<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>رحمان_بابا_ایکسپریس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86_%d8%a8%d8%a7%d8%a8%d8%a7_%d8%a7%db%8c%da%a9%d8%b3%d9%be%d8%b1%db%8c%d8%b3/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:05 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>رحمان_بابا_ایکسپریس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>ملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس حادثہ: ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/517/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/517/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 02:37:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ابتدائی_رپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[امدادی_کارروائیاں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_ریلوے]]></category>
		<category><![CDATA[ٹرین]]></category>
		<category><![CDATA[ٹرین_حادثہ]]></category>
		<category><![CDATA[حادثہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رحمان_بابا_ایکسپریس]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریلوے_انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%82%d8%b1%db%8c%d8%a8-%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86-%d8%a8%d8%a7%d8%a8%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9%d8%b3%d9%be%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%ad%d8%a7%d8%af%d8%ab/</guid>

					<description><![CDATA[کراچی سے پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس کے حادثے کی وجہ ٹرین کی کوچ کا پرزہ کراسنگ میں پھنسنا قرار دیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملتان کے قریب پیش آنے والے رحمان بابا ایکسپریس ٹرین حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی ہے جس میں حادثے کی وجوہات اور تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ اس افسوسناک واقعے میں ڈیڑھ سالہ بچی سمیت 6 مسافر جاں بحق جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ ریلوے کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق حادثے کی بنیادی وجہ ٹرین کی دوسری کوچ کا ایک پرزہ تھا جو ٹریک کے دوران لٹک رہا تھا۔ یہ پرزہ کراسنگ بلاک سے ٹکرایا جس کے نتیجے میں ٹرین کی بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کوچ نمبر 12430-6 کی فرنٹ ٹرالی کا ٹریس بار ہینگر کراسنگ کی نوز میں پھنس گیا تھا۔ اس رکاوٹ کے باعث پہلے ایک ڈبہ ڈی ریل ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے رحمان بابا ایکسپریس کی مزید 13 کوچز بھی پٹری سے اتر گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے وقت ٹرین کا انجن اور لگیج وین کراسنگ سے بحفاظت گزر چکے تھے، تاہم پچھلے حصے میں موجود کوچز اس تکنیکی خرابی کی زد میں آ گئیں۔ ٹرین اس وقت تقریباً 672 ٹن وزنی لوڈ کے ساتھ اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقاتی ٹیم کو حادثے کے مقام سے ٹریس بار ہینگر کا باقی ماندہ حصہ بھی مل گیا ہے، جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ٹرین کے پرزے کراسنگ میں پھنسے تھے۔ رپورٹ کے مطابق کراسنگ کے مقام پر دیگر پرزے بھی پھنسے ہوئے پائے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس حادثے کے نتیجے میں اپ اور ڈاؤن دونوں ٹریکس شدید متاثر ہوئے جس سے ریلوے کا نظام معطل ہو کر رہ گیا۔ حادثے کے فوراً بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی تھیں اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رحمان بابا ایکسپریس کراچی سے پشاور جانے والی ایک اہم ٹرین ہے جو روزانہ کی بنیاد پر بڑی تعداد میں مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچاتی ہے۔ اس حادثے کے بعد ریلوے حکام نے ٹریک کی بحالی اور واقعے کی مزید گہرائی سے جانچ پڑتال کا عمل شروع کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے میں جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جن کی اموات نے علاقے میں سوگ کی فضا پیدا کر دی ہے۔ زخمیوں میں سے کئی افراد کو طبی امداد کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر کا علاج جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ ریلوے کے اعلیٰ حکام نے حادثے کی شفاف تحقیقات کا یقین دلایا ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔ ابتدائی رپورٹ میں سامنے آنے والے حقائق کی روشنی میں تکنیکی ٹیمیں ٹریک کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان ریلوے کی جانب سے مسافروں کی حفاظت کے لیے حفاظتی معیارات پر نظر ثانی کی جا رہی ہے۔ حادثے کے بعد ٹرینوں کی بروقت مینٹیننس اور ٹریک کی جانچ پڑتال کے عمل کو مزید سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں نے حادثے کے مقام پر بروقت پہنچ کر امدادی کاموں میں حصہ لیا۔ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ایمبولینسز کا استعمال کیا گیا جبکہ مقامی لوگوں نے بھی اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیوں میں تعاون کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر ریلوے اور متعلقہ حکام نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/517/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ملتان ٹرین حادثہ: ڈاؤن ٹریک کلیئر، ٹرینوں کی آمد و رفت بحال</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/481/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/481/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 22:37:44 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_ریلوے]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ٹریفک_بحالی]]></category>
		<category><![CDATA[ٹرین_سروس]]></category>
		<category><![CDATA[خالد_خان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاؤن_ٹریک]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاؤن_ٹریک_بحال]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رحمان_بابا_ایکسپریس]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%b9%d8%b1%db%8c%d9%86-%d8%ad%d8%a7%d8%af%d8%ab%db%81-%da%88%d8%a7%d8%a4%d9%86-%d9%b9%d8%b1%db%8c%da%a9-%da%a9%d9%84%db%8c%d8%a6%d8%b1%d8%8c-%d9%b9%d8%b1%db%8c%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[ڈی ایس ریلوے ملتان ڈویژن کے مطابق حادثے کا شکار رحمان بابا ٹرین کی بوگیاں ہٹانے کے بعد ڈاؤن ٹریک کو بحال کر دیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملتان کے علاقے میں پیش آنے والے ریلوے حادثے کے بعد پاکستان ریلوے کی انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے ڈاؤن ٹریک کو ٹرینوں کی آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر بحال کر دیا ہے تاکہ مسافروں کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی ایس ریلوے ملتان ڈویژن خالد خان نے اس حوالے سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاؤن ٹریک پر موجود رحمان بابا ٹرین کی تمام بوگیوں کو کامیابی کے ساتھ ہٹا دیا گیا ہے جس کے بعد ٹریک کو کلیئر کر دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کی جانب سے ٹریک کی مکمل صفائی اور انسپکشن کے بعد ٹرینوں کی روایتی آمد و رفت کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے جس سے مسافروں اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو بڑی حد تک ریلیف ملا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی ایس ریلوے خالد خان نے مزید بتایا کہ اس ناخوشگوار حادثے کے نتیجے میں اپ ٹریک بھی جزوی طور پر متاثر ہوا تھا جس کی مرمت کا کام فی الحال تیزی کے ساتھ جاری رکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریلوے کا فنی اور تکنیکی عملہ متاثرہ اپ ٹریک کو جلد از جلد فعال بنانے کے لیے میدان میں موجود ہے اور دن رات محنت کر کے مرمت کے کام کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ جب تک اپ ٹریک کی مرمت کا کام مکمل نہیں ہو جاتا اور اسے ہر لحاظ سے محفوظ قرار نہیں دیا جاتا، ٹرینوں کا نظام متبادل طریقے سے چلایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کے مطابق اپ ٹریک کی مکمل بحالی تک ملتان سے گزرنے والی تمام اپ اور ڈاؤن ٹرینوں کی آمد و رفت اسی بحال شدہ ڈاؤن ٹریک کے ذریعے ہی جاری رکھی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریلوے کے اعلیٰ افسران موقع پر پہنچ گئے تھے اور امدادی کارروائیوں کی خود نگرانی کی تھی تاکہ ٹریک کو کم سے کم وقت میں دوبارہ قابل استعمال بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مسافر ٹرینوں کے شیڈول کو معمول پر لانے کے لیے ریلوے کنٹرول روم سے مسلسل ہدایات جاری کی جا رہی ہیں اور عملہ ٹرینوں کی بروقت روانگی کے لیے کوشاں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان ریلوے کے ترجمان کے مطابق ملک بھر میں مسافروں کو محفوظ ترین سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے انفراسٹرکچر کی بہتری اور دیکھ بھال کا عمل باقاعدگی سے جاری رکھا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماضی میں بھی اس قسم کے حادثات کے بعد ریلوے انتظامیہ کی جانب سے فوری طور پر ٹریک کی بحالی کے لیے جدید آلات اور مشینری کا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملتان ڈویژن کے متعلقہ حکام نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ ریلوے نیٹ ورک کو مزید محفوظ بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی آئندہ حادثے سے بچا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/481/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
