<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>خوراک &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ae%d9%88%d8%b1%d8%a7%da%a9/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:12 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>خوراک &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>روزانہ پھلوں کا استعمال ڈپریشن اور انزائٹی کا خطرہ کم کرتا ہے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/1510/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/1510/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 20:37:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آسٹریلیا]]></category>
		<category><![CDATA[انزائٹی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پھل]]></category>
		<category><![CDATA[خوراک]]></category>
		<category><![CDATA[دماغی_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈپریشن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سڈنی_یونیورسٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d8%a7%d9%86%db%81-%d9%be%da%be%d9%84%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d8%b9%d9%85%d8%a7%d9%84-%da%88%d9%be%d8%b1%db%8c%d8%b4%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[آسٹریلیا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق کے مطابق روزانہ پھل کھانے سے ذہنی مسائل سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">روزمرہ کی خوراک میں پھلوں کا باقاعدہ استعمال نہ صرف جسمانی صحت کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے بلکہ یہ انسانی دماغی صحت کو درست رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین صحت اور طبی محققین طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ متوازن اور صحت بخش غذا کا انتخاب انسان کی مجموعی زندگی پر گہرے اور مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس حوالے سے ایک نئی طبی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر پھلوں کا استعمال ڈپریشن اور انزائٹی جیسے عارضوں سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آسٹریلیا کے شہر سڈنی کی یونیورسٹی میں کی جانے والی اس تحقیق کے دوران ساڑھے 6 ہزار سے زائد بچوں اور نوجوانوں کو طویل عرصے تک مشاہدے کے تحت رکھا گیا۔ تحقیق کے دوران ماہرین نے ان افراد کی کھانے پینے کی عادات اور ان کے ذہنی رجحانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ خوراک کا انسانی دماغ پر کس قسم کا اثر ہوتا ہے۔ اس مطالعے میں شامل افراد کو 3 سال تک تحقیق کا حصہ بنائے رکھا گیا تاکہ نتائج کو حتمی اور مستند بنایا جا سکے اور درست اعداد و شمار سامنے آ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ جو افراد روزانہ کی بنیاد پر کسی بھی پھل کا اضافی مقدار میں استعمال کرتے ہیں، ان میں ڈپریشن کی علامات سے متاثر ہونے کا خطرہ 13 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔ پھلوں میں موجود قدرتی اجزا اور وٹامن انسانی دماغ کے خلیات کو تقویت دیتے ہیں اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قدرتی غذاؤں کا استعمال انسان کو ذہنی سکون اور توازن فراہم کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح تحقیق کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ روزانہ پھل کھانے سے انزائٹی ڈس آرڈرز کی علامات سے متاثر ہونے کا خطرہ 7 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ نوجوان نسل میں آج کل بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ اور بے چینی کی کیفیات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ نتائج انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غذا میں پھلوں کی شمولیت سے نوجوانوں کی ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں خاطر خواہ مدد مل سکتی ہے اور وہ بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق کے دوران ماہرین نے الٹرا پراسیس غذاؤں اور میٹھے مشروبات کے منفی اثرات کا بھی احاطہ کیا جو آج کل کی غذا کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں۔ جو افراد اکثر الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال کرتے ہیں، ان میں ایسے دماغی نقصان کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جو فالج کا باعث بنتا ہے۔ اس کے علاوہ میٹھے مشروبات جیسے سافٹ ڈرنکس کے زیادہ استعمال سے ڈپریشن اور انزائٹی سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین نے یہ بات بھی نوٹ کی کہ یہ خطرہ لڑکوں میں زیادہ مضبوط نظر آیا، خاص طور پر انزائٹی کا خطرہ زیادہ بڑھتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خوراک کا انتخاب نہ صرف جسمانی بلکہ صنف کی بنیاد پر بھی ذہنی صحت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ناقص خوراک اور جنک فوڈ کا کثرت سے استعمال نوجوانوں میں دماغی امراض کی راہ ہموار کرتا ہے جس سے بچنے کی اشد ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محققین نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ ایک سیب کھانے سے ڈپریشن کی روک تھام ہو جاتی ہے یا سافٹ ڈرنکس انزائٹی کا باعث بنتی ہیں، دماغی صحت اس سے زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔ دماغی صحت پر کئی اندرونی اور بیرونی عوامل اثرانداز ہوتے ہیں جن میں ماحول، طرز زندگی اور جینیاتی عوامل بھی شامل ہیں۔ اس کے باوجود ہم جو کچھ کھاتے ہیں وہ زندگی کا ایک حصہ ہوتا ہے اور دماغی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے، تو یہ نتائج بہت اہم ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جدید دور میں جب کہ فاسٹ فوڈ اور جنک فوڈ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں، طبی ماہرین کی یہ تحقیق ہمیں دوبارہ اپنی غذائی عادات کا جائزہ لینے کی دعوت دیتی ہے۔ ماہرین زور دیتے ہیں کہ اگر ہم ایک صحت مند اور تندرست معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی خوراک میں پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بڑھانا ہوگا۔ اس طرح نہ صرف جسمانی بیماریاں دور رہیں گی بلکہ ایک صحت مند ذہن کی آبیاری بھی ممکن ہو سکے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صحت مند غذا کے حوالے سے یہ بھی کہاوت مشہور ہے کہ ایسا کہا جاتا ہے کہ ایک سیب روزانہ ڈاکٹر کو آپ سے دور رکھے۔ ایسا کس حد تک درست ہے، یہ ایک طویل بحث ہے مگر ایک سیب یا کسی بھی پھل کو روزانہ کھانا ڈپریشن اور انزائٹی کو ضرور آپ سے دور رکھ سکتا ہے۔ سڈنی یونیورسٹی کی تحقیق میں ساڑھے 6 ہزار سے زائد بچوں اور نوجوانوں کو شامل کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق کاروں کا مزید کہنا تھا کہ الٹرا پراسیس غذائیں نہ صرف جسمانی بلکہ دماغی فالج کا خطرہ بھی بڑھاتی ہیں جو کہ ایک سنگین طبی مسئلہ ہے۔ اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ سافٹ ڈرنکس اور میٹھے مشروبات کے بے دریغ استعمال سے اجتناب برتا جائے۔ یہ مشروبات وقتی لذت تو فراہم کرتے ہیں لیکن طویل مدت میں صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس مطالعے کے دوران محققین نے بچوں اور نوجوانوں کی غذائی عادات کا گہرا مطالعہ کیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کون سے اجزا ان کے لیے زیادہ مفید ہیں۔ نتائج سے واضح ہوا کہ قدرتی پھلوں کا استعمال ذہن کو تروتازہ رکھتا ہے اور مختلف ذہنی عارضوں سے بچاؤ میں ڈھال کا کام کرتا ہے۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی خوراک میں پھلوں کی مقدار کو بڑھائیں تاکہ وہ ایک روشن مستقبل کی طرف گامزن ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/1510/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایسی غذائیں جو فریج کے بغیر بھی برسوں تک خراب نہیں ہوتیں</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/1372/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/1372/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 22:58:26 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خوراک]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزمرہ_زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[صحت_اور_تندرستی]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[علاج]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[غذائیت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d8%a7%db%8c%d8%b3%db%8c-%d8%ba%d8%b0%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%ba-%d8%ac%d9%88-%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%ac-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%a8%d8%b1%d8%b3%d9%88%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[غذائی ماہرین کے مطابق کچھ اشیاء کو مناسب طریقے سے محفوظ کر کے طویل عرصے تک قابلِ استعمال رکھا جا سکتا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ہر قسم کی خوراک ایک مخصوص مدت کے بعد خراب ہو جاتی ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں ایسی کئی غذائی اشیاء موجود ہیں جو مناسب حالات میں برسوں بلکہ غیر معینہ مدت تک محفوظ رہ سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ غذائیت کے مطابق ان اشیاء کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے درجہ حرارت، نمی اور روشنی سے محفوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اگر ان بنیادی اصولوں کا خیال رکھا جائے تو گھر میں موجود کئی اشیاء کو طویل عرصے تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہد ان غذاؤں میں سرفہرست ہے جو کبھی خراب نہیں ہوتا۔ اگر خالص شہد کو ہوا بند برتن میں نمی سے بچا کر رکھا جائے تو یہ برسوں تک اپنی اصلی حالت میں رہتا ہے۔ اس کا جم جانا یا رنگت کا گہرا ہونا خرابی کی علامت نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سفید چاول بھی طویل عرصے تک محفوظ رہنے والی غذاؤں میں شامل ہیں۔ اگر انہیں ٹھنڈی اور خشک جگہ پر ہوا بند ڈبے میں رکھا جائے تو یہ کئی دہائیوں تک قابلِ استعمال رہتے ہیں۔ تاہم بھورے چاولوں میں موجود قدرتی تیل انہیں جلد خراب کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نمک اور چینی کو بھی طویل المیعاد ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ نمک کو نمی سے بچانا ضروری ہے، جبکہ چینی کو کیڑوں اور پانی سے دور رکھنا چاہیے۔ اسی طرح کارن اسٹارچ بھی مناسب طریقے سے محفوظ کرنے پر کئی برسوں تک خراب نہیں ہوتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرکہ اپنی تیزابی خصوصیات کی بدولت طویل عرصے تک محفوظ رہتا ہے اور اسے خراب ہونے والی اشیاء میں شمار نہیں کیا جاتا۔ اگرچہ وقت کے ساتھ اس کے رنگ میں معمولی تبدیلی آ سکتی ہے، لیکن یہ کھانے کے لیے بالکل محفوظ رہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خشک لوبیا بھی ایک ایسی غذا ہے جسے طویل عرصے تک ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ کئی برس گزرنے کے بعد اس کا ذائقہ یا پکنے کی صلاحیت کچھ متاثر ہو سکتی ہے، لیکن مناسب حالات میں یہ طویل مدت تک استعمال کے قابل رہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کے علاوہ سویا ساس، خشک پھل، پاپ کارن کے خشک دانے، انسٹنٹ کافی، خالص ونیلا ایکسٹریکٹ اور ملک پاؤڈر بھی نسبتاً طویل عرصے تک محفوظ رہنے والی اشیاء ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہر چیز کو ہمیشہ کے لیے محفوظ نہیں سمجھنا چاہیے۔ میپل سیرپ، کینولا آئل، ناریل کا تیل اور پروٹین پاؤڈر جیسی اشیاء کی ایک محدود شیلف لائف ہوتی ہے اور انہیں طویل عرصے تک ذخیرہ کرنا مناسب نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صارفین کو چاہیے کہ وہ ڈبے میں بند اشیاء کے استعمال سے پہلے پیکنگ کا بغور جائزہ لیں۔ اگر ڈبہ پھولا ہوا ہو، اس سے کچھ رس رہا ہو یا وہ شدید زنگ آلود ہو تو ایسی چیز کو استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کھانے کی کسی بھی چیز میں بدبو، غیر معمولی رنگت یا ذائقے میں واضح تبدیلی اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ وہ غذا اب استعمال کے قابل نہیں رہی۔ ایسی صورت میں صحت کی حفاظت کے پیشِ نظر اسے ضائع کر دینا ہی بہتر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/1372/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>فرانس میں سپر مارکیٹس پر سائبر حملے سے کروڑوں یورو کا نقصان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/405/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/405/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 08:57:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پیرس]]></category>
		<category><![CDATA[تجارت]]></category>
		<category><![CDATA[تحقیقات]]></category>
		<category><![CDATA[خوراک]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_حملہ]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_سکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%81%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%b3-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d8%b1%da%a9%db%8c%d9%b9%d8%b3-%d9%be%d8%b1-%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d8%a8%d8%b1-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%d8%b3%db%92-%da%a9/</guid>

					<description><![CDATA[فرانسیسی سپر مارکیٹس کے ریفریجریشن سسٹمز پر سائبر حملے کے نتیجے میں فریزر کا درجہ حرارت بڑھنے سے خوراک ضائع ہوگئی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">فرانس میں بڑی ریٹیل کمپنیوں کے زیر انتظام سیکڑوں سپر مارکیٹس کے ریفریجریشن سسٹمز کو ایک بڑے سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے باعث فریج اور فریزر کا درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھ گیا۔ اس ناخوشگوار واقعے کے نتیجے میں تازہ اور منجمد خوراک کے بڑے ذخیرے خراب ہوگئے، جبکہ متعدد اسٹورز میں آگ لگنے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام نے اس سنگین سائبر واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ ابتدائی اندازوں کے مطابق اس سے ہونے والا مالی نقصان کروڑوں یورو تک پہنچ سکتا ہے۔ الجزیرہ، اے ایف پی اور رائٹرز کے مطابق فرانسیسی ریٹیل مارکیٹ کی معروف کمپنیوں انٹرمارشے، کوآپریٹو یو، ای لی کلرک، کیریفور اور مونوپری نے اس سائبر حملے کی تصدیق کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان تمام کمپنیوں کے عہدیداروں نے اسے انتہائی غیر معمولی اور تشویشناک نوعیت کا واقعہ قرار دیا ہے جو سپلائی چین کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ انٹرمارشے اور اس کے برانڈ کے کم از کم 300 اسٹورز اس سے متاثر ہوئے، جبکہ کوآپریٹو یو کے 100 سے زائد مراکز بھی نشانے پر آگئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مونوپری کے مطابق اس کے تقریباً 490 اسٹورز میں سے 5 فیصد کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ای لی کلرک کے بھی متعدد اسٹورز اس سائبر کارروائی کی لپیٹ میں آگئے۔ پیرس پراسیکیوٹر آفس کے جاری کردہ بیان کے مطابق ہیکرز نے بڑی فوڈ ریٹیل کمپنیوں کے انٹرنیٹ سے منسلک ریفریجریشن سسٹمز کو دانستہ طور پر ہدف بنایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدا میں حاصل ہونے والی معلومات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سائبر حملہ آوروں نے دور بیٹھ کر ریفریجریشن سسٹمز کو زبردستی ڈی فراسٹ کرنے کا عمل شروع کیا، جس سے فریج اور فریزر کا درجہ حرارت بڑھ کر 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک جاپہنچا۔ اس شدید گرمی کے باعث تمام تازہ اور منجمد اشیائے خورونوش کے ذخیرے ناقابل استعمال ہوکر ضائع ہوگئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انٹرمارشے کے چیف ایگزیکٹو تھیری کوتیلارڈ نے فرانسیسی میڈیا کو بتایا کہ اس حملے کے نتیجے میں ملک بھر کے اسٹورز میں ایک ہی دن کے دوران کروڑوں یورو کا نقصان ہوسکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق متاثرہ اسٹورز کو اپنی خراب ہونے والی تمام تازہ اور منجمد مصنوعات کو فوری طور پر تلف کرنا پڑا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کوآپریٹو یو کے سربراہ ڈومینک شیلشر نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کے ریفریجریشن سسٹمز اتوار کی رات سے متاثر ہونا شروع ہوگئے تھے۔ ڈومینک شیلشر کا کہنا تھا کہ عامتہ الناس کو تازہ خوراک اور ضروریات فراہم کرنے والے نظام کو اس طرح ہدف بنانا انتہائی سنگین اور ناقابل قبول اقدام ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانسیسی وزیراعظم سیباستیاں لیکورنو نے فوری طور پر قومی سائبر سکیورٹی ایجنسی کو اس پورے واقعے کی جامع تحقیقات کا حکم دے دیا۔ فرانسیسی حکام اس بات کا جائزہ لینے کے لیے دیگر یورپی ممالک کے ساتھ بھی قریبی رابطے میں ہیں کہ آیا اس خطرے سے دیگر ممالک کی کمپنیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم کے دفتر سے وابستہ ایک ذریعے کے مطابق تحقیقات کے دوران ڈنمارک کی معروف کمپنی ڈانفوس کے تیار کردہ سافٹ ویئر میں موجود ممکنہ کمزوری کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ادھر ڈانفوس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فرانس میں ریفریجریشن مینجمنٹ کے محدود تعداد میں سسٹمز متاثر ہونے کے واقعات کا علم ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کمزوریوں کے ذریعے سکیورٹی کے حفاظتی مراحل کو بآسانی نظرانداز کیا جاسکتا تھا۔ سائبر خطرات کے ماہر فیلکس ایمے نے بتایا کہ فرانس کے علاوہ اسپین، پرتگال، پولینڈ، جرمنی اور بیلجیم کے ممالک بھی اس خطرے سے دوچار ہونے والے ممالک میں شامل ہیں، تاہم وہاں نقصان کی تفصیلی مالیت تاحال سامنے نہیں آئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ انٹرنیٹ سے منسلک صنعتی آلات کی سکیورٹی میں موجود کمزوریوں کا غلط فائدہ اٹھا کر ہیکرز اہم ترین نظاموں کو دور سے کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں توانائی کے قومی نظام یا اسپتالوں جیسے اداروں کو اس طرح نشانہ بنایا گیا تو اس کے نتائج کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاحال اس سائبر حملے کے پس پردہ کارفرما افراد یا کسی مخصوص گروہ کی شناخت سامنے نہیں آسکی ہے۔ فرانسیسی حکام کی جانب سے متاثرہ سپر مارکیٹس کے نظام کو بحال کرنے کی کوششیں ہنگامی بنیادوں پر جاری ہیں، تاکہ کاروباری سرگرمیاں جلد از جلد معمول پر لائی جا سکیں اور نقصان کا حتمی تخمینہ مکمل ہو۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/405/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
