:36:39 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[برآمدات]]></category>
		<category><![CDATA[بینک_ڈیپازٹس]]></category>
		<category><![CDATA[بے_روزگاری_کا_خاتمہ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[تجارتی_سرگرمیاں]]></category>
		<category><![CDATA[تجارتی_قرضے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزگار_کے_مواقع]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a8%db%8c%d9%86%da%a9%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%da%88%db%8c%d9%be%d8%a7%d8%b2%d9%b9%d8%b3-%da%a9%d9%88-%d9%85%d9%84%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b4%db%8c-%d8%aa%d8%b1%d9%82%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[سابق نگران وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے مطالبہ کیا ہے کہ کمرشل بینکوں کے ڈیپازٹس کو کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے لگایا جائے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سابق نگران وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے ملکی معیشت کی بہتری اور صنعتی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے حوالے سے ایک اہم تجویز پیش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود رقوم اور ڈیپازٹس میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ معاشی صورتحال کے تناظر میں یہ ضروری ہو چکا ہے کہ بینکوں میں جمع ہونے والے ان فنڈز کو صرف حکومت کو قرضے فراہم کرنے تک محدود نہ رکھا جائے۔ ان کا موثر استعمال ملکی معیشت کی ترقی اور پیداواری شعبے کی بحالی کے لیے کیا جانا ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی ماہرین اور کاروباری حلقوں کی جانب سے بھی اس نوعیت کے خیالات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ سرمائے کی دستیابی سے کاروباری عمل میں تیزی آتی ہے۔ گوہر اعجاز نے اس بات پر زور دیا کہ صنعتی عمل کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حالیہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران بینکوں کے کل ڈیپازٹس میں کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ امر ظاہر کرتا ہے کہ ملک میں مالیاتی وسائل کی کمی نہیں ہے بلکہ ان وسائل کی درست سمت میں تقسیم اور استعمال کا معاملہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرکاری ریکارڈ اور مالیاتی رپورٹس کے مطابق ستمبر 2026 کے اختتام تک ملک کے تمام کمرشل بینکوں کے مجموعی ڈیپازٹس کی مالیت چالیس اعشاریہ تراسی ٹریلین روپے تک پہنچ چکی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا سرمائے کا حجم ہے جو معیشت کو سہارا دے سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے برعکس اگر چار سال قبل کا جائزہ لیا جائے تو ستمبر 2022 کے دوران کمرشل بینکوں کے کل ڈیپازٹس اکیس ٹریلین روپے کے قریب ریکارڈ کیے گئے تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ محض چار برس کے مختصر عرصے میں یہ حجم دگنا ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق نگران وزیر کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں فنڈز جمع ہونے کے باوجود اگر یہ صنعتی ترقی اور تجارتی سرگرمیوں میں استعمال نہ ہوں تو معاشی استحکام کا ہدف حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ صنعتوں کو نقد سرمائے کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کاروباری طبقے کو درپیش مالی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کی وکالت کی کہ تاجروں اور صنعت کاروں کو بینکوں میں پڑے ان ڈیپازٹس تک آسان اور سازگار شرائط پر رسائی دی جائے۔ اس سے نجی شعبہ زیادہ فعال ہو سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جب نجی شعبے کو آسان اقساط یا بہتر شرائط پر قرضے ملیں گے تو ملک میں نئی صنعتیں لگیں گی اور پرانی صنعتوں کی پیداواری صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس عمل سے مجموعی قومی پیداوار میں بہتری آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صنعتی اور کاروباری سرگرمیوں کے اس طرح بڑھنے سے ملک کے اندر روزگار کے نئے اور وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔ بے روزگاری کے خاتمے اور نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لیے صنعتی پہیے کا تیز چلنا انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی سرگرمیوں میں تیزی آنے سے ملکی برآمدات میں بھی اضافہ متوقع ہوتا ہے جو ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس سے ملکی کرنسی کی قدر کو بھی استحکام ملتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گوہر اعجاز کے مطابق معیشت کا پہیہ رواں دواں ہونے سے ملکی قرضوں کے بوجھ میں بتدریج کمی واقع ہو سکتی ہے۔ جب ملکی آمدنی بڑھے گی تو بیرونی اور اندرونی قرضوں کی ادائیگی میں آسانی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ حکومت کو بلند شرح سود پر جو بھاری ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں، ان میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ شرح سود کم ہونے سے ملکی خزانے پر پڑنے والا بوجھ ہلکا ہو گا اور فنڈز ترقیاتی کاموں میں لگیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بینکنگ سیکرٹر کو بھی چاہیے کہ وہ نجی شعبے بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے قرضوں کے حصول کے عمل کو آسان بنائے۔ اس سے گراس ڈومیسٹک پروڈکٹ میں مثبت رجحان دیکھنے کو ملے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ بینکوں کے پاس اتنی بڑی مقدار میں لیکویڈیٹی موجود ہے جسے اگر حکمت عملی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو پاکستان معاشی بحرانوں سے مستقل طور پر نجات حاصل کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام متعلقہ اداروں اور پالیسی سازوں کو اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے تاکہ ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے اور عوام کے لیے خوشحالی کے نئے دروازے کھل سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1080/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آبادی میں تیز رفتار اضافہ صحت اور تعلیم کیلئے چیلنج ہے: وزیر خزانہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/426/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/426/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 11:17:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ایف_سی]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ٹی_سیکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[آبادی_میں_اضافہ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_مہارتیں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزگار_کے_مواقع]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%db%8c%d8%b2-%d8%b1%d9%81%d8%aa%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d9%81%db%81-%d8%b5%d8%ad%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عالمی بینک کے زیر اہتمام گول میز کانفرنس سے خطاب کیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک میں آبادی کا تیز رفتار اضافہ صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ عالمی بینک کے زیراہتمام منعقدہ ایک اہم گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ اجتماعی اور مربوط حکمت عملی اپنائی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محمد اورنگزیب نے اپنے خطاب کے دوران اس بات کی ضرورت پر بھی زور دیا کہ بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ رکھنے سے متعلق عوام میں آگاہی کو مزید بڑھایا جائے تاکہ خاندانی صحت کے معیارات بہتر ہو سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے حساس اور اہم موضوعات پر معاشرتی بیداری پیدا کرنے کے لیے ملک بھر کے مذہبی رہنماؤں سے رابطہ کرنا انتہائی اہم اور سودمند ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر خزانہ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کی مجموعی ترقی اور پائیدار خوشحالی کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ خواتین کو معیاری تعلیم فراہم کی جائے اور معاشی سرگرمیوں بالخصوص روزگار کے حصول میں ان کی شمولیت میں اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان کی سربراہی میں قومی آبادی کونسل کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے جو ان تمام امور پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ بڑھتی ہوئی آبادی، صحت عامہ، بہتر تعلیم اور روزگار کے مواقع کی فراہمی جیسے بنیادی امور سے کامیابی کے ساتھ نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کو باہم مل کر مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔ ان کا ماننا تھا کہ ملک میں موجودہ افرادی قوت سے معاشی فائدہ اٹھانے کے لیے ہنرمند نسل تیار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر خزانہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نجی شعبے کی قیادت میں ملکی سطح پر روزگار کے نئے اور بہترین مواقع پیدا کیے جائیں گے تاکہ بے روزگاری کے خاتمے میں مدد مل سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ فری لانسنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی خدمات نوجوان طبقے کی آمدنی میں اضافے کے لیے انتہائی اہم اور سنہری مواقع فراہم کرتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ جدید تکنیکی مہارتوں کے ذریعے پاکستان کی مجموعی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آبادی میں اضافے کے اس سنگین چیلنج سے کامیابی سے نبردآزما ہونے کے لیے مسلسل حکومتی توجہ اور درست اعدادو شمار پر مبنی نتائج کا حصول بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی بینک کے زیر اہتمام ہونے والی اس گول میز کانفرنس میں ملکی معیشت کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ کانفرنس کے دوران ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کو اپنے معاشی اہداف حاصل کرنے کے لیے افرادی قوت کی بہتر تربیت کرنا ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر خزانہ نے کانفرنس کے شرکاء کو بتایا کہ حکومت پاکستان تمام معاشی اشاریوں کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پائیدار ترقی کے حصول کے لیے اصلاحاتی عمل کو مزید تیز کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقاتوں کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے مشرق وسطی اور وسطی ایشیا کے علاقائی نائب صدر سے ایک اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران نجی شعبے کی بھرپور قیادت میں معاشی ترقی کے حصول اور روزگار کے مواقع کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے آبادی کے کنٹرول اور معاشی بہتری کے لیے اٹھائے جانے والے ان اقدامات کا مقصد ملک کے وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال میں لانا ہے۔ معاشی ماہرین کا بھی یہی ماننا ہے کہ نوجوان آبادی کو ہنر مند بنا کر پاکستان آنے والے برسوں میں معاشی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی ایف سی کے حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ ملک میں صنعتی عمل تیز ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں وزیر خزانہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ ڈیجیٹل معیشت کا فروغ اور نوجوانوں کی تربیت موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے تاکہ ملکی برآمدات کو بڑھایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/426/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
