<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>خواجہ_آصف &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81_%d8%a2%d8%b5%d9%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 09:26:37 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>خواجہ_آصف &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پاکستان نے اسلامی دنیا کو نئی راہ دکھائی، غیر ملکی اڈے حفاظت نہیں کر سکتے: خواجہ آصف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/4146/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/4146/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 31 Oct 2026 09:34:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلامی_دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ_آصف]]></category>
		<category><![CDATA[دفاع_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_کامیابیاں]]></category>
		<category><![CDATA[سیالکوٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کانووکیشن]]></category>
		<category><![CDATA[وزیر_دفاع]]></category>
		<category><![CDATA[یو_سی_پی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%86%db%92-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%da%a9%d9%88-%d9%86%d8%a6%db%8c-%d8%b1%d8%a7%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ سمندر پار فوجی اڈے کسی ملک کی حفاظت کے ضامن نہیں ہوتے، پاکستان نے عالمی سطح پر اپنا ایک نمایاں اور قابل فخر مقام حاصل کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان نے عالمی اور سفارتی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرتے ہوئے اسلامی دنیا کو نئی راہ دکھائی ہے۔ کسی ملک کی حقیقی حفاظت غیر ملکی اڈوں کے بجائے اپنے دست و بازو اور قومی صلاحیتوں پر منحصر ہوتی ہے، جبکہ سمندر پار اڈے صیہونی ریاست کی حفاظت اور ذاتی مفادات کے لیے بنائے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیالکوٹ میں یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوان ملکی ترقی و خوشحالی میں بنیادی اور اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواجہ آصف نے سفارتی امور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام، خاص طور پر ایران اور عرب ممالک کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں عسکری اور سفارتی کامیابیوں کا سفر مسلسل جاری ہے اور پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دے کر اپنا لوہا منوایا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے 36 سالہ سیاسی سفر کا ذکر کرتے ہوئے وزیر دفاع نے بتایا کہ انہوں نے اپنے دورِ سیاست میں سختیاں اور قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتقامی سیاست کبھی ملک کے مفاد میں نہیں ہوتی اور تمام اداروں کو اپنا احتساب خود کرنا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/4146/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان تلخی پارلیمانی نوک جھوک ہے: رانا ثنا اللہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/3205/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/3205/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 30 Oct 2026 08:14:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پارلیمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پرویز_رشید]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ_آصف]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رانا_ثنا_اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d8%a2%d8%b5%d9%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d9%88%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b6%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ اور سینیٹر پرویز رشید نے دونوں رہنماؤں کے درمیان حالیہ بیان بازی پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی دارالحکومت میں سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماؤں نے خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ہونے والی حالیہ بیان بازی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے اس صورتحال کو معمول کی پارلیمانی نوک جھوک قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں بعض اوقات ماحول گرم ہونے پر الفاظ کا چناؤ حدود سے تجاوز کر جاتا ہے، تاہم سیاست دانوں میں اتنی لچک ہونی چاہیے کہ وہ معاملات کو بعد میں بہتر انداز میں حل کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ وہ مولانا فضل الرحمان پر خواجہ آصف کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تائید نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف اپنے خیالات کا اظہار دبنگ انداز میں کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں اور وہ کسی کی ہدایت پر بات نہیں کرتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ڈی ایم حکومت کے دوران مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کی اچھی یادیں وابستہ ہیں۔ ماضی میں بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان تلخیاں رہی ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جاتی ہیں، اس لیے ایسی باتوں کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر مستقبل میں کسی اہم آئینی ترمیم کی ضرورت پیش آئی تو حکومت مولانا فضل الرحمان سے ضرور تعاون مانگے گی۔ انہیں یقین ہے کہ جب ترمیم ملک اور قوم کے مفاد میں ہوگی تو مولانا فضل الرحمان حکومت کا ساتھ دیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ہونے والی بحث کو محض پارلیمانی نوک جھوک قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کو کسی قسم کی کشیدگی یا ٹینشن نہیں سمجھتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پرویز رشید نے کہا کہ دونوں سینئر رہنماؤں نے ایک طویل سیاسی رفاقت گزاری ہے اور ایک ہی جدوجہد میں شامل رہے ہیں۔ آج کل دونوں کی جماعتوں کے درمیان سیاسی محاذ آرائی ہے جس کے باعث کبھی کبھار آمنا سامنا ہو جاتا ہے اور ہمیں کچھ سخت جملے سننے کو ملتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حکومتی رہنماؤں کی جانب سے ان بیانات کو پارلیمانی نوک جھوک قرار دینا دراصل سیاسی ماحول کو ٹھنڈا کرنے کی ایک کوشش ہے۔ حکومت اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ماضی میں قریبی تعلقات رہے ہیں جنہیں برقرار رکھنے کی خواہش دونوں جانب سے محسوس کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا یہ موقف سامنے آنے کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا مولانا فضل الرحمان کی جانب سے اس پر کوئی ردعمل آتا ہے یا نہیں۔ سیاسی حلقوں میں اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ آیا یہ تلخی مستقبل میں کسی بڑے سیاسی اتحاد میں رکاوٹ بنے گی یا نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثنا اللہ نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ سیاست دانوں کے درمیان ہونے والی ایسی بحثوں پر ٹی وی ٹاک شوز میں غیر ضروری تبصرے کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق سیاست میں اختلافات عارضی ہوتے ہیں اور جمہوریت میں بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہنے چاہئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی ترجمانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر ہونے والی گفتگو کو ذاتی دشمنی میں نہیں بدلنا چاہیے۔ خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان دونوں ہی ملک کے تجربہ کار سیاست دان ہیں اور وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ملکی مفاد میں کب اور کیسے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر حکومتی صفوں سے آنے والے ان بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اپنے تعلقات کو خراب نہیں کرنا چاہتی۔ آئندہ دنوں میں سیاسی صورتحال میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ پارلیمانی امور کو احسن طریقے سے چلایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/3205/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>تہران اجلاس کا مرکزی موضوع سعودی عرب کی صورتحال تھا، خواجہ آصف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2505/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2505/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 01:37:31 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[امن_کوششیں]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ایران_امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سعودی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[تہران_اجلاس]]></category>
		<category><![CDATA[حرمین_شریفین]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خطے_میں_امن]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ_آصف]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%aa%db%81%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d8%ac%d9%84%d8%a7%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%da%a9%d8%b2%db%8c-%d9%85%d9%88%d8%b6%d9%88%d8%b9-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8/</guid>

					<description><![CDATA[وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے دفاع کا معاہدہ پاکستان کی ذمہ داری ہے اور خطے میں امن کے لیے کوششیں ثمر آور ثابت ہو رہی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ تہران میں منعقد ہونے والے چار ملکی اجلاس کا بنیادی ایجنڈا سعودی عرب کی موجودہ صورتحال تھا۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدہ موجود ہے جس کے تحت مملکت کا دفاع پاکستان کی اہم ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع نے تہران اجلاس میں ہونے والی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ملاقات کے مثبت نتائج برآمد ہونے کی امید ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور امن کی بحالی کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششیں اب ثمر آور ثابت ہو رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواجہ آصف نے حوثیوں کی جانب سے حرمین شریفین پر حملے کی کوششوں کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے اور کسی بھی معاہداتی ذمہ داری سے انحراف ممکن نہیں۔ پاکستان اپنے برادر ملک کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے حوالے سے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ تہران میں ہونے والی بات چیت میں امریکہ کے ساتھ معاملات اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہوگا۔ انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی امن کوششوں کو سراہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خطے میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ممکنہ حل کی جانب پیشرفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان نے عالمی امن کے قیام کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ہے جس کے اثرات اب نمایاں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواجہ آصف نے خبردار کیا کہ امریکہ اور اسرائیل میں جاری انتخابات کے تناظر میں جنگ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا امکان نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جنگوں کو سیاسی مفادات کے بجائے امن کے قیام کے لیے ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش ہونی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں استحکام کا خواہاں رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور امن کا قیام ہے اور اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ ممالک کے ساتھ رابطے جاری ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی کے حل کے لیے ہونے والی کوششیں اب ایک اہم موڑ پر پہنچ چکی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر یہ کوششیں اسی رفتار سے جاری رہیں تو خطے میں طویل عرصے سے جاری تناؤ میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواجہ آصف نے اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سیاسی قیادت مل کر ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ صرف کاغذی نہیں بلکہ عملی ذمہ داری ہے جسے پاکستان ہر حال میں نبھانے کا پابند ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع نے پروگرام کے دوران اس بات کی نشاندہی کی کہ عالمی طاقتوں کو بھی چاہیے کہ وہ خطے میں امن کے قیام کے لیے تعمیری کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ جنگیں کسی بھی مسئلے کا حل نہیں بلکہ تباہی اور انسانی المیے پیدا کرتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے تمام برادر اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت اور ادارے خطے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتے رہیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2505/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ترک سفیر کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2492/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2492/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 21:36:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_ترک_دوستی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ترکیہ]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ_آصف]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%aa%d8%b1%da%a9-%d8%b3%d9%81%db%8c%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%af%d9%81%d8%a7%d8%b9-%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d8%a2%d8%b5%d9%81-%d8%b3%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی دارالحکومت میں ہونے والی ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے مابین دوطرفہ تعلقات اور دفاعی شعبے میں اشتراک کو مزید مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں تعینات جمہوریہ ترکیہ کے سفیر عرفان نذیر اوغلو نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف سے ان کے دفتر میں خصوصی ملاقات کی۔ اس اہم نشست کے دوران دونوں ممالک کے مابین باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کا مرکزی ایجنڈا پاکستان اور ترکیہ کے درمیان موجود دیرینہ برادرانہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانا اور مختلف شعبوں میں تعاون کے دائرہ کار کو وسیع کرنا تھا۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دوطرفہ روابط کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ترکیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان تمام شعبوں میں ترکیہ کے ساتھ اپنے روابط کو مزید گہرا اور مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران دفاعی شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دونوں اطراف نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دفاعی اشتراک کو بڑھانا دونوں برادر ممالک کے مفاد میں ہے اور اس ضمن میں مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترک سفیر عرفان نذیر اوغلو نے پاکستان اور ترکیہ کے مابین دوستانہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور ثقافتی رشتے بہت گہرے ہیں۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے ترکیہ کی دلچسپی کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع نے ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون کے فروغ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شعبے میں موجودہ اشتراک کو مزید جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی بات کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات میں خطے کی مجموعی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مسلسل رابطے اور مشاورت دونوں ممالک کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور ترکیہ کے مابین دفاعی تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے جس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ ہر مشکل وقت میں یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس ملاقات کو اسی تسلسل کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ترک سفیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو ہمیشہ ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور تزویراتی تعلقات کو مزید تقویت دے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترک سفیر نے وزیر دفاع کے جذبات کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کا یقین دلایا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے باقاعدگی سے رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور ترکیہ کے مابین دفاعی تعاون کے فروغ سے نہ صرف دونوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے میں بھی مدد ملے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور ترک سفیر عرفان نذیر اوغلو کے درمیان ہونے والی یہ نشست دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے دروازے کھلنے کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2492/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بیرون ملک یوٹیوبرز نے پی ٹی آئی کو تباہ کر دیا، خواجہ آصف کا بیان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1795/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1795/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 04:57:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آن_لائن_پروپیگنڈا]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ_آصف]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوشل_میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_بیان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%db%8c%d9%88%d9%b9%db%8c%d9%88%d8%a8%d8%b1%d8%b2-%d9%86%db%92-%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%a9%d9%88/</guid>

					<description><![CDATA[وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم یوٹیوبرز اپنی اشتعال انگیز ویڈیوز سے پی ٹی آئی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں بیرون ملک مقیم یوٹیوبرز پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ افراد ملک سے باہر محفوظ ماحول میں بیٹھ کر اپنے مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ یہ یوٹیوبرز اپنی منفی اور اشتعال انگیز پوسٹس کے ذریعے ڈالرز کما رہے ہیں، جبکہ ان کی ان حرکتوں کا خمیازہ پاکستان کے اندر موجود پی ٹی آئی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے ان افراد کو پی ٹی آئی کا سب سے بڑا دشمن قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواجہ آصف نے مزید کہا کہ یہ ایک عجیب صورتحال ہے کہ جن لوگوں کی حمایت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، انہی کی مشکلات اور آزمائشوں کو بیچ کر یہ لوگ اپنی جیبیں بھر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، یہ عمل اخلاقی اور سیاسی اعتبار سے انتہائی افسوسناک ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ جب پی ٹی آئی اقتدار میں تھی تب بھی یہ یوٹیوبرز خوب کمائی کر رہے تھے، اور آج جب وہ اقتدار میں نہیں ہیں تب بھی ان کی کمائی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس پوری جماعت کو انہی یوٹیوبرز نے برباد کر کے رکھ دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواجہ آصف کے مطابق، بیرون ملک بیٹھے یہ افراد سوشل میڈیا کا غلط استعمال کر کے ملک میں انتشار پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ایسی اشتعال انگیزی سے ملکی سیاست میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے جس کا نقصان براہ راست سیاسی جماعتوں کو ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواجہ آصف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر ہے۔ پی ٹی آئی اور حکومتی اتحاد کے درمیان لفظی جنگ میں سوشل میڈیا کا کردار کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع نے اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بیانیے کو درست کریں اور ایسے عناصر سے ہوشیار رہیں جو ان کے نام پر اپنا کاروبار کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حقائق کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی حکومتی عہدیدار نے بیرون ملک مقیم یوٹیوبرز یا سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر تنقید کی ہو۔ ماضی میں بھی مختلف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں سوشل میڈیا کے ضوابط اور اس کے استعمال پر بحث کافی عرصے سے جاری ہے۔ حکومت کی جانب سے اکثر یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ذمہ دارانہ رویہ اپنانا چاہیے تاکہ غلط معلومات کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواجہ آصف کی جانب سے پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بیان سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اپوزیشن جماعت کی جانب سے اس بیان پر کیا ردعمل آتا ہے، اس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر، وزیر دفاع کا یہ بیان ملکی سیاست میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید سیاسی بیان بازی متوقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1795/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعاون کا اہم معاہدہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1770/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1770/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 00:56:50 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انڈونیشیا]]></category>
		<category><![CDATA[بدر_مفاہمتی_یادداشت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[ترکیہ]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ_آصف]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_صنعت]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_معاہدہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%aa%d8%b1%da%a9%db%8c%db%81-%d9%82%d8%b7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%86%da%88%d9%88%d9%86%db%8c%d8%b4%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[چاروں ممالک نے سکیورٹی اور دفاعی صنعت میں مشترکہ تحقیق و ترقی کے فروغ کے لیے 'بدر مفاہمتی یادداشت' پر دستخط کر دیے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے باہمی دفاعی اور سکیورٹی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک اعلیٰ سطحی تقریب کے دوران طے پایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تاریخی معاہدے کو &#039;بدر مفاہمتی یادداشت&#039; کا نام دیا گیا ہے۔ اس اہم دستاویز پر دستخط کرنے والوں میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف، ترکیہ کے وزیر قومی دفاع یاشار گولر، قطر کے وزیر مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمٰن الثانی شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انڈونیشیا کی جانب سے اس معاہدے پر ان کے نائب وزیر دفاع یوسف جوہری نے دستخط کیے۔ اس موقع پر چاروں ممالک کے اعلیٰ حکام نے دفاعی شعبے میں باہمی تعاون کو خطے کے امن اور استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترک وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس معاہدے کا بنیادی مقصد چاروں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان قریبی روابط استوار کرنا اور جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاہدے کے تحت چاروں ممالک مشترکہ فوجی مشقوں کے انعقاد اور پیشہ ورانہ تربیتی تعاون کو مزید وسعت دیں گے۔ اس سے نہ صرف افواج کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دفاعی تحقیق اور ترقی (R&amp;D) کے شعبے میں تعاون اس معاہدے کا ایک کلیدی حصہ ہے۔ چاروں ممالک اپنی دفاعی صنعتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مشترکہ منصوبوں پر کام کریں گے تاکہ خود انحصاری کو فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترک دفاعی صنعتی ایجنسی نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ یہ مفاہمتی یادداشت پہلے سے جاری دفاعی منصوبوں کو تیز کرنے اور نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے ایک مضبوط فریم ورک فراہم کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے لیے یہ معاہدہ دفاعی شعبے میں اپنی شراکت داری کو متنوع بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس سے قبل بھی پاکستان ترکیہ اور قطر کے ساتھ مختلف دفاعی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قطر کی میزبانی میں ہونے والی اس تقریب کو خطے کے دفاعی توازن کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ چاروں ممالک کے درمیان یہ اشتراک عمل مستقبل میں دفاعی پیداوار میں خود کفالت کی جانب ایک بڑا قدم ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان چاروں ممالک کا دفاعی اتحاد نہ صرف ان کی اپنی سکیورٹی ضروریات کو پورا کرے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مضبوط دفاعی بلاک کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس موقع پر کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت برادر ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دفاعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترک وزیر دفاع یاشار گولر نے بھی اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ چاروں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کا یہ نیا باب خطے میں امن کے قیام کے لیے معاون ثابت ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1770/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>منصوبہ بدر علاقائی امن اور دفاعی تعاون کا عکاس ہے: خواجہ آصف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1739/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1739/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 15:56:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انڈونیشیا]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_آرمی]]></category>
		<category><![CDATA[ترکیہ]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ_آصف]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_پیداوار]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[دوحہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[علاقائی_امن]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d9%86%d8%b5%d9%88%d8%a8%db%81-%d8%a8%d8%af%d8%b1-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%85%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%d9%81%d8%a7%d8%b9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[پاکستان، قطر، انڈونیشیا اور ترکیہ کے مابین دفاعی صنعتوں میں اشتراک کے لیے اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان، قطر، انڈونیشیا اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے نئے اور اہم منصوبے &#039;بدر&#039; کی مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط کر دیے گئے ہیں جس کا مقصد چاروں برادر اور دوست ممالک کے مابین دفاعی صنعتوں میں باہمی اشتراک کو نئی بلندیوں تک لے جانا ہے۔ اس اہم پیشرفت سے علاقائی امن و استحکام کو فروغ ملے گا اور تمام شریک ممالک کی دفاعی پیداواری صلاحیتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقد ہونے والی اس پُر وقار دستخطی تقریب میں چاروں ممالک کے وزرائے دفاع اور متعلقہ اعلیٰ دفاعی حکام نے بھرپور شرکت کی۔ تقریب کے دوران دفاعی شعبے میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور مستقبل کے لائحہ عمل پر اتفاق رائے پیدا کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پاکستان کی نمائندگی وزیر دفاع خواجہ آصف اور وفاقی وزیر دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج نے کی۔ اس کے علاوہ ترکیہ کے وزیر دفاع یاشار گولر اور انڈونیشیا کے نائب وزیر دفاع سمیت دیگر اعلیٰ عسکری حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے بعد اپنے ایک بیان میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس مفاہمتی یادداشت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے قابل اعتماد شراکت داروں کے ساتھ دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط بنانے کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے ہمارے مشترکہ پختہ عزم کا واضح مظہر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع نے مزید کہا کہ اس منصوبے کے تحت بین الاقوامی اور ملکی قوانین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے خود کفالت کے حصول، صنعتی تعاون، مشترکہ پیداوار اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کے تمام ممکنہ مواقع تلاش کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اشتراک کا بنیادی مقصد مشترکہ تحقیق و ترقی کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قطر کی وزارت دفاع کی جانب سے اس موقع پر جاری کردہ تفصیلی بیان میں بتایا گیا کہ بدر منصوبے کا اصل ہدف چاروں ممالک کے درمیان دفاعی پیداوار کے شعبے میں طویل المدتی اشتراک قائم کرنا ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے اور جدید خطوط پر استوار کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت کی رو سے دفاعی تربیت کے ساتھ ساتھ تحقیق اور ترقی کے شعبوں کو بھی خصوصی اہمیت دی جائے گی۔ اس سے جدید دفاعی تقاضوں کے مطابق ٹیکنالوجی اور صنعتی حل تلاش کرنے میں مدد ملے گی جو خطے کے دفاعی ڈھانچے کو مستحکم کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منصوبہ بدر کے تحت چاروں ممالک کی انفرادی اور اجتماعی دفاعی پیداواری صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کیا جائے گا تاکہ دفاعی صنعتوں میں باہمی اشتراک اور پیداواری استعداد میں اضافہ کیا جا سکے، جو کہ ایک مستحکم مستقبل کی ضمانت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ مشترکہ منصوبہ نہ صرف شریک ممالک کی اپنی دفاعی ضروریات کو پورا کرے گا بلکہ اتحادی اور دوست ممالک کے لیے بھی ایک مضبوط تعاون کا پلیٹ فارم مہیا کرے گا، جس سے تکنیکی شراکت داری کو جلا ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ اس مفاہمتی یادداشت کے عملی نفاذ کے لیے جلد ہی ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے جو باہمی تعاون کے مختلف منصوبوں کو حتمی شکل دے کر ان پر جلد عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1739/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے اثر سے نکلے تو سیاست کیلئے بہتر ہوگا: خواجہ آصف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1583/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1583/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 11:57:35 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اپوزیشن]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پارلیمنٹ_ہاؤس]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوریت]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ_آصف]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%b4%d9%84-%d9%85%db%8c%da%88%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%ab%d8%b1-%d8%b3%db%92-%d9%86%da%a9%d9%84%db%92-%d8%aa%d9%88/</guid>

					<description><![CDATA[وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ سیاست میں کوئی دروازہ ہمیشہ کے لیے بند نہیں ہوتا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے سحر سے باہر نکل آئیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر اپوزیشن جماعت سوشل میڈیا کے پروپیگنڈا اور دباؤ سے آزاد ہو کر زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کرے تو اس کی سیاسی بقا اور استحکام کے لیے یہ انتہائی سودمند ثابت ہو گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کی سیاسی فضا میں مختلف جماعتوں کے درمیان مکالمے اور کشیدگی کا ملا جلا ماحول پایا جاتا ہے۔ انہوں نے پارلیمانی سیاست کے اصولوں پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ جمہوریت میں غیر لچکدار رویے اور ناقابل واپسی فیصلے کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی کیونکہ حالات بدلتے رہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواجہ آصف نے ماضی کے سیاسی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے اندر دشمنیاں اور دوستیاں دائمی نہیں ہوتیں بلکہ وقت اور حالات کے ساتھ باہمی تعلقات کا رخ بدلتا رہتا ہے۔ ان کے نزدیک سیاستدانوں کے لیے ہمیشہ دروازے کھلے رہنے چاہئیں تاکہ ضرورت پڑنے پر قومی مفاد میں راستے نکالے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ہی جماعت کے کسی دوسرے رہنما کے بیان پر تبصرہ کرنے سے گریز کریں گے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ جے یو آئی کے سربراہ کی جانب سے کچھ روز قبل سخت زبان استعمال کی گئی تھی جس پر انہوں نے سیاسی نکتہ چینی کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سیاسی میدان میں اختلاف رائے ایک فطری عمل ہے لیکن جب گفتگو میں تلخی حد سے بڑھ جائے تو اس پر سیاسی ردعمل دینا بھی سیاسی جماعتوں کا حق بن جاتا ہے۔ ان کے مطابق پارلیمانی روایات کے دائرے میں رہ کر ہی تمام امور پر بحث ہونی چاہیے تاکہ جمہوریت کا وقار برقرار رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحریک انصاف کے اندرونی حالات کا ذکر کرتے ہوئے خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ اس وقت پی ٹی آئی کی صفوں کے اندر سے بھی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے اندر موجود سنجیدہ حلقے اب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ محاذ آرائی اور مزاحمتی سیاست کو اب خیرباد کہہ دینا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ اگر پی ٹی آئی کی قیادت احتجاجی سیاست کو چھوڑ کر آئینی اور پارلیمانی دائرے میں آ کر سیاسی عمل کا حصہ بنتی ہے تو انہیں سیاسی میدان میں کافی زیادہ گنجائش اور پذیرائی مل سکتی ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ لچکدار رویہ ہی جمہوری نظام کو مضبوط کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک کو اس وقت سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے تاکہ معاشی چیلنجز سے مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے اور تمام جماعتوں کو اس میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارلیمنٹ کے اندر اور باہر رہنماؤں کے ایسے بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی فضا میں مکالمے کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے تاکہ ملکی مسائل کا آئینی حل تلاش کیا جا سکے اور محاذ آرائی کا خاتمہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ سیاسی منظر نامے میں پارلیمنٹ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات پس پشت ڈال کر ایوان کے اندر سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تناظر میں وزیر دفاع نے ایک بار پھر دہرایا کہ اگر اپوزیشن جماعت اپنے رویے میں تبدیلی لائے اور غیر ضروری دباؤ سے باہر نکلے تو قومی سیاست میں ایک نئے اور مثبت دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1583/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بیوروکریٹس کی بیرونِ ملک ہجرت پر وزیر دفاع خواجہ آصف کے سوالات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1267/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1267/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 12:37:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بیرون_ملک_منتقلی]]></category>
		<category><![CDATA[بیوروکریسی_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[حکومتی_امور]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ_آصف]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سرکاری_افسران]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%b9%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%db%81%d8%ac%d8%b1%d8%aa-%d9%be%d8%b1-%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سرکاری افسران کے بیرونِ ملک مستقل سکونت اختیار کرنے کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سرکاری بیوروکریسی کے بعض اہم افسران کی جانب سے بیرونِ ملک مستقل سکونت اختیار کرنے کے رجحان پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک تفصیلی بیان میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ سرکاری ملازمت کے دوران ہی بیرونی ممالک میں رہائش کے انتظامات کرنے سے ان کی قومی ذمہ داریوں پر سوالیہ نشان لگتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ملکی انتظامی ڈھانچے میں بے پناہ قابل اور دیانت دار افسران بھی موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود ایک بڑی تعداد نے کینیڈا، برطانیہ، امریکا اور یورپی ممالک کو اپنا مستقل ٹھکانہ بنانے کو ترجیح دی ہے۔ اس روش سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ بعض افراد کے نزدیک ملکی خدمات شاید ایک عارضی مرحلہ ہوتی ہیں جب کہ اصل منزل کوئی اور ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواجہ آصف نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران سرکاری افسران کی منتقلی کے حوالے سے پرتگال کا نام بہت زیادہ سامنے آ رہا ہے۔ وہ اس اہم معاملے پر پہلے بھی اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں کیونکہ یہ قومی مفاد اور حکومتی کارکردگی سے براہِ راست جڑا ہوا ایک سنجیدہ موضوع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا دعویٰ ہے کہ جن افسران کے نام اس طرح کی منتقلیوں میں لیے جا رہے ہیں وہ طویل عرصے تک مختلف ادوار میں حکومتوں کی خصوصی توجہ اور سرپرستی کا مرکز رہے ہیں۔ یہ افراد ہمیشہ اہم اور کلیدی عہدوں پر فائز رہ کر سرکاری امور چلاتے رہے ہیں لیکن اندرونی طور پر ان کے ذاتی منصوبے کچھ اور ہی ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر نے یہ انکشاف بھی کیا کہ اس پورے عمل میں مبینہ طور پر سہولت کاری کرنے والا ایک شخص دولت مند بیوروکریٹس سے بھاری رقوم بٹورنے کے بعد ملک سے فرار ہو چکا ہے۔ اس معاملے کے حوالے سے معاشرے اور حلقوں میں مختلف قسم کی کہانیاں گردش کر رہی ہیں جو انتظامی بدعنوانی کی ایک نئی تصویر پیش کرتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم انہوں نے اپنے اس بیان میں کسی بھی مخصوص افسر، نامزد سہولت کار یا مالی لین دین کے حوالے سے کوئی تفصیلی شواہد یا نام سامنے نہیں رکھه‌ ہیں۔ ان کا مقصد اس سنگین مسئلے کی طرف اعلیٰ سطحی توجہ مبذول کرانا تھا تاکہ اس پر سنجیدگی سے غور کیا جا سکے اور اصلاح احوال کی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواجہ آصف نے اپنے بیان میں یہ بنیادی نکتہ اٹھایا ہے کہ جن لوگوں نے اعلیٰ سرکاری کرسیوں پر بیٹھ کر ملک کی دولت اور عزت سمیٹی اور جو سیاسی حلقوں کی آنکھ کا تارا رہے، کیا ان کی حب الوطنی کو ہمیشہ شک و شبہے سے بالاتر مانا جا سکتا ہے؟</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے سوال کیا کہ جو لوگ پہلے ہی بیرونِ ملک منتقل ہونے کے منصوبے بنائے بیٹھے ہوں، وہ کس حد تک اپنی سرکاری ملازمت کے دوران پاکستان کے ساتھ مخلص رہ سکتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایسے تمام معاملات کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ایک جامع اور شفاف جانچ پڑتال ناگزیر ہو چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ متعلقہ افسران کے اثاثوں، ان کی آمدن کے ذرائع اور بیرونِ ملک کی جانے والی سرمایہ کاری کا از سر نو جائزہ لیا جائے۔ اس طرح کی تحقیقات سے ہی واضح ہو سکے گا کہ قانونی تقاضوں کی کتنی پاسداری کی گئی ہے اور کتنا استحصال کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملکی بیوروکریسی کو مضبوط اور شفاف بنانے کے لیے اس قسم کے چیلنجز سے نمٹنا ریاست کے لیے انتہائی ضروری ہو چکا ہے تاکہ کوئی بھی شخص سرکاری عہدے کا فائدہ اٹھا کر ذاتی مفادات کی تکمیل نہ کر سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ حالات میں اس بیان کے بعد سیاسی و انتظامی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے اور توقع ہے کہ اس ضمن میں مزید حقائق بھی سامنے آئیں گے۔ قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ سرکاری ذمہ داریوں کی انجام دہی میں شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال رہ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیوروکریسی کے اندر اس طرح کے رجحانات کا تدارک کرنے کے لیے ملک کے تمام اہم دارالحکومتوں اور متعلقہ وزارتوں کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ شفافیت اور قانون کی بالادستی سے ہی ایسے مسائل کا مستقل حل نکالا جا سکتا ہے جو ملکی ترقی کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1267/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مریم نواز کا بیان: جے یو آئی ترجمان اسلم غوری کا سخت ردعمل</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1141/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1141/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 18:56:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلم_غوری]]></category>
		<category><![CDATA[پارلیمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[جے_یو_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ_آصف]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_بیانات]]></category>
		<category><![CDATA[طلال_چوہدری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d8%b1%db%8c%d9%85-%d9%86%d9%88%d8%a7%d8%b2-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d8%ac%db%92-%db%8c%d9%88-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%aa%d8%b1%d8%ac%d9%85%d8%a7%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[ترجمان جمعیت علمائے اسلام اسلم غوری نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے الفاظ کا چناؤ درست نہیں تھا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے ترجمان اسلم غوری نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کے بارے میں دیے گئے حالیہ بیان پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ایک نجی ٹی وی پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن بزرگ سیاستدانوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اخلاقی حدود کا خیال رکھنا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلم غوری کا کہنا تھا کہ مریم نواز کو سخت الفاظ استعمال کرنے سے پہلے ماضی کے واقعات کو یاد رکھنا چاہیے تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب مریم نواز مشکل وقت سے گزر رہی تھیں اور ان کی گرفتاری کے مراحل تھے، تب مولانا فضل الرحمان نے انہیں بیٹی کہہ کر ان کی حمایت کی تھی۔ جے یو آئی کے کارکنان نے بھی اس دور میں ان کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان جے یو آئی نے مزید کہا کہ اگر مریم نواز کو مولانا فضل الرحمان کے کسی موقف سے اختلاف تھا تو وہ انہیں براہ راست فون کر کے بھی اپنی بات پہنچا سکتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کی کرسی انسان کو بہت کچھ بھلا دیتی ہے، لیکن سیاسی تعلقات اور پرانے احسانات کو فراموش کرنا درست رویہ نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلم غوری نے اس بات پر زور دیا کہ مولانا فضل الرحمان کا قد کاٹھ اور ان کی سیاسی خدمات مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر واضح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے تھی کہ سربراہ جے یو آئی ان کے والد کے برابر ہیں اور ان کا احترام ہر صورت میں قائم رہنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پروگرام کے دوران اسلم غوری نے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وہ صرف میڈیا میں رہنے کے لیے غیر ضروری بیانات دیتے ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ خواجہ آصف کو اب عملی سیاست سے ریٹائرمنٹ لے لینی چاہیے تاکہ معاملات بہتر انداز میں چل سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جے یو آئی کے ترجمان نے طلال چوہدری کے بیانات کو بھی ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ انہیں کسی پر الزام تراشی کرنے سے پہلے اپنے سیاسی قد اور ماضی کے کردار کا جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دوسروں پر تنقید کرنے والے پہلے خود اپنے گریبان میں جھانکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملکی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسلم غوری نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ ملک میں ایمرجنسی جیسی صورتحال کی وجوہات پارلیمنٹ کے سامنے رکھے اور حقائق کو عوام سے نہ چھپائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں گورنر کی تعیناتی پر بھی اسلم غوری نے تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جن شخصیات کو صوبے کے اہم عہدوں پر بٹھایا گیا ہے، ان کی سیاسی تاریخ اور کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسے فیصلوں سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں ہو سکتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلم غوری نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا خیبر پختونخوا میں کوئی خاص سیاسی کردار نہیں ہے، اس لیے وہاں کے معاملات کو چلانے کے لیے نااہل افراد کا انتخاب کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو عوامی مینڈیٹ اور زمینی حقائق کا احترام کرنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان جے یو آئی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ہمیشہ ملک کے وسیع تر مفاد میں بات کرتے ہیں۔ اگر حکومت کو لگتا ہے کہ وہ غلط کہہ رہے ہیں تو پارلیمنٹ کے فورم پر ان کے ساتھ بحث کی جائے، نہ کہ باہر بیٹھ کر غیر ضروری بیانات دیے جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے واضح کیا کہ جے یو آئی اپنی اصولی سیاست پر قائم رہے گی اور کسی بھی دباؤ میں آئے بغیر اپنے موقف کا اظہار کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں تلخی پیدا کرنا کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلم غوری نے کہا کہ ملک اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے اور ایسے میں سیاسی قیادت کو ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی حملوں کے بجائے قومی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ ملکی استحکام کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو ایک پیج پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیاسی رہنما اپنے بیانات میں احتیاط برتیں گے اور باہمی احترام کی روایت کو برقرار رکھیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1141/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
