<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>خلا &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ae%d9%84%d8%a7/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:49 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>خلا &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>2045 تک خلا میں انسانوں کی بستیوں کا امکان، جیف بیزوس کی پیشگوئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/1694/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/1694/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 08:58:13 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایلون_مسک]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پینل_ڈسکشن]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیک_ویک]]></category>
		<category><![CDATA[جیف_بیزوس]]></category>
		<category><![CDATA[خلا]]></category>
		<category><![CDATA[خلائی_آبادی]]></category>
		<category><![CDATA[خلائی_سفر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/2045-%d8%aa%da%a9-%d8%ae%d9%84%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%b3%d8%aa%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[ایمازون کے بانی جیف بیزوس کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں لاکھوں افراد خلا میں رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">دنیا کا نظام بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور ٹیکنالوجی کی ترقی انسانی زندگی کو زمین تک محدود رکھنے کے بجائے کائنات کے دیگر حصوں تک پھیلانے کے لیے راہ ہموار کر رہی ہے۔ دنیا بھر کے نامور کاروباری اور تکنیکی ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے برسوں میں انسانوں کے لیے کرہ ارض سے باہر زندگی بسر کرنے کے نئے اور حیران کن مواقع پیدا ہوں گے۔ اس حوالے سے خلائی تحقیق اور جدید ایجادات پر کام کرنے والے ادارے مستقبل کے حوالے سے مختلف نوعیت کے منصوبے اور تخمینے پیش کر رہے ہیں تاکہ انسانیت کے دائرہ کار کو وسعت دی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشہور عالمی ادارے ایمازون اور خلائی کمپنی بلیو اوریجن کے بانی جیف بیزوس نے ایک اہم بیان میں یہ پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ دو دہائیوں کے دوران لاکھوں انسان زمین کا طواف چھوڑ کر خلا میں رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق خلائی ٹیکنالوجی میں ہو رہی تیز رفتار پیشرفت مستقبل میں انسانوں کے لیے زمین سے باہر اپنے گھر بنانے اور کام کرنے کے وسیع ترین امکانات پیدا کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جیف بیزوس نے اپنے خیالات کا اظہار اٹلی میں منعقد ہونے والے ٹیک ویک کے دوران ایک تفصیلی گفتگو میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں خلا میں انسانی آبادی کا قیام محض کسی مجبوری کے تحت نہیں ہوگا بلکہ لوگ اپنی ذاتی دلچسپی اور مرضی کی بنیاد پر بھی خلائی بستیوں کا رخ کریں گے۔ تاہم اس تمام تصور کی عملی تکمیل کا انحصار براہ راست تکنیکی ترقی اور خلا میں ضروری رہائشی انتظامات کی کامیابی پر ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خلائی امور پر بات کرتے ہوئے جیف بیزوس نے مزید کہا کہ چاند یا دیگر خلائی سیاروں پر پیچیدہ، مشکل اور خطرناک نوعیت کے کام انجام دینے کے لیے انسانوں کے بجائے جدید روبوٹس کا استعمال زیادہ مؤثر اور نسبتاً کم خرچ ثابت ہو سکتا ہے۔ روبوٹس کے ذریعے ایسے کٹھن امور باآسانی سر انجام دیے جا سکیں گے جن کے لیے انسانوں کو زمین سے لاکھوں میل دور خلا میں لے جانا انتہائی مہنگا اور پیچیدہ عمل بن جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے باعث دنیا بھر میں ملازمتوں کے مستقبل سے متعلق پائے جانے والے خدشات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جیف بیزوس کا کہنا تھا کہ نئی ایجادات مجموعی طور پر انسانی معاشرے کی فلاح و بہبود اور خوش حالی میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ جس طرح ماضی میں زرعی آلات اور دیگر انقلابی ایجادات نے انسانی زندگی کو بہتر اور آسان بنایا، اسی طرح جدید ترین ٹیکنالوجی بھی دنیا بھر میں معاشی ترقی کے نئے اور وسیع مواقع پیدا کرے گی۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس تبدیلی سے گھبرانے کے بجائے اس سے ہم آہنگ ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معروف ترین ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین بھی مستقبل میں خلائی شعبے کے اندر روزگار کے نئے اور شاندار امکانات کے حوالے سے انتہائی پُرامید دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ آنے والی دہائیوں میں یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہونے والے نوجوانوں کو خلا میں جا کر کام کرنے اور انتہائی پُرکشش معاوضے والی ملازمتیں حاصل کرنے کے نادر مواقع مل سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادھر برقی گاڑیوں اور خلائی جہاز بنانے والی کمپنی ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک بھی انسانوں کو مریخ سمیت نظام شمسی کے دیگر سیاروں تک بحفاظت پہنچانے کے عزم پر بڑی تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ ان کا بنیادی ہدف انسانوں کو مریخ کی سرخ زمین پر آباد کرنا ہے تاہم ان تمام بلند و بانگ منصوبوں کی کامیابی کا دارمدار تکنیکی پیشرفت پر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خلائی صنعت سے وابستہ دیگر سائنسدانوں اور ماہرین کا بھی یہی خیال ہے کہ دو ہزار تیس کی دہائی کے دوران خلا میں انسانوں کے مستقل طور پر رہنے اور کام کرنے کے امکانات مزید ٹھوس حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کائنات کے نادیدہ گوشوں کو کھنگالنے کے لیے یہ سفر انسانیت کی بقا اور ترقی کے لیے ایک نیا باب ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ خلا میں مستقل انسانی آبادکاری کے راستے میں کئی سنگین نوعیت کی رکاوٹیں بھی حائل ہیں۔ خلا میں آکسیجن کی فراہمی، خوراک کا انتظام، پینے کا صاف پانی، توانائی کی مسلسل دستیابی، انسانی صحت کے تحفظ اور اس پورے عمل پر آنے والے بھاری بھرکم اخراجات جیسے بڑے چیلنجز پر قابو پانا اشد ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان تمام تر تکنیکی اور طبی مشکلات کے باوجود کیا واقعی آنے والے برسوں تک خلا میں لاکھوں انسان آباد ہو سکیں گے؟ جیف بیزوس اور دیگر بین الاقوامی ٹیکنالوجی رہنماؤں کی یہ پیشگوئی مستقبل کی ایک انتہائی دلچسپ اور سحر انگیز تصویر پیش کرتی ہے، جو آنے والے وقت میں انسانی عزم کی نئی معراج ثابت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فی الحال بڑے پیمانے پر خلا میں انسانی آبادی کا قیام ایک متوقع مستقبل کا حسین تصور ہی ہے کوئی حتمی اور اٹل حقیقت نہیں، تاہم آنے والی دو دہائیاں یہ بات واضح کر دیں گی کہ انسان زمین سے باہر نئی دنیا بسانے کے اس خواب کو کس حد تک حقیقت کا جامہ پہنا پاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علاوہ ازیں، سائنسی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ آیا زمین کے وسائل محدود ہونے کے بعد خلائی ہجرت انسانی نسل کو بچانے کا واحد ذریعہ بنے گی یا نہیں۔ اس حوالے سے ہونے والی مسلسل سائنسی تحقیق اور تجربات اس بات کا تعین کریں گے کہ آنے والی صدیوں میں انسانوں کا اصل مسکن کون سا سیارہ ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/1694/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خلا سے زمین پر کوئی سرحد نظر نہیں آتی، فرانسیسی خلا باز کا جذباتی پیغام</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/93/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/93/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 07:58:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایپ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خلائی_اسٹیشن]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خلا]]></category>
		<category><![CDATA[خلائی_تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[خلائی_مشن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زمین]]></category>
		<category><![CDATA[سائنسی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/93/</guid>

					<description><![CDATA[یورپی خلائی ایجنسی کی سوفی ایڈنوٹ نے خلا میں 235 دن گزار کر نیا ریکارڈ قائم کر دیا، زمین واپسی پر تجربات شیئر کیے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">فرانسیسی خلا باز سوفی ایڈنوٹ نے خلا میں طویل قیام کے بعد زمین پر واپسی پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلندی سے دیکھنے پر زمین پر کوئی جغرافیائی تقسیم یا سرحدیں نظر نہیں آتیں، بلکہ یہ ایک قیمتی سیارہ ہے جو ہم سب کا مشترکہ گھر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یورپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) سے وابستہ 44 سالہ سوفی ایڈنوٹ نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر مجموعی طور پر 235 دن گزارے۔ یہ دورانیہ کسی بھی یورپی خلا باز کی جانب سے مدار میں مسلسل قیام کا ایک نیا اور اہم ریکارڈ تصور کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جرمنی کے شہر کولون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سوفی ایڈنوٹ نے بتایا کہ خلا میں آٹھ ماہ کے دوران انہوں نے انسانی جذبات کے ہر پہلو کا تجربہ کیا۔ زمین سے 400 کلومیٹر کی بلندی پر موجودگی نے انہیں یہ احساس دلایا کہ انسانیت کو سرحدوں سے بالاتر ہو کر سوچنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوفی ایڈنوٹ جمعرات کے روز اپنے تین ساتھی خلا بازوں کے ہمراہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب بحرالکاہل میں ایک خلائی کیپسول کے ذریعے بحفاظت زمین پر واپس پہنچیں۔ انہوں نے بتایا کہ واپسی کے وقت سمندر میں شدید لہروں کے باعث کیپسول کو تقریباً 25 منٹ تک مشکل حالات کا سامنا رہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جرمنی واپسی کے موقع پر سوفی ایڈنوٹ جسمانی طور پر کچھ کمزور دکھائی دیں اور انہیں چلنے پھرنے کے لیے طبی عملے کی مدد درکار تھی۔ ماہرین کے مطابق خلا میں طویل قیام کے دوران کششِ ثقل کی عدم موجودگی انسانی جسم پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوفی ایڈنوٹ نے اعتراف کیا کہ زمین پر واپس آنا ان کے لیے انتہائی خوشی کا باعث ہے، تاہم جسمانی طور پر دوبارہ معمول پر آنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلا میں گزارا گیا وقت ان کے لیے ایک یادگار تجربہ رہا جس نے ان کی سوچ کو وسعت دی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یورپی خلائی ایجنسی کے حکام نے بھی سوفی ایڈنوٹ کے اس مشن کو سراہا ہے اور اسے خلائی تحقیق کے میدان میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مشنز سے نہ صرف سائنسی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے بارے میں بھی آگاہی ملتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خلا بازوں کا یہ مشن بین الاقوامی تعاون کی ایک بہترین مثال ہے، جس میں مختلف ممالک کے ماہرین نے مل کر کام کیا۔ سوفی ایڈنوٹ کا پیغام دنیا بھر میں امن اور باہمی رواداری کے فروغ کے لیے ایک مثبت پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوفی ایڈنوٹ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں مختلف جغرافیائی اور سیاسی تنازعات جاری ہیں۔ ان کا یہ جذباتی پیغام یاد دلاتا ہے کہ کائنات کے وسیع تناظر میں زمین کی اہمیت اور اس کے تحفظ کی ذمہ داری تمام انسانوں پر یکساں عائد ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خلائی سفر کے دوران سوفی ایڈنوٹ نے مختلف سائنسی تجربات بھی کیے جن سے مستقبل کے خلائی مشنز میں مدد ملے گی۔ ان تجربات کا مقصد انسانی جسم پر خلا کے طویل مدتی اثرات کو سمجھنا اور ان کے تدارک کے لیے جدید طریقے وضع کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوفی ایڈنوٹ کی واپسی کے بعد اب ان کی صحت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ وہ جلد از جلد اپنی معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔ یورپی خلائی ایجنسی نے ان کی ہمت اور عزم کو سراہتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ مشن نہ صرف سوفی ایڈنوٹ کے لیے بلکہ پوری یورپی خلائی ایجنسی کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ آنے والے وقتوں میں اس طرح کے مزید مشنز کے ذریعے خلا کے بارے میں مزید رازوں سے پردہ اٹھایا جائے گا اور انسانیت کے لیے نئی راہیں کھلیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/93/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
