<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.25.1"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>خواجہ_خورشید_انور &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81_%d8%ae%d9%88%d8%b1%d8%b4%db%8c%d8%af_%d8%a7%d9%86%d9%88%d8%b1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Fri, 30 Oct 2026 12:15:27 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>خواجہ_خورشید_انور &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>عظیم موسیقار خواجہ خورشید انور کی برسی پر فنی خدمات کو خراجِ تحسین</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d8%b9%d8%b8%db%8c%d9%85-%d9%85%d9%88%d8%b3%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%b1-%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d8%ae%d9%88%d8%b1%d8%b4%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%86%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d8%b9%d8%b8%db%8c%d9%85-%d9%85%d9%88%d8%b3%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%b1-%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d8%ae%d9%88%d8%b1%d8%b4%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%86%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 30 Oct 2026 12:15:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شوبز]]></category>
		<category><![CDATA[برسی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_شوبز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_ڈرامہ]]></category>
		<category><![CDATA[پرانا_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ_خورشید_انور]]></category>
		<category><![CDATA[ستارہ_امتیاز]]></category>
		<category><![CDATA[فلمی_گیت]]></category>
		<category><![CDATA[فلمی_موسیقی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d8%b9%d8%b8%db%8c%d9%85-%d9%85%d9%88%d8%b3%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%b1-%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d8%ae%d9%88%d8%b1%d8%b4%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%86%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[برصغیر کے نامور موسیقار خواجہ خورشید انور کی برسی منائی جارہی ہے، جنھوں نے فلمی موسیقی میں انمٹ نقوش چھوڑے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">برصغیر پاک و ہند کے ممتاز اور لافانی موسیقار خواجہ خورشید انور کی برسی پر شوبز اور موسیقی کے حلقوں کی جانب سے ان کی فنی خدمات کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا جارہا ہے۔ خواجہ خورشید انور نے اپنی منفرد اور دلکش دُھنوں کے ذریعے فلمی موسیقی کی تاریخ میں جو مقام بنایا، وہ گنتی کے چند فن کاروں کے حصے میں ہی آیا ہے۔ ان کے تخلیق کردہ نغمات آج بھی اتنے ہی شوق سے سنے جاتے ہیں جتنے اپنے دور میں مقبول تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی ان کے فن کو انتہائی عقیدت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کا یہ فنی سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے جس میں انھوں نے فلمی گیتوں کو امر کر دیا۔ ان کی برسی کے موقع پر مداح اور موسیقی کے قدردان ان کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواجہ خورشید انور اکیس مارچ انیس سو بارہ کو پنجاب کے تاریخی شہر میانوالی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد خواجہ فیروز الدین اپنے علاقے کے ایک معروف اور نامور وکیل تھے۔ گھریلو ماحول علمی اور ادبی تھا جس کی وجہ سے خواجہ صاحب کا رجحان شروع ہی سے فنونِ لطیفہ اور ادب کی طرف ہوگیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی تعلیم کے بعد انھوں نے فلسفے کے مضمون میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیمی میدان میں شاندار کامیابیاں سمیٹنے کے بعد انھوں نے انیس سو چھتیس میں انڈین سول سروس کا سخت ترین تحریری امتحان دیا اور انتہائی شاندار نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کی جوانی کا دور برصغیر کی آزادی کی تحریکوں اور انقلابی سرگرمیوں سے بھرپور تھا۔ وہ اس دوران ایک انقلابی تنظیم کے رکن بھی رہے جس کی وجہ سے سرکاری ملازمت کے حصول میں رکاوٹیں آئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وہ کالج کے دنوں میں جب مشہور انقلابی بھگت سنگھ اور ان کے ساتھی لاہور جیل میں قید تھے، سیاسی سرگرمیوں کے باعث کچھ عرصے کے لیے گرفتار بھی ہوئے تھے۔ تاہم بعد میں انھیں رہائی مل گئی لیکن اس پس منظر کی وجہ سے اب سول سروس میں ان کے لیے کوئی گنجائش باقی نہ رہی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وقت کے دھارے نے انھیں سیاست سے نکال کر فن اور موسیقی کی دنیا کی طرف موڑ دیا۔ موسیقی کے ساتھ ان کا یہ عشق آہستہ آہستہ ان کے کیریئر کا محور بن گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواجہ خورشید انور کی باقاعدہ فنی تربیت معروف استاد توکل حسین خان صاحب کی زیر نگرانی ہوئی۔ استاد کے فیض اور اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت انھوں نے موسیقی کی باریکیوں کو بہت جلد سمجھ لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کے باقاعدہ فنی سفر کا آغاز انیس سو انتالیس میں آل انڈیا ریڈیو لاہور سے ہوا۔ ریڈیو کے توسط سے ان کا کام سامعین تک پہنچا اور بہت جلد ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا جانے لگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کی ترتیب دی گئی موسیقی کے ساتھ پہلی فلم انیس سو اکتالیس میں بمبئی سے ریلیز ہوئی۔ اس پہلی کام یابی کے بعد بمبئی کی فلمی صنعت میں ان کے لیے ترقی کے دروازے کھل گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقسیم کے بعد بھی وہ کچھ عرصہ وہاں رہے لیکن انیس سو ترپن میں وہ مستقل طور پر بمبئی سے لاہور منتقل ہوگئے۔ لاہور منتقلی کے بعد انھوں نے پاکستانی فلمی صنعت کو اپنے فن سے مالا مال کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے پورے فلمی کیریئر کے دوران انھوں نے مجموعی طور پر اٹھارہ فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔ ان میں انتظار، ہیر رانجھا اور کویل جیسی بے شمار یادگار اور سپرہٹ فلمیں شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موسیقی کے علاوہ وہ ایک کامیاب فلم ساز اور ہدایت کار بھی تھے۔ انھوں نے ہمراز، چنگاری اور گھونگھٹ جیسی معیاری فلمیں بنائیں اور ان تمام فلموں کی موسیقی بھی خود ترتیب دی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کی بنائی ہوئی فلموں اور دھنوں نے باکس آفس پر کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ ان کے گیتوں میں مشرقی کلاسیکی موسیقی اور عوامی رجحانات کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کے سدا بہار نغمات میں ملکہ ترنم نور جہاں کا گایا ہوا دل کا دیا جلایا اور رم جھم رم جھم پڑے پھوار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ استاد مہدی حسن کی آواز میں ان کا ریکارڈ کردہ گیت مجھ کو آواز دے تو کہاں ہے آج بھی شاہکار مانا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے ان کو ستارۂ امتیاز سے نوازا۔ اس کے علاوہ فلمی دنیا نے انھیں نگار ایوارڈز سے بھی سرفراز کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انیس سو پچپن میں فلم انتظار کے لیے انھیں بہترین موسیقار اور بہترین فلم ساز کے صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز ان کی فنی گیرائی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشہور موسیقار وزیر افضل خواجہ خورشید انور کے شاگردوں میں شامل تھے اور وہ ہمیشہ فخر سے اپنے استاد کا ذکر کرتے تھے۔ وزیر افضل کا ماننا تھا کہ مشرقی کلاسیکی موسیقی کا جتنا گہرا ادراک خواجہ صاحب کو تھا، وہ شاید ہی کسی اور فلمی موسیقار کو حاصل ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تیس اکتوبر انیس سو چوراسی کو یہ عظیم فنکار اس دارِ فانی سے کوچ کر گیا۔ ان کی وفات سے برصغیر کا موسیقی کا ایک درخشاں باب تمام ہوگیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آج ان کی برسی کے موقع پر ان کے چاہنے والے اس عہد کا اعادہ کرتے ہیں کہ خواجہ خورشید انور کا فن ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ان کی سگھڑ دھنیںے آنے والی نسلوں کو بھی موسیقی کی گہرائی سے روشناس کراتی رہیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d8%b9%d8%b8%db%8c%d9%85-%d9%85%d9%88%d8%b3%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%b1-%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d8%ae%d9%88%d8%b1%d8%b4%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%86%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
