<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.4.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>خیبر_پختونخوا &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1_%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 10 Oct 2026 23:37:08 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>خیبر_پختونخوا &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا، محسن نقوی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/49/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/49/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 23:37:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بیرسٹر_گوہر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[محسن_نقوی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_وزیر_داخلہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/49/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ سے بچنے کی تمام تر کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اب ایمرجنسی کے نفاذ کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سنگین فیصلے سے گریز کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر داخلہ نے یہ گفتگو اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ اعجاز کے گھر آمد کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کی۔ لائبہ اعجاز نے حال ہی میں خودکشی کی تھی جس پر وزیر داخلہ نے ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صحافیوں کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق سوالات کے جواب میں محسن نقوی نے کہا کہ اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ایمرجنسی نہ لگانے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اب اس معاملے کو کیسے ٹالا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک سوال کے جواب میں انہوں نے پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ خود ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ میں نے ایمرجنسی کے نفاذ سے بچنے کے لیے کس حد تک کوششیں کیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اس معاملے پر صلح کی ہر ممکن کوشش کر چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے مزید کہا کہ انہوں نے اس طرح کے سخت فیصلے سے بچنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں تاہم اب حالات کے تقاضے بدل چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب حکومت کے پاس کوئی اور آپشن نہیں بچا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی اور امن و امان کی صورتحال پر وفاقی حکومت کی جانب سے مسلسل تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزراء کا موقف ہے کہ صوبے میں آئینی اور انتظامی امور کو چلانے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب سیاسی حلقوں میں بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے۔ کچھ سیاسی جماعتوں نے صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کی ہے اور اسے جمہوری عمل کے منافی قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتوں کے ذریعے معاملات کو سیاسی طریقے سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح ملک میں امن و امان کا قیام اور آئین کی بالادستی ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام تر قانونی اور آئینی راستے اختیار کیے جا رہے ہیں تاکہ صوبے میں انتشار کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے اقدامات کا مقصد صرف اور صرف ریاست کی رٹ کو برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب حالات قابو سے باہر ہونے لگیں تو حکومت کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی پڑتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں جاری سیاسی بحران کے باعث انتظامی امور بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ وفاقی حکومت کا ماننا ہے کہ صوبائی حکومت کی ناکامی کے بعد اب مرکز کو مداخلت کرنی پڑ رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید اہم پیش رفت متوقع ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ایمرجنسی نافذ کرتی ہے تو اس کے سیاسی اور قانونی اثرات بہت گہرے ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کسی بھی صورت میں ملک میں افراتفری کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/49/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں گورنر راج: سیاسی اتفاق رائے کا فقدان اور جمہوری تقاضے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/columns/26/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/columns/26/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ادارتی تجزیہ]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:48:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کالم]]></category>
		<category><![CDATA[آئینی_ماہرین]]></category>
		<category><![CDATA[اداریہ]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[ایمل_ولی_خان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تجزیہ]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوری_عمل]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رائے]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_مذاکرات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[محسن_نقوی]]></category>
		<category><![CDATA[مولانا_فضل_الرحمان]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/columns/26/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی کوششوں کو اتحادی جماعتوں کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد سیاسی بحران گہرا ہو گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی و سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی بازگشت نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے اس حساس معاملے پر اہم سیاسی جماعتوں سے رابطے کیے گئے ہیں تاکہ کسی متفقہ لائحہ عمل تک پہنچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سلسلے میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان سے وفاقی حکام کی ملاقات انتہائی اہمیت کی حامل رہی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے لیے اے این پی کی حمایت مانگی تھی، تاہم ایمل ولی خان نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے جمہوری عمل کے تسلسل پر زور دیا اور اسے صوبائی حکومت کے لیے غیر مناسب قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران وزیر داخلہ کی جانب سے اے این پی کے رہنما امیر حیدر ہوتی کو گورنر بنانے کی پیشکش بھی سامنے آئی، جسے سیاسی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، ایمل ولی خان کا دو ٹوک موقف یہ رہا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کر چکے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ انتظامی اقدامات کے بجائے سیاسی مذاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہیں۔ اپوزیشن اور اتحادی جماعتوں کی جانب سے اس مخالفت نے وفاقی حکومت کے لیے فیصلہ سازی کا عمل مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئینی ماہرین کے مطابق گورنر راج کا نفاذ ایک انتہائی قدم ہے جو صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب صوبائی حکومت آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو جائے یا امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو سے باہر ہو۔ اس اقدام کے لیے وفاقی کابینہ کی منظوری اور پارلیمانی نگرانی کا عمل بھی ناگزیر ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حالیہ بیانات میں صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا موقف ہے کہ حکومت نے معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے، تاہم حالات کے پیش نظر سخت فیصلے ناگزیر ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے وفاقی حکومت کے کسی بھی ممکنہ اقدام کی سخت مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ صوبائی حکومت کو ہٹانے کا کوئی بھی غیر آئینی اقدام عوامی مینڈیٹ کی توہین ہوگا۔ یہ محاذ آرائی صوبے میں سیاسی عدم استحکام کے خدشات کو مزید بڑھا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی اس معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے گورنر راج کو جمہوری طور پر ناپسندیدہ قرار دیا ہے، تاہم انہوں نے سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں اسے ایک آئینی آپشن کے طور پر دیکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو دہشت گردی کے خلاف اپنا موقف واضح کرنا چاہیے تاکہ معاملات بہتر ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت وفاقی حکومت کو صوبائی معاملات میں مداخلت کے اختیارات حاصل ہیں، لیکن سپریم کورٹ ماضی میں یہ اصول طے کر چکی ہے کہ بدنیتی یا آئینی حدود سے تجاوز کی صورت میں عدالتی مداخلت ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت ہر قدم انتہائی احتیاط اور قانونی مشاورت کے ساتھ اٹھانا چاہتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات میں گورنر راج کا نفاذ دور رس سیاسی نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ اے این پی اور جے یو آئی (ف) کی مخالفت کے بعد وفاقی حکومت کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اب تمام تر نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ حکومت سیاسی مذاکرات کا راستہ اپناتی ہے یا کوئی اور لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں کے مابین مشاورت اور اتفاق رائے ہی استحکام کی ضمانت ہے۔ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ امید ہے کہ تمام فریقین ملکی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے کسی ایسے نتیجے تک پہنچیں گے جو جمہوری اقدار کے منافی نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ خیبر پختونخوا کا مستقبل سیاسی تدبر اور آئینی پاسداری سے جڑا ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ایسے اقدامات کرے جس سے صوبے میں امن بھی قائم ہو اور جمہوری عمل بھی متاثر نہ ہو۔ آنے والے چند روز ملکی سیاست کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/columns/26/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں گورنر راج: ایمل ولی خان نے حکومتی درخواست مسترد کر دی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/20/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/20/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:47:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[امیر_حیدر_ہوتی]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ایمل_ولی_خان]]></category>
		<category><![CDATA[اے_این_پی]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[محسن_نقوی]]></category>
		<category><![CDATA[مولانا_فضل_الرحمان]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/20/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے اے این پی سربراہ سے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر حمایت مانگی تھی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملکی سیاسی صورتحال کے تناظر میں خیبر پختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب سے اہم رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان سے رابطہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کے اعلیٰ حکام نے سینیٹر ایمل ولی خان سے ملاقات اور رابطوں کے دوران خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس گفتگو کا مرکزی نقطہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے لیے اے این پی کی سیاسی حمایت حاصل کرنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم، ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سینیٹر ایمل ولی خان نے وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کی حمایت کرنے سے واضح طور پر معذرت کر لی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ایک اہم پیشکش بھی سامنے آئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ نے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر ہوتی کو صوبے کا گورنر بنانے کی تجویز پیش کی تاکہ سیاسی معاملات کو بہتر انداز میں چلایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پیشکش کے جواب میں اے این پی کے سربراہ نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ صوبے میں پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے جمہوری عمل کے تسلسل پر زور دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں گزشتہ کچھ روز سے مختلف قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔ وفاقی حکومت صوبے کی داخلی صورتحال اور امن و امان کے معاملات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں سے مشاورت کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کر چکے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اہم اتحادی جماعتوں کی جانب سے حمایت نہ ملنے کے بعد حکومت کے لیے یہ فیصلہ کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حالیہ دنوں میں صوبائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے، تاہم امن و امان کی صورتحال پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب صوبائی حکومت کے ترجمان اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے بھی وفاقی حکومت کے کسی بھی ممکنہ اقدام کی سخت مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ صوبائی حکومت کو ہٹانے کا کوئی بھی غیر آئینی اقدام عوامی مینڈیٹ کی توہین ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات میں گورنر راج کا نفاذ ایک انتہائی قدم ہوگا جس کے دور رس سیاسی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کے لیے کوشاں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اے این پی کی جانب سے اس معاملے پر اپنائے گئے دو ٹوک موقف کے بعد اب وفاقی حکومت کی حکمت عملی میں تبدیلی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی حلقے اس پیش رفت کو حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئینی ماہرین کے مطابق گورنر راج کا نفاذ صرف اس صورت میں ممکن ہوتا ہے جب صوبائی حکومت آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو جائے یا صوبے میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو سے باہر ہو جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ چند روز میں وفاقی حکومت کی جانب سے مزید سیاسی مشاورت متوقع ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت صوبائی حکومت کے ساتھ معاملات کو کس طرح آگے بڑھاتی ہے یا پھر گورنر راج کے معاملے پر کوئی نیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/20/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ: ایمل ولی خان نے حمایت سے معذرت کر لی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/19/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/19/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:47:12 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[امیر_حیدر_ہوتی]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ایمل_ولی_خان]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_نیشنل_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[محسن_نقوی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/19/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سے رابطہ کر کے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر مشاورت کی تھی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملک کے سیاسی منظرنامے میں خیبر پختونخوا کی صورتحال پر وفاقی حکومت کی جانب سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان سے رابطہ قائم کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس رابطے کا مقصد خیبر پختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے اے این پی کی حمایت حاصل کرنا تھا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور موجودہ سیاسی حالات کے پیش نظر یہ مشاورت کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع نے بتایا ہے کہ وفاقی حکومت کے اعلیٰ حکام نے سینیٹر ایمل ولی خان سے درخواست کی کہ وہ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے کی تائید کریں۔ تاہم عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ نے اس تجویز پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹر ایمل ولی خان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت کرنے سے واضح طور پر معذرت کر لی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کے سامنے اپنا اصولی موقف پیش کرتے ہوئے اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات اور رابطے کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے اے این پی کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر ہوتی کو صوبے کا گورنر بنانے کی پیشکش بھی کی۔ یہ پیشکش سیاسی جوڑ توڑ کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمل ولی خان نے اس پیشکش کے جواب میں مشورہ دیا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے دی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ جمہوری عمل کو جاری رہنا چاہیے اور صوبے میں کسی بھی غیر معمولی اقدام سے گریز کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ اس سے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کر چکے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے ان موقف نے وفاقی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس سے قبل اپنے حالیہ بیانات میں صوبائی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے حالات کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے اور اب ایمرجنسی کے علاوہ کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی اور امن و امان کی صورتحال پر وفاقی حکومت مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ حکومتی حلقوں کا ماننا ہے کہ صوبے میں انتظامی امور کو چلانے کے لیے سخت فیصلوں کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گورنر راج کے نفاذ کے لیے اتحادی جماعتوں اور دیگر سیاسی قوتوں کا اتفاق رائے انتہائی ضروری ہے۔ اے این پی اور جے یو آئی (ف) کی مخالفت کے بعد وفاقی حکومت کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان جاری محاذ آرائی کے باعث صوبے میں سیاسی عدم استحکام کے خدشات پائے جاتے ہیں۔ عوام کی نظریں اب وفاقی حکومت کے اگلے لائحہ عمل پر مرکوز ہیں کہ وہ اس صورتحال سے کیسے نمٹتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین پاکستان کے تحت گورنر راج کا نفاذ ایک سنگین قدم ہوتا ہے جس کے لیے صوبائی اسمبلی کی صورتحال اور وفاقی کابینہ کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مشاورت کا عمل جاری رہے گا تاکہ کسی متفقہ نتیجے پر پہنچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی جماعتوں کے درمیان اس معاملے پر جاری مشاورت ملک میں جمہوری تسلسل برقرار رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید اہم سیاسی پیش رفت متوقع ہے جس سے صوبے کا مستقبل وابستہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/19/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ حل نہیں، مولانا فضل الرحمان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/18/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/18/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:46:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[آئین_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[جے_یو_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[مراد_علی_شاہ]]></category>
		<category><![CDATA[مولانا_فضل_الرحمان]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/18/</guid>

					<description><![CDATA[سربراہ جے یو آئی نے وفاقی حکومت کو سیاسی مذاکرات پر زور دیا جبکہ وزیراعلیٰ سندھ نے مشروط حمایت کا عندیہ دے دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ سے متعلق قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ اس حوالے سے سیاسی حلقوں میں بحث کا آغاز ہو چکا ہے کہ آیا وفاقی حکومت کو آئینی طور پر صوبائی معاملات میں مداخلت کرنی چاہیے یا نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدامات دہشت گردی کے خاتمے کا حل نہیں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مولانا فضل الرحمان نے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مابین بامعنی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسائل کا حل سیاسی بات چیت میں مضمر ہے، جس کے لیے وہ جلد اپنی پارٹی کی کور کمیٹی اور اپوزیشن رہنماؤں کو اعتماد میں لیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبے میں گورنر راج کی مشروط حمایت کا اظہار کیا ہے۔ سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ گورنر راج جمہوری طور پر ناپسندیدہ ہے، لیکن آئینی طور پر یہ غلط اقدام نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ سندھ نے پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنا موقف واضح کریں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی گورنر راج کی خواہشمند نہیں ہے، تاہم ملک کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں پی ٹی آئی کو سوچنا ہوگا کہ وہ ملک کو کس طرف لے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 کے تحت صدر مملکت کو ملک یا کسی حصے میں داخلی انتشار کی صورت میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس کے لیے صوبائی اسمبلی کی قرارداد ضروری ہے، جبکہ اس اعلان کو پارلیمنٹ سے بھی منظور کروانا پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کا نفاذ تب کیا جاتا ہے جب صوبائی حکومت آئین کے مطابق چلنا ممکن نہ رہے۔ اس صورت میں وفاقی حکومت صوبے کے انتظامی اختیارات اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے، تاہم یہ اقدام پارلیمانی نگرانی کا پابند ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئینی ماہرین کے مطابق ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت صوبائی انتظامیہ کو ہدایات جاری کر سکتی ہے۔ تاہم یہ اقدامات ہائی کورٹ کے آئینی اختیارات کو ختم نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان کا نفاذ وفاقی کابینہ ازخود کر سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین کا آرٹیکل 236 ان صدارتی اعلانات کو ایک خاص حد تک تحفظ فراہم کرتا ہے، تاہم سپریم کورٹ ماضی میں پیر صابر شاہ کیس کے فیصلے میں یہ اصول طے کر چکی ہے کہ بدنیتی یا آئینی حدود سے تجاوز پر عدالتی مداخلت ممکن ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر وفاقی وزیر داخلہ اور گورنر خیبر پختونخوا نے صدر مملکت سے ملاقات کر کے بریفنگ بھی دی ہے۔ اس ملاقات میں صوبے کے انتظامی امور اور سکیورٹی چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ گورنر راج کا فیصلہ ایک انتہائی اقدام ہوگا جس کے دور رس سیاسی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ وفاقی حکومت اس معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹر ایمل ولی خان نے بھی صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت سے معذرت کر لی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے مابین اس حساس معاملے پر تاحال کوئی متفقہ رائے موجود نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کی موجودہ سیاسی و سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ وفاقی حکومت آئینی راستوں کا انتخاب کرتی ہے یا سیاسی مذاکرات کے ذریعے بحران کا حل نکالتی ہے۔ تمام تر نگاہیں اب حکومتی فیصلوں پر مرکوز ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/18/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا پولیس کی ہنگامہ آرائی اور احتجاج سے نمٹنے کیلئے سخت آپریشنل ہدایات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/17/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/17/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:46:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_جی_کے_پی]]></category>
		<category><![CDATA[احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_ہدایات]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانون_کی_عملداری]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[کے_پی_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/17/</guid>

					<description><![CDATA[آئی جی خیبر پختونخوا نے ضلعی پولیس افسران کو امن و امان برقرار رکھنے اور سرکاری و نجی املاک کے تحفظ کیلئے خصوصی گائیڈ لائنز جاری کر دیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا نے صوبے میں ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کیلئے تمام ضلعی پولیس افسران کو تحریری آپریشنل ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ان ہدایات کا مقصد صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جاری کردہ گائیڈ لائنز کے مطابق، کسی بھی ممکنہ مظاہرے کی صورت میں پولیس کو حفاظتی اقدامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈی پی اوز کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ضلعی سطح پر پولیس نفری کی موجودگی کو ہر صورت یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی جی کے پی نے ہدایت کی ہے کہ حساس مقامات پر اینٹی رائٹ، اسپیشل اسکواڈ اور سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں کو تعینات کیا جائے۔ اس کے علاوہ پولیس اسٹیشنز، سرکاری عمارتوں، بینکوں، پیٹرول پمپس اور تجارتی مراکز کی سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہدایت نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ احتجاجی مظاہروں اور غیر قانونی اجتماعات کے دوران سب سے پہلے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگر مذاکرات ناکام ہو جائیں تو اینٹی رائٹ اسکواڈ کو کارروائی کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مزید برآں، صورتحال کے بے قابو ہونے کی صورت میں ہوائی فائرنگ اور ربڑ کی گولیوں کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔ پولیس کو حکم دیا گیا ہے کہ مظاہروں کی مکمل ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے تاکہ شواہد محفوظ رہیں اور بعد میں قانونی کارروائی میں مدد مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام نے خبردار کیا ہے کہ امن و امان میں خلل ڈالنے، سرکاری تنصیبات کو نقصان پہنچانے یا سیکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق انتہائی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ کسی بھی صورت میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی اجتماع یا پُرتشدد سرگرمی کا حصہ بننے سے گریز کریں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پُرامن رہیں، قانون کی پاسداری کریں اور کسی بھی شرپسند عنصر کے بہکاوے میں نہ آئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آپریشنل ہدایات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کو بہتر بنایا جائے۔ اس سے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام اور امن و امان برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کی جانب سے جاری کردہ ان ہدایات کا مقصد ریاست مخالف عناصر کی جانب سے املاک کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات کو روکنا ہے۔ پولیس نے عزم ظاہر کیا ہے کہ کسی بھی صورت میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے بھی خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے جس میں صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا اجلاس بھی طلب کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ کابینہ کا اجلاس کل صبح ساڑھے نو بجے طلب کیا گیا ہے جس میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور قانون کی عملداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ کسی بھی اشتعال انگیزی یا قانون شکنی میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا تاکہ امن قائم رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی پولیس کی جانب سے یہ اقدامات ایسے وقت میں اٹھائے گئے ہیں جب صوبے میں سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ امن دشمن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/17/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
