<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.16.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>دشتگردی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%af%d8%b4%d8%aa%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Fri, 23 Oct 2026 12:57:48 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>دشتگردی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پی ٹی آئی کو سیاسی عمل سے باہر نہیں کیا جا سکتا: شوکت یوسف زئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%a9%d9%88-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d8%b9%d9%85%d9%84-%d8%b3%db%92-%d8%a8%d8%a7%db%81%d8%b1-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%da%a9%db%8c%d8%a7/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%a9%d9%88-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d8%b9%d9%85%d9%84-%d8%b3%db%92-%d8%a8%d8%a7%db%81%d8%b1-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%da%a9%db%8c%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 12:57:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بیرسٹر_گوہر]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوریت]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دشتگردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رانا_ثنا_اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[شوکت_یوسف_زئی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کرک_واقعہ]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%a9%d9%88-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d8%b9%d9%85%d9%84-%d8%b3%db%92-%d8%a8%d8%a7%db%81%d8%b1-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%da%a9%db%8c%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسف زئی نے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کو ملکی سیاست سے مائنس کرنے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوں گی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسف زئی نے وفاقی حکومت کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت کو سیاسی منظرنامے سے نکالنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف ملک کی ایک بڑی اور مقبول سیاسی قوت ہے جسے عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور اسے کسی بھی سازش کے ذریعے پسپا نہیں کیا جا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شوکت یوسف زئی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت پر جتنے بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں ان میں کوئی صداقت نہیں ہے اور حکمرانوں کو الزامات کی سیاست ترک کر کے زمینی حقائق کا ادراک کرنا چاہئے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر حکومت کو تحریک انصاف کی عوامی مقبولیت کے بارے میں کسی قسم کا بھی شک ہے تو وہ ملک میں فوری طور پر آزادانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد کروا لیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی رہنما نے ضلع کرک کے علاقے میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس اندمناک واقعے میں ڈی ایس پی اور ایس ایچ او سمیت پولیس کے چار بہادر جوانوں کی شہادت پر پورا خیبر پختونخوا سوگوار ہے۔ انہوں نے شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک و قوم کی خاطر جانیں قربان کرنے والے یہ سپاہی ہمارے ہیرو ہیں جن کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف دہشت گردی کے خلاف جاری قومی جنگ سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی اور نہ ہی عناصرِ بد کے ساتھ جماعت کا کوئی تعلق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری قوم اور تمام ادارے ایک ہی صف میں کھڑے ہیں اور پی ٹی آئی نے ہمیشہ ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شوکت یوسف زئی نے مزید کہا کہ وزیروں اور مشیروں کو بیانات دیتے وقت انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہئے اور غیر ذمہ دارانہ گفتگو سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ اس وقت ملک اتحاد اور یکجہتی کا متقاضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ اب بند ہونا چاہئے کیونکہ اب عوام کو عملی اقدامات اور کارکردگی کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی ترجمان نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا کو پشاور میں بیٹھ کر صرف پریس کانفرنسیں کرنے کے بجائے کرک جا کر شہدا کے جنازوں میں شرکت کرنی چاہئے تھی اور غمزدہ لواحقین کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ زبانی جمع خرچ سے اب معاملات حل نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات اور متاثرہ خاندانوں کی دلجوئی وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاق اور صوبے کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے شوکت یوسف زئی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو ماضی میں مالی مشکلات اور فنڈز کی عدم دستیابی کا سامنا رہا ہے جبکہ اب وفاقی سطح پر حالات مختلف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ کس کو کتنے وسائل میسر ہیں اور کون سی حکومت کس طرح عوامی خدمت کے فرائض سر انجام دے رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارٹی کے اندرونی امور کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے پارٹی میں کسی بھی قسم کے اختلافات کی خبروں کو یکسر مسترد کر دیا اور انہیں مخالفین کا پروپیگنڈا قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمانی پارٹی کے تمام فیصلے اتفاق رائے سے ہوتے ہیں اور ان فیصلوں کو غلط رنگ دینے کی شعوری کوشش کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شوکت یوسف زئی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف چیئرمین بیرسٹر گوہر کی قیادت میں مکمل طور پر متحد ہے اور قومی و صوبائی اسمبلی کے تمام ارکان پارٹی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی تنظیم میں کسی قسم کی ردوبدل کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور جنید اکبر بدستور صوبائی صدر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ تحریک انصاف نے ملکی دفاع اور سلامتی پر کبھی کوئی سمجھوتا نہیں کیا اور جب بھی وطن عزیز کو کسی بیرونی یا اندرونی خطرے کا سامنا ہوا، پارٹی نے ہمیشہ ریاست اور اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ انہوں نے ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ عوامی طاقت سے لیس اس جماعت کو دباؤ کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مزید برآں، شوکت یوسف زئی نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے باہمی تعاون کتنا ضروری ہے لیکن بدقسمتی سے حکمران جماعت الزامات کی سیاست میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے ہمیشہ جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد کی ہے اور آئندہ بھی آئین کے دائرے میں رہ کر اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبے کے عوام نے جن لوگوں پر اعتماد کیا ہے ان کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں اور حکومت کو صوبے کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانا چاہئے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام سیاسی قوتیں مل کر ملک کو موجودہ چیلنجز سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر آہنگ اور ہم آہنگی ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، بشرطیکہ سیاسی انتقام کی بجائے عوام کی فلاح کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پی ٹی آئی اپنے مؤقف پر قائم رہے گی اور عوامی حقوق کی جنگ ہر سطح پر لڑی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%a9%d9%88-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d8%b9%d9%85%d9%84-%d8%b3%db%92-%d8%a8%d8%a7%db%81%d8%b1-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%da%a9%db%8c%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق ایوان کا اختیار ہے: اعظم نذیر تارڑ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%b1%d8%ac%d9%86%d8%b3%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%b1%d8%ac%d9%86%d8%b3%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 11:17:14 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[آئین_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اعظم_نذیر_تارڑ]]></category>
		<category><![CDATA[امنوامان]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_پولیٹکس]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دشتگردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[وزیر_قانون]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%b1%d8%ac%d9%86%d8%b3%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر قانون نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے سنگین امن و امان کے حالات میں سیاست کو چھوڑ کر ریاست کو ترجیح دی گئی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں نافذ کی جانے والی ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کرنا پارلیمنٹ کا بنیادی اور آئینی اختیار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب کسی صوبے میں حالات اس نہج پر پہنچ جائیں کہ امن و امان کی صورتحال شدید خراب ہو اور صوبہ جل رہا ہو، تو ایسی گھڑی میں تمام سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ریاست کی بقا اور سلامتی کو سب سے مقدم رکھا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر نے ایوان کو آگاہ کیا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران خیبرپختونخوا کے اندر دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے ریاستی اداروں کو بھی چوکنا کر دیا ہے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر دو ہزار پچیس تک ملک بھر میں اور بالخصوص اس خطے میں تین ہزار سات سو سے زائد دہشت گردی کے روح فرسا واقعات رونما ہو چکے ہیں، جن کا مقابلہ کرنے کے لیے پیشگی تیاریوں کا فقدان صاف دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعظم نذیر تارڑ نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اتنے سنگین اور ہنگامی حالات کے باوجود صوبے میں ایک فورنزک لیبارٹری تک کا قیام عمل میں نہیں لایا جا سکا ہے جو کہ جرائم اور دہشت گردی کی تفتیش کے لیے انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید بتایا کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ یعنی سی ٹی ڈی کا ڈھانچہ بھی اب تک نامکمل پڑا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس محکمے کو مطلوبہ وسائل اور توجہ نہیں دی گئی، جبکہ اس وقت کے صوبائی وزیر اعلیٰ کی تمام تر توجہ صرف اور صرف سیاسی سرگرمیوں پر مرکوز رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئینی عمل کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر قانون نے ایوان کو بتایا کہ جب بھی کسی صوبے کے انتظامی اور حکومتی معاملات آئینی طریق کار اور قانون کے دائرے سے ہٹ کر چلائے جانے لگیں، تو صوبے کا گورنر آئین کے مطابق صدر مملکت کو صورتحال سے باقاعدہ تحریری طور پر آگاہ کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ صدر مملکت نے زمینی حقائق کا تفصیلی جائزہ لینے اور مکمل اطمینان حاصل کرنے کے بعد ہی وزیراعظم کی جانب سے دی گئی ایڈوائس کی منظوری دی ہے، جس کے بعد یہ آئینی اقدامات عمل میں لائے گئے تاکہ صوبے میں مزید ابتری کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے ایوان میں گفتگو جاری رکھتے ہوئے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ اس تمام صورتحال کے تناظر میں اب سہیل آفریدی اس منصب پر فائز نہیں ہیں، اور آئینی تقاضوں کے تحت ہی تمام امور چلائے جا رہے ہیں تاکہ انتظامی خلا کو پُر کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ریاست کی رٹ کو بحال رکھنا اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا حکومت کی اولین آئینی ذمہ داری ہے، جس میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ صوبے کے عوام امن کے متلاشی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قومی اسمبلی کے اس اہم اجلاس میں امن و امان کی ابتر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور اراکین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صوبے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے وفاق اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر اور مربوط تعاون ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر قانون نے اس موقع پر انٹیلی جنس رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زمینی حقائق اور سیاسی بیانیے میں بڑا تضاد پایا جاتا ہے، جسے دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور قانون کی حکمرانی کو ہر صورت میں یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے ایوان میں پیش کی گئی ان تفصیلات کے بعد پارلیمانی اراکین کی جانب سے اس آئینی قدم پر مزید بحث کا آغاز ہو چکا ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ ایوان اس حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل کا باقاعدہ فیصلہ کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%b1%d8%ac%d9%86%d8%b3%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
