<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>دفاعی_تعاون &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%af%d9%81%d8%a7%d8%b9%db%8c_%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%88%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 18:27:03 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>دفاعی_تعاون &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>ترک سفیر کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2492/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2492/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 21:36:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_ترک_دوستی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ترکیہ]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ_آصف]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%aa%d8%b1%da%a9-%d8%b3%d9%81%db%8c%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%af%d9%81%d8%a7%d8%b9-%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d8%a2%d8%b5%d9%81-%d8%b3%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی دارالحکومت میں ہونے والی ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے مابین دوطرفہ تعلقات اور دفاعی شعبے میں اشتراک کو مزید مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں تعینات جمہوریہ ترکیہ کے سفیر عرفان نذیر اوغلو نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف سے ان کے دفتر میں خصوصی ملاقات کی۔ اس اہم نشست کے دوران دونوں ممالک کے مابین باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کا مرکزی ایجنڈا پاکستان اور ترکیہ کے درمیان موجود دیرینہ برادرانہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانا اور مختلف شعبوں میں تعاون کے دائرہ کار کو وسیع کرنا تھا۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دوطرفہ روابط کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ترکیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان تمام شعبوں میں ترکیہ کے ساتھ اپنے روابط کو مزید گہرا اور مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران دفاعی شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دونوں اطراف نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دفاعی اشتراک کو بڑھانا دونوں برادر ممالک کے مفاد میں ہے اور اس ضمن میں مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترک سفیر عرفان نذیر اوغلو نے پاکستان اور ترکیہ کے مابین دوستانہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور ثقافتی رشتے بہت گہرے ہیں۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے ترکیہ کی دلچسپی کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع نے ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون کے فروغ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شعبے میں موجودہ اشتراک کو مزید جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی بات کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات میں خطے کی مجموعی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مسلسل رابطے اور مشاورت دونوں ممالک کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور ترکیہ کے مابین دفاعی تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے جس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ ہر مشکل وقت میں یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس ملاقات کو اسی تسلسل کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ترک سفیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو ہمیشہ ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور تزویراتی تعلقات کو مزید تقویت دے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترک سفیر نے وزیر دفاع کے جذبات کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کا یقین دلایا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے باقاعدگی سے رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور ترکیہ کے مابین دفاعی تعاون کے فروغ سے نہ صرف دونوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے میں بھی مدد ملے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور ترک سفیر عرفان نذیر اوغلو کے درمیان ہونے والی یہ نشست دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے دروازے کھلنے کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2492/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مسلم ممالک کے مابین اتحاد اور دفاعی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے: ماہرین</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2182/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2182/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 18:36:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اشرف_جہانگیر_قاضی]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[خالد_نعیم_لودھی]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رضا_امیری_مقدس]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارت_کاری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85-%d9%85%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%a7%d8%a8%db%8c%d9%86-%d8%a7%d8%aa%d8%ad%d8%a7%d8%af-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%d9%81%d8%a7%d8%b9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[اسلام آباد میں فورم آف انفارمیشن گروپ سیکرٹریز کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار میں علاقائی کشیدگی اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کے چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں فورم آف انفارمیشن گروپ سیکرٹریز (ایف آئی جی ایس) کے زیر اہتمام ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں مسلم ممالک کے مابین باہمی اتحاد، دفاعی تعاون کے فروغ اور بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیمینار کے مقررین نے خبردار کیا کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی وسیع تر علاقائی تصادم کا موجب بن سکتی ہے، جس کے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے خطاب کرتے ہوئے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کئی دہائیوں پر محیط دشمنی، پابندیوں اور ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی پالیسیوں سے متعلق اختلافات کا نتیجہ قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران 1979 کے انقلاب کے بعد سے مسلسل دباؤ، پابندیوں اور دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے اس عرصے کے دوران ایران کے لیے پاکستان کی حمایت کا بھی ذکر کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور تہران 2003 سے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2018 میں امریکہ کی جانب سے جے سی پی او اے سے دستبرداری نے بحران کو مزید مشکل بنا دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق سفیر اشرف جہانگیر قاضی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں ایران کی ممکنہ شمولیت کے حوالے سے پاکستان کو درپیش سفارتی چیلنجز کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس معاہدے کو ایران کے خلاف سمجھا گیا تو پاکستان کو مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سفیر انعام الحق نے مسلم ممالک کے دفاعی تعاون کو ایران سمیت دیگر مسلم ریاستوں تک وسعت دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اجتماعی تعاون سے علاقائی سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے اور تنازعات کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ متوازن خارجہ پالیسی اختیار کرے، اپنی داخلی استعداد کو مضبوط بنائے اور معاشی مشکلات کے تناظر میں اپنے تزویراتی وعدوں کا محتاط جائزہ لے۔ انہوں نے چین کے ساتھ تعلقات کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد نعیم لودھی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے ساتھ تنازع میں اپنے اہم مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مزید کشیدگی تصادم کو وسیع کر سکتی ہے جس کے علاقائی اور عالمی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھے اور موجودہ معاہدوں کے ممکنہ اثرات کا محتاط جائزہ لے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت اور بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورت حال کو بھی اجاگر کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ مسلم ممالک باہمی تعاون کو مضبوط بنائیں، اختلافات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو مسلم دنیا میں تقسیم کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیمینار کی نظامت اطلاعات و نشریات کے سابق وفاقی سیکرٹری اشفاق احمد گوندل نے کی جبکہ فورم آف انفارمیشن گروپ سیکرٹریز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شفقت جلیل نے انتظامی امور کی نگرانی کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیمینار میں ارکان پارلیمنٹ، انفارمیشن گروپ کے افسران، سول سرونٹس، سفارت کاروں اور میڈیا نمائندوں نے شرکت کی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2182/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مشرقِ وسطیٰ میں نئی سکیورٹی ساخت: ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کا مکہ اتحاد</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2060/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2060/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 22:57:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بدر_اتحاد]]></category>
		<category><![CDATA[ترکی]]></category>
		<category><![CDATA[حاقان_فیدان]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_صنعت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[سکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d8%b4%d8%b1%d9%82-%d9%88%d8%b3%d8%b7%db%8c%d9%b0-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d8%a6%db%8c-%d8%b3%da%a9%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%b9%db%8c-%d8%b3%d8%a7%d8%ae%d8%aa-%d8%aa%d8%b1%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[ترکی کی جانب سے ’علاقائی ملکیت‘ کے تصور کے تحت مکہ اور بدر اتحاد کا قیام مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی اور دفاعی تعاون کا نیا باب ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ترکی کی حالیہ خارجہ اور سکیورٹی پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی مشرقِ وسطیٰ کے اہم ممالک کے ساتھ مختلف اتحادوں اور تعاون کے نظاموں کا قیام ہے۔ انقرہ اپنی اس پالیسی کو ’علاقائی ملکیت‘ کا نام دیتا ہے، جس کا مقصد خطے کے مسائل کا حل مقامی سطح پر تلاش کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس حکمتِ عملی کے تحت ترکی نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر ’مکہ اتحاد‘ قائم کیا ہے، جبکہ قطر، پاکستان اور انڈونیشیا کے ساتھ ’بدر‘ اتحاد کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد خطے میں ایک مربوط سکیورٹی ڈھانچہ تشکیل دینا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کے مطابق، جب بیرونی طاقتیں خطے کے معاملات میں مداخلت کرتی ہیں تو عدم استحکام بڑھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی، اقتصادی استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے منظم ادارہ جاتی ڈھانچوں کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر 7 اگست کو دستخط کیے گئے، جس میں ترکی، پاکستان اور سعودی عرب شامل ہیں۔ اس معاہدے کی اہم شق کے مطابق، کسی ایک رکن ملک پر بیرونی مسلح حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثلت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترکی کی وزارتِ دفاع کے مطابق، مکہ اتحاد کا مقصد کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ اجتماعی دفاع اور باز دار قوت کو مضبوط بنانا ہے۔ ترک پارلیمان سے منظوری کے بعد اس معاہدے کے تحت عملی فوجی تعاون کا دائرہ کار مزید وسیع ہونے کا امکان ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب، 21 اکتوبر کو دوحہ میں ترکی، قطر، پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان ’بدر‘ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ اس کا بنیادی مقصد دفاعی صنعت میں مشترکہ منصوبوں، تحقیق و ترقی، بنیادی ڈھانچے اور سپلائی چین کو مضبوط بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بدر اتحاد میں شامل ممالک ترکی کے پہلے مقامی جنگی طیارے ’کان‘ منصوبے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ مفاہمت رکن ممالک کے درمیان طویل المدت اور پائیدار تزویراتی شراکت داری قائم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترکی کی وزارتِ خارجہ کے ذرائع کے مطابق، ’آر 4‘ (ترکی، مصر، پاکستان، سعودی عرب) گروپ بھی علاقائی مسائل پر مکالمے کے لیے ایک اہم فورم بن چکا ہے۔ اس گروپ کے وزرائے خارجہ اب تک چھ مرتبہ ملاقاتیں کر چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">استنبول میں آر 4 اور یورپی ممالک کے ’ای 3‘ گروپ کے وزرائے خارجہ کی ملاقات بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ اور یورپ سے متعلق اہم امور پر ہم آہنگی پیدا کرنا اور علاقائی استحکام کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ دفاعی معاہدے مکمل طور پر نافذ ہو جاتے ہیں تو مکہ اتحاد مشرقِ وسطیٰ میں ایک نیا اجتماعی دفاعی ڈھانچہ ابھرے گا، جس میں ترکی، پاکستان اور سعودی عرب مرکزی کردار ادا کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترکی اپنی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی دفاعی صنعت کے لیے نئی منڈیاں تلاش کر رہا ہے۔ مکہ اور بدر اتحاد کے ذریعے انقرہ اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ عسکری سازوسامان کی مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس اتحاد کے بارے میں مثبت رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ تاہم، یہ دیکھنا باقی ہے کہ مستقبل میں یہ اتحاد خطے میں درپیش سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کس حد تک عملی اقدامات اٹھانے میں کامیاب ہوتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2060/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعاون کا اہم معاہدہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1770/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1770/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 00:56:50 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انڈونیشیا]]></category>
		<category><![CDATA[بدر_مفاہمتی_یادداشت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[ترکیہ]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ_آصف]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_صنعت]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_معاہدہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%aa%d8%b1%da%a9%db%8c%db%81-%d9%82%d8%b7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%86%da%88%d9%88%d9%86%db%8c%d8%b4%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[چاروں ممالک نے سکیورٹی اور دفاعی صنعت میں مشترکہ تحقیق و ترقی کے فروغ کے لیے 'بدر مفاہمتی یادداشت' پر دستخط کر دیے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے باہمی دفاعی اور سکیورٹی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک اعلیٰ سطحی تقریب کے دوران طے پایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تاریخی معاہدے کو &#039;بدر مفاہمتی یادداشت&#039; کا نام دیا گیا ہے۔ اس اہم دستاویز پر دستخط کرنے والوں میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف، ترکیہ کے وزیر قومی دفاع یاشار گولر، قطر کے وزیر مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمٰن الثانی شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انڈونیشیا کی جانب سے اس معاہدے پر ان کے نائب وزیر دفاع یوسف جوہری نے دستخط کیے۔ اس موقع پر چاروں ممالک کے اعلیٰ حکام نے دفاعی شعبے میں باہمی تعاون کو خطے کے امن اور استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترک وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس معاہدے کا بنیادی مقصد چاروں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان قریبی روابط استوار کرنا اور جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاہدے کے تحت چاروں ممالک مشترکہ فوجی مشقوں کے انعقاد اور پیشہ ورانہ تربیتی تعاون کو مزید وسعت دیں گے۔ اس سے نہ صرف افواج کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دفاعی تحقیق اور ترقی (R&amp;D) کے شعبے میں تعاون اس معاہدے کا ایک کلیدی حصہ ہے۔ چاروں ممالک اپنی دفاعی صنعتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مشترکہ منصوبوں پر کام کریں گے تاکہ خود انحصاری کو فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترک دفاعی صنعتی ایجنسی نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ یہ مفاہمتی یادداشت پہلے سے جاری دفاعی منصوبوں کو تیز کرنے اور نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے ایک مضبوط فریم ورک فراہم کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے لیے یہ معاہدہ دفاعی شعبے میں اپنی شراکت داری کو متنوع بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس سے قبل بھی پاکستان ترکیہ اور قطر کے ساتھ مختلف دفاعی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قطر کی میزبانی میں ہونے والی اس تقریب کو خطے کے دفاعی توازن کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ چاروں ممالک کے درمیان یہ اشتراک عمل مستقبل میں دفاعی پیداوار میں خود کفالت کی جانب ایک بڑا قدم ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان چاروں ممالک کا دفاعی اتحاد نہ صرف ان کی اپنی سکیورٹی ضروریات کو پورا کرے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مضبوط دفاعی بلاک کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس موقع پر کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت برادر ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دفاعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترک وزیر دفاع یاشار گولر نے بھی اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ چاروں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کا یہ نیا باب خطے میں امن کے قیام کے لیے معاون ثابت ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1770/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1764/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1764/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 23:57:50 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ایس_پی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر_محمد_معیزو]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%be-%da%a9%db%92-%d8%b5%d8%af%d8%b1-%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af-%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%b2%d9%88-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[ملاقات میں پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دفاعی تعاون، ادارہ جاتی روابط اور خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آئے۔ اس ملاقات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سٹریٹجک روابط کو مزید مستحکم کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات کے دوران خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ علاقائی استحکام کے لیے باہمی تعاون کا فروغ ناگزیر ہے اور اس کے لیے مسلسل رابطے ضروری ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات میں پاکستان اور مالدیپ کے مابین دفاعی شعبے میں تعاون کو بڑھانے، ادارہ جاتی روابط کو مستحکم کرنے اور پیشہ ورانہ تبادلوں کے عمل کو تیز کرنے پر زور دیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کا عزم ظاہر کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں اور کردار کا بھی اعتراف کیا اور اسے سراہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دونوں ممالک کے درمیان یہ اعلیٰ سطحی رابطہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اور مالدیپ کے تعلقات مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں۔ اس طرح کے دورے اور ملاقاتیں دونوں برادر ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے عمل کو مزید تقویت دیتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور مالدیپ کے مابین دفاعی تعاون کا فروغ نہ صرف دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ یہ جنوبی ایشیا میں امن و امان کے قیام کے لیے بھی ایک مثبت پیش رفت ہے۔ دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں بھی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مالدیپ کے صدر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے دوست ممالک کے ساتھ دفاعی اور سکیورٹی امور پر تعاون جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی ترقی کے لیے باہمی تعاون ہی واحد راستہ ہے جو پائیدار امن لا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے پاکستان کی میزبانی اور مسلح افواج کی جانب سے فراہم کردہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالدیپ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور انہیں مزید وسعت دینے کا خواہشمند ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ دفاعی اور پیشہ ورانہ شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھایا جائے گا۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی جانب سے خطے میں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کا عالمی سطح پر بھی اعتراف کیا جاتا ہے۔ مالدیپ کے صدر کا دورہ پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو خطے میں امن کی نوید ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی ایس پی آر کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے تمام اہم امور پر اتفاق رائے پایا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ روابط مستقبل میں مزید گہرے ہونے کی توقع ہے جو دونوں اقوام کے مفاد میں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ملاقات نے دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی اور دفاعی شراکت داری کو ایک نئی جہت فراہم کی ہے۔ پاکستان اور مالدیپ کے مابین اس طرح کے اعلیٰ سطحی رابطے نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ علاقائی سلامتی کے لیے بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1764/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1752/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1752/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 18:38:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ایس_پی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_مالدیپ_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر_محمد_معیزو]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتکاری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%be-%da%a9%db%92-%d8%b5%d8%af%d8%b1-%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af-%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%b2%d9%88-%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%a7%da%a9/</guid>

					<description><![CDATA[صدر مالدیپ نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے پاکستان کے دورے کے دوران پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارتوں اور صلاحیتوں کی بھرپور تعریف کی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مسلسل اور فعال کردار ادا کر رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، صدر مالدیپ کی جانب سے یہ اظہار خیال ایک اہم ملاقات کے دوران کیا گیا۔ انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے خطے کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران پاکستان اور مالدیپ کے مابین دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی دوستانہ روابط کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون بڑھ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دفاعی تعاون کے حوالے سے بات کرتے ہوئے دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اس شعبے میں روابط کو مزید مستحکم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ دفاعی شراکت داری کو فروغ دینے سے دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے پاکستان کی جانب سے مالدیپ کے ساتھ تعاون کے جذبے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات مالدیپ کی خارجہ پالیسی میں خاص اہمیت رکھتے ہیں اور وہ ان تعلقات کو مزید مضبوط دیکھنے کے خواہاں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی ایس پی آر کے اعلامیے کے مطابق، ملاقات میں علاقائی صورتحال پر بھی گفتگو کی گئی۔ پاکستان نے خطے میں امن کے لیے اپنی پرعزم پالیسی کا اعادہ کیا، جسے مالدیپ کے صدر نے سراہتے ہوئے پاکستان کی کوششوں کو خطے کے لیے ناگزیر قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے ورکنگ گروپس کے قیام پر بھی غور کیا گیا۔ اس سے قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان مختلف سطحوں پر روابط رہے ہیں، تاہم موجودہ دورہ ان تعلقات میں ایک نیا باب ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور مالدیپ کے مابین ثقافتی اور اقتصادی شعبوں میں بھی تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی سطح پر روابط بڑھانے سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان قربتیں مزید بڑھیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر مالدیپ نے پاکستان کی میزبانی کا شکریہ ادا کیا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دورہ ان کے لیے انتہائی مفید رہا اور وہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کے حوالے سے پرامید ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی جانب سے بھی مالدیپ کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ ملاقات اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان خطے کے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں سیکیورٹی اور استحکام کے حوالے سے پاکستان کا کردار انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی جانب سے امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دفاعی اور اقتصادی شعبوں میں مزید معاہدوں کی توقع کی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کے حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1752/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>منصوبہ بدر علاقائی امن اور دفاعی تعاون کا عکاس ہے: خواجہ آصف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1739/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1739/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 15:56:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انڈونیشیا]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_آرمی]]></category>
		<category><![CDATA[ترکیہ]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ_آصف]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_پیداوار]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[دوحہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[علاقائی_امن]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d9%86%d8%b5%d9%88%d8%a8%db%81-%d8%a8%d8%af%d8%b1-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%85%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%d9%81%d8%a7%d8%b9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[پاکستان، قطر، انڈونیشیا اور ترکیہ کے مابین دفاعی صنعتوں میں اشتراک کے لیے اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان، قطر، انڈونیشیا اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے نئے اور اہم منصوبے &#039;بدر&#039; کی مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط کر دیے گئے ہیں جس کا مقصد چاروں برادر اور دوست ممالک کے مابین دفاعی صنعتوں میں باہمی اشتراک کو نئی بلندیوں تک لے جانا ہے۔ اس اہم پیشرفت سے علاقائی امن و استحکام کو فروغ ملے گا اور تمام شریک ممالک کی دفاعی پیداواری صلاحیتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقد ہونے والی اس پُر وقار دستخطی تقریب میں چاروں ممالک کے وزرائے دفاع اور متعلقہ اعلیٰ دفاعی حکام نے بھرپور شرکت کی۔ تقریب کے دوران دفاعی شعبے میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور مستقبل کے لائحہ عمل پر اتفاق رائے پیدا کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پاکستان کی نمائندگی وزیر دفاع خواجہ آصف اور وفاقی وزیر دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج نے کی۔ اس کے علاوہ ترکیہ کے وزیر دفاع یاشار گولر اور انڈونیشیا کے نائب وزیر دفاع سمیت دیگر اعلیٰ عسکری حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے بعد اپنے ایک بیان میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس مفاہمتی یادداشت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے قابل اعتماد شراکت داروں کے ساتھ دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط بنانے کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے ہمارے مشترکہ پختہ عزم کا واضح مظہر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع نے مزید کہا کہ اس منصوبے کے تحت بین الاقوامی اور ملکی قوانین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے خود کفالت کے حصول، صنعتی تعاون، مشترکہ پیداوار اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کے تمام ممکنہ مواقع تلاش کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اشتراک کا بنیادی مقصد مشترکہ تحقیق و ترقی کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قطر کی وزارت دفاع کی جانب سے اس موقع پر جاری کردہ تفصیلی بیان میں بتایا گیا کہ بدر منصوبے کا اصل ہدف چاروں ممالک کے درمیان دفاعی پیداوار کے شعبے میں طویل المدتی اشتراک قائم کرنا ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے اور جدید خطوط پر استوار کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت کی رو سے دفاعی تربیت کے ساتھ ساتھ تحقیق اور ترقی کے شعبوں کو بھی خصوصی اہمیت دی جائے گی۔ اس سے جدید دفاعی تقاضوں کے مطابق ٹیکنالوجی اور صنعتی حل تلاش کرنے میں مدد ملے گی جو خطے کے دفاعی ڈھانچے کو مستحکم کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منصوبہ بدر کے تحت چاروں ممالک کی انفرادی اور اجتماعی دفاعی پیداواری صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کیا جائے گا تاکہ دفاعی صنعتوں میں باہمی اشتراک اور پیداواری استعداد میں اضافہ کیا جا سکے، جو کہ ایک مستحکم مستقبل کی ضمانت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ مشترکہ منصوبہ نہ صرف شریک ممالک کی اپنی دفاعی ضروریات کو پورا کرے گا بلکہ اتحادی اور دوست ممالک کے لیے بھی ایک مضبوط تعاون کا پلیٹ فارم مہیا کرے گا، جس سے تکنیکی شراکت داری کو جلا ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ اس مفاہمتی یادداشت کے عملی نفاذ کے لیے جلد ہی ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے جو باہمی تعاون کے مختلف منصوبوں کو حتمی شکل دے کر ان پر جلد عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1739/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب کی خودمختاری اور حرمین کے تحفظ کا ضامن ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1422/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1422/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 09:37:31 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[احمد_شریف_چودھری]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_سعودی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[حرمین_شریفین]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[ڈی_جی_آئی_ایس_پی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%da%a9%db%81-%d8%af%d9%81%d8%a7%d8%b9%db%8c-%d9%85%d8%b9%d8%a7%db%81%d8%af%db%81-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کیلئے ہر ممکن تعاون کے عزم پر قائم ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ترجمان پاک فوج اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی اہمیت اور اس کے مقاصد پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاہدے پر تنقید کرنے والے وہی عناصر ہیں جنہیں اس کے قیام سے بنیادی طور پر مسائل درپیش ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کسی بھی معاہدے کی افادیت اور اصل قدر کا اندازہ اس کے نتائج سے لگایا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ تین ممالک کی مشترکہ سوچ کا نتیجہ ہے اور یہ تینوں ممالک کے درمیان قائم تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا عملی مظہر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ بہت قلیل مدت میں تیزی سے آگے بڑھا ہے، جو اس کی ضرورت اور اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ سعودی عرب کی خودمختاری اور حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان کے لیے ناقابلِ سمجھوتہ ہے اور اس پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے مزید کہا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پوری مسلم امہ کے لیے انتہائی عقیدت اور اہمیت کے حامل مقامات ہیں۔ پاکستان ان مقدس مقامات اور سعودی عرب کی سلامتی کے لیے ہر قسم کے ضروری اقدامات اٹھانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تعلقات باہمی اعتماد، گہری دوستی اور سلامتی کے شعبے میں تعاون پر استوار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مزید مستحکم ہوئے ہیں اور ان کی بنیادیں بہت مضبوط ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں اعادہ کیا کہ سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔ پاکستان ہر مشکل وقت میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور مستقبل میں بھی اپنے برادر ملک کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ اس دفاعی معاہدے کا مقصد خطے میں استحکام لانا اور مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے۔ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کے تحت مسلم دنیا، بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو ہمیشہ ترجیح دیتا رہا ہے اور یہ پالیسی بدستور جاری رہے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے والے عناصر حقائق کو نظر انداز کر کے پروپیگنڈا کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ معاہدہ خطے کے امن اور سلامتی کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ پاکستان اس معاہدے کی کامیابی کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی مسلح افواج سعودی عرب کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے تعاون جاری رکھیں گی۔ سعودی عرب کی سلامتی کو پاکستان کی اپنی سلامتی کا حصہ سمجھا جاتا ہے اور اس ضمن میں کسی بھی قسم کی کوتاہی کی گنجائش نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بیان پاکستان کے سرکاری موقف کی بھرپور ترجمانی کرتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا یہ نیا باب دونوں ممالک کے لیے اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان ہمیشہ سے عالم اسلام کے اتحاد اور تحفظ کے لیے کوشاں رہا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اشتراک پاکستان کی اس پالیسی کا ایک اہم حصہ ہے جس کا مقصد مسلم امہ کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1422/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مصر کا سعودی عرب کے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1189/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1189/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 01:17:53 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب_مصر_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[سلامتی]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d9%85%d8%b5%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%81%d8%a7%d8%b9-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%db%81%d8%b1-%d9%85%d9%85%da%a9%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی مصر کی سلامتی ہے اور کسی بھی خطرے کی صورت میں بھرپور تعاون کیا جائے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ قاہرہ میں مصری ملٹری اکیڈمی میں تقریب تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی سلامتی مصر کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور ان کا ملک اسے کسی بھی قسم کا نقصان پہنچتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر السیسی نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ اگر سعودی عرب کی جانب سے مصر سے مدد کی درخواست کی گئی تو قاہرہ فوری طور پر اپنے برادر ملک کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سلسلے میں کی جانے والی تمام تر کارروائیاں مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی ہوں گی اور ان کا مقصد کسی بھی فریق کے خلاف جارحیت یا حملہ کرنا ہرگز نہیں ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مصر کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی کے اس اہم اعلان کے بعد قاہرہ میں سیاسی و سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ مصری صدر نے اس معاملے پر صدارتی فیصلے کی توثیق حاصل کرنے کے لیے ملک کی پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا ہے جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور دفاعی تعاون کے امور پر غور کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مصر اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور سٹریٹجک تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں کرتے رہے ہیں اور اہم علاقائی مسائل پر ان کا موقف اکثر ہم آہنگ رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مصری پارلیمنٹ کے ہنگامی اجلاس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کن حالات میں اور کس نوعیت کی دفاعی معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس اجلاس کا مقصد قومی سطح پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور موثر فیصلہ سازی ممکن ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب اور مصر کے مابین دفاعی معاہدے اور سٹریٹجک شراکت داری خطے میں ایک اہم قوت کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان فوجی مشقیں اور انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بھی معمول کا حصہ ہے جس سے ان کے باہمی تعلقات کی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر عبدالفتاح السیسی نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ مصر ہمیشہ سے خطے میں قیام امن کے لیے کوشاں رہا ہے اور کسی بھی ملک کے خلاف جنگی عزائم نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کا واحد مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی قوتوں کو روکنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عرب دنیا کے دو بڑے ممالک کے درمیان اس قریبی تعاون کو عالمی سطح پر بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔ سفارتی مبصرین کا ماننا ہے کہ مصر کا یہ اعلان خطے میں ایک واضح پیغام ہے کہ سعودی عرب تنہا نہیں ہے اور اسے اپنے برادر اسلامی ممالک کی مکمل حمایت حاصل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مصر کی جانب سے پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ قاہرہ اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ پارلیمنٹ کی توثیق کے بعد مصر کے پاس کسی بھی ہنگامی صورتحال میں سعودی عرب کی مدد کے لیے قانونی اور آئینی راستہ ہموار ہو جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطے کے دیگر ممالک بھی مصر اور سعودی عرب کے اس مضبوط دفاعی تعلق پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کی جانب سے مشترکہ دفاعی حکمت عملی اپنانا خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر السیسی نے اپنے خطاب کے اختتام پر ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ مصر اپنے برادر ملک کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مصری قوم اور فوج اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر مشکل وقت میں ان کا بھرپور ساتھ دیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں مصر اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے مزید شعبوں میں وسعت متوقع ہے۔ دونوں ممالک کے عسکری حکام کے درمیان رابطے جاری ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط اور موثر لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1189/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، پاکستان کا سعودی عرب کی سلامتی کے لیے عزم کا اعادہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1176/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1176/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 22:37:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی_ملیشیا]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر_راجح_تامی_البقمی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d8%b4%d8%b1%d9%82-%d9%88%d8%b3%d8%b7%db%8c%d9%b0-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%b4%db%8c%d8%af%da%af%db%8c-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل تعاون کا یقین دلایا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے تناظر میں پاکستان نے ایک بار پھر سعودی عرب کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سعودی سفیر ڈاکٹر راجح تامی البقمی نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم شہباز شریف نے اس اہم ملاقات کے دوران حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کے شہری اور دفاعی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے ان حملوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کو اپنی سلامتی سمجھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون تاریخی نوعیت کا حامل ہے اور دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں واضح کیا ہے کہ پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اپنی تمام تر ذمہ داریاں نبھانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں جاری تنازعات کے پرامن حل کا خواہاں ہے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی فوجی اتحاد کے مطابق، حوثیوں کی جانب سے ریاض، ینبع اور بحیرہ احمر کے اہم تجارتی راستوں کو نشانہ بنانے کی حالیہ کوششیں ناکام بنا دی گئی ہیں۔ اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب حوثی ملیشیا کی جانب سے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات نے عالمی تجارت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ سعودی نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی نے ان کارروائیوں کو جنگی جرائم کے مترادف قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات ایران اور امریکہ کے تعلقات پر بھی نمایاں ہیں۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے خطے میں اقتصادی اور سیاسی دباؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ ایران کی قیادت نے ان اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے قومی وقار پر سمجھوتہ نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگوں کی وجہ سے نہ صرف انسانی بحران پیدا ہو رہا ہے بلکہ ماحولیاتی تباہی بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عالمی فورمز پر زور دیا ہے کہ خطے میں جاری جارحیت کو ماحولیاتی نسل کشی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیانات میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق شدید خدشات کا اظہار کیا ہے، تاہم انہوں نے زمینی فوج بھیجنے کے امکان کو مسترد کیا ہے۔ عالمی طاقتیں، بشمول روس اور چین، اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں لیکن تاحال کسی بڑے بریک تھرو میں کامیابی نہیں مل سکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">غزہ کے تنازع اور اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں نے بھی خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھایا ہے۔ حال ہی میں باکو میں منعقدہ ایک کانفرنس کے دوران اسرائیلی صدر کی تقریر پر پاکستان اور ترکیہ سمیت کئی ممالک کے نمائندوں نے اجلاس سے واک آؤٹ کر کے اپنے احتجاج کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کا موقف ہے کہ عالمی طاقتوں کو مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ اگر عالمی برادری، بشمول یورپی یونین اور دیگر اہم ممالک، متفقہ لائحہ عمل اپنائیں تو خطے میں جاری خونریزی کو روکنے اور امن کی بحالی کے لیے راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی شراکت داری دہائیوں پر محیط ہے، جس میں مکہ دفاعی اتحاد ایک اہم سنگِ میل ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات علاقائی امن و استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں اور پاکستان ہر مشکل گھڑی میں برادر ملک کے ساتھ کھڑا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں یمن کے تنازع کے حوالے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے، جس کے پیشِ نظر عالمی برادری پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سفارتی کوششوں کو تیز کرے۔ پاکستان نے ہمیشہ پرامن بقائے باہمی کے اصولوں کو فروغ دینے پر زور دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1176/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
