<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.21.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>دریا &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%a7/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Fri, 23 Oct 2026 03:37:42 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>دریا &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پنجاب حکومت کا آبی ذخائر کو آلودگی سے محفوظ بنانے کیلئے جدید مانیٹرنگ کا آغاز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%a2%d8%a8%db%8c-%d8%b0%d8%ae%d8%a7%d8%a6%d8%b1-%da%a9%d9%88-%d8%a2%d9%84%d9%88%d8%af%da%af%db%8c-%d8%b3%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%a2%d8%a8%db%8c-%d8%b0%d8%ae%d8%a7%d8%a6%d8%b1-%da%a9%d9%88-%d8%a2%d9%84%d9%88%d8%af%da%af%db%8c-%d8%b3%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 03:37:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[آبی_ذخائر]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پانی_کا_معیار]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[دریا]]></category>
		<category><![CDATA[دریائے_راوی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[سیوریج_ٹریٹمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ماحولیات]]></category>
		<category><![CDATA[ماحولیاتی_آلودگی]]></category>
		<category><![CDATA[محکمہ_تحفظ_ماحولیات]]></category>
		<category><![CDATA[واٹر_کوالٹی_انڈیکس]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%a2%d8%a8%db%8c-%d8%b0%d8%ae%d8%a7%d8%a6%d8%b1-%da%a9%d9%88-%d8%a2%d9%84%d9%88%d8%af%da%af%db%8c-%d8%b3%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[صوبے بھر کے دریاؤں اور نہروں کے پانی کے معیار کی جانچ کیلئے 15 خودکار اسٹیشنز قائم کر دیے گئے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پنجاب حکومت نے صوبے کے آبی ذخائر کو آلودگی سے بچانے اور پانی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایک جامع منصوبہ شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد دریاؤں، نہروں اور قدرتی آبی ذخائر میں بڑھتی ہوئی آلودگی کی روک تھام اور سائنسی بنیادوں پر نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب کے تحت صوبے کے مختلف دریاؤں اور بیراجوں پر 15 خودکار مانیٹرنگ اسٹیشنز نصب کیے گئے ہیں۔ یہ جدید اسٹیشنز ہر گھنٹے بعد پانی کے 14 مختلف معیارات کا تجزیہ کر رہے ہیں، جس سے پانی کے معیار میں ہونے والی تبدیلیوں کا فوری پتہ چلایا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماحولیاتی مانیٹرنگ سینٹر کے انچارج نور احمد نے اس حوالے سے بتایا کہ جس طرح فضا کے معیار کو جانچنے کے لیے ایئر کوالٹی انڈیکس جاری کیا جاتا ہے، اسی طرح اب پانی کے معیار سے متعلق بھی باقاعدگی سے انڈیکس جاری کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نئے نظام کے ذریعے دریاؤں میں آلودگی کی سطح اور اس کے اسباب کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لینے میں مدد ملے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے آبی آلودگی کے ذرائع کی نشاندہی اور مستقبل کی پالیسی سازی میں بہتری آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مانیٹرنگ اسٹیشنز دریائے راوی پر راوی سائفن اور ہڈیارہ ڈرین کے سنگم، دریائے چناب پر ہیڈ مرالہ، خانکی اور ہیڈ تریموں جبکہ دریائے سندھ پر کالا باغ سمیت اہم مقامات پر قائم کیے گئے ہیں۔ ان مقامات سے حاصل کردہ ڈیٹا کو پالیسی سازی میں استعمال کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہڈیارہ ڈرین میں آلودگی کے ذرائع کا تعین کرنے کے لیے ایک خصوصی سائنسی تحقیق بھی جاری ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈرین کے 56 مختلف مقامات سے پانی کے نمونے لیے گئے ہیں تاکہ صنعتی فضلے اور شہری سیوریج کے اثرات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق کے دوران چاروں موسموں میں نمونوں کا تجزیہ کیا جائے گا تاکہ یہ تعین ہو سکے کہ آلودگی میں مقامی صنعتوں، شہری اخراج اور سرحد پار سے آنے والے پانی کا کتنا حصہ شامل ہے۔ اس سے آلودگی کے تدارک کیلئے ٹھوس حکمت عملی تیار کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی مشاہدات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ لاہور کے قریب ڈرین کے زیریں حصے میں آلودگی کی سطح زیادہ ہے۔ دریائے راوی میں نارووال اور ظفروال کے مقامات پر پانی نسبتاً صاف رہتا ہے، تاہم لاہور میں داخل ہونے کے بعد صورتحال تبدیل ہو جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے تقریباً 10 سے 11 مقامات سے غیر ٹریٹ شدہ شہری سیوریج اور صنعتی فضلہ براہ راست دریا میں شامل ہونے سے پانی کا معیار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے سیوریج کو دریا میں گرانے سے قبل صاف کرنا لازمی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پنجاب حکومت نے ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی صنعتوں کے خلاف کارروائی کے لیے خصوصی واٹر اسکواڈز بھی متحرک کر دیے ہیں۔ یہ اسکواڈز صنعتی فضلے کے اخراج کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں اور آلودگی پھیلانے والے اداروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں گندے پانی کو صاف کرنے کے لیے آٹھ سے نو ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔ ان میں سے کچھ منصوبوں پر عملی کام کا آغاز ہو چکا ہے جو مستقبل میں دریاؤں کو آلودگی سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا کہنا ہے کہ دریاؤں کو آلودگی سے مکمل طور پر پاک کرنے کے لیے مانیٹرنگ کے ساتھ ساتھ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی بروقت تکمیل اور ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ہے۔ حکومت اس ضمن میں تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ منصوبہ پنجاب کے آبی وسائل کے تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے نہ صرف زرعی پانی کے معیار میں بہتری آئے گی بلکہ ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔ حکومتی سطح پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ آبی آلودگی کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%a2%d8%a8%db%8c-%d8%b0%d8%ae%d8%a7%d8%a6%d8%b1-%da%a9%d9%88-%d8%a2%d9%84%d9%88%d8%af%da%af%db%8c-%d8%b3%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
