<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.14.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>دانش_اسکول &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%af%d8%a7%d9%86%d8%b4_%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 18 Oct 2026 11:37:54 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>دانش_اسکول &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>معیاری تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنا اولین ترجیح ہے، وزیراعظم شہباز شریف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85-%da%a9%db%92-%db%8c%da%a9%d8%b3%d8%a7%da%ba-%d9%85%d9%88%d8%a7%d9%82%d8%b9-%d9%81%d8%b1%d8%a7%db%81%d9%85/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85-%da%a9%db%92-%db%8c%da%a9%d8%b3%d8%a7%da%ba-%d9%85%d9%88%d8%a7%d9%82%d8%b9-%d9%81%d8%b1%d8%a7%db%81%d9%85/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 11:37:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_دانش_اتھارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[تازه_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_پراجیکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_مواقع]]></category>
		<category><![CDATA[خالد_مقبول_صدیقی]]></category>
		<category><![CDATA[دانش_اسکول]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رانا_مشہود]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[طلبہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[غریب_بچے]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85-%da%a9%db%92-%db%8c%da%a9%d8%b3%d8%a7%da%ba-%d9%85%d9%88%d8%a7%d9%82%d8%b9-%d9%81%d8%b1%d8%a7%db%81%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم نے اسلام آباد میں دانش اسکول کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ مالی مشکلات سے کوئی ذہین بچہ محروم نہیں رہنا چاہیے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک کے غریب خاندانوں کے ہونہار بچوں کو بھی اشرافیہ کے برابر تعلیمی سہولیات ملنی چاہئیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر سکیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار دارالحکومت میں قائم ہونے والے دانش اسکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں وفاقی وزراء، طلبہ اور اساتذہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ آج وہ کسی منصب کے غرور کے ساتھ نہیں بلکہ ایک حقیقی خادم کی حیثیت سے عوام کے سامنے موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے باصلاحیت نوجوانوں کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مالی وسائل کی کمی ہے، اور غریب گھرانوں کے ذہین بچے اعلیٰ تعلیمی اداروں تک رسائی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے بتایا کہ اسی وژن کے تحت سنہ دو ہزار دس میں دانش اسکولز کا نظام متعارف کروایا گیا تھا جس کا بنیادی مقصد پسماندہ علاقوں کے مستحق بچوں کو اعلیٰ درجے کی مفت تعلیم فراہم کرنا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مالی مشکلات کی وجہ سے کسی بھی ذہین طالب علم کو معیاری تعلیم کے حصول سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">افتتاحی تقریب کے دوران دانش اسکول کے طلبہ اور طالبات نے اپنی زندگی کی مشکلات اور اسکول میں داخلے کے بعد ملنے والی کامیابیوں کے بارے میں اظہارِ خیال کیا۔ بچوں کے جذباتی اور دل کو چھو لینے والے بیانات نے وزیراعظم سمیت تقریب میں موجود تمام شرکاء کو آبدیدہ کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم نے اس موقع پر ایک طالب علم زاہد گل کو محبت سے گلے لگایا اور اس کے عزم کو سراہا۔ اس طالب علم نے تقریب میں بتایا کہ کس طرح کباڑ بیچ کر اور دیگر سخت محنت کے ذریعے وہ اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرتا تھا، تاہم دانش اسکول میں داخلہ ملنے کے بعد اب اس کے تمام تعلیمی مسائل حل ہو چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب میں وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے بھی خطاب کیا اور دانش اسکول کے قیام کو ایک تاریخی قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ فکر، جستجو اور تحقیق کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیے ایسے اداروں کی اشد ضرورت ہے تاکہ مستقبل کی نسلوں کی بہترین انداز میں تربیت کی جا سکے، اور اسکول کا یہ افتتاح ایک سنہری باب ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو دنیا ایک بہترین اصلاحات کرنے والے رہنما کے طور پر جانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے لیے اسکالرشپس اور پنجاب دانش اتھارٹی کی بنیاد رکھی گئی تھی جو اب پورے پاکستان میں اپنی خدمات احسن طریقے سے انجام دے رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسکول کی طالبہ ایمن علی گل نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ والد کی خواہش تھی کہ وہ کچھ بن کر دکھائیں مگر وسائل کی کمی کے باعث وہ اکثر مایوس ہو جاتی تھیں۔ دانش اسکول میں سو فیصد میرٹ پر داخلہ ملنے کے بعد انہیں ایسا محسوس ہوا گویا ان کے والد کا دیکھا ہوا خواب حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بریفنگ کے دوران وزیراعظم کو بتایا گیا کہ اسلام آباد کا یہ نیا دانش اسکول تیس ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے جہاں فی الحال چھٹی، ساتویں اور آٹھویں جماعتوں کا آغاز کیا گیا ہے۔ اسکول میں میرٹ کی بنیاد پر دور دراز کے علاقوں سے بچوں اور بچیوں کو داخلے دیے گئے ہیں جہاں وہ مستند اساتذہ کی زیر نگرانی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ اسکول کی عمارت میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ اکیڈمک بلاکس تعمیر کیے گئے ہیں۔ ہر بلاک میں چوبیس کلاس رومز کے علاوہ جدید ترین آئی ٹی لیبز، سائنس لیبز، روبوٹکس لیبز، ای لائبریری اور آرٹ رومز قائم کیے گئے ہیں تاکہ طلبہ کو عصر حاضر کے تمام تقاضوں کے مطابق سائنسی اور عملی علوم سے آراستہ کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت اسکول میں تین سو ساٹھ ہونہار طلبہ و طالبات سو فیصد اسکالرشپ پر زیرِ تعلیم ہیں جبکہ تدریسی امور کے لیے اٹھتیس اساتذہ کو تعینات کیا گیا ہے۔ ضرورت کے مطابق آئندہ تعلیمی عملے کی تعداد میں مزید اضافہ بھی کیا جائے گا تاکہ تعلیمی معیار کو ہر لحاظ سے بلند رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان کے تمام دور دراز علاقوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے ذہین بچوں کو یکساں نوعیت کے معیاری تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب محنت کش والدین شدید موسموں کی سختیاں جھیل کر حلال روزی کماتے ہیں اور محدود آمدن کی وجہ سے اپنے بچوں کی تعلیمی و طبی ضروریات پوری کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے اختتام پر تمام شرکاء نے دانش اسکول کے اس نئے منصوبے کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ ملک کے غریب ترین طبقے کے بچوں کو اعلیٰ درجے کے اداروں میں پڑھنے کا جو موقع فراہم کیا گیا ہے، اس سے آنے والے وقتوں میں پاکستان کے روشن اور تابناک مستقبل کی ضمانت ملے گی اور باصلاحیت نوجوان ملکی ترقی میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85-%da%a9%db%92-%db%8c%da%a9%d8%b3%d8%a7%da%ba-%d9%85%d9%88%d8%a7%d9%82%d8%b9-%d9%81%d8%b1%d8%a7%db%81%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دانش اسکول امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم کرنے کی کوشش ہے: شہباز شریف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%af%d8%a7%d9%86%d8%b4-%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84-%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ba%d8%b1%db%8c%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7%d9%86/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%af%d8%a7%d9%86%d8%b4-%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84-%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ba%d8%b1%db%8c%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 09:37:23 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ترقیاتی_منصوبے]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_مواقع]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[دانش_اسکول]]></category>
		<category><![CDATA[دانش_اسکول_سسٹم]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[غریب_بچے_تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[معیاری_تعليم]]></category>
		<category><![CDATA[وزیراعظم_پاکستان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%af%d8%a7%d9%86%d8%b4-%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84-%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ba%d8%b1%db%8c%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم نے کہا ہے کہ ذہانت کسی خاص طبقے کی میراث نہیں، مستحق طلبہ کو یکساں تعلیمی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دانش اسکول کا نظام معاشرے میں امیر اور غریب کے درمیان موجود خلیج کو کم کرنے کی ایک سنجیدہ اور عملی کوشش ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ دانش اسکول کی ایک پروقار افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے اس موقع پر تقریب میں موجود تمام طلبہ، ان کے والدین اور ان کے اساتذہ کی انتھک خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے دوران بڑی اسکرین پر دکھائی جانے والی دستاویزی فلموں اور بچوں کی کامیابی کی دردناک مگر پرامید کہانیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ مناظر دل کو چھونے کے ساتھ ساتھ پوری قوم کے لیے امید اور حوصلے کا پیغام بھی ہیں۔ انہوں نے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی ایک ہونہار طالبہ کا خصوصی طور پر ذکر کیا جس نے کم عمری میں ہی اپنے والد کا سایہ کھو دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ والد کی وفات کے بعد اس بچی کے تعلیمی خواب ادھورے رہ جانے کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا تھا کیونکہ خاندان کے پاس کسی بھی قسم کے مالی وسائل کی شدید کمی تھی۔ اس کے باوجود اس باحوصلہ بچی نے نامساعد حالات میں ہمت نہ ہاری اور مسلسل محنت سے اپنی منزل حاصل کی تاکہ بڑی ہو کر انسانیت کی خدمت کر سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی تمام کامیابیاں اس اٹل حقیقت کو واضح انداز میں اجاگر کرتی ہیں کہ ذہانت اور قابلیت کبھی بھی کسی مخصوص طبقے کی جاگیر نہیں ہوتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست کی جانب سے ملک کے ہر بچے کو آگے بڑھنے کے یکساں اور منصفانہ مواقع میسر کیے جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہباز شریف کا اس موقع پر مزید کہنا تھا کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے کہ بچے کا تعلق ملک کے کسی امیر ترین گھرانے سے ہے یا پھر ایسے پس ماندہ خاندان سے جس نے زندگی کی کٹھن راہوں میں اپنے والدین کو کھو دیا تھا۔ پاکستان کے اندر لاکھوں خاندان ایسے آباد ہیں جو کھیتوں میں دن رات محنت کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کسانوں اور محنت کشوں کی ماہانہ آمدنی اتنی محدود ہوتی ہے کہ اس سے بم مشکل گھر کے روزمرہ اخراجات پورے ہو پاتے ہیں، اور ایسے کٹھن پس منظر میں بچوں کی اعلیٰ تعلیم کا حصول ایک بہت بڑا اور کٹھن چیلنج بن جاتا ہے۔ اگر غریب گھرانوں کے بچے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے پیچھے رہ جائیں تو یہ بہت بڑی معاشرتی ناانصافی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم نے گہرے دکھ کے ساتھ نشاندہی کی کہ اگر ایک طرف غریب گھرانوں کے بچے معیاری تعلیم سے محروم رہیں اور دوسری طرف صاحبِ ثروت طبقے کے بچے ملکی اور غیر ملکی بہترین اداروں میں تعلیم حاصل کریں تو یہ معاشرتی عدم مساوات کو جنم دیتا ہے۔ اسی فرق کو ختم کرنے کے لیے دانش اسکولوں کا تصور عمل میں لایا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ پنجاب کے صوبے میں دانش اسکولوں کے اس اہم فلاحی منصوبے کا آغاز سال 2010 میں کیا گیا تھا جس کا بنیادی مقصد پس ماندہ اور دور دراز علاقوں کے مستحق بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنا تھا۔ اس منصوبے کا اصل ہدف یہ تھا کہ غریب بچے بھی اپنی محنت کے بل بوتے پر زندگی میں آگے بڑھ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم نے اپنے خطاب میں قیامِ پاکستان کے سنہری دور اور اس وقت کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ 1947 میں ہجرت کر کے آنے والوں نے اپنے تمام گھر بار چھوڑے تھے مگر ان کی امیدیں ایک ایسے خطے سے جڑی تھیں جہاں میرٹ اور انصاف کا بول بالا ہو۔ آج ہمیں بطور قوم خود احتسابی کی اشد ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہمیں سنجیدگی سے یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ہم اپنے اکابرین اور بزرگوں کے ان خوابوں کو عملی جامہ پہنانے میں کہاں تک کامیاب ہو پائے ہیں جو انہوں نے اس ملک کے لیے دیکھے تھے۔ پاکستان میں ترقی اور تعلیم کے مواقع کسی بھی بچے کی مالی حیثیت یا خاندانی پس منظر کی بنیاد پر طے نہیں ہونے چاہئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دانش اسکول ملک کے ایسے تمام ہونہار بچوں کے لیے امید کی ایک روشن کرن کی حیثیت رکھتے ہیں جو مناسب وسائل ملنے پر اپنی ذاتی زندگیاں بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ بچے نہ صرف اپنے خاندانوں کا معاشی سہارا بنتے ہیں بلکہ ملکی ترقی اور فلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">افتتاحی تقریب میں طلبہ اور ان کے والدین کے علاوہ اساتذہ، وفاقی وزرا، مختلف برادر ممالک کے سفارت کاروں اور اعلیٰ سرکاری حکام نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکا نے اس تعلیمی اقدام کو سراہا اور اسے غریب طبقے کے لیے امید کا بڑا سہارا قرار دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں مستحق اور ذہین بچوں کے لیے تعلیمی دروازے کھولے جائیں گے تاکہ طبقاتی تفریق کو کم کیا جا سکے اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد مضبوط ہو۔ اسکولوں کا یہ نیٹ ورک ملک میں تعلیمی انقلاب لانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%af%d8%a7%d9%86%d8%b4-%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84-%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ba%d8%b1%db%8c%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
