<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>رانا_ثنا_اللہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%a7_%d8%ab%d9%86%d8%a7_%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 19:26:31 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>رانا_ثنا_اللہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>فیول ریلیف اسکیم کا دائرہ کار وسیع کرنے پر غور، مستفید افراد کی تعداد دو کروڑ تک بڑھانے کا امکان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/3221/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/3221/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 30 Oct 2026 13:14:06 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آٹوموبائل]]></category>
		<category><![CDATA[بزنس_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول_کی_قیمتیں]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رانا_ثنا_اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_ریلیف]]></category>
		<category><![CDATA[فیول_ریلیف_اسکیم]]></category>
		<category><![CDATA[معیشت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/fuel-relief-scheme-expansion-under-consideration-for-citizens/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی حکومت کی جانب سے فیول ریلیف اسکیم کو وسعت دینے کی تجویز زیر غور ہے جس سے لاکھوں مزید شہریوں کو مالی ریلیف مل سکے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی حکومت کی جانب سے عوام کو پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے مزید ریلیف فراہم کرنے کے لیے فیول ریلیف اسکیم کا دائرہ کار وسیع کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ اس مجوزہ توسیع کا بنیادی مقصد ملک بھر میں سفری اخراجات کے بوجھ تلے دبے عام شہریوں کی مالی مشکلات کو کم کرنا اور زیادہ سے زیادہ افراد کو اس سہولت کے دائرے میں لانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ حکومتی منصوبے کے تحت فیول ریلیف اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے شہریوں کی تعداد جو فی الحال ایک کروڑ ستائیس لاکھ کے لگ بھگ ہے، اسے بڑھا کر دو کروڑ تک کرنے کی تجاویز پر غور جاری ہے۔ اس ممکنہ اضافے سے لاکھوں ایسے نئے افراد اس ریلیف سے مستفید ہو سکیں گے جو اس وقت مہنگائی کے دور میں سفری لاگت میں اضافے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کی جانب سے اس حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں جن کے مطابق پیٹرول ریلیف پروگرام میں وسعت لانے کی تجویز اس وقت حکومتی سطح پر زیر غور ہے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح کیا ہے کہ اس اہم معاملے پر ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ صادر نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس پر عمل درآمد کی باضابطہ تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ پالیسی اور قواعد کے مطابق اس اسکیم کے تحت موٹر سائیکل چلانے والے افراد، تھری وہیلر یعنی رکشہ اور چنگچی چلانے والے صارفین کے علاوہ آٹھ سو سی سی سے کم انجن کی حامل چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو فی لیٹر ایک سو روپے تک کا پیٹرول ریلیف فراہم کیا جاتا ہے۔ حکومتیحکام ان تمام زمروں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں تاکہ عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ دور میں مہنگائی کی لہر اور ایندھن کی بلند قیمتوں نے نقل و حرکت کے اخراجات کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے، جس کا براہ راست اثر عام شہریوں اور متوسط طبقے کی روزمرہ زندگی پر پڑ رہا ہے۔ حکومت اسی مالی دباؤ کو کم کرنے کی غرض سے اس فلاحی اسکیم کے دائرے کو پھیلانے کے مختلف انتظامی اور مالیاتی پہلوؤں کا احاطہ کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر حکومت کی جانب سے مجوزہ توسیع کی منظوری دے دی جاتی ہے تو ملک بھر سے مزید لاکھوں نئے مستحق افراد اس اسکیم کا حصہ بن جائیں گے۔ اس اقدام سے موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو اپنے روزمرہ کے سفری اخراجات میں خاطر خواہ کمی دیکھنے کو ملے گی جو کہ عوامی فلاح کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم حکومتی ذرائع اور متعلقہ حلقوں کے مطابق تاحال ریلیف کی رقم میں اضافے، اہلیت کے نئے معیار یا رجسٹریشن کے طریقہ کار میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سے متعلق کوئی بھی حتمی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ یہ تمام امور ابھی تجارتی اور انتظامی مشاورت کے مراحل میں ہیں اور حتمی منظوری کے بعد ہی عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جب تک وفاقی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ اور حتمی اعلان نہیں کیا جاتا، اس وقت تک فیول ریلیف اسکیم کے تمام پرانے قواعد و ضوابط اور طریقہ کار مکمل طور پر برقرار رہیں گے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صرف مستند سرکاری اعلانات پر توجہ دیں اور افواہوں سے گریز کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی معاشی ٹیم ملک کے مالیاتی وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ کس طرح بغیر کسی اضافی بوجھ کے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔ اس قسم کے اقدامات کا بنیادی مقصد معاشی اصلاحات کے دوران نچلے اور متوسط طبقے کے مفاد کا تحفظ کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں بڑھتی ہوئی ٹرانسپورٹ لاگت کے تناظر میں اس اسکیم کی توسیع کو عوامی حلقوں کی طرف سے ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عوام کی جانب سے مسلسل یہ مطالبات سامنے آتے رہے ہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے تناسب سے ریلیف پیکیج کا دائرہ بھی وسیع کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگر دائرہ کار دو کروڑ تک بڑھایا جاتا ہے تو اس کے لیے شفاف ڈیٹا اور موثر تقسیم کے نظام کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ امداد واقعی حق دار افراد تک پہنچ سکے۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات پر غور کر رہی ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسکیم کے پچھلے مراحل میں بھی نادرا اور دیگر متعلقہ اداروں کے ڈیٹا کی مدد سے مستحقین کی جانچ پڑتال کی گئی تھی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ صرف حقیقی اور مستحق شہری ہی اس مالی امداد سے فائدہ اٹھا سکیں۔ توسیع کی صورت میں بھی ایسے ہی طریقہ کار کو اپنانے کا امکان ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر فیول ریلیف اسکیم کا دائرہ کار وسیع کرنے کا یہ اقدام حکومت کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت غریب اور متوسط طبقے کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے ہدف بند امداد فراہم کی جارہی ہے۔ جیسے ہی حتمی منظوری دی جائے گی، اس کے نفاذ کا لائحہ عمل بھی جاری کر دیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/3221/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان تلخی پارلیمانی نوک جھوک ہے: رانا ثنا اللہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/3205/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/3205/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 30 Oct 2026 08:14:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پارلیمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پرویز_رشید]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ_آصف]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رانا_ثنا_اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d8%a2%d8%b5%d9%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d9%88%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b6%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ اور سینیٹر پرویز رشید نے دونوں رہنماؤں کے درمیان حالیہ بیان بازی پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی دارالحکومت میں سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماؤں نے خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ہونے والی حالیہ بیان بازی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے اس صورتحال کو معمول کی پارلیمانی نوک جھوک قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں بعض اوقات ماحول گرم ہونے پر الفاظ کا چناؤ حدود سے تجاوز کر جاتا ہے، تاہم سیاست دانوں میں اتنی لچک ہونی چاہیے کہ وہ معاملات کو بعد میں بہتر انداز میں حل کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ وہ مولانا فضل الرحمان پر خواجہ آصف کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تائید نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف اپنے خیالات کا اظہار دبنگ انداز میں کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں اور وہ کسی کی ہدایت پر بات نہیں کرتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ڈی ایم حکومت کے دوران مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کی اچھی یادیں وابستہ ہیں۔ ماضی میں بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان تلخیاں رہی ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جاتی ہیں، اس لیے ایسی باتوں کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر مستقبل میں کسی اہم آئینی ترمیم کی ضرورت پیش آئی تو حکومت مولانا فضل الرحمان سے ضرور تعاون مانگے گی۔ انہیں یقین ہے کہ جب ترمیم ملک اور قوم کے مفاد میں ہوگی تو مولانا فضل الرحمان حکومت کا ساتھ دیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ہونے والی بحث کو محض پارلیمانی نوک جھوک قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کو کسی قسم کی کشیدگی یا ٹینشن نہیں سمجھتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پرویز رشید نے کہا کہ دونوں سینئر رہنماؤں نے ایک طویل سیاسی رفاقت گزاری ہے اور ایک ہی جدوجہد میں شامل رہے ہیں۔ آج کل دونوں کی جماعتوں کے درمیان سیاسی محاذ آرائی ہے جس کے باعث کبھی کبھار آمنا سامنا ہو جاتا ہے اور ہمیں کچھ سخت جملے سننے کو ملتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حکومتی رہنماؤں کی جانب سے ان بیانات کو پارلیمانی نوک جھوک قرار دینا دراصل سیاسی ماحول کو ٹھنڈا کرنے کی ایک کوشش ہے۔ حکومت اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ماضی میں قریبی تعلقات رہے ہیں جنہیں برقرار رکھنے کی خواہش دونوں جانب سے محسوس کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا یہ موقف سامنے آنے کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا مولانا فضل الرحمان کی جانب سے اس پر کوئی ردعمل آتا ہے یا نہیں۔ سیاسی حلقوں میں اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ آیا یہ تلخی مستقبل میں کسی بڑے سیاسی اتحاد میں رکاوٹ بنے گی یا نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثنا اللہ نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ سیاست دانوں کے درمیان ہونے والی ایسی بحثوں پر ٹی وی ٹاک شوز میں غیر ضروری تبصرے کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق سیاست میں اختلافات عارضی ہوتے ہیں اور جمہوریت میں بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہنے چاہئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی ترجمانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر ہونے والی گفتگو کو ذاتی دشمنی میں نہیں بدلنا چاہیے۔ خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان دونوں ہی ملک کے تجربہ کار سیاست دان ہیں اور وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ملکی مفاد میں کب اور کیسے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر حکومتی صفوں سے آنے والے ان بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اپنے تعلقات کو خراب نہیں کرنا چاہتی۔ آئندہ دنوں میں سیاسی صورتحال میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ پارلیمانی امور کو احسن طریقے سے چلایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/3205/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پی ٹی آئی کو سیاسی عمل سے باہر نہیں کیا جا سکتا: شوکت یوسف زئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1996/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1996/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 12:57:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[بیرسٹر_گوہر]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوریت]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دشتگردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رانا_ثنا_اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%a9%d9%88-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d8%b9%d9%85%d9%84-%d8%b3%db%92-%d8%a8%d8%a7%db%81%d8%b1-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%da%a9%db%8c%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسف زئی نے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کو ملکی سیاست سے مائنس کرنے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوں گی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسف زئی نے وفاقی حکومت کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت کو سیاسی منظرنامے سے نکالنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف ملک کی ایک بڑی اور مقبول سیاسی قوت ہے جسے عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور اسے کسی بھی سازش کے ذریعے پسپا نہیں کیا جا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شوکت یوسف زئی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت پر جتنے بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں ان میں کوئی صداقت نہیں ہے اور حکمرانوں کو الزامات کی سیاست ترک کر کے زمینی حقائق کا ادراک کرنا چاہئے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر حکومت کو تحریک انصاف کی عوامی مقبولیت کے بارے میں کسی قسم کا بھی شک ہے تو وہ ملک میں فوری طور پر آزادانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد کروا لیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی رہنما نے ضلع کرک کے علاقے میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس اندمناک واقعے میں ڈی ایس پی اور ایس ایچ او سمیت پولیس کے چار بہادر جوانوں کی شہادت پر پورا خیبر پختونخوا سوگوار ہے۔ انہوں نے شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک و قوم کی خاطر جانیں قربان کرنے والے یہ سپاہی ہمارے ہیرو ہیں جن کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف دہشت گردی کے خلاف جاری قومی جنگ سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی اور نہ ہی عناصرِ بد کے ساتھ جماعت کا کوئی تعلق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری قوم اور تمام ادارے ایک ہی صف میں کھڑے ہیں اور پی ٹی آئی نے ہمیشہ ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شوکت یوسف زئی نے مزید کہا کہ وزیروں اور مشیروں کو بیانات دیتے وقت انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہئے اور غیر ذمہ دارانہ گفتگو سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ اس وقت ملک اتحاد اور یکجہتی کا متقاضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ اب بند ہونا چاہئے کیونکہ اب عوام کو عملی اقدامات اور کارکردگی کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی ترجمان نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا کو پشاور میں بیٹھ کر صرف پریس کانفرنسیں کرنے کے بجائے کرک جا کر شہدا کے جنازوں میں شرکت کرنی چاہئے تھی اور غمزدہ لواحقین کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ زبانی جمع خرچ سے اب معاملات حل نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات اور متاثرہ خاندانوں کی دل جوئی وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاق اور صوبے کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے شوکت یوسف زئی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو ماضی میں مالی مشکلات اور فنڈز کی عدم دستیابی کا سامنا رہا ہے جبکہ اب وفاقی سطح پر حالات مختلف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ کس کو کتنے وسائل میسر ہیں اور کون سی حکومت کس طرح عوامی خدمت کے فرائض سر انجام دے رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارٹی کے اندرونی امور کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے پارٹی میں کسی بھی قسم کے اختلافات کی خبروں کو یکسر مسترد کر دیا اور انہیں مخالفین کا پروپیگنڈا قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمانی پارٹی کے تمام فیصلے اتفاق رائے سے ہوتے ہیں اور ان فیصلوں کو غلط رنگ دینے کی شعوری کوشش کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شوکت یوسف زئی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف چیئرمین بیرسٹر گوہر کی قیادت میں مکمل طور پر متحد ہے اور قومی و صوبائی اسمبلی کے تمام ارکان پارٹی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی تنظیم میں کسی قسم کی ردوبدل کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور جنید اکبر بدستور صوبائی صدر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ تحریک انصاف نے ملکی دفاع اور سلامتی پر کبھی کوئی سمجھوتا نہیں کیا اور جب بھی وطن عزیز کو کسی بیرونی یا اندرونی خطرے کا سامنا ہوا، پارٹی نے ہمیشہ ریاست اور اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ انہوں نے ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ عوامی طاقت سے لیس اس جماعت کو دباؤ کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مزید برآں، شوکت یوسف زئی نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے باہمی تعاون کتنا ضروری ہے لیکن بدقسمتی سے حکمران جماعت الزامات کی سیاست میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے ہمیشہ جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد کی ہے اور آئندہ بھی آئین کے دائرے میں رہ کر اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبے کے عوام نے جن لوگوں پر اعتماد کیا ہے ان کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں اور حکومت کو صوبے کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانا چاہئے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام سیاسی قوتیں مل کر ملک کو موجودہ چیلنجز سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر آہنگ اور ہم آہنگی ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، بشرطیکہ سیاسی انتقام کی بجائے عوام کی فلاح کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پی ٹی آئی اپنے مؤقف پر قائم رہے گی اور عوامی حقوق کی جنگ ہر سطح پر لڑی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1996/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وزیر داخلہ کے بیان پر جے یو آئی کا ردعمل، اسلم غوری کی وضاحت</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1129/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1129/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 17:37:23 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اسلم_غوری]]></category>
		<category><![CDATA[الیکشن_2024]]></category>
		<category><![CDATA[جے_یو_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رانا_ثنا_اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_بیان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%af%d8%a7%d8%ae%d9%84%db%81-%da%a9%db%92-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d8%ac%db%92-%db%8c%d9%88-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ سیاسی تبصرے پر جمعیت علمائے اسلام نے اپنے ردعمل میں اسے قیاس آرائیاں قرار دے دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے گزشتہ روز لاہور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران دیے گئے بیان پر سیاسی حلقوں میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں کسی مخصوص جماعت کا نام لیے بغیر اشارہ کیا تھا کہ گورنر راج اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے مزید کہا تھا کہ یہ وہی سیاستدان ہیں جو ماضی میں دہائیوں تک اسٹیبلشمنٹ کے سہارے سیاست کرتے رہے اور اپنی جماعت کے ہوائی ٹکٹ تک وہیں سے بنواتے تھے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے سیاستدانوں کو آج دوسروں پر انگلیاں اٹھانا زیب نہیں دیتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس بیان کے بعد جمعیت علمائے اسلام کے ترجمان اسلم غوری نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ کی باتیں محض قیاس آرائیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محسن نقوی نے کسی جماعت کا نام نہیں لیا، تاہم میڈیا میں ان کی باتوں کو مولانا فضل الرحمان یا اے این پی سے جوڑا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلم غوری نے مزید کہا کہ رانا ثنا اللہ نے بھی اس معاملے پر اپنا موقف واضح کر دیا ہے اور حقائق سب کے سامنے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2024 کے انتخابات کے بعد حکومتی اتحاد کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کو حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جے یو آئی کے ترجمان نے انکشاف کیا کہ حکومت سازی کے عمل کے دوران حکومتی وفد نے مولانا فضل الرحمان کو لاہور آنے کی دعوت دی تھی، لیکن انہوں نے اپوزیشن میں رہ کر اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود اس دعوت کے وقت موجود تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلم غوری نے سوال اٹھایا کہ وزیر داخلہ کو اپنے بیان کی وضاحت کرنی چاہیے کہ ان کا اشارہ کس کی طرف تھا۔ انہوں نے کہا کہ کیا محسن نقوی چاہتے ہیں کہ جے یو آئی لانگ مارچ کا اعلان کرے، کیونکہ ایسے بیانات سے حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جے یو آئی کی جانب سے اس بیان کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سیاست میں اس طرح کی تلخیاں ملک کے لیے سودمند نہیں ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ ان کی جماعت اپنے اصولی موقف پر قائم ہے اور کسی بھی غیر مصدقہ الزام کو مسترد کرتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس طرح کے بیانات اور ان پر ردعمل کا سلسلہ نیا نہیں ہے۔ ماضی میں بھی مختلف جماعتوں کے درمیان اس طرح کی نوک جھونک ہوتی رہی ہے، جس سے سیاسی منظرنامہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جمعیت علمائے اسلام نے اپنے بیان میں حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ملکی مسائل پر توجہ مرکوز کرے۔ اسلم غوری نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے بیانات سے گریز کرے جو سیاسی استحکام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے بیان میں کسی کا نام نہیں لیا تھا، جس کی وجہ سے قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وزیر داخلہ کی جانب سے اس معاملے پر کوئی مزید وضاحت سامنے آتی ہے یا نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کی موجودہ صورتحال میں تمام سیاسی جماعتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی استحکام ہی ملک کی معاشی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے، جس کے لیے باہمی افہام و تفہیم ضروری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1129/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پی ٹی آئی سے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، رانا ثنا اللہ کا غیر مشروط بات چیت پر زور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/729/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/729/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 20:57:21 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رانا_ثنا_اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سہیل_آفریدی]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_مذاکرات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%b0%d8%a7%da%a9%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%b2%db%92-%da%a9%da%be%d9%84%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور مذاکرات کے لیے شرائط قبول نہیں کی جائیں گی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم یہ بات چیت غیر مشروط ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی شرائط کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سیاسی عمل میں بات چیت کا راستہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے، لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کے لیے رکھی جانے والی شرائط حکومت کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو واپس لینے کا مطالبہ یا گورنر راج کے خاتمے جیسی شرائط مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ حکومت ان مطالبات کو تسلیم کیے بغیر ہی بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 وفاق کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ صوبائی حکومت کے امور میں مداخلت کر سکے تاکہ نظم و نسق برقرار رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثنا اللہ نے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے بارہا کہا گیا، لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے پر حکومت کو سخت اقدامات کرنا پڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت کی جانب سے ملک میں دہشت گردی کو ہوا دی جا رہی ہے اور اس صورتحال میں صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی نے وفاق کو مشکل فیصلوں پر مجبور کیا۔ حکومت اب صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دے رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف درج مقدمات میں انہیں قانون کا سامنا کرنا چاہیے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ انہیں اپنی ضمانت کروانی چاہیے اور عدالتوں میں پیش ہو کر قانونی تقاضے پورے کرنے چاہئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سہیل آفریدی کی گرفتاری اور ان کی کابینہ کے ارکان کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ قانون اپنا راستہ خود بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد کسی کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کی نئی جیل میں بانی پی ٹی آئی اور دیگر متعلقہ افراد کو ایک ساتھ رکھنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جیل کے قواعد و ضوابط کے مطابق قیدیوں کو الگ الگ رکھا جاتا ہے تاکہ سیکیورٹی برقرار رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر فی الحال کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ اکتوبر کے مہینے میں اس موضوع پر کسی قسم کی بحث یا قانون سازی کا امکان نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ملکی مفاد کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیں۔ پاکستان اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے اور ایسے میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/729/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مراد سعید افغانستان سے خیبر پختونخوا حکومت چلا رہے ہیں: رانا ثنا اللہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/665/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/665/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 15:36:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پی_تی_آي_مذاکرات]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رانا_ثنا_اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سہیل_آفریدی]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[علی_امین_گنڈا_پور]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%85%d8%b1%d8%a7%d8%af-%d8%b3%d8%b9%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b3%db%92-%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d8%ad/</guid>

					<description><![CDATA[وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ مراد سعید افغانستان میں موجود ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے ایک اہم بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید اس وقت افغانستان میں مقیم ہیں اور وہیں سے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے انتظامی اور سیاسی معاملات میں پشت پر بیٹھ کر فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے حکومت کی عملداری متاثر ہو رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثنا اللہ نے مزید انکشاف کیا کہ صوبے میں موجودہ سیاسی سیٹ اپ کے پیچھے مخصوص شخصیات کا ہاتھ ہے اور سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ کے عہدے تک پہنچانے میں بھی مراد سعید کا بنیادی کردار رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان شاید سہیل آفریدی کو ذاتی طور پر جانتے بھی نہیں ہوں گے لیکن یہ تقرری سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت عمل میں لائی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی طرف سے مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مشیر سیاسی امور نے کہا کہ تمام قومی معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی نیت سے سیاسی فریقین کو ان کے تمام مطالبات کے مطابق پیشکشیں کی گئی تھیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مذاکرات کی کامیابی میں ناکامی کی بنیادی وجہ یہی عناصر ہیں جو مفاہمت اور سیاسی تدبر پر یقین نہیں رکھتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے موجودہ سیاسی منظرنامے میں علی امین گنڈا پور کو عملاً پس منظر میں دھکیل دیا گیا ہے اور انہیں کوئی مؤثر ذمہ داری نہیں دی جا رہی۔ صوبے کے اندر قائم کیا گیا موجودہ ڈھانچہ کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ترتیب دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی حلقوں کی جانب سے مسلسل یہ مؤقف اپنایا جا رہا ہے کہ صوبائی حکومت کو عوامی فلاح و بہبود کے بجائے ذاتی و سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب سے بھی ان بیانات کے جواب میں سخت ردعمل کا اظہار متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان تحریک انصاف اور صوبائی حکومت کی طرف سے فی الحال اس بیان پر کوئی تفصیلی جوابی ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم سیاسی ماحول بدستور گرم ہے۔ آئندہ دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی گرما گرمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ سیاسی حالات اس بات کے غماز ہیں کہ وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان کشیدگی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اس وقت اس نوعیت کی ہے جہاں ہر اہم معاملے پر سیاسی جماعتیں آمنے سامنے ہیں۔ مذاکرات کے دروازے بظاہر بند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اور محاذ آرائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام اور مبصرین کی نظریں صوبے کے سیاسی مستقبل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مرکوز ہیں کہ اس تنازع کا انجام کیا ہوتا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ صوبے میں انتظامی امور بہتر ہوں جبکہ پی ٹی آئی اپنی حکمت عملی پر قائم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی مشیر برائے سیاسی امور کے ان تازہ بیانات نے ملکی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل مچا دی ہے اور سیاسی پنڈت اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملکی سیاسی استحکام کے لیے تمام فریقین کو سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح کے تنازعات کا پائیدار حل نکالا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/665/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وزیراعظم شہباز شریف کی امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کی خواہش</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/361/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/361/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 22:37:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرولیم_لیوی]]></category>
		<category><![CDATA[جماعت_اسلامی]]></category>
		<category><![CDATA[حافظ_نعیم_الرحمان]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رانا_ثنا_اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%d8%b4%db%81%d8%a8%d8%a7%d8%b2-%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%81-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%b1-%d8%ac%d9%85%d8%a7%d8%b9%d8%aa-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے لیاقت بلوچ سے رابطہ کر کے ملاقات کا پیغام پہنچا دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیاسی رابطوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے جس کے تحت وزیراعظم شہباز شریف نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد حکومتی سطح پر رابطے شروع کر دیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔ اس گفتگو کے دوران رانا ثنا اللہ نے وزیراعظم کا پیغام پہنچایا کہ وہ اپنے سابقہ وعدے کے مطابق امیر جماعت اسلامی سے ملاقات کے خواہشمند ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کی اس پیشکش کے پس منظر میں پیٹرولیم لیوی کا معاملہ سرفہرست ہے۔ رانا ثنا اللہ اور لیاقت بلوچ کے درمیان ہونے والی گفتگو میں پیٹرولیم لیوی کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی جو دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات کا اہم حصہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیاقت بلوچ نے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہی عوام کے لیے حقیقی ریلیف کا باعث بنے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وزیراعظم کی درخواست پر ہی جماعت اسلامی نے اپنے لانگ مارچ میں وقفہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جماعت اسلامی کے نائب امیر نے مزید کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی عوامی دستخطی مہم اور جلسوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ جب تک عوام کو حکومت کی جانب سے بڑا ریلیف پیکیج نہیں مل جاتا، تحریک جاری رہے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق وزیراعظم اور امیر جماعت اسلامی کی متوقع ملاقات سے قبل دونوں جانب سے تشکیل دی گئی مذاکراتی کمیٹیوں کے اجلاس متوقع ہیں۔ ان اجلاسوں میں لیوی کے خاتمے کے لیے واضح ایجنڈے اور نکات پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ 5 اکتوبر 2026 کو وفاقی حکومت نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے معاملے پر جماعت اسلامی سے مزید مہلت طلب کی تھی۔ اس سے قبل بھی حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان اس معاملے پر بات چیت کا سلسلہ جاری رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب جماعت اسلامی کے سیکریٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی نے گزشتہ دنوں وزیراعظم اور امیر جماعت اسلامی کے درمیان کسی بھی خفیہ ملاقات کی تردید کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ جماعت اسلامی کی سرگرمیاں آئین اور قانون کے دائرے میں ہوتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شکیل احمد ترابی کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی ملاقات ہوتی تو اسے خفیہ رکھنے کی ضرورت نہیں تھی۔ جماعت اسلامی کے نزدیک تمام معاملات شفاف ہونے چاہئیں اور پارٹی اپنی پالیسیوں کے حوالے سے عوام کو مکمل اعتماد میں رکھتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے تمام جماعتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ پیٹرولیم لیوی کا معاملہ عوامی سطح پر اہمیت کا حامل ہے جس پر حکومت محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جماعت اسلامی کی جانب سے حکومت پر دباؤ برقرار ہے تاکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ حکومتی کمیٹی اب اس مطالبے پر اپنی حتمی تجاویز تیار کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ چند روز میں دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والی ملاقات کی تاریخ اور مقام کا تعین متوقع ہے۔ اس ملاقات کے بعد ہی پیٹرولیم لیوی کے مستقبل اور جماعت اسلامی کے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں واضح صورتحال سامنے آئے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/361/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وزیراعظم کی حافظ نعیم الرحمن سے ملاقات کی خواہش، کمیٹیوں کا اجلاس متوقع</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/279/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/279/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 10:36:49 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_مذاکرات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرولیم_لیوی]]></category>
		<category><![CDATA[جماعت_اسلامی]]></category>
		<category><![CDATA[حافظ_نعیم_الرحمن]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_مذاکرات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رانا_ثنا_اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سپر_لانگ_مارچ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%ad%d8%a7%d9%81%d8%b8-%d9%86%d8%b9%db%8c%d9%85-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d9%86-%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%84%d8%a7%d9%82%d8%a7%d8%aa/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے لیاقت بلوچ سے رابطہ کر کے پیٹرولیم لیوی پر بات چیت کی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان جاری سیاسی ڈیڈلاک کو ختم کرنے اور عوامی مطالبات پر طے پانے والے امور کو آگے بڑھانے کے لیے رابطوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ اسی سلسلے میں وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کو ٹیلیفون کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اہم ٹیلیفونک رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں کے مابین ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان جاری مذاکراتی عمل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تمام مسائل کا حل باہمی بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے ہی نکالا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثنا اللہ نے لیاقت بلوچ کو گفتگو میں بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اپنے سابقہ وعدے کے مطابق جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن سے ملاقات کرنے کے پختہ خواہشمند ہیں۔ اس اعلیٰ سطح کی ملاقات کے لیے فریقین کی طرف سے تیاریوں کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ تمام امور کو حتمی شکل دی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متوقع ملاقات سے قبل حکومت اور جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹیوں کے اہم اجلاس منعقد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ان اجلاسوں کا بنیادی مقصد پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور دیگر مطالبات کے حوالے سے ایک واضح اور متفقہ ایجنڈے کو تشکیل دینا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذاکراتی کمیٹیوں کے ان طے شدہ اجلاسوں میں دونوں اطراف کے نمائندے مخصوص نکات پر بات چیت کریں گے تاکہ اس اہم معاملے پر عملی پیش رفت کی راہ ہموار ہو سکے۔ کمیٹی کے ارکان اس بات کا جائزہ لیں گے کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے کون سے عملی اقدامات فوری طور پر اٹھائے جا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے اس بات کا برملا اظہار کیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ ہی عوام کے لیے حقیقی اور پائیدار ریلیف ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیاقت بلوچ نے یاد دلایا کہ اس سے قبل وزیراعظم کی باضابطہ درخواست پر جماعت اسلامی کی طرف سے اپنے سپر لانگ مارچ میں ایک عارضی وقفہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اگرچہ مارچ معطل کر دیا گیا ہے تاہم لیوی کے خلاف احتجاجی جلسوں کا سلسلہ نہیں روکا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جماعت اسلامی کے رہنما کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم لیوی اور دیگر مطالبات کے حق میں ملک بھر میں احتجاجی جلسوں اور محضرناموں پر عوامی دستخطی مہم تاحال پوریگرمی کے ساتھ جاری ہے۔ پارٹی قیادت کا موقف ہے کہ عوامی رابطہ مہم عوامی حقوق کے حصول تک نہیں رکے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیاقت بلوچ نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ جماعت اسلامی اپنی جاری پرامن تحریک کو اس وقت تک ہرگز ختم نہیں کرے گی جب تک حکومت عوام کے لیے ایک بڑا اور مؤثر ریلیف پیکیج باقاعدہ طور پر منظور اور نافذ نہیں کر دیتی۔ مطالبات کی منظوری ہی تحریک کے خاتمے کی شرط ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی حلقوں میں حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان رابطوں کے اس نئے دور کو ایک خوش آئند اور مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عوام بھی اس بات کے منتظر ہیں کہ دونوں فریقین کے مابین مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں اور مہنگائی میں کچھ کمی آئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم شہباز شریف اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی متوقع ملاقات میں انہی تجاویز اور نکات کی توثیق کی جائے گی جن پر دونوں جماعتوں کی مذاکراتی کمیٹیوں کے اجلاس میں تفصیلی اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا۔ ملاقات کی تاریخ کا اعلان جلد متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی حلقوں کی جانب سے بھی مذاکراتی عمل کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے لچک کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے تاکہ ملک میں جاری سیاسی تناؤ کو کم کیا جا سکے۔ دونوں جماعتوں کے رہنما اس بات کے خواہاں ہیں کہ مذاکرات کے ذریعے تمام معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے دنوں میں مذاکراتی کمیٹیوں کے اجلاس کے بعد باضابطہ طور پر وزیراعظم اور جماعت اسلامی کے امیر کی ملاقات کی تاریخ کا اعلان کر دیا جائے گا، جس سے ملکی سیاست میں مزید استحکام آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/279/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
