<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>خواتین_کا_تحفظ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%aa%db%8c%d9%86_%da%a9%d8%a7_%d8%aa%d8%ad%d9%81%d8%b8/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Tue, 03 Nov 2026 06:15:03 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>خواتین_کا_تحفظ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>سپریم کورٹ نے بیوی پر تشدد کے ملزم آئی بی ملازم کی اپیل خارج کر دی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/4805/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/4805/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 03 Nov 2026 06:15:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_سپریم_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[انٹیلی_جنس_بیورو]]></category>
		<category><![CDATA[بیوی_پر_تشدد]]></category>
		<category><![CDATA[جبری_ریٹائرمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_شاہد_وحید]]></category>
		<category><![CDATA[جواد_عباسی]]></category>
		<category><![CDATA[خواتین_کا_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_فیصلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[محکمانہ_احتساب]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/courts/4805/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت عظمیٰ نے قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازم کی نجی زندگی کا کردار بھی محکمانہ احتساب کے دائرے میں آتا ہے اور خواتین پر تشدد نجی معاملہ نہیں ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سپریم کورٹ آف پاکستان نے انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے ایک ملازم کی جانب سے جبری ریٹائرمنٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل کو خارج کر دیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ ادارے کی جانب سے دی گئی جبری ریٹائرمنٹ کی سزا کو قانون کے مطابق درست قرار دیتے ہوئے برقرار رکھا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سپریم کورٹ کے جج جسٹس شاہد وحید نے اس کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے۔ فیصلے میں اہم قانونی نکات کی وضاحت کرتے ہوئے قرار دیا گیا ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم کی نجی زندگی کا کردار بھی محکمانہ احتساب کے دائرے میں آ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت عظمیٰ نے اپنے تحریری فیصلے میں واضح کیا ہے کہ فوجداری مقدمے میں بریت محکمانہ کارروائی اور سزا سے بریت کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ اگر کسی ملازم کے خلاف محکمانہ انکوائری میں جرم ثابت ہو جائے تو اس پر نظم و ضبط کے قوانین کا اطلاق ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں زور دیا کہ گھر کی چار دیواری کے اندر خواتین پر تشدد کو کسی بھی طور پر نجی معاملہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ریاست اور قانون کی نظر میں خواتین کی عزت اور وقار کا تحفظ ایک بنیادی آئینی ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ماں، بیٹی، بہن یا بیوی کی حیثیت سے عورت کا ہر رشتہ قابلِ احترام ہے۔ لہٰذا کسی بھی عورت پر گھریلو تشدد کو نجی یا ذاتی معاملہ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلے میں مزید کہا گیا کہ جو سرکاری ملازم خواتین پر تشدد کا مرتکب ہوتا ہے، وہ نہ صرف عوامی اعتماد کو مجروح کرتا ہے بلکہ اس سے اس سرکاری ادارے کی ساکھ بھی شدید متاثر ہوتی ہے جس میں وہ کام کر رہا ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ایک سرکاری ملازم کا کردار صرف اس کے دفتری فرائض کی انجام دہی تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کی نجی زندگی کا سلوک بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے۔ دفتر سے باہر کیا گیا کوئی بھی جرم ملازم کی سرکاری ملازمت اور اہلیت پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کیس کے پس منظر کے مطابق اپیل کنندہ جواد عباسی انٹیلی جنس بیورو میں بطور باورچی ملازمت کر رہا تھا۔ اس کے خلاف اپنی ہی اہلیہ کو تشدد کا نشانہ بنانے اور زندہ جلانے کی کوشش پر محکمانہ کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی ریکارڈ اور انکوائری رپورٹ کے مطابق ملزم نے سال 2022ء میں اپنی بیوی پر تشدد کے دوران اسے آگ لگائی اور اسے جان سے مارنے کی کوشش کی تھی۔ اس واقعے کے بعد ادارے نے اس کے خلاف باقاعدہ تحقیقات شروع کی تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی بی کی جانب سے قائم کی گئی محکمانہ انکوائری کے دوران کل 13 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے تھے۔ ان بیانات اور ثبوتوں کی روشنی میں انکوائری کمیٹی نے ملزم کو قصوروار قرار دیتے ہوئے جبری ریٹائرمنٹ کی سزا تجویز کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزم جواد عباسی نے اس محکمانہ سزا کے خلاف اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ فوجداری کیس میں کارروائی کی بنا پر اسے نوکری سے ریٹائر نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم سپریم کورٹ نے ان کے تمام دلائل کو رد کرتے ہوئے محکمانہ فیصلے کو بحال رکھا اور واضح کر دیا کہ خواتین کے خلاف تشدد جیسے سنگین اقدامات پر سرکاری ملازمین کو استثنیٰ حاصل نہیں ہو سکتا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/4805/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کراچی کو جیل قرار دینے پر حنا پرویز بٹ کی حنا الطاف کو لاہور آنے کی دعوت</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/4532/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/4532/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Nov 2026 19:28:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اداکارہ]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_ویمن_پروٹیکشن_اتھارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[حنا_الطاف]]></category>
		<category><![CDATA[حنا_پرویز_بٹ]]></category>
		<category><![CDATA[خواتین_کا_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[خواتین_کے_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوشل_میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[مریم_نواز]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%da%a9%d9%88-%d8%ac%db%8c%d9%84-%d9%82%d8%b1%d8%a7%d8%b1-%d8%af%db%8c%d9%86%db%92-%d9%be%d8%b1-%d8%ad%d9%86%d8%a7-%d9%be%d8%b1%d9%88%db%8c%d8%b2-%d8%a8%d9%b9/</guid>

					<description><![CDATA[پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی چیئرپرسن نے اداکارہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے لاہور میں خواتین کے محفوظ ماحول کا دعویٰ کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی چیئرپرسن حنا پرویز بٹ نے معروف پاکستانی اداکارہ حنا الطاف کو لاہور آنے کی خصوصی دعوت دی ہے۔ یہ پیشکش اداکارہ کی جانب سے کراچی شہر کو خواتین کے لیے جیل قرار دیے جانے والے بیان کے بعد سامنے آئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اداکارہ حنا الطاف نے چند روز قبل لندن کے دورے کے دوران ایک ویڈیو ریکارڈ کی تھی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ اس ویڈیو میں اداکارہ نے کراچی واپسی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شہر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ویڈیو میں حنا الطاف کا کہنا تھا کہ لندن کی سڑکوں پر واک کرتے ہوئے وہ یہ سوچ رہی تھیں کہ کراچی کی فلائٹ پکڑنے سے پہلے یہ ان کا آخری ناشتہ ہے، کیونکہ اس کے بعد انہیں دوبارہ کراچی کی جیل میں قید ہونا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اداکارہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ کراچی میں خواتین کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں اور وہ وہاں آزادی کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتیں۔ ان کے مطابق، شہر میں خواتین کا سڑکوں پر چلنا پھرنا بھی کافی مشکل اور پریشان کن عمل بن چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس بیان کے منظر عام پر آنے کے بعد، پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی چیئرپرسن حنا پرویز بٹ نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ انہوں نے حنا الطاف کی ویڈیو دیکھی ہے جس میں انہوں نے کراچی میں خواتین کو درپیش حفاظتی چیلنجز کو اجاگر کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حنا پرویز بٹ نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اداکارہ کو لاہور کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لاہور میں خواتین کو وہ ماحول فراہم کیا جا رہا ہے جس کی وہ حقدار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں صوبے میں خواتین کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق، حکومت کا عزم ایک ایسا ماحول تشکیل دینا ہے جہاں ہر خاتون بلا خوف و خطر اور مکمل اعتماد کے ساتھ اپنی نقل و حرکت کر سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حنا پرویز بٹ نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کی کوشش ہے کہ خواتین کو کسی بھی قسم کی ہراسانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان کا موقف ہے کہ انتظامیہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے کہ خواتین معاشرے میں خود کو محفوظ محسوس کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے بیان میں حنا پرویز بٹ نے دعویٰ کیا کہ لندن کے مقابلے میں خواتین خود کو لاہور میں زیادہ محفوظ سمجھتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہاں کا ماحول ایسا ہے کہ خواتین کو تشدد یا ہراسانی کا خوف نہیں ہوتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اداکارہ حنا الطاف کی جانب سے کراچی کے بارے میں دیے گئے بیان پر مختلف حلقوں کی جانب سے تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین اس معاملے پر اپنی آراء کا اظہار کر رہے ہیں، جس کے بعد حنا پرویز بٹ کا یہ ردعمل سامنے آیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حنا پرویز بٹ نے اپنی گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ لاہور کی فضا خواتین کے لیے سازگار ہے اور یہاں انہیں اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں انجام دینے میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں خواتین کی حفاظت اور ان کے حقوق کے حوالے سے عوامی سطح پر بحث جاری ہے۔ حنا پرویز بٹ کا یہ بیان پنجاب حکومت کی جانب سے خواتین کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اداکارہ حنا الطاف کی جانب سے تاحال حنا پرویز بٹ کی اس دعوت پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا اداکارہ اس پیشکش کو قبول کرتے ہوئے لاہور کا دورہ کرتی ہیں یا نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی چیئرپرسن کی جانب سے یہ دعوت خواتین کے تحفظ کے حوالے سے حکومتی بیانیے کو تقویت دینے کی ایک کوشش معلوم ہوتی ہے۔ اس سے قبل بھی حنا پرویز بٹ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مختلف پلیٹ فارمز پر آواز اٹھاتی رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/4532/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خواتین کو بلیک میل کرنے والے 3 ملزمان گرفتار، این سی سی آئی اے کی کارروائی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2502/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2502/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 23:57:49 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[این_سی_سی_آئی_اے]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بلیک_میلنگ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پیکا_ایکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خواتین_کا_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_کرائم]]></category>
		<category><![CDATA[سوشل_میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%aa%db%8c%d9%86-%da%a9%d9%88-%d8%a8%d9%84%db%8c%da%a9-%d9%85%db%8c%d9%84-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-3-%d9%85%d9%84%d8%b2%d9%85%d8%a7%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی کھلی کچہری میں موصول ہونے والی شکایات پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے لاہور اور اسلام آباد میں چھاپے مارے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے خواتین کو فون پر ہراساں کرنے اور انہیں بلیک میل کرنے والے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی کھلی کچہری میں متاثرہ خواتین کی جانب سے کی جانے والی شکایات کے بعد عمل میں لائی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایجنسی حکام کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے لاہور اور اسلام آباد میں بیک وقت چھاپے مارے گئے، جس کے دوران ملزمان کے زیر استعمال موبائل فونز کو قبضے میں لے لیا گیا۔ ان آلات سے قابلِ اعتراض تصاویر، ویڈیوز اور دیگر ڈیجیٹل شواہد برآمد ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی تحقیقات کے مطابق، ملزم ذیشان پر الزام ہے کہ اس نے ایک خاتون کو نازیبا مواد اہل خانہ اور دیگر افراد کو بھیجنے کی دھمکی دے کر خوفزدہ کیا تھا۔ ملزم کا مقصد متاثرہ خاتون کو بلیک میل کر کے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دیگر دو ملزمان کے خلاف بھی سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ ایک ملزم پر واٹس ایپ اور ٹک ٹاک جیسی سوشل میڈیا ایپس کے ذریعے قابلِ اعتراض ویڈیوز بھیج کر بلیک میلنگ کرنے کا الزام ہے۔ دوسرے ملزم کے موبائل سے سوشل میڈیا پر طویل عرصے تک ہراساں کرنے کے شواہد ملے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">این سی سی آئی اے حکام نے برآمد شدہ تمام موبائل فونز کو فرانزک تجزیے کے لیے سیل کر دیا ہے تاکہ مزید ڈیجیٹل شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔ اس عمل سے کیس کو عدالت میں مضبوطی سے پیش کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گرفتار ملزمان کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ ایجنسی نے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے ملزمان سے مزید پوچھ گچھ شروع کر دی ہے تاکہ اس نیٹ ورک میں ملوث دیگر افراد کا بھی سراغ لگایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے اس معاملے پر سخت نوٹس لیا گیا تھا، جس کے بعد این سی سی آئی اے نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ملزمان کو قانون کی گرفت میں لیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سائبر کرائم میں ملوث افراد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواتین کی جانب سے کھلی کچہری میں کی جانے والی شکایات پر فوری کارروائی سے متاثرین میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد بحال ہوا ہے۔ محکمہ داخلہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ہراسانی یا بلیک میلنگ کی صورت میں فوری طور پر رپورٹ کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر این سی سی آئی اے اپنی تکنیکی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کر رہی ہے۔ جدید فرانزک آلات کی مدد سے اب ملزمان کا ڈیجیٹل ریکارڈ تک رسائی حاصل کرنا پہلے سے زیادہ آسان ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پاکستان کی جانب سے خواتین کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ معاشرے میں خواتین کے وقار کو مجروح کرنے والے عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">این سی سی آئی اے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تفتیش کے اگلے مراحل میں ملزمان کے رابطوں کی بھی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ اگر اس نیٹ ورک میں کوئی اور گروہ ملوث پایا گیا تو ان کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کیس کی پیروی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں تاکہ ملزمان کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔ قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہی اس کارروائی کا بنیادی مقصد ہے تاکہ عوام بالخصوص خواتین آن لائن محفوظ ماحول میں رہ سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2502/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ریپ کیس: ملزم کے خاندان کی جانب سے متاثرہ لڑکی کو کروڑوں کی پیشکش کا انکشاف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2087/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2087/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 02:57:45 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف_کی_فراہمی]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم_کا_خاتمہ]]></category>
		<category><![CDATA[خواتین_کا_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریپ_کیس]]></category>
		<category><![CDATA[سماجی_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_نظام]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b1%db%8c%d9%be-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d9%85%d9%84%d8%b2%d9%85-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%b3%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ انصاف کی فراہمی میں مالی اثر و رسوخ کا استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں ریپ کے واقعات اور ان کے بعد متاثرہ خواتین پر پڑنے والے دباؤ کے حوالے سے تشویشناک انکشافات کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک حالیہ ریپ کیس میں ملزم کے بااثر اور امیر خاندان کی جانب سے متاثرہ لڑکی کو مقدمہ واپس لینے کے عوض بھاری رقم کی پیشکش کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ملزم کے اہل خانہ کی جانب سے متاثرہ لڑکی کو ڈیڑھ سے دو کروڑ روپے تک کی پیشکش کی گئی تاکہ وہ اپنے الزامات سے دستبردار ہو جائے۔ یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں کی گئی جب متاثرہ لڑکی کا بیان دفعہ 164 کے تحت پہلے ہی ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مریم نواز نے مزید کہا کہ اس کیس کے حوالے سے یہ سنگین الزام بھی سامنے آیا ہے کہ جس جج نے ملزم کو ضمانت دی تھی، انہیں بھی مبینہ طور پر رشوت دی گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نظامِ انصاف کی ساکھ کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ پنجاب نے واضح کیا کہ ریپ جیسے گھناؤنے جرائم میں متاثرہ خواتین کو ہر صورت تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت اور دولت کے بل بوتے پر قانون کو خریدنے کی کوششیں کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابل قبول ہیں اور انصاف کو کبھی بھی فروخت نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مریم نواز نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اس طرح کے تمام مقدمات کی خود نگرانی کریں گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی ملزم محض اپنے پیسے یا اثر و رسوخ کی وجہ سے قانون کی گرفت سے نہ بچ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پنجاب کی جانب سے اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرنے کا مقصد متاثرہ خواتین کا اعتماد بحال کرنا اور انہیں انصاف کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ کیسز کی شفاف تحقیقات کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانونی ماہرین کے مطابق دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ ہونے کے بعد کیس کی نوعیت کافی مضبوط ہو جاتی ہے، تاہم ملزمان کی جانب سے متاثرہ فریق پر دباؤ ڈالنا یا مالی لالچ دینا انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔ ایسے اقدامات سے عدالتی عمل متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ متاثرہ خواتین کو کسی بھی قسم کے مالی یا سماجی دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے اس معاملے میں مداخلت اور سخت نگرانی کے اعلان کو عوامی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس معاملے پر مزید قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ تحقیقات کے بعد حقائق منظر عام پر آئیں گے۔ حکومت پنجاب نے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی ملزم کو رعایت نہیں دی جائے گی اور قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ ایسے کیسز میں ملوث افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے تاکہ معاشرے میں ایک مثال قائم ہو سکے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا یہ بیان اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، وزیراعلیٰ نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ انصاف کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس کیس کی ہر پہلو سے تحقیقات کریں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2087/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کراچی: گڈاپ فارم ہاؤس موبائل چوری کیس کی مدعی کو قتل کی دھمکیاں، مقدمہ درج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/karachi/1934/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/karachi/1934/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 05:37:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[خواتین_کا_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[دھمکیاں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[شارع_فیصل]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کرائم]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%da%af%da%88%d8%a7%d9%be-%d9%81%d8%a7%d8%b1%d9%85-%db%81%d8%a7%d8%a4%d8%b3-%d9%85%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%a6%d9%84-%da%86%d9%88%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%8c%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[گڈاپ کے فارم ہاؤس میں موبائل فون چوری کے مقدمے کی مدعی خاتون نے سیکیورٹی کے لیے تھانہ شارع فیصل میں درخواست جمع کرا دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی کے علاقے گڈاپ میں پیش آنے والے فارم ہاؤس موبائل چوری کیس کی مدعی خاتون کو مبینہ طور پر قتل کی دھمکیاں ملنے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس واقعے کے بعد خاتون نے اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے پولیس سے رجوع کر لیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ خاتون نے تھانہ شارع فیصل میں تحریری درخواست جمع کرائی ہے جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہیں مذکورہ مقدمے سے دستبردار ہونے کے لیے مسلسل سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں جس سے وہ شدید خوفزدہ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار خاتون کے مطابق، وہ بدھ کے روز اپنے گھر سے ملازمت کے سلسلے میں باہر نکلی تھیں کہ اس دوران موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد نے انہیں راستے میں گھیرنے کی کوشش کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خاتون نے پولیس کو بتایا کہ ملزمان نے انہیں روکنے کی کوشش کی اور قتل کرنے کے اشارے بھی کیے، جس کے بعد وہ جوہر موڑ کی جانب فرار ہو گئے۔ یہ واقعہ ان کی سیکیورٹی کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام نے خاتون کی جانب سے دی گئی درخواست موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ گڈاپ کے ایک فارم ہاؤس میں تقریب کے دوران 50 سے زائد خواتین کے موبائل فون چوری ہونے کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کا مقدمہ درج کرایا گیا تھا۔ اس کیس میں اب دھمکیوں کا نیا پہلو سامنے آیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس ذرائع کے مطابق، مدعی خاتون کی سیکیورٹی کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ انہیں کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔ تفتیشی ٹیمیں ملزمان کی شناخت کے لیے شواہد اکٹھے کر رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے نے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مدعی خاتون کو تحفظ فراہم کیا جائے اور دھمکیاں دینے والے ملزمان کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کا کہنا ہے کہ وہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے بھی ملزمان کی تلاش کر رہی ہے تاکہ ان کی شناخت ممکن ہو سکے۔ اس سلسلے میں مزید پیش رفت جلد متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنے والے کسی بھی شخص کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ کیس کی تفتیش میرٹ پر مکمل کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خاتون نے اپنی درخواست میں حکام بالا سے اپیل کی ہے کہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ مقدمے کی پیروی بلا خوف و خطر جاری رکھ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مدعی خاتون کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ان کی اولین ترجیح ہے۔ اس حوالے سے متعلقہ ایس ایچ او کو خصوصی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذکورہ کیس کے حوالے سے مزید قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے اور پولیس کی جانب سے شواہد کی روشنی میں ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/karachi/1934/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور: مزنگ میں اسکوٹی سوار لڑکی پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/1917/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/1917/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 03:57:16 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_آئی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[خواتین_پر_تشدد]]></category>
		<category><![CDATA[خواتین_کا_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈی_آئی_جی_آپریشنز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سی_سی_ٹی_وی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%b2%d9%86%da%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d8%b1-%d9%84%da%91%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کو حراست میں لے لیا، متاثرہ لڑکی کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی اور لیپ ٹاپ بھی تباہ ہو گیا تھا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور کے گنجان آباد علاقے مزنگ میں اسکوٹی پر سوار ایک لڑکی کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے والے ملزم کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ اس افسوسناک واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کی دستیاب تفصیلات کے مطابق موٹرسائیکل پر سوار ایک شخص نے اسکوٹی پر جانے والی لڑکی کا پیچھا کیا اور اسے اوورٹیک کر کے زبردستی روک لیا۔ ملزم نے موٹرسائیکل سے اترتے ہی لڑکی پر حملہ کر دیا اور اسے زمین پر پٹخ دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس دوران ملزم نے لڑکی کے بال کھینچے، اسے گالم گلوچ کی اور شدید ہراساں کیا۔ موقع پر موجود شہریوں نے بروقت مداخلت کر کے لڑکی کو مزید تشدد سے بچایا، جس کے بعد ملزم اپنی موٹرسائیکل چھوڑ کر موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزم نے لڑکی کا بیگ بھی چھین کر زمین پر دے مارا جس کے نتیجے میں اس میں موجود 85 ہزار روپے مالیت کا لیپ ٹاپ بھی ٹوٹ گیا۔ اس بہیمانہ تشدد کے نتیجے میں لڑکی کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی اور اس کے چہرے پر بھی گہرے زخم آئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے فوراً بعد مقامی افراد نے موقع پر موجود ملزم کی موٹرسائیکل اپنی تحویل میں لے لی اور اسے پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس نے متاثرہ لڑکی کے والد کی مدعیت میں نامعلوم ملزم کے خلاف تھانہ مزنگ میں مقدمہ درج کر لیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ملزم کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیے تھے۔ اعلیٰ حکام کی ہدایت پر ایس پی سول لائنز منزہ کرامت کی نگرانی میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی تاکہ ملزم تک پہنچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے چھاپہ مار کر ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد اب اس سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ واقعے کے محرکات اور دیگر پہلوؤں کا تعین کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی آئی جی آپریشنز نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ خواتین پر تشدد کرنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ملزم کو قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دلوائی جائے گی تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواتین کے تحفظ کے حوالے سے پنجاب پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ معاشرے میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات ناقابلِ برداشت ہیں۔ پولیس ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج نے شہریوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح ایک تنہا لڑکی کو سرعام ہراساں اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس پر عوامی حلقوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کی جانب سے بروقت کارروائی اور ملزم کی گرفتاری کے بعد متاثرہ خاندان نے انصاف کی امید ظاہر کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے کے تمام پہلوؤں کو میرٹ پر دیکھا جائے گا اور تفتیش کے بعد چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مزنگ کے علاقے میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد پولیس نے علاقے میں گشت بڑھانے کے احکامات بھی دیے ہیں۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی یا ہراسانی کے واقعے کی اطلاع فوری طور پر ون فائیو پر دیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کے مطابق ملزم سے تفتیش کے دوران مزید انکشافات متوقع ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ شہر میں خواتین کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جائے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/1917/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسلام آباد: سوتیلی بیٹی سے زیادتی کے مجرم کو سزائے موت کا حکم</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/islamabad/1664/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/islamabad/1664/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 05:18:05 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اسلام آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[خواتین_کا_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈی_این_اے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سزائے_موت]]></category>
		<category><![CDATA[سنگین_جرم]]></category>
		<category><![CDATA[شہزاد_ٹاؤن]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%d8%b3%d9%88%d8%aa%db%8c%d9%84%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-%d8%b3%db%92-%d8%b2%db%8c%d8%a7%d8%af%d8%aa%db%8c-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے ڈی این اے رپورٹ اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مجرم کو سزائے موت اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے ایک انتہائی افسوسناک اور سنگین کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سوتیلی بیٹی سے زیادتی کے مرتکب مجرم کو سزائے موت کا حکم دیا ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد سہیل نے کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد محفوظ فیصلہ سنایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم افتخار پر الزام ثابت ہوا کہ اس نے اپنی سوتیلی بیٹی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ عدالت نے مجرم کو سزائے موت کے ساتھ ساتھ پانچ لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے جو سرکاری خزانے میں جمع ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے فیصلے میں متاثرہ لڑکی کو دس لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ، زیادتی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کی کفالت اور پرورش کے لیے مجرم کو مزید بیس لاکھ روپے کی رقم ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کی تفصیلات کے مطابق مجرم اپنی سوتیلی بیٹی کی والدہ کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک طویل عرصے تک اسے زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔ یہ سلسلہ تقریباً ایک سال تک جاری رہا جس کے بعد حقیقت سامنے آئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کیس میں اہم پیش رفت پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ڈی این اے رپورٹ سے ہوئی۔ فرانزک ٹیسٹ کے دوران پیدا ہونے والے بچے کا ڈی این اے مجرم افتخار سے میچ کر گیا، جس نے کیس میں ٹھوس سائنسی شواہد فراہم کیے اور مجرم کے جرم کو ثابت کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کا مقدمہ فروری 2025 میں متاثرہ لڑکی کی والدہ کی مدعیت میں تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے ابتدائی تفتیش کے بعد چالان عدالت میں پیش کیا جس کے بعد ٹرائل کا عمل شروع ہوا اور آج عدالت نے فیصلہ سنا دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی فیصلے کو انصاف کی فراہمی کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ جیسے جدید سائنسی طریقوں سے ایسے گھناؤنے جرائم میں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانا آسان ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے مجرمان کے خلاف سخت ترین سزاؤں کا نفاذ معاشرے میں خوف اور عبرت کا باعث بنتا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماجی حلقوں نے بھی عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور عدالت کا یہ فیصلہ متاثرہ خاندان کے لیے انصاف کی ایک بڑی علامت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذکورہ کیس میں پراسیکیوشن نے عدالت کے سامنے تمام شواہد اور گواہان پیش کیے جن کی روشنی میں جج نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جرم کی نوعیت انتہائی سنگین ہے اور اس میں کسی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے قوانین کو مزید سخت کیا گیا ہے۔ حکومت اور عدلیہ کی جانب سے ایسے کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کے لیے خصوصی عدالتیں بھی قائم کی گئی ہیں تاکہ متاثرین کو جلد انصاف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تھانہ شہزاد ٹاؤن پولیس نے اس کیس کی تفتیش میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے۔ فرانزک شواہد کے ساتھ ساتھ دیگر گواہیوں کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا جس سے مجرم کے خلاف کیس مضبوط ہوا اور اسے سزا سنائی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ لڑکی اور اس کے اہل خانہ کو قانونی مدد فراہم کرنے کے لیے متعلقہ اداروں نے بھی کردار ادا کیا۔ معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے واقعات کے خلاف آواز اٹھائے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کرے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/islamabad/1664/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور: ٹک ٹاکر خاتون پر تشدد کرنے والا ڈرائیور گرفتار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/crime/1626/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/crime/1626/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 00:37:29 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[جرم و سزا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[تشدد]]></category>
		<category><![CDATA[ٹک_ٹاکر]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[خواتین_کا_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈی_آئی_جی_آپریشنز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%b9%da%a9-%d9%b9%d8%a7%da%a9%d8%b1-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%88%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[گجر پورہ پولیس نے متاثرہ خاتون کے ویڈیو بیان کی مدد سے ملزم کو حراست میں لے لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور کے علاقے گجر پورہ میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے میں پولیس نے ٹک ٹاکر خاتون پر تشدد کرنے والے ڈرائیور کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم پر الزام ہے کہ اس نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ خاتون کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کے مطابق متاثرہ خاتون نے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بیان جاری کیا تھا جس میں انہوں نے ڈی آئی جی آپریشنز سے انصاف کی اپیل کی تھی۔ اس ویڈیو بیان کی مدد سے پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم خرم کو شناخت کر لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار ملزم متاثرہ خاتون کا ڈرائیور تھا اور اس نے حسد اور لالچ کی بنیاد پر خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے ملزم کو حراست میں لینے کے بعد مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ خواتین اور بچوں پر تشدد کے واقعات کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے گا اور گرفتار ملزم کو سخت سزا دلوائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کا مزید کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ متاثرہ خاتون کی جانب سے دی گئی درخواست پر قانونی کارروائی کا عمل تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواتین کے تحفظ کے حوالے سے پنجاب پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے واقعات میں ملوث ملزمان کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔ متاثرین کی بروقت داد رسی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے جہاں صارفین نے خاتون پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ تھانے کو دیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گجر پورہ پولیس کی جانب سے کی گئی یہ کارروائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مستعدی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ ملزم کو عدالت سے قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ خاتون کو انصاف کی فراہمی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ تفتیش شفاف انداز میں مکمل کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزم خرم سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے جس میں تشدد کے محرکات اور اس کی اہلیہ کے کردار کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔ پولیس نے اس کیس کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی کے لیے بھی تمام ضروری دستاویزات تیار کی جا رہی ہیں تاکہ ملزم کو جلد از جلد کٹہرے میں لایا جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا اور انہیں انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ واقعہ معاشرے میں عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے جس پر قابو پانے کے لیے سماجی اور قانونی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے پرعزم ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/crime/1626/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>میانوالی: چچا زاد بھائی کے ہاتھوں 13 سالہ لڑکی کا قتل، ملزم گرفتار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/crime/1434/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/crime/1434/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 10:57:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[جرم و سزا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_آئی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[خواتین_کا_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[غیرت_کے_نام_پر_قتل]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%85%db%8c%d8%a7%d9%86%d9%88%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%86%da%86%d8%a7-%d8%b2%d8%a7%d8%af-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%db%92-%db%81%d8%a7%d8%aa%da%be%d9%88%da%ba-13/</guid>

					<description><![CDATA[پنجاب کے ضلع میانوالی میں حجاب نہ لینے کے تنازع پر چچا زاد بھائی نے فائرنگ کر کے کمسن لڑکی کی جان لے لی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پنجاب کے ضلع میانوالی میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک نوجوان نے اپنی 13 سالہ چچا زاد بہن کو مبینہ طور پر حجاب نہ لینے کے تنازع پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ 15 اکتوبر کو میانوالی کے علاقے بٹیاں میں پیش آیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقتولہ کے والد کی جانب سے تھانہ صدر میں درج کروائی گئی ایف آئی آر کے مطابق وہ اپنی اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ خریداری کے لیے جا رہے تھے کہ مدینہ چوک کے قریب ان کا بھتیجا اچانک سامنے آ گیا جس کے ہاتھ میں 30 بور کا پستول تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">والد نے پولیس کو بیان دیا کہ ملزم نے اپنی کزن کو حجاب کے بغیر گھر سے باہر نکلنے پر دھمکیاں دیں اور پھر یکے بعد دیگرے 7 گولیاں چلا دیں۔ گولیاں لگنے کے باعث کمسن لڑکی موقع پر ہی دم توڑ گئی اور ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس رپورٹ کے مطابق ملزم پہلے بھی مقتولہ کو حجاب کے بغیر باہر نکلنے سے منع کرتا تھا اور اس معاملے پر دونوں خاندانوں کے درمیان اختلافات موجود تھے۔ والد نے بتایا کہ انہوں نے ملزم کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنے ساتھی کے ہمراہ موقع سے بھاگ گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری جائے وقوعہ پر پہنچی اور مقتولہ کی لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے ہسپتال منتقل کیا۔ پولیس نے مقتولہ کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے ملزم کی تلاش شروع کر دی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزم کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 302 اور 311 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جو قتل اور غیرت کے نام پر قتل سے متعلق ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سے تفتیش کا عمل جاری ہے اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ قانون کے مطابق ملزم کو سخت ترین سزا دلوانے کے لیے تمام تر قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علاقے میں اس افسوسناک واقعے کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور اہل علاقہ کی جانب سے ملزم کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں خواتین کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہیں اور حکومتی ادارے اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے کوشاں ہیں۔ معاشرتی سطح پر بھی اس طرح کے فرسودہ رجحانات کے خاتمے کے لیے شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ ملزم کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ اس کیس میں مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ عدالت میں مضبوط چالان پیش کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میانوالی پولیس کے ترجمان نے کہا ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ملزم کو جلد از جلد عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا تاکہ مقتولہ کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کی تحقیقات میں پولیس کی ٹیمیں مصروف ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ کیا ملزم کے ساتھ کوئی اور شخص بھی اس جرم میں ملوث تھا۔ تفتیش کے دوران سامنے آنے والے نئے حقائق کو بھی کیس کا حصہ بنایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ واقعہ معاشرے میں برداشت کی کمی اور قانون سے بالا تر ہو کر فیصلے کرنے کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومتی سطح پر اس طرح کے جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات نہ ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/crime/1434/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عراق: خواتین کے خلاف جنسی تشدد اور ہراسانی کے واقعات میں اضافہ، متاثرین کو انصاف کا انتظار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/988/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/988/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 19:58:00 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[بغداد]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جنسی_تشدد]]></category>
		<category><![CDATA[چین]]></category>
		<category><![CDATA[خواتین_کا_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b9%d8%b1%d8%a7%d9%82-%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%aa%db%8c%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%ac%d9%86%d8%b3%db%8c-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%d8%a7%d9%88%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[عراق میں خواتین کو جنسی استحصال اور ہراسانی کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ قانونی تحفظ اور سماجی رکاوٹیں انصاف کی راہ میں بڑی دیوار بنی ہوئی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">عراق میں خواتین کو جنسی ہراسانی اور گھریلو تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات نے انسانی حقوق کے اداروں اور سماجی کارکنوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں نہ صرف معاشرتی دباؤ کا سامنا ہے بلکہ قانونی نظام بھی انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حقوقِ نسواں کے لیے سرگرم کارکن سارہ جاسم کا کہنا ہے کہ اب خواتین اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لے رہی ہیں۔ وہ ہراسانی کے واقعات کو کیمرے میں محفوظ کر کے سوشل میڈیا پر شیئر کرتی ہیں تاکہ مجرموں کو بے نقاب کیا جا سکے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سارہ جاسم نے بتایا کہ اس طرح کی ویڈیوز کے ذریعے ایک پولیس اہلکار کو گرفتار بھی کیا گیا جس پر طالبات کو ہراساں کرنے کا الزام تھا۔ تاہم، اس عمل کے دوران انہیں خود بھی سنگین دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کی نقل و حرکت محدود ہو گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقوام متحدہ کی خواتین کے خلاف امتیازی سلوک سے متعلق کمیٹی نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں عراق میں خواتین پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امتیازی قوانین کو ختم کریں جو مجرموں کو سزا سے بچنے کا موقع دیتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمیٹی نے خاص طور پر ان قوانین پر تنقید کی ہے جن کے تحت ریپ کے مجرم کو متاثرہ خاتون سے شادی کرنے پر سزا سے استثنیٰ مل جاتا ہے۔ اس کے علاوہ &#039;غیرت کے نام پر قتل&#039; کے مرتکب افراد کے لیے نرم سزاؤں کو بھی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک متاثرہ خاتون &#039;امل&#039; نے اپنی بیٹی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ پانچ برس سے انصاف کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قانونی لڑائی میں وسائل کی کمی اور سماجی بدنامی کا خوف ان کے لیے بڑی رکاوٹ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عراق میں خواتین کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کی شدید کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ حال ہی میں حقوقِ نسواں کی ایک معروف کارکن یانار محمد کو بغداد میں قتل کر دیا گیا، جس کے بعد سے سماجی کارکنوں میں عدم تحفظ کا احساس مزید بڑھ گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عراقی آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے سربراہ مصطفیٰ سعدون کے مطابق، مسئلہ صرف یہ نہیں کہ خواتین خاموش رہتی ہیں، بلکہ جب وہ بولتی ہیں تو نظام میں ان کی بات سننے اور کارروائی کرنے والے اداروں کا فقدان ہے۔ ہر سطح پر معاملے کو خاموشی سے نمٹانے کا دباؤ ڈالا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سمیرا (فرضی نام) جیسی خواتین کا کہنا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ اور عوامی مقامات پر ہراسانی کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ پولیس کے پاس جانے پر بھی اکثر یہی جواب ملتا ہے کہ ان کے پاس کارروائی کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے، جس سے خواتین کا اداروں پر اعتماد ختم ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکن ہناء ادوار نے بھی اس صورتحال کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عراق میں خواتین کے لیے نہ تو مناسب قوانین موجود ہیں اور نہ ہی انہیں انصاف کے حصول کے لیے کوئی ٹھوس نظام میسر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشرتی سطح پر بھی خواتین کو اپنے خاندانوں کے ردعمل کا خوف رہتا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ خاندان کی ساکھ بچانے کے نام پر اکثر متاثرہ خواتین کو خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے، جو مجرموں کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عراق میں خواتین کی ایک بڑی تعداد اب بھی اس امید پر ہے کہ حکومتی سطح پر ایسے قوانین بنائے جائیں گے جو ان کے تحفظ کو یقینی بنا سکیں۔ انصاف کے حصول کے لیے ایک طویل قانونی عمل اور معاشرتی رویوں میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/988/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
