<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.4.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>راہول_گاندھی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b1%d8%a7%db%81%d9%88%d9%84_%da%af%d8%a7%d9%86%d8%af%da%be%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 11 Oct 2026 00:56:42 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>راہول_گاندھی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>نئی دہلی میں احتجاج پر پابندی، راہول گاندھی کی حمایت، سینکڑوں افراد زیر حراست</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/59/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/59/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 00:56:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[الیکشن_کمشنر]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[دھروو_راٹھی]]></category>
		<category><![CDATA[دہلی_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[راہول_گاندھی]]></category>
		<category><![CDATA[سکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[سونم_وانگچک]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کاکروچ_جنتا_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[مشرق_وسطیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[نئی_دہلی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/59/</guid>

					<description><![CDATA[بھارتی دارالحکومت میں الیکشن کمشنر کے خلاف مظاہرے روکنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات، میٹرو اور ٹرین سروسز معطل کر دی گئیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ نے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کر لیے ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے جنتر منتر پر احتجاج کی کال دی گئی تھی، جسے پولیس نے اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">احتجاج کو روکنے کے لیے دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کے 30 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ شہر کے داخلی راستوں پر ناکہ بندی کر دی گئی ہے جبکہ میٹرو سروس اور کئی ٹرینوں کی آمدورفت بھی معطل رکھی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس صورتحال کے دوران پولیس نے اب تک ایک ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا ہے۔ حراست میں لیے جانے والوں میں طلبہ رہنما، وکلا اور صحافی بھی شامل ہیں۔ پولیس کا موقف ہے کہ منتظمین نے اجازت کے لیے مقررہ وقت پر درخواست نہیں دی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں احتجاج کرنے والے نوجوانوں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جتنی چاہے طاقت استعمال کر لے، اپوزیشن پیچھے نہیں ہٹے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماجی کارکن سونم وانگچک نے بھی مظاہرین کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے حکومت کو تنبیہ کی ہے کہ اگر 24 گھنٹوں کے اندر گرفتار افراد کو رہا نہ کیا گیا تو وہ پرامن احتجاج یا بھوک ہڑتال شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقبول یوٹیوبر دھروو راٹھی کو بھی گروگرام سے حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ دھروو راٹھی نے اپنی گرفتاری سے قبل ایک ویڈیو میں دہلی میں کیے گئے لاک ڈاؤن اور میٹرو اسٹیشنز کی بندش پر کڑی تنقید کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کاکروچ جنتا پارٹی نے دہلی پولیس کی کارروائیوں کو آمرانہ قرار دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی اور پرامن مظاہرین کی گرفتاری بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق، کوریج کرنے والے صحافیوں کو بھی پولیس نے حراست میں لیا اور ان کے موبائل فون قبضے میں لے لیے۔ تاہم، کچھ صحافیوں کو بعد ازاں رہا بھی کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما نتن نوین نے اس احتجاج کو ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ عناصر ملک کے امن و امان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے بھی حکومت کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے ذریعے عوامی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دہلی کے مختلف علاقوں سے کشیدگی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تاہم پولیس نے تاحال کسی بڑے تصادم یا تشدد کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔ حکام نے عوام سے نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیال رہے کہ یہ احتجاج الیکشن کمشنر کے خلاف کیا جا رہا ہے جس کے لیے منتظمین نے جنتر منتر کا انتخاب کیا تھا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صورتحال تاحال کشیدہ ہے اور دہلی پولیس کی جانب سے شہر بھر میں گشت بڑھا دی گئی ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ان کے ساتھیوں کو فوری رہا کیا جائے اور انہیں پرامن احتجاج کی اجازت دی جائے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/59/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>فرانس، بھارت اور پاکستان میں عوامی مظاہرے، جمہوریت اور شہری حقوق پر بحث چھڑ گئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/57/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/57/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 00:37:31 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[الیکشن_کمیشن_بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابی_شفافیت]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوری_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[راہول_گاندھی]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فرانس_احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[فرانس_طلبہ]]></category>
		<category><![CDATA[گیانیش_کمار]]></category>
		<category><![CDATA[لانگ_مارچ]]></category>
		<category><![CDATA[ووٹر_لسٹ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/57/</guid>

					<description><![CDATA[مختلف ممالک میں تعلیمی مسائل، انتخابی فہرستوں میں ترمیمی عمل اور سیاسی مطالبات پر جاری احتجاج نے ریاست اور شہریوں کے تعلق پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">دنیا کے مختلف ممالک میں بنیادی حقوق، تعلیمی اصلاحات اور انتخابی شفافیت کے لیے عوام اور اپوزیشن جماعتوں کے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، جن کے باعث ریاستی ترجیحات اور جمہوریت کے بنیادی اصولوں پر عالمی سطح پر اہم بحث چھڑ گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانس میں گزشتہ چند ہفتوں سے ہائی اسکول کے طلبہ اپنے تعلیمی مستقبل اور اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے سڑکوں پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اسکولوں کی عمارتیں خستہ حال ہیں اور کلاس رومز میں اساتذہ کی شدید کمی کا سامنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانس میں جاری طلبہ کے اس احتجاج نے چھ اکتوبر کو اس وقت شدید پرتشدد نوعیت اختیار کر لی جب پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں کے دوران پولیس کے اسٹن گرینیڈ کا نشانہ بن کر ایک پندرہ سالہ طالب علم کا ہاتھ شدید زخمی ہو گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس افسوسناک واقعے کے بعد فرانسیسی حکومت نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے اسٹن گرینیڈز کے استعمال کو تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ حکومت نے اس کے ساتھ طلبہ کے مطالبات اور خدشات کو تسلیم کرنے کا اشارہ بھی دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانس میں طلبہ کے اس احتجاج نے تعلیمی نظام میں موجود طبقاتی عدم مساوات کو بھی واضح کر دیا ہے۔ ایک طرف بہترین سہولتوں سے آراستہ تعلیمی ادارے موجود ہیں تو دوسری طرف سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں اور اساتذہ کے انتظار میں بچوں کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب بھارت میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی یعنی اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے عمل کے خلاف اپوزیشن جماعتوں اور مختلف شہری گروہوں کا احتجاج جاری ہے، جس نے ملک کے سیاسی منظر نامے میں ایک نئی اور شدید کشمکش کو جنم دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی اپوزیشن اور مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہوں اور انتخابی فہرستوں میں نظرثانی کے اس عمل کو روکا جائے، تاکہ مبینہ طور پر فہرستوں سے خارج کیے گئے اہل ووٹرز کے نام دوبارہ بحال ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس احتجاجی تحریک کے دوران سات اکتوبر کو بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی سمیت متعدد اہم سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو مظاہرے کے دوران پولیس نے حراست میں لے لیا تھا، جس کے بعد اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تناؤ مزید بڑھ گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارت کے الیکشن کمیشن نے اپوزیشن کے تمام الزامات کو رد کرتے ہوئے اپنا موقف بیان کیا ہے کہ انتخابی فہرستوں میں نظرثانی کا بنیادی مقصد ووٹر لسٹوں کو درست اور شفاف بنانا ہے، اور تمام اہل شہریوں کو اپنی اہلیت ثابت کرنے کا پورا موقع دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">الیکشن کمیشن کی اس وضاحت کے باوجود جمہوری حلقوں کی جانب سے انتخابی عمل کی شفافیت اور ووٹر لسٹوں کی درستگی کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، کیونکہ ہر جمہوری نظام میں ووٹرز کے اعتماد کی بحالی ہی انتخابات کی شفافیت کی اصل ضامن ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں بھی اس وقت سیاسی احتجاجی ماحول قائم ہے جہاں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مختلف مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاجی مظاہرے اور لانگ مارچ کی تیاریوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے بھی اپنا سخت موقف برقرار رکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ ریاست کو کسی بھی سیاسی دباؤ کے ذریعے یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جبکہ دوسری جانب احتجاج کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ پرامن سیاسی احتجاج ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے جسے دبایا نہیں جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی اور قانون دان ماہرین کا ماننا ہے کہ جمہوریت میں حکومت کو احتجاج سے اختلاف کا پورا حق حاصل ہے، لیکن ساتھ ہی شہریوں اور سیاسی کارکنوں کے پرامن احتجاج کے حق کا احترام بھی ضروری ہے، بشرطیکہ قانون شکنی اور عمومی املاک کی توڑ پھوڑ نہ کی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق ایک طاقتور اور جدید جمہوری ریاست کا وقار صرف بلند و بالا عمارتوں اور پولیس فورس کی طاقت سے قائم نہیں ہوتا، بلکہ اس کا اصل حسن اس کے اسکولوں، اسپتالوں، عدالتوں اور عام شہریوں کو ملنے والے بنیادی حقوق اور انصاف کی فراہمی میں نظر آتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/57/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
