<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>دہشت_گردی_کا_خاتمہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa_%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c_%da%a9%d8%a7_%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%85%db%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:33:51 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>دہشت_گردی_کا_خاتمہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا خاتمہ چند ماہ میں ممکن ہے، رانا ثناء اللہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2034/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2034/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 19:17:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[انٹیلی_جنس_بیسڈ_آپریشن]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_آرمی]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی_کا_خاتمہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رانا_ثناء_اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%85%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو جلد ختم کر دیا جائے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جاری کوششیں بار آور ثابت ہوں گی اور چند ہفتوں یا مہینوں میں حالات معمول پر آ جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی ادارے دہشت گردوں کی تعداد اور ان کے ٹھکانوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ دہشت گردوں کے چھوٹے گروہ تین سے پندرہ افراد پر مشتمل ہیں جو مقامی آبادیوں میں گھل مل کر رہ رہے ہیں۔ ان علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے آپریشنز جاری ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مقامی آبادی پر زور دیا کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔ اگر مقامی لوگ دہشت گردوں کو نکالنے میں مدد نہیں کرتے تو آپریشن کے دوران مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے اور جنگ میں پاکستان تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتیں حکومت کا ساتھ دیں گی۔ قومی یکجہتی سے ہی ان چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثناء اللہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے بارہ اضلاع کے مالی معاملات کو وفاق کے زیر انتظام لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیکیورٹی اور انتظامی امور کو بہتر بنایا جا سکے۔ یہ اقدام امن کی بحالی کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ ماضی میں صوبائی حکومت کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون نہ کرنے کے باعث مشکلات پیش آئیں۔ اب گورنر کی زیر نگرانی نیا سیٹ اپ پوری طرح متحرک اور تعاون کے لیے تیار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہونے کے بعد خیبر پختونخوا میں معمول کی زندگی بحال ہو جائے گی۔ حکومت اس عزم پر کاربند ہے کہ ریاست کی رٹ کو ہر صورت قائم رکھا جائے گا اور عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔ اگر وہ وزیراعظم ہاؤس آتے ہیں تو ان کا خیرمقدم کیا جائے گا اور ملکی مسائل پر بات چیت کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثناء اللہ نے محمود خان اچکزئی کے حوالے سے کہا کہ وہ ان کا احترام کرتے ہیں اور وہ ان کے لیے بھائیوں کی طرح ہیں۔ تاہم سیاسی قیادت کو ضد کے بجائے ملکی مفاد میں بات چیت کا راستہ اپنانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا نہیں بلکہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالنا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام اسٹیک ہولڈرز کا کردار انتہائی اہم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2034/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>گوادر میں دہشت گردی کی بڑی کوشش ناکام، خاتون سمیت 10 دہشت گرد ہلاک</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1978/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1978/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 10:57:18 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ایس_پی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[بلوچستان_امن]]></category>
		<category><![CDATA[بیان_آئی_ایس_پی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[ترقی_اور_خوشحالی]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی_کا_خاتمہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سکیورٹی_فورسز]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%af%d9%88%d8%a7%d8%af%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%a8%da%91%db%8c-%da%a9%d9%88%d8%b4%d8%b4-%d9%86%d8%a7%da%a9%d8%a7%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[سکیورٹی فورسز نے گوادر میں بروقت کارروائی کرتے ہوئے دس دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا، ایک شہری شہید۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں سکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردی کی ایک بڑی کوشش ناکام بنا دی ہے۔ کارروائی کے دوران ایک خاتون سمیت کل دس دہشت گرد مارے گئے ہیں جبکہ علاقے میں کلیئرنس آپریشنز کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ ناپاک کارروائیاں گبد بارڈر کراسنگ اور گوادر شہر کے مختلف حصوں میں سر انجام دی جا رہی تھیں جنہیں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ناکام بنایا۔ دہشت گردوں کی ان مذموم کارروائیوں کا مقصد بلوچستان کے اندرونی امن کو تباہ کرنا اور صوبے کی جاری ترقی و خوشحالی کے سفر کو روکنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ اس گھناؤنے سکیورٹی واقعے کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ اور حملوں کے نتیجے میں ایک بے گناہ شہری شہید جبکہ چند گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ تاہم، اس پوری کارروائی کے دوران بہادر سکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور جوانوں نے دشمن کے تمام عزائم کو خاک میں ملا دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی ایس پی آر کی جانب سے مزید بتایا گیا ہے کہ دہشت گرد عناصر بلوچستان کی روایات کو پامال کرتے ہوئے بلوچ خواتین کو اپنے مذموم مقاصد اور پروپیگنڈے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ایک خاتون کو دہشت گردی کی کارروائی کے لیے استعمال کرنا بلوچ خواتین کی حرمت کے خلاف ایک سنگین جرم ہے جسے عوام اور ریاست کبھی برداشت نہیں کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بلوچستان کے باشعور اور غیور عوام ہمیشہ سے امن دشمن عناصر اور اپنے نام پر خون بہانے والوں کی مذمت کرتے آئے ہیں اور انہیں مسلسل مسترد کیا ہے۔ عوام نے دہشت گردوں کے ان غیر ملکی سرپرستی میں چلنے والے ایجنڈے کو پوری طرح سمجھ لیا ہے جو صوبے میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گوادر میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے تمام مشکوک مقامات پر کلیئرنس آپریشنز کامیابی سے مکمل کر لیے گئے ہیں جس کے بعد علاقے میں مکمل طور پر امن و امان اور ریاستی عمل داری کو بحال کر دیا گیا ہے۔ عوام اب پُرامن ماحول میں اپنی روزمرہ کی زندگی گزار رہے ہیں اور زندگی رواں دواں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے ملک سے غیر ملکی سرپرستی میں پروان چڑھنے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ملک دشمن عناصر کے ان تمام سہولت کاروں اور سرپرستوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا جو امن کے دشمن ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پاکستان اور عسکری قیادت کی طرف سے یہ عزم دہرایا گیا ہے کہ وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ وژن عزمِ استحکام کے تحت انسدادِ دہشت گردی کی مہم پوری رفتار کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔ اس جامع حکمت عملی کا بنیادی مقصد ملک بھر سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی سرپرستی میں ہونے والی ان دہشت گردانہ سرگرمیوں کا مقصد دراصل پاکستان کے اس اہم ترین اقتصادی خطے میں بے چینی پھیلانا ہے۔ گوادر پورٹ اور اس سے جڑے منصوبے خطے کی ترقی میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں سبوتاژ کرنے کے لیے یہ مذموم سازشیں رچی گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سکیورٹی ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو کامیابی سے ٹریس کیا گیا اور فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں فرار ہونے کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا۔ آپریشن کے اختتام پر علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنا دیا گیا ہے اور معمولاتِ زندگی بحال ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی ایس پی آر کے اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ریاست دشمن عناصر اپنے آقاؤں کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ تاہم سکیورٹی فورسز کی مستعدی نے ثابت کر دیا ہے کہ ملک کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے تمام ادارے ہم آہنگ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاک فوج کے ترجمان نے قوم کو یقین دلایا ہے کہ بلوچستان کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے راستے میں حائل ہونے والی تمام رکاوٹوں کو آہنی ہاتھوں سے کچلا جائے گا۔ قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور دہشت گردوں کے سرپرستوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1978/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دہشت گردوں کو ہر جگہ نشانہ بنائیں گے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1947/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1947/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 07:17:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ایس_پی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[انسداد_دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_آرمی]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[دفاع_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی_کا_خاتمہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سکیورٹی_فورسز]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%d9%88%da%ba-%da%a9%d9%88-%db%81%d8%b1-%d8%ac%da%af%db%81-%d9%86%d8%b4%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a8%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%ba-%da%af%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[چیف آف ڈیفنس فورسز نے پشاور کور ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا اور سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ لی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف اپنی کارروائیاں پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری رکھے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک دشمن عناصر کو کہیں بھی پناہ نہیں ملے گی اور انہیں ہر صورت نشانہ بنایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پشاور کور ہیڈ کوارٹرز کا خصوصی دورہ کیا۔ اس موقع پر کور کمانڈر پشاور نے ان کا استقبال کیا اور انہیں صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اور انسداد دہشت گردی کے لیے کیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دورے کے دوران فیلڈ مارشل کو سرحدوں پر انتظامی امور اور فارمیشنز کی تعیناتی کے حوالے سے آپریشنل تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان کی کارکردگی کو سراہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد گروہوں کے خلاف مہم پوری شدت سے جاری رہے گی۔ جہاں کہیں بھی یہ عناصر موجود ہوں گے، سکیورٹی فورسز انہیں بھرپور طریقے سے نشانہ بنائیں گی تاکہ ملک میں امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف آف ڈیفنس فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوام کی مکمل حمایت سے دہشت گردوں اور ان کے گمراہ کن نظریے کو مکمل شکست دی جائے گی۔ انہوں نے شہدا اور غازیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے عوام سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی عزم اٹل ہے۔ سکیورٹی فورسز ملک کی جغرافیائی حدود اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پشاور کور کا دورہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک بھر میں سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف آپریشنز میں مصروف ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس موقع پر سکیورٹی فورسز کے جوانوں کے ساتھ وقت گزارا اور ان کے عزم کو سراہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس دورے کا مقصد فارمیشنز کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینا اور جوانوں کے مورال کو بلند کرنا تھا۔ فیلڈ مارشل نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردوں کے مذموم مقاصد کو ناکام بنانے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سکیورٹی ماہرین کے مطابق فیلڈ مارشل کا دورہ اور ان کا بیان سکیورٹی فورسز کی حکمت عملی میں تسلسل اور عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ دورہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کے دفاعی ادارے کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام نے بھی فیلڈ مارشل کے اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔ ملک بھر میں امن و امان کے قیام کے لیے سکیورٹی فورسز کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور قوم ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے دشمنوں کو ان کے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قوم کا اعتماد ہی سکیورٹی فورسز کی سب سے بڑی طاقت ہے اور ہم اس اعتماد پر پورا اتریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1947/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وزیراعظم دہشت گردی کے خاتمے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کو تیار ہیں، رانا ثناء اللہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1592/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1592/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 13:18:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اپوزیشن_لیڈر]]></category>
		<category><![CDATA[ایپکس_کمیٹی]]></category>
		<category><![CDATA[بلوچستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی_کا_خاتمہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رانا_ثناء_اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_مذاکرات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%85%db%92-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے تمام سیاسی قیادت کو نیشنل ایکشن پلان اور دہشت گردی کے معاملے پر بیٹھنے کی دعوت دے دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے ایوان بالا کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے وفاقی حکومت تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف آج بھی قومی سلامتی اور اس نوعیت کے اہم امور پر تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر پوری طرح کاربند ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے ایوان کو تفصیل سے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان اور دہشت گردی کی جو صورتحال رہی ہے، اس پر متعلقہ صوبائی حکومت کی جانب سے وفاقی اداروں کو مطلوبہ تعاون فراہم نہیں کیا گیا، جبکہ اس کے برعکس بلوچستان میں صوبائی حکومت وفاقی پالیسیوں کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثناء اللہ نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی ایک ایسا سنگین ناسور ہے جو کسی ایک صوبے یا کسی مخصوص جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مشترکہ مسئلہ ہے، اس لیے تمام سیاسی قوتوں کو اپنی تمام تر ذاتی اور گروہی صف بندیوں سے بالاتر ہو کر سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے ایوان کے توسط سے تمام سیاسی جماعتوں کو باضابطہ دعوت دی کہ وہ اس اہم ترین اور قومی سلامتی کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ بیٹھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن ملکی بقا کے لیے تمام قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشیر سیاسی امور نے ایوان میں گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت تشکیل پانے والی ایپکس کمیٹی کے فیصلوں اور اجلاسوں میں اپوزیشن کے اراکین شرکت کرنے سے گریز کرتے ہیں، حالانکہ ان اعلیٰ سطحی فورمز پر ملک کو درپیش چیلنجز پر ہمیشہ کھل کر اور نہایت سنجیدہ گفتگو کی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے اور دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ نبردآزما ہے جہاں ہمارے مخلص جوان آئے روز مادرِ وطن کی خاطر جام شہادت نوش کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے حالیہ دنوں میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات اور ایک سکیورٹی میجر کی شہادت کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے دلخراش سانحات اس بات کا سخت تقاضا کرتے ہیں کہ پوری قوم اور تمام سیاسی قیادت یک زبان ہو کر دہشت گرد عناصر اور ان کے تمام سہولت کاروں کے خلاف صف آراء ہو جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی صورتحال اور قیادت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ایک اہم انکشاف کیا کہ محمود اچکزئی قومی اسمبلی کے اسپیکر کے باضابطہ دستخطوں کے بعد اپوزیشن لیڈر کے منصب پر فائز ہوئے ہیں اور انہوں نے اس آئینی عہدے کا حلف بھی اٹھا لیا ہے۔ تاہم، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس سب کے باوجود محمود اچکزئی اسپیکر کے چیمبر میں جانے سے مسلسل گریزاں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثناء اللہ نے ایوان کو بتایا کہ وہ ذاتی طور پر محمود اچکزئی کے پاس گئے تھے اور انہیں پرخلوص مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی سیاسی ضد یا ہٹ دھرمی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں تاکہ پارلیمانی امور اور جمہوری عمل کو بہتر سمت میں آگے بڑھایا جا سکے، کیونکہ جمہوریت کے اندر بات چیت اور ڈائیلاگ کے دروازے کبھی بھی بند نہیں ہونے چاہئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملکی سیاسی صورتحال اور حالیہ تنازعات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے شدید تنقید کی کہ ملاقاتوں کی آڑ میں کچھ عناصر جنہیں انہوں نے گالی گلوچ بریگیڈ سے تشبیہ دی، ریاستی اداروں کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں، اس لیے اب پارلیمانی قواعد و ضوابط اور طے شدہ قوانین کے تحت اس قسم کی غیر ضروری ملاقاتوں اور سرگرمیوں کو محدود یا سختی سے ریگولیٹ کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت اور حامیوں کا مجموعی رویہ شدید تضاد کا شکار دکھائی دیتا ہے، کیونکہ وہ کبھی عدالتی راستوں کے ذریعے جیل سے باہر آنے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی غیر ملکی شخصیات مثلاً امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مبینہ مداخلت کے ذریعے رہائی کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے آخر میں تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اپنے ذاتی اور پارٹی مفادات کو پس پشت ڈال کر قومی مفاد کو مقدم رکھیں اور ملک کو دہشت گردی کے اس ناسور سے پاک کرنے کیلئے ریاست اور مسلح افواج کا بھرپور ساتھ دیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1592/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بلوچستان: سیکیورٹی فورسز کے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز میں 8 دہشت گرد ہلاک</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1371/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1371/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 22:58:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ایس_پی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[آپریشن]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[بلوچستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[خضدار]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی_کا_خاتمہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b3%db%8c%da%a9%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%b9%db%8c-%d9%81%d9%88%d8%b1%d8%b3%d8%b2-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کوئٹہ، نوشکی اور خضدار میں کارروائیوں کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کر لیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں صوبے کے مختلف اضلاع میں کی گئی کارروائیوں کے دوران 8 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں کوئٹہ، نوشکی اور خضدار کے علاقوں میں کی گئیں۔ ان آپریشنز کا بنیادی مقصد علاقے میں سرگرم دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنا اور امن کو یقینی بنانا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفصیلات کے مطابق 17 اکتوبر کو پنج پائی کے علاقے میں دہشت گردوں نے سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کر کے شہریوں کی نقل و حرکت کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان کی اس مذموم کوشش کو ناکام بنا دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فورسز کی جانب سے کی گئی جوابی کارروائی کے دوران 5 دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ اس دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کو بھی کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا، جو علاقے میں تخریب کاری کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا جس کے نتیجے میں مزید 2 دہشت گرد مارے گئے۔ اس آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب خضدار میں بھی سیکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن مکمل کیا۔ اس کارروائی کے دوران فورسز نے دہشت گردوں کے ایک اہم ٹھکانے کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک دہشت گرد ہلاک ہو گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خضدار میں ہونے والی اس کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے 490 کلوگرام وزنی دھماکا خیز مواد بھی قبضے میں لیا ہے۔ یہ دھماکا خیز مواد علاقے میں بڑی تباہی پھیلانے کے لیے جمع کیا گیا تھا جسے بروقت کارروائی سے ناکام بنا دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گرد بیرونی حمایت اور سرپرستی میں سرگرم تھے جو بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کے درپے تھے۔ فورسز نے ان کے نیٹ ورک کو کمزور کرنے کے لیے گھیرا تنگ کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ علاقے میں دیگر دہشت گردوں کی تلاش اور خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشنز کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ فورسز ہر قیمت پر علاقے کو دہشت گردی کے عناصر سے پاک کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بلوچستان کے عوام نے بھی سیکیورٹی فورسز کی ان کوششوں پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف یہ کامیابیاں سیکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ مہارت اور انٹیلیجنس نیٹ ورک کی مضبوطی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں بھی ایسی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ صوبے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔ سیکیورٹی فورسز نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1371/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ ہلاک</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1009/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1009/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 22:17:12 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آپریشن]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[خوارجی_دہشت_گرد]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی_کا_خاتمہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سی_ٹی_ڈی]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%b1%d9%88%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%db%8c%da%a9%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%b9%db%8c-%d9%81%d9%88%d8%b1%d8%b3%d8%b2-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[سی ٹی ڈی اور سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی میں خوارجی کمانڈر زاہد گل کو جہنم واصل کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور سیکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران اہم دہشت گرد کمانڈر خوارجی زاہد گل کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ کارروائی ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جاری سیکیورٹی اقدامات کا ایک اہم حصہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سی ٹی ڈی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والا دہشت گرد خوارجی گل بہادر گروپ سے تعلق رکھتا تھا اور سیکیورٹی اداروں کو متعدد سنگین دہشت گردی کے واقعات میں مطلوب تھا۔ وہ پرانی کوہاٹ پولیس لائنز پر ہونے والے خودکش حملے کا مرکزی ماسٹر مائنڈ تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفتیشی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ زاہد گل نے کوہاٹ پولیس لائنز پر حملے کے لیے استعمال ہونے والی بارود سے بھری گاڑی کی خود نگرانی اور رہنمائی کی تھی۔ اس دہشت گرد کا نیٹ ورک سیکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے میں مصروف عمل تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دہشت گرد زاہد گل نہ صرف خودکش حملوں کا منصوبہ ساز تھا بلکہ وہ کوہاٹ میں مختلف خودکش حملہ آوروں کی ترسیل میں بھی ملوث رہا ہے۔ اس نے دو ماہ قبل نئی کوہاٹ پولیس لائنز پر حملے کی ناکام کوشش کے لیے بھی ایک حملہ آور فراہم کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سی ٹی ڈی کی رپورٹ کے مطابق، ہلاک دہشت گرد بلی تنگ بینک ڈکیتی کی واردات میں بھی ملوث تھا جس میں 60 لاکھ روپے لوٹے گئے تھے۔ اس لوٹی گئی رقم کو بنوں کے علاقوں بکاخیل اور جانی خیل میں موجود دہشت گرد تنظیموں میں تقسیم کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیکیورٹی اداروں کی جانب سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق زاہد گل کے آئندہ کے اہداف میں کوہاٹ میں پاک فضائیہ کا سیٹ اپ اور پولیس ٹریننگ اسکول شامل تھے۔ سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے ان مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا مزید کہنا ہے کہ اس دہشت گرد نیٹ ورک کے دیگر کارندے پہلے ہی سیکیورٹی اداروں کی حراست میں ہیں، جن سے مزید تفتیش جاری ہے۔ فورسز کی جانب سے علاقے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آپریشنز کا سلسلہ مستقل بنیادوں پر جاری رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس طرح کی کامیاب کارروائیاں سیکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ مہارت اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کی مضبوطی کا منہ بولتا ثبوت ہیں جو دشمن کے عزائم ناکام بنا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام نے سیکیورٹی فورسز کی اس کارروائی کو سراہتے ہوئے اسے امن و امان کی بحالی کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشنز نے ان کے نیٹ ورک کو کافی حد تک کمزور کر دیا ہے۔ سیکیورٹی ادارے ملک دشمن عناصر کی ہر سازش کو ناکام بنانے کے لیے ہائی الرٹ ہیں اور چوکس ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت اور سیکیورٹی ادارے ملک میں قیام امن کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں قوم کے لیے مشعل راہ ہیں اور عوام کا اعتماد فورسز کے ساتھ مضبوطی سے قائم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا نے واضح کیا ہے کہ زاہد گل جیسے دہشت گردوں کا خاتمہ سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی ہے۔ اس آپریشن کے بعد علاقے میں سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1009/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی واشک میں سکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن پر خراج تحسین</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/549/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/549/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 07:37:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آپریشن_ردالفتنہ]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[بلوچستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی_کا_خاتمہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سکیورٹی_فورسز]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82%db%8c-%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%af%d8%a7%d8%ae%d9%84%db%81-%d9%85%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d9%86%d9%82%d9%88%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%a7%d8%b4%da%a9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[وزیر داخلہ نے واشک میں پانچ خوارجی دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کو سراہا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان کے ضلع واشک میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے ایک کامیاب آپریشن پر فورسز کی کارکردگی کی بھرپور تعریف کی ہے۔ اس آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ خوارجی دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر داخلہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت کی گئی یہ کارروائی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے سکیورٹی فورسز کے غیر متزلزل عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وطن کے بہادر سپوتوں نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ ملک دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری اس جنگ میں پوری قوم اپنی سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے تک یہ کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی اور کسی کو بھی امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت اور عسکری قیادت کا موقف رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ واشک میں ہونے والا یہ حالیہ آپریشن اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے اور علاقے میں امن کی فضا کو بحال کرنے میں مدد ملی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر داخلہ نے آپریشن میں حصہ لینے والے تمام جوانوں اور افسران کی ہمت اور بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم کو اپنے محافظوں پر فخر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی اداروں کا مورال بلند ہے اور وہ ہر قسم کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے سکیورٹی فورسز کی جانب سے وقتاً فوقتاً مختلف آپریشنز کیے جاتے ہیں۔ ان آپریشنز کے نتیجے میں نہ صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا ہے بلکہ ان کے سہولت کاروں کو بھی قانون کی گرفت میں لایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پاکستان کی جانب سے ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کا اعادہ کیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے کسی بھی گروہ کو معاف نہیں کیا جائے گا اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سکیورٹی ماہرین کے مطابق واشک جیسے علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی موجودگی اور ان کی بروقت کارروائیاں دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی جانے والی یہ کارروائیاں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو کمزور کرنے کا باعث بنتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام کی جانب سے بھی سکیورٹی فورسز کی ان کامیابیوں کو سراہا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر بھی لوگ فورسز کے حق میں اپنی حمایت کا اظہار کر رہے ہیں۔ شہریوں کا ماننا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کی بدولت ہی ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر داخلہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز میں تیزی لائی گئی ہے۔ حکومت اور سکیورٹی ادارے ملک کو پرامن بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں وزیر داخلہ نے شہداء کو بھی خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے ملک کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ان کا خون ملک میں امن کی ضمانت بنے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/549/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں امن کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی گئی ہے، طارق فضل چوہدری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/477/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/477/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 22:16:37 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[اے_آر_وائی_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کی_سلامتی]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_ترقی]]></category>
		<category><![CDATA[پی_تی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی_کا_خاتمہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%85%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9-%d8%ad%da%a9%d9%85%d8%aa-%d8%b9/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں خیبر پختونخوا کو آٹھ سو ارب روپے فراہم کیے گئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں ایک نجی ٹی وی کے پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ملک کے سب سے بڑے مسائل میں دہشت گردی کا خاتمہ سر فہرست ہے۔ انہوں نے اس موقع پر خیبر پختونخوا کے امور پر روشنی ڈالی اور صوبے کی انتظامی صورتحال پر تفصیل سے بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھانے کا عزم کر رکھا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دس سال کے طویل عرصے کے دوران خیبر پختونخوا کی حکومت کو مختلف مدات میں آٹھ سو ارب روپے کے لگ بھگ خطیر رقم دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بھاری مالی تعاون کا مقصد صوبے میں امن و امان کی بحالی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے اس دی گئی رقم کا کوئی باقاعدہ حساب کتاب پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی طرف سے مسلسل مالی امداد کے باوجود صوبائی سطح پر اس کے استعمال سے متعلق شفافیت کا فقدان رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے یہ پروپیگنڈا کیا جاتا رہا کہ وفاقی حکومت مالی تعاون نہیں کر رہی جو کہ سراسر حقائق کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق نے ہمیشہ صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود اور سکیورٹی کے لیے کھلے دل سے وسائل فراہم کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر کے مطابق وفاقی حکومت نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والا اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بھی فنڈز جاری کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر لڑنے والے اداروں کو جدید آلات اور ساز و سامان کی فراہمی وفاق کی ترجیح رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے وضاحت کی کہ وفاق کی جانب سے فراہم کردہ یہ تمام فنڈز صوبائی حکومت کے مخصوص اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی رقوم کی موجودگی کے باوجود دہشت گردی کے خلاف موثر حکمت عملی پر عملدرآمد میں صوبائی تعاون کی کمی رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے لیے سول انتظامیہ کا کردار انتہائی کلیدی ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شورش زدہ علاقوں میں دہشت گرد عام آبادی میں پناہ حاصل کر لیتے ہیں جہاں مقامی اداروں کی مدد ناگزیر ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے بتایا کہ وفاقی سطح پر صوبائی حکومت کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کے معاملے پر طویل مذاکرات کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق نے ہمیشہ بات چیت کے دروازے کھلے رکھے تاکہ تمام فریقین کو ایک نکتے پر متفق کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ریاست نے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا حتمی عزم کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ کٹھن حالات میں حکومت کو کئی بار ناگزیر اور سخت فیصلے کرنا پڑے جو کہ عام حالات میں ترجیح نہیں ہوتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا لیکن قومی مفاد میں یہ قدم اٹھانا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبائی انتظامیہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی تو اس نوبت تک نوبت نہ آتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ امن کے قیام کے لیے تین مراحل پر مشتمل ایک موثر حکمت عملی وضع کر لی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس پلان کے تحت سب سے پہلے متاثرہ علاقوں کو عسکریت پسندوں سے مکمل طور پر پاک کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منصوبے کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کلیئرنس کے بعد ان تمام علاقوں کا کنٹرول مقامی پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے وہاں اپنی مستقل رٹ قائم رکھیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے حکمت عملی کے تیسرے اور آخری مرحلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران وہاں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور ترقی سے مقامی لوگوں کے حالات زندگی میں بہتری آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اپنے اس یقین کا اظہار کیا کہ اس جامع پلان کے نفاذ سے خطے میں دیرپا اور پائیدار امن کی بنیاد رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں امن کی مکمل بحالی سے پورے ملک بالخصوص معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پروگرام کے آخر میں انہوں نے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ملکی سلامتی کے لیے تمام جماعتوں کو ایک پیج پر آنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی صرف اور صرف امن کے ساتھ مشروط ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/477/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کے پی میں ایمرجنسی کا فیصلہ واپس لیا جائے، بیرسٹر گوہر</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/159/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/159/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 13:18:21 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی_کے_پی]]></category>
		<category><![CDATA[بیرسٹر_گوہر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_تحریک_انصافه]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی_کا_خاتمہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/159/</guid>

					<description><![CDATA[چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے سیاسی بصیرت اور مذاکرات پر زور دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کے سیاسیحلقوں میں اس وقت وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان تناؤ کا ماحول پایا جاتا ہے جس کی بڑی وجہ خیبر پختونخوا کے حوالے سے کیے جانے والے بعض اہم اور غیرمعمولی حکومتی فیصلے ہیں۔ ان فیصلوں کے نتیجے میں ملک بھر کے سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے تند و تیز بیانات کا سلسلہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے ان تمام حالات کے تناظر میں ایک اہم بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے صوبے میں لگائی جانے والی ایمرجنسی کو کلی طور پر مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ موجودہ صورتحال میں بھی اس تنازع کو سلجھانے کی گنجائش موجود ہے اور حکومت چاہے تو چند روز کے اندر اپنے اس فیصلے کو واپس لے سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے بیان میں بیرسٹر گوہر نے وفاقی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی انا کو پس پشت ڈال دے اور ملک کے اندر موجود زمینی حقائق کا درست ادراک کرے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا جیسے حساس صوبے میں اس طرح کے اقدامات اٹھانا ایک غیرضروری اور غیرمناسب عمل ہے جس سے گریز کیا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ صوبے کے اندر ایمرجنسی کا نفاذ ایک انتہائی تشویشناک امر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑی سیاسی غلطی بھی شمار ہوتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام اپنے بنیادی جمہوری حقوق کے خلاف اٹھائے جانے والے ایسے کسی بھی اقدام کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے واضح طور پر اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی جماعت خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور کسی بھی قسم کی ایمرجنسی کی بھرپور مخالفت کرتی ہے کیونکہ اس نوعیت کے اقدامات مسائل کا حل پیش کرنے کی بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کرتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیانات آنے والے دنوں میں حکومت مخالف تحریک کو مزید تیز کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرسٹر گوہر نے اس نکتہ پر بھی زور دیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ ان کا ایک مسلّم آئینی اور قانونی حق ہے جس پر کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی رائے اور مینڈیٹ کو نظر انداز کر کے صوبے میں پائیدار امن قائم کرنے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی خود مختاری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاق کی طرف سے اس نوعیت کے فیصلوں سے صوبائی خود مختاری کمزور ہوتی ہے جو کہ ملکی وفاقیت کے لیے بھی نیک شگون نہیں۔ ان کا ماننا تھا کہ آئینی دائرہ کار میں رہ کر ہی تمام امور کو چلانا ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی اور اپوزیشن حلقوں کے مابین جاری کشمکش کا ذکر کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان محاذ آرائی کی فضا پیدا کرنے سے ملک میں کسی قسم کا سیاسی استحکام نہیں لایا جا سکتا۔ استحکام کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریقین باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دشت گردی کے خاتمے کے قومی ایجنڈے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ دہشت گردی کا ناسور ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور اس کے خاتمے پر پوری قوم میں کوئی اختلاف رائے پایا نہیں جاتا۔ تاہم ان کا موقف تھا کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے قومی یکجہتی ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی ایک جماعت یا ادارے کی تنہا حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر ایک مشترکہ اور جامع حکمت عملی وضع کرنا ہو گی۔ طاقت کا استعمال ہمیشہ موثر نہیں ہوتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبوں اور مرکز کے تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی صورت میں صوبوں کو کمزور کر کے ایک مضبوط اور مستحکم وفاق کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔ وفاق کی اصل طاقت اس کے تمام اکائیوں کے باہمی اتحاد اور مضبوط روابط میں ہی پوشیدہ ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ بحران کے حل کے لیے انہوں نے ایک بار پھر مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے پر زور دیا اور کہا کہ تمام تر مسائل کا حل کسی بھی قسم کے طاقت کے استعمال یا تصادم میں ہرگز پوشیدہ نہیں ہے۔ حقیقی حل صرف سیاسی بصیرت اور بامعنی مذاکرات سے ہی نکل سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس پورے تناظر میں وفاقی حکومت کی جانب سے یہ قدم اٹھایا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کے روزمرہ امور کو چلانے کے لیے گورنر کو خصوصی اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے گیارہ رکنی مشاورتی کونسل بھی تشکیل دی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/159/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
