<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>خودکش_حملہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ae%d9%88%d8%af%da%a9%d8%b4_%d8%ad%d9%85%d9%84%db%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:32 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>خودکش_حملہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>دبئی سے تل ابیب پرواز پر خودکش حملے کا منصوبہ ناکام</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/309/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/309/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 13:18:06 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اماراتی_اٹارنی_جنرل]]></category>
		<category><![CDATA[ایوی_ائیشن]]></category>
		<category><![CDATA[بن_گوریون_ئیرپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پائلٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تبوک]]></category>
		<category><![CDATA[تحقیقات]]></category>
		<category><![CDATA[تل_ابیب]]></category>
		<category><![CDATA[خودکش_حملہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%af%d8%a8%d8%a6%db%8c-%d8%b3%db%92-%d8%aa%d9%84-%d8%a7%d8%a8%db%8c%d8%a8-%d9%be%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%b2-%d9%be%d8%b1-%d8%ae%d9%88%d8%af%da%a9%d8%b4-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%da%a9%d8%a7-%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[عمانی معاون پائلٹ نے تل ابیب ائیرپورٹ پر طیارہ ٹکرانے کی سازش کی جسے عملے نے ناکام بنا دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">فلائی دبئی کی ایک پرواز کے دوران پیش آنے والے ہولناک واقعے میں معاون پائلٹ کی جانب سے طیارے کو تل ابیب کے بن گوریون ائیرپورٹ کی عمارت سے ٹکرانے کا خطرناک منصوبہ بروقت کارروائی سے ناکام بنا دیا گیا۔ اماراتی اٹارنی جنرل حمد سیف الشامسی نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ 30 ستمبر 2026 کو پیش آنے والے اس واقعے میں 29 سالہ عمانی معاون پائلٹ نے طیارہ اغوا کرنے کی کوشش کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملزم نے پرواز کے دوران کاک پٹ میں موجود کپتان پر ایمرجنسی کلہاڑی سے حملہ کیا تاکہ وہ طیارے کا کنٹرول مکمل طور پر سنبھال سکے۔ حکام کا بتانا ہے کہ ملزم 11 ستمبر 2001 کو امریکا میں ہونے والے حملوں سے گہرا متاثر تھا اور اسی طرز پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کا ارادہ رکھتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقات کے دوران یہ اہم انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ اس ملزم نے تل ابیب کے اپنے دو سابقہ دوروں کے دوران پرواز کے راستوں کا بغور جائزہ لیا تھا اور ائیرپورٹ کے ماحول سے مکمل واقفیت حاصل کی تھی۔ اماراتی حکام کے مطابق بھرتی کے وقت ملزم کی سکیورٹی جانچ پڑتال کی گئی تھی جس میں کسی بھی قسم کا کوئی مشتبہ اشارہ سامنے نہیں آیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ اداروں نے اس واقعے کے بعد ملزم کے ممکنہ سہولت کاروں کی تلاش اور تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے تاکہ اس سازش کے تمام محرکات کو سامنے لایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سفاکانہ منصوبے کا بنیادی مقصد تل ابیب ائیرپورٹ کی عمارت پر طیارہ مار کر زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دبئی سے تل ابیب جانے والی اس مخصوص پرواز میں واپسی کے سفر کی ڈیوٹی کے لیے دو اضافی پائلٹ بھی بحیثیت مسافر سوار تھے جو تل ابیب سے اگلی پرواز لے کر واپس آنے والے تھے۔ حملے کے وقت ان میں سے ایک اضافی پائلٹ کاک پٹ کے اردگرد موجود تھا جس نے حالات کو مشکوک پایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق اس اضافی پائلٹ نے دیکھا کہ کاک پٹ کا دروازہ غیرمعمولی طور پر بار بار کھل اور بند رہا ہے جس پر اسے شدید شبہ ہوا اور اس نے فوری طور پر رسائی کا کوڈ استعمال کیا۔ جب وہ اندر داخل ہوا تو اس نے معاون پائلٹ کو کپتان پر حملہ آور ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کاک پٹ کے اندر موجود اضافی پائلٹ نے ایک کیبن کریو کے رکن اور چند بیدار مغز مسافروں کی مدد سے فوری طور پر حملہ آور معاون پائلٹ کو دبوچ لیا اور اسے قابو کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ عملے اور مسافروں کی اس مشترکہ اور بروقت مداخلت کی وجہ سے زخمی کپتان کی جان بھی بچ گئی اور ایک بڑا فضائی سانحہ ٹل گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ہنگامہ خیز صورتحال کے دوران طیارے کو بحفاظت سعودی عرب کے شہر تبوک کے ائیرپورٹ پر اتار لیا گیا جہاں سکیورٹی اداروں نے فوری طور پر صورتحال کا کنٹرول سنبھال لیا۔ متعلقہ حکام نے اس بہادری کا مظاہرہ کرنے والے عملے اور مسافروں کی بروقت حکمت عملی کو سراہا ہے جن کی وجہ سے سیکڑوں معصوم جانیں بچ گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اماراتی خبر رساں ادارے وام کے مطابق اس پرواز کے دوران پیش آنے والے اس واقعہ نے دنیا بھر میں ایوی ایشن سکیورٹی کے حوالے سے ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پائلٹس اور فضائی عملے کی سخت ترین جانچ پڑتال کے باوجود ایسے واقعات کا رونما ہونا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ تحقیقاتی اداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزم نے انتہائی مہارت کے ساتھ اپنے ارادوں کو چھپائے رکھا اور ائیرلائن حکام کو کبھی بھی اپنی ذہنی کیفیت یا کسی متشدد نظریے سے آگاہ نہیں کیا۔ ملزم کی جانب سے پرواز کے دوران کاک پٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کی یہ کوشش انتہائی منظم معلوم ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کے شہر تبوک میں اترنے کے بعد مسافروں اور عملے کو فوری طور پر طبی اور نفسیاتی امداد فراہم کی گئی تاکہ اس ہولناک تجربے کے اثرات سے انہیں نکالا جا سکے۔ مقامی سکیورٹی حکام نے واقعے کی جگہ پر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/309/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
